"IAS" (space) message & send to 7575

شادیوں پر فضول خرچی

ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ کے مواقع پر فضول خرچی اور دکھاوے کا رجحان تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ امیروں کو دیکھ کر عام لوگ بھی ضرورت سے بڑھ کر فضول خرچی کر رہے ہیں‘ اور اپنی زندگی بھر کی کمائی شادی پر لٹا دیتے ہیں بلکہ دھوم دھام سے شادی کرنے کیلئے قرض اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے اور پھر عمر بھر اس قرض کے بوجھ سے نہیں نکل پاتے۔ یہ رجحان نہ صرف افراد کے مالی مسائل میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ سماجی اقدار کو بھی کمزور کر رہا ہے۔ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ لڑکے والے اپنی حیثیت سے بڑھ کر بارات کیلئے کرائے کی کئی کئی گاڑیاں لاتے ہیں تاکہ ایک دن کیلئے امیری کا تاثر دیا جا سکے حالانکہ بارات کے اگلے ہی دن دُلہا اور دلہن آپ کو موٹر سائیکل پر نظر آتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں شادی کو خوشی کا سب سے بڑا موقع سمجھا جاتا ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ خوشی اکثر ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ خاص طور پر جب بات آتی ہے فضول خرچی کی تو ہم اس میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی شادی کی خوشی کا تعلق لاکھوں‘ کروڑوں بلکہ اربوں روپے خرچ کرنے سے ہے؟
آج کل شادی بیاہ ایک سادہ تقریب کے بجائے ایک مقابلہ بن چکا ہے۔ کون زیادہ مہنگا ہال لے گا‘ کس کے کھانے میں زیادہ ڈشز ہوں گی‘ کس کا لباس زیادہ قیمتی ہو گا۔ یہی چیزیں اب شادی کا معیار بن گئی ہیں۔ اس دوڑ میں اکثر وہ لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں جو مالی طور پر اتنے مضبوط نہیں ہوتے مگر معاشرے کے دباؤ میں آ کر قرض لے کر یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ مشہور ضرب المثل ہے: کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔ یہ فضول خرچی نہ صرف مالی مسائل کو جنم دیتی ہے بلکہ نئے رشتے کی بنیاد کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ جب ایک خاندان شادی کے لیے قرض لیتا ہے تو اس کا بوجھ کئی سالوں تک اٹھانا پڑتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خوشیوں سے شروع ہونے والا رشتہ پریشانیوں میں گھر جاتا ہے۔ اسلام ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے۔ ہمارے پیارے نبیﷺ کی زندگی اس کی بہترین مثال ہے‘ جہاں شادی کو نہایت سادہ اور بابرکت طریقے سے انجام دیا گیا۔ مگر آج ہم نے ان تعلیمات کو پس پشت ڈال کر نمود ونمائش کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔
ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف بھی اس امر کا اقرار کر رہے ہیں کہ پاکستان میں اشرافیہ کا طبقہ اپنی شادیوں پر دو دو ارب روپے خرچ کرتا ہے جبکہ ملک میں ایسے گھرانے لاکھوں نہیں کروڑوں میں ہیں‘ جو دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتے جو بیمار ہو جائیں تو دوائی نہیں خرید سکتے۔ جب کسی ملک کی آبادی میں اتنا تفاوت ہو تو اس معاشرے میں ہم آہنگی کیونکر پیدا ہو سکتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کرچادر سے زیادہ پاؤں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو بعد میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
میرے ایک دوست کا ذاتی ملازم تھا‘ اُس کی بیٹیاں جوان تھیں اور اس کو ان کیلئے رشتے نہیں مل رہے تھے۔ وہ اس کیلئے بہت پریشان اور فکرمند تھا۔ ایک دن اس نے کہا کہ اسے بیٹیوں کی شادیوں کیلئے پانچ لاکھ روپے ادھار چاہئیں۔ میرے دوست نے اس کو ڈانٹا کہ پانچ لاکھ روپے تم لے لو گے تو واپس کیسے کروگے‘ تمہاری تنخواہ توصرف چالیس ہزار روپے ہے‘ پانچ لاکھ روپے واپس کرنا تمہارے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ پھر اس نے کہا کہ اس مہینے میں چھٹی بھی چاہیے۔ میرے دوست نے کہا کہ چھٹی کیسے تمہیں مل سکتی ہے تمہیں اچھی طرح پتا ہے کہ اس مہینے تمہیں چھٹی نہیں مل سکتی کیونکہ اس نے چھوٹی بیٹی کے دن رکھے ہوئے ہیں اور یہ شادی مہینہ بھر چلے گی۔ سب سے پہلے کئی دن تک رات بھر ڈھولکی بجے گی‘ پہلے وہ مایوں شائیوں جو بھی ہوتا ہے وہ ہو گا‘ پھر مہندی ہو گی‘ پھر نکاح ہوگا۔ پھر بسم اللہ ہوگی پھر نعت خوانی ہو گی‘ پھر قوالی نائٹ ہو گی اور پھر کہیں جا کر وہ رخصت ہو گی‘ تو آپ کو شرم نہیںآتی چھٹی اور پیسے مانگتے ہوئے۔ آپ کو اس بات کا بھی خوب اچھی طرح علم ہے کہ کتنے اخراجات ہو رہے ہیں۔
شادی پر بیس پچیس کروڑ روپے خرچ ہوئے تو وہ ملازم یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ ایک ایک فنکشن پر ہونے والا خرچہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہا۔ اس کی بھی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا‘ اسی دوران اس کا اکلوتا بیٹا بیمار ہو گیا۔ میرے دوست نے کہا کہ اب تو آپ کو ضرور چھٹی چاہیے ہو گی تو اس نے کہا کہ صاحب میں نے چھٹی مانگی نہیں تھی۔ مجھے پتا تھا کہ چھوٹی بی بی کی شادی کا فنکشن ہے تو چھٹی کیسے مل سکتی ہے؟ دوست نے کہا: شاباش! تمہیں پتا ہے کہ چھٹی نہیں مل سکتی۔ تو اسی دوران اس کا بیمار بیٹا فوت ہو گیا‘ تواس نے اپنے صاحب کو بتایا کہ اس نے کوئی پچاس ہزار روپے جمع کر کے رکھے تھے چونکہ ان پیسوں سے بیٹے کا علاج نہیں ہو سکتا تھا اس لیے وہ اللہ کو پیارا ہو گیا تو وہ جمع شدہ پیسے اس کے کفن دفن پر لگ گئے جائیں گے‘ بس اب اسے ایک یا دو چھٹیاں چاہیے ہوں گی۔ اس کے گھر میں بجلی کے میٹر کا کیا حال تھا‘ اس کا بل کتنا تھا‘ اس کے پاس کھانے پکانے کو کیا تھا‘ اس کے اوپر قرض کتنا چڑھا ہوا تھا جو اس نے اس سے قبل لے رکھا تھا‘ وہ اس قرض کو کس طرح اتار پائے گا؟ اس کی بیٹیوں کے سروں میں شادی کے انتظار میں چاندی اُتر آئے گی۔ یہ ہے ایک عام آدمی کے دکھ درد کی کہانی۔ بقول شاعر:
اس کی اپنی بیٹی کی ہتھیلی خشک رہتی ہے
جو بوڑھا دھوپ میں دن بھر حنا تقسیم کرتا ہے
دوسری طرف ہمارے امرا کی ایک ایک شادی پر پچاس پچاس کروڑ روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ شادی کے ایک فنکشن یعنی صرف نکاح پر اگرصرف سو خواتین ہوںگی تو ان کے میک اَپ اور جوتی کپڑے پر کتنا خرچہ آئے گا۔ اسی طرح مہندی پر دو سو خواتین ہوں گی‘ بارات اور ولیمے پر پانچ پانچ سو اور ہزار ہزار لوگ جمع ہوں گے تو کتنا خرچہ آئے گا۔ دونوں فیملیوں کو یہ تقریباً پچاس کروڑ روپے میں شادی پڑے گی۔ دوسری طرف ایک عام آدمی کو اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کیلئے پانچ لاکھ روپے بھی نہیں مل سکیں گے‘ نہ وہ اپنے پاس سے جمع کر سکے گا اور نہ کہیں سے لے سکے گا۔
ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس فضول خرچی نے معاشرے میں ایک غلط معیار قائم کر دیا ہے۔ اگر کوئی سادگی سے شادی کرے تو لوگ اُسے کمتر سمجھتے ہیں۔ یہی سوچ نوجوانوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتی ہے اور وہ شادی سے گھبرانے لگتے ہیں کہ وہ مہنگی رسومات کو کیونکر پورا کر سکیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو درست کریں۔ شادی کا اصل مقصد دو انسانوں کا ایک خوبصورت بندھن میں بندھنا ہے نہ کہ لوگوں کو متاثر کرنا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سادگی کو اپنائیں اور فضول خرچی کے کلچر کو ختم کریں۔ اگر ہم آج اس روایت کو بدلنے کی کوشش کریں گے تو نہ صرف اپنی زندگی آسان بنائیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مثبت مثال قائم کریں گے۔ اصل خوشی سادگی میں ہے نہ کہ دکھاوے میں۔ شادی ایک خوبصورت آغاز ہے‘ اسے بوجھ نہ بنائیں۔ فضول خرچی سے بچیں اور اس خوشی کو سادگی کے ساتھ منائیں تاکہ یہ لمحہ واقعی یادگار بن سکے۔ اس لیے سادگی کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ والدین اور نوجوانوں کو چاہیے کہ دکھاوے کے بجائے اصل زندگی کی ضروریات پر توجہ دیں۔ اگر ہم سادگی کو اپنائیں اور اپنے اخراجات کو کم کریں تو نہ صرف ہمارے خاندانوں کی مالی حالت بہتر ہو گی بلکہ ہماری اجتماعی سوچ میں بھی مثبت تبدیلی آئے گی‘ جو روشن اور خوشحال پاکستان کیلئے ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں