ایران امریکہ جنگ کی آڑ میں پاکستان کے 'عوام دوست‘ حکمرانوں نے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔پٹرولیم‘ گیس اور بجلی مصنوعات کی قیمتوں بے تحاشا اضافہ کرکے حکمرانوں نے عملی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ انہیں عوام کے ووٹوں کی ہرگز ضرورت نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے‘ بلکہ یقین ہو چلا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے غریب آدمی کو زندہ درگو کرکے ملک سے' غربت ختم‘ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی آڑ میں بے حس حکمرانوں نے عوام پر پٹرول بم گرا دیا ہے۔ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ملکی تاریخ میں سب سے بڑا اضافہ کر کے عوام دشمنی کا کھلا ثبوت دیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے ہو گئی ہے۔ پٹرول پر لیوی میں 55 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعد ایک لٹر پٹرول پر لیوی 160 روپے 61 پیسے ہو گئی ہے۔
پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے بنیادی ضرورت کی ہر چیز مہنگی ہو جائے گی‘ ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا جو غریب آدمی کو اپنے ساتھ بہا لے جائے گا۔ میں نے گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ ایران امریکہ جنگ کے باعث مہنگائی سے اتنا ایران کے عوام متاثر نہیں ہوئے جتنے پاکستان کے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ کیا عجب تماشا ہے کہ جنگ ایران میں ہو رہی ہے اور مہنگائی پاکستان میں۔ پاکستان کے غریب عوام جائیں تو کہاں جائیں؟ کھائیں تو کیا اور کہاں سے کھائیں؟ اب تو واقعتاً زہر کھانے کی مالی استطاعت بھی نہیں رہی۔ پٹرول اور ڈیزل کے ساتھ فی کلو ایل پی جی کی قیمت میں 78 روپے یکمشت اضافہ کر کے عوام دشمنی کا ایک اور ثبوت فراہم کیا گیا ہے۔ اور تو اور بجلی کے بل میں گھریلو صارفین کیلئے 400 سے 1350 روپے اور کمرشل صارفین کیلئے ایک ہزار سے 18750 روپے تک کے فکس چارجز عائد کر دیے گئے ہیں۔ جب ڈیمانڈ نوٹس میں میٹر اور اس کے ساتھ ملنے والی دس‘ پندرہ فٹ تار کی قیمت ادا کر دی جاتی ہے تو پھر صارف کے ملکیتی میٹر پر رینٹ کیوں اور کیسا؟ گیس کے بلوں میں بھی فکس چارجز چھ سو روپے سے ایک ہزار روپے تک عائد کر دیے گئے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں اندھیری نگری چوپٹ راج۔ بجلی‘ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بے تحاشا اضافہ کرکے حکومت نے آئی ایم ایف سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کر دیا ہے۔ لگتا ہے کہ حکومت اپنی عیاشیوں اور اللوں تللوں کیلئے لیا گیا قرض اب غریب عوام کاخون نچوڑ کر ادا کرے گی۔
دنیا بھر میں اس وقت معاشی استحکام کی جنگ جاری ہے اور پاکستان کے حکمران عوام کو لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ چین ہو یا امریکہ‘ جس ملک کی معیشت مضبوط اور مستحکم ہو گی وہی ملک دنیا پر حکمرانی کرے گا۔ امریکہ کا خلیج فارس میں آنے کا اولین مقصد خلیجی ممالک خاص طور پرایران کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرکے چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا تھا۔ امریکہ کا ایک مقصد جی سی سی اور ایران کے درمیان ایک مستقل خلیج پیدا کرنا بھی تھا جس میں وہ کسی حد تک کامیاب رہا ہے۔ یٰسین ثاقب نے بالکل ٹھیک کہا تھا:
کون عاشق خدا کی ذات کا ہے ؍ سارا جھگڑا معاشیات کا ہے
عرب ممالک میں امریکہ پہلے ہی ان کی سکیورٹی اور تحفظ کی آڑ میں قابض ہے اور باقاعدہ فوجی اڈے بنا رکھے ہیں۔ ان اڈوں ہی سے ایران پر حملے ہو رہے ہیں۔ جواب میں ایران بھی ان امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس وقت ایران کے پاس ایک بڑا کارآمد ہتھیار یا بہترین کارڈ آبنائے ہرمز کی سمندری گزر گاہ ہے‘ لیکن یہ ٹائم بم کی مانند ہے۔ وہ اسے زیادہ دیر تک بند نہیں رکھ سکتے۔ ایران عالمی توانائی کی فراہمی کے راستے کو ہمیشہ کیلئے بند نہیں کر سکتا۔ ایسا کرنا زیادہ سے زیادہ ممالک کو اپنے خلاف انتقامی کارروائی پر آمادہ کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے جتنا جلدی ممکن ہو‘ ایران کیلئے معاہدہ طے کرنا بہتر ہے۔ آبنائے ہرمز دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ایران پر دبائو بڑھتا رہے گا۔ اسی طرح جنگ کے خاتمے کیلئے امریکہ پر بھی دبائو بڑھ رہا ہے۔ خود امریکہ بھر میں ایران جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں جن میں لاکھوں افراد شریک ہو رہے ہیں۔ حکومت پر جنگ کے جلد خاتمے کیلئے دبائو بڑھایا جا رہا ہے کیونکہ یہ جنگ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے لڑی جا رہی ہے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں جنگ بندی کے معاہدے پر ایران کے راضی نہ ہونے کی صورت میں جزیرہ خارگ کوملیامیٹ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے زمینی کارروائی کے ذریعے اس جزیرے پر قبضہ کرنے کی دھمکی بھی دی۔البتہ فرانسیسی تحقیقی مرکز FMES کے پیئر رازوک کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے جنگی اہداف اب بھی مبہم ہیں۔ اس دھمکی کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر مجبور کرنا‘ حکومتی تبدیلی‘ جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام پر دبائو بڑھانا ہو سکتا ہے۔ سکاٹ لینڈ یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز کے پروفیسر فلپس او برائن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنا اور اور اس قبضے کو برقرار رکھنا دو الگ باتیں ہیں۔ امریکی فوج کیلئے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں رہ کر خارگ پر قبضہ برقرار رکھنا مشکل ہو گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق جزیرہ خارگ ایرانی ساحل سے 30 کلومیٹر دور اور آبنائے ہرمز سے 500 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ ایک ناقابلِ اعتبار ملک ہے اور مزید یہ کہ اس وقت اس ملک کا صدر ایک ایسا شخص ہے جس سے کچھ بھی بعید نہیں۔ وہ کسی وقت بھی کوئی بھی قلابازی لگا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ایران کو جنگ بندی کیلئے ایک مضبوط ضمانت چاہیے اور وہ ضمانتی چین ہو سکتا ہے۔ اس وقت چین کا کردار بہت اہم ہے۔ چین بھی چاہتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے مئی میں چین کے دورے سے پہلے جنگ بندی ہو جائے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا چین کا دورہ بھی اسی تناظر میں تھا۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت پاکستان کو اچھی پوزیشن دی ہے اور پاکستان بہت اچھے طریقے سے معاملات کو لے کر چل رہا ہے۔ لیکن پاکستان تنہا اس پوزیشن میں نہیں کہ ایران امریکہ ڈیل کی صورت میں بطور ثالث کوئی ٹھوس ضمانت دے سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ملکی معیشت مضبوط نہیں تو آپ کے مؤقف کی اہمیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ ہماری مضبوط سکیورٹی بھی کمزور معیشت کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو رہی ہے۔ حکومت کی شاہ خرچیوں کے باعث معیشت انتہائی کمزور ہو چکی اور حکمران طبقہ دونوں ہاتھوں سے ملک کے وسائل لوٹ رہا ہے۔ سر کاری دستاویز کے مطابق رواں مالی سال میں وفاقی کابینہ کے اراکین‘ بشمول مشیر اور معاونین 40 کروڑ 72 لاکھ 16ہزار روپے تنخواہوں اور الائونسز کی مد میں وصول کر چکے ہیں۔ وزرا‘ مشیران‘ معاونین خصوصی کی 100 سے زائد گاڑیوں کی مرمت اور پٹرول پر 26 کروڑ روپے 64 لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معاشی طور پر خود کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کریں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ اپنی عیاشیوں‘ فضول خرچیوں کو فوری طور پر بند کریں۔ سب سے پہلے حکمرانوں کو اپنے شاہانہ اخراجات ختم کرنا ہوں گے۔ حکمران پہلے خود قربانی دیں پھر عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالیں۔ حکومتِ پاکستان سے التجا ہے کہ عوام کو نوچنے کے بجائے سکون سے کھائیں‘ یہ قوم مہنگائی کے سبب پہلے ہی نیم مردہ ہے‘ اب بجلی‘ گیس اور پٹرول پر نئے نئے ٹیکس لگا کر اس کا پوسٹ مارٹم کیوں کیا جا رہا ہے؟