پچھلے دو تین برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بہت زیادہ بدلی ہے۔ ماضی کے چند حریف حلیف بن گئے ہیں اور چند دوستیاں مخاصمت میں بدل چکی ہیں۔ نئے سٹرٹیجک اتحاد وجود میں آ رہے ہیں۔ لگتا ہی نہیں کہ یہ پہلے والا مشرقِ وسطیٰ ہے۔ آئیے آج کے مشرقِ وسطیٰ کی حقیقتوں پر سرسری نظر ڈالتے ہیں۔ سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل ایک اہم علاقائی طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ اس نے نہ صرف 1948ء سے لے کر اب تک فلسطین کے متعدد علاقوں پر قبضہ برقرار رکھا بلکہ اپنے زیر تسلط فلسطینی رقبے میں اضافہ کیا ہے۔ اب وہ دریائے اردن کے مغربی کنارے پر قابض ہونے کا سنجیدہ پلان بنا رہا ہے۔ اسرائیلی قیادت تو کہہ رہی ہے کہ موجودہ عرب ممالک کے چند حصے گریٹر اسرائیل کا حصہ ہوں گے۔ ان ممالک میں اردن‘ شام‘ مصر اور سعودی عرب شامل ہیں۔ پاکستان کیلئے یہ امر باعثِ تشویش ہے۔ دوسری بڑی حقیقت یہ ہے کہ آج امریکہ اور اسرائیل کے مفادات مشرقِ وسطیٰ کی حد تک مکمل طور پر ایک ہیں۔ ماضی میں امریکہ نے کبھی گریٹر اسرائیل کے نظریے کی کھل کر حمایت نہیں کی تھی‘ آج اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کھل کر یہ بات کہہ رہا ہے۔
ماضی قریب میں عرب ممالک اور ایران میں شدید مخاصمت تھی‘ پھر ایران اور سعودی عرب میں چین نے صلح کرا دی۔ پاکستان کیلئے یہ امر باعثِ اطمینان تھا کیونکہ ہمارے دونوں ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں۔ دو بھائیوں میں مسلسل لڑائی رہے تو تیسرے بھائی کیلئے یہ بات ذہنی اذیت کا سبب ہوتی ہے‘ وہ پہلے خود ان میں صلح کی کوشش کرتا ہے اور اگر اس کی کوشش بار آور نہ ہو تو بھی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی اور صلح کرا دے۔
علاقے میں نئے اتحاد ترتیب پا رہے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ طے پا چکا ہے‘ جس کی رو سے ایک پر حملہ دوسرے پر جارحیت تصور کیا جائے گا۔ یہ بہت بڑی پیشرفت ہے۔ دراصل دوحہ پر اسرائیلی حملے سے عرب ممالک کی دفاعی سوچ بہت بدلی ہے کہ اب انہیں یقین ہو چکا ہے کہ اگر عرب ممالک اور اسرائیل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو امریکہ کی نظرِ انتخاب اسرائیل پر ہی جائے گی۔ یہ بات اب عیاں ہے کہ دوحہ میں مقیم حماس لیڈر شپ پر حملے کا امریکی قیادت کو پہلے سے علم تھا لیکن جان بوجھ کر قطر کو دیر سے اطلاع دی گئی۔ اس سے خلیجی ممالک کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچی‘ لیکن ان ممالک نے امریکہ کو مکمل طور پر نہیں چھوڑا۔ ایک وجہ تو یہ سوچ ہے کہ دریا میں رہتے ہوئے مگر مچھ سے بیر نہیں رکھنا چاہیے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ دفاعی ساز و سامان کیلئے ان ممالک کا بڑی حد تک انحصار امریکہ پر ہے‘ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عرب ممالک اب پہلے سے زیادہ چین اور روس کی طرف دیکھنے لگ گئے ہیں۔ اگر سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ سٹرٹیجک معاہدہ کیا ہے تو متحدہ عرب امارات کی نظرِ کرم انڈیا پر پڑی ہے۔ یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ اسرائیل اور انڈیا کے اہداف چند برسوں سے خاصی مطابقت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں اور یہ امر پاکستان کیلئے باعث اطمینان ہے۔
1979ء کے بعد جتنے اچھے ایران اور پاکستان کے تعلقات ہیں پہلے نہیں تھے‘ اب دونوں ممالک میں خاصی ہم آہنگی ہے۔ پاکستان کی شدید خواہش ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات کامیاب ہوں تاکہ ہمارا خطہ جنگ کے شعلوں سے بچ جائے کیونکہ اس جنگ کے اثرات دیر پا ہو سکتے ہیں‘ اس لیے کہ اسرائیل ایران کے حصے بخرے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایران میں اسرائیلی اثر و نفوذ کا فروغ واضح طور پر پاکستان کیلئے خطرے کی علامت ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ خلیجی ممالک ہماری معیشت میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ ہماری زر مبادلہ کی بیشتر ترسیلات سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آتی ہیں۔ لہٰذا فطرتی امر ہے کہ پاکستانی حکومت اور عوام پورے خطہ خلیج بشمول ایران کو بہت توجہ سے دیکھتے اور اسے بڑی اہمیت دیتے ہیں۔
آج کل ایک سوال بہت پوچھا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت پاکستان کا صحیح فیصلہ تھا اور میرا جواب اثبات میں ہوتا ہے۔ امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ ایف سولہ طیارے‘ جو اَب خاصے پرانے ہو چکے ہیں‘ انہیں چالو حالت میں رکھنے کیلئے ہمیں مسلسل پرزے درکار ہیں جو ہمیں امریکہ سے مل رہے ہیں۔ میرے اثبات میں جواب کی دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی کے دو بنیادی اصول ہیں‘ ایک تو یہ کہ ہم عربوں کے آپس کے تنازعات کا کبھی حصہ نہیں بنیں گے‘ دوسرا‘ جس بات پر عربوں کا اتفاق ہو وہاں ہم ان کے ساتھ چلیں گے۔بورڈ آف پیس میں سعودی عرب‘ مصر‘ اردن‘ متحدہ عرب امارات اور قطر کے علاوہ انڈونیشیا اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ ان تمام ممالک سے پاکستان کے دوستانہ تعلقات ہیں۔ لہٰذا بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت بالکل درست فیصلہ تھا۔ پاکستانی فوج غزہ نہ بھیجنے کا فیصلہ بھی درست ثابت ہو گا کیونکہ حماس اور پی ایل او کے آپس میں اختلافات ہیں۔ حماس عرب عوام میں اب بھی خاصی مقبول ہے لہٰذا پاکستانی عوام بھی نہیں چاہیں گے کہ ہمارے فوجی غزہ جا کر حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کا حصہ بنیں۔ یہ بھی پوچھا جاتا کہ آیا بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا نعم البدل ہو سکتا ہے‘ تو میرا جواب نفی میں ہے۔ برطانیہ‘ جرمنی‘ فرانس‘ انڈیا‘ کینیڈا اور چین جیسے ممالک بورڈ آف پیس کا حصہ نہیں ہیں۔ عددی طور پر بورڈ آف پیس پورے کرہ ارض کا قطعاً نمائندہ نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ یورپی یونین کو بورڈ آف پیس میں شرکت کی دعوت ملی مگر انہوں نے قبول نہیں کی۔ اسی طرح کینیڈا کے وزیراعظم کے نہ آنے کی وجہ یہ پتا چلی ہے کہ ورلڈ اکنامک فورم میں کینیڈین وزیراعظم کی تقریر پر صدر ٹرمپ اس قدر نالاں ہوئے کہ انہیں دعوت ہی نہیں دی گئی۔ صدر ٹرمپ خود تو متنازع ہیں ہی اور ان کا بورڈ بھی متنازع ہے لیکن غزہ کی تعمیرِ نو کیلئے جو بھی سامنے آئے غنیمت ہے‘ پاکستان کا بورڈ جوائن کرنے کا فیصلہ درست ہے۔ ہر ملک کے اپنے حالات ‘ اپنا نقطۂ نظر ہے۔
اسرائیل کا وزیراعظم نیتن یاہو گریٹر اسرائیل پر مکمل یقین رکھتا‘ جس میں لبنان کے کچھ حصے بھی مجوزہ طور پر شامل ہوں گے۔ اس ناپاک منصوبے کو روکنا عرب اور مسلم ممالک کا فرض ہے۔ اگلے روز اسرائیل کے ایک وزیر نے کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا ہماری حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔ اسرائیلی حکومت کی یہ بھی خام خیالی ہے کہ اس نے شیعہ قوسِ مزاحمت ختم کر دی ہے‘ یعنی حماس‘ حزب اللہ‘ بشار الاسد اور ایران کو بہت کمزور کر دیا ہے۔ اب اسرائیل کی نظریں سنی قوسِ مزاحمت پر ہیں یعنی ترکیہ‘ سعودی عرب‘ پاکستان اور مصر۔ لہٰذا ان چاروں ممالک کو اب ڈیفنس پروڈکشن اور عسکری مہارت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ایران کے علاوہ پاکستان بھی اسرائیل کے نشانے پر ہے۔ ان چاروں ملکوں کو چاہیے کہ خطے کے حالات پر ہمہ وقت نظر رکھیں اور آپس میں مشاورت جاری رکھیں۔ جنگی مشقوں کا شیڈول ہر سال بنائیں اور بین الاقوامی اجتماعات میں اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم کی مذمت کرتے رہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان کا ریکارڈ شاندار ہے۔ خاص طور پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے فلسطینیوں کے حقوق کی مؤثر طریقے سے وکالت کی ہے۔
ہمیں ایران سے بھی ہمہ وقت مشاورت جاری رکھنی چاہیے۔ ایران کے راستے سے ہی کلبھوشن یادیو جیسے لوگ ہمارے بلوچستان میں آتے رہے ہیں اور اس راستے سے موساد کے ایجنٹ بھی آ سکتے ہیں۔ اب بات شیعہ سُنی کی نہیں بلکہ اسلامی ممالک کا مکمل تحفظ اور سکیورٹی سب سے اہم ہے اور یہ ہدف مکمل شیعہ سُنی اتحاد سے ہی ممکن ہے۔ ترکیہ کے پاس ٹیکنالوجی ہے۔ سعودی عرب کے پاس مالی وسائل ہیں اور پاکستان کے پاس جے ایف 17تھنڈر‘ مشاق اور الخالد ٹینک اسیمبل کرنے والے لوگ ہیں ہم سب مل کر عرب اور مسلم ممالک کا مؤثر دفاع کر سکتے ہیں۔