سبز موتیا

قریبی احباب جانتے ہیں کہ صحت کے معاملات میں مَیں بے حد سنجیدہ ہوں۔
یہ احتیاط اور آگاہی مجھے بچپن ہی سے لاحق تھی۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ تین چار برس کی عمر میں میں نے ورزش شروع کر دی تھی۔ زمین کے اس خطے میں جہاں ہم رہ رہے ہیں‘ پہلا جِم اس فقیر ہی نے قائم کیا تھا۔ ٹریڈ مِل (Treadmill) بھی میں نے ایجاد کی تھی۔ اس ایجاد سے پہلے لوگ چُست رہنے کے لیے سیڑھیوں سے بار بار اترتے اور چڑھتے تھے۔ ٹریڈ مل کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اسے ورزش کے لیے استعمال کریں یا نہ کریں‘ اس پر کپڑے لٹکا سکتے ہیں۔ یوں یہ مشین کثیر الاستعمال ثابت ہوئی۔ ورزش کی ایک نادر قسم‘ مزاح کے امام‘ جناب شفیق الرحمان نے بھی متعارف کرائی۔ ان کا ایک کردار ہے تلخ صاحب۔ یہ صاحب کچھ مارکسسٹ‘ انارکسٹ قسم کے ہیں۔ یہ ہر وقت ایک بے حد میٹھی گرم چیز پیتے ہیں جسے وہ چائے سمجھتے ہیں۔ نیم تاریک کمرے میں بیٹھتے ہیں۔ عینک کا نمبر بھی غلط ہے۔ یہ سب کچھ بدل دیا گیا۔ اور اگر میں بھول نہیں رہا تو ان کے پیچھے باقاعدگی سے کتا چھوڑا جاتا جس سے بچنے کے لیے انہیں بھاگنا پڑتا۔ یوں وہ چست وچوبند ہو گئے۔
میں اپنی بات کر رہا تھا۔ خوراک کا بھی بہت خیال رکھا۔ گھاس پھونس زیادہ کھائی۔ ڈاکٹروں طبیبوں نے لمبی چوڑی فہرستیں دیں کہ یہ چیزیں نہیں کھانی۔ غم اور دھوکا زیادہ سے زیادہ کھانے کی تلقین کی گئی۔ آنکھوں کی ورزش باقاعدگی سے کرتا رہا۔ پھر اچانک سب کچھ بدل گیا۔ میری بینائی میں عجیب وغریب تبدیلیاں رونما ہو نے لگیں۔ میں آئینہ دیکھتا تو اپنے آپ کو ملک کی ایلیٹ کلاس میں کھڑا پاتا۔ مگر ساتھ ہی یہ ایلیٹ کلاس قلاش اور مفلس نظر آتی۔ سرکاری ملازم‘ خاص طور پر نچلے درجے کے‘ کروڑ پتی دکھائی دیتے۔ منتخب اداروں میں بیٹھے گردن بلند حضرات غریب لگتے۔ یہ تو محض چند علامات تھیں۔ مرض بہت پیچیدہ تھا۔ پہلے طبیب کے پاس گیا۔ مگر اس کی دقیانوسی ادویات سے کچھ افاقہ نہ ہوا۔ پھر گھر والے ایک جدید ماہر امراض چشم کے پاس لے گئے۔
اس نے ماڈرن آلات کے ساتھ بھرپور معائنہ کیا۔ پھر مجھے بٹھایا اور کافی دیر کچھ سوچتا رہا۔ پھر اس نے بتایا کہ مجھے ایک عجیب وغریب مرض لاحق ہو گیا ہے۔ یہ مرض تیسری دنیا کے ملکوں میں پایا جاتا ہے خاص طور پر اُن ملکوں میں جہاں اولیگارکی کا راج ہو‘ یعنی امرا کے ایک مختصر سے طبقے کی حکومت! جو فیصلہ سازی میں عوام کو شامل نہیں ہونے دیتی۔ اس مرض کی دو خاص علامتیں ہیں۔ ایک تو امیر غریب اور غریب امیر نظر آتے ہیں‘ دوسرے اگر کوئی تحریر سامنے رکھی جائے تو اس کے کچھ حصے دکھائی دیتے ہیں اور کچھ نہیں دکھائی دیتے۔ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ اس بیماری کا نام کیا ہے؟ اس نے بتایا کہ آنکھوں میں جو موتیا اتر آتا ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک کو سفید موتیا کہتے ہیں۔ دوسرے کو کالا موتیا! میری آنکھوں میں ایک اور ہی قسم کا موتیا اتر آیا تھا۔ یہ ایک تیسری قسم تھی۔ سفید موتیا آنکھوں میں تو نہ تھا مگر اس مرض نے میرے خون کو سفید ضرور کر دیا تھا۔ اسی طرح کالا موتیا آنکھوں میں تو نہ تھا مگر میرا دل ضرور کالا ہو گیا تھا۔ اس نئی قسم کے موتیا کا نام ہرا موتیا تھا‘ یعنی سبز موتیا۔
اب میں ہرے موتیا کا پکا پکا مریض تھا۔ مجھے ریڑھیوں والے‘ موٹر سائیکلوں والے‘ خاکروب‘ نائب قاصد‘ ڈرائیور‘ گریڈ ایک سے گریڈ اٹھارہ انیس تک کے سرکاری ملازم‘ سڑکوں‘ پُلوں اور عمارتوں کی تعمیر میں حصہ لینے والے راج اور مزدور‘ بسوں سے لٹکنے والے مسافر‘ سبزی منڈی میں ٹوکرا بردار محنت کش غرض عام عوام خوشحال دکھائی دیتے۔ اس کے برعکس اسمبلیوں اور کابینہ کے ارکان‘ ٹاپ بیورو کریسی‘ وڈیرے‘ صنعتکار‘ بزنس ٹائیکون‘ چینی مافیا اور دیگر مافیاز کے ارکان‘ سیاسی پارٹیوں کے اجارہ دار‘ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان‘ غرض بالائی طبقات کے معززین ہمدردی اور مالی امداد کے مستحق دکھائی دیتے۔ اب میں چونکہ ایلیٹ کلب میں شامل ہو گیا تھا‘ مجھے منتخب اداروں میں بھی رکنیت دی گئی۔ منتخب اداروں میں تشریف فرما ارکان مجھے بھوکے ننگے دکھائی دیے۔ یہ چیتھڑوں میں ملبوس تھے۔ میرا ہرے موتیا کا عارضہ یہاں عروج پر تھا۔ کروڑوں کی لگژری گاڑیاں آٹھ سو سی سی کی کاریں دکھائی دیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا ہے‘ ہرے موتیا کی وجہ سے مجھے سرکاری کاغذات کے کچھ حصے نظر نہیں آتے تھے۔ چنانچہ جب عوام نے شور مچانا شروع کیا کہ بجلی پیدا کرنے والے نجی ادارے بجلی نہ پیدا کر نے کے باوجود بھی اربوں روپے حکومت سے لے رہے ہیں تو مجھے تعجب ہوا۔ عوام کہہ رہے تھے معاہدے غلط ہوئے ہیں۔ پیداوار پر نہیں بلکہ کپیسٹی کی بنیاد پر ادائیگیاں ہو رہی ہیں۔ حالانکہ میرے پاس جب ان معاہدوں کے ڈرافٹ آئے تھے تو واللہ! یہ عوام دشمن شقیں مجھے نظر ہی نہ آئیں۔ ہو سکتا ہے باقی حضرات بھی نابینا ہوں ورنہ اتنی ظالمانہ شقیں کیسے پاس کی جا سکتی تھیں۔ شاید ہرے موتیا کی وبا پھیل رہی ہے۔ جب مراعات یافتہ طبقات کے الاؤنس بڑھائے جاتے ہیں تو مجھے تو یہ بڑھاوا کبھی نہیں نظر آیا۔ یوں بھی غریب عوامی نمائندوں کو تنخواہیں‘ سیشن اٹینڈ کرنے کے معاوضے‘ قائمہ کمیٹیوں میں آنے کے معاوضے‘ بہترین علاج کے لیے سرکاری رقوم اور دیگر مراعات ملتی ہیں تو بظاہر اس میں کوئی حرج نہیں۔ رہا عام سرکاری ملازموں کی تنخواہوں اور پنشنوں میں صرف سات فیصد اضافے کا مسئلہ‘ تو بجٹ میں یہ چیز مجھے دکھائی ہی نہیں دی!
یہ جو شورو غوغا آج کل برپا ہے کہ موبائل ٹیلیفونوں کی کمپنیوں کو کھلی چھٹی دی جانے لگی ہے کہ جہاں چاہیں‘ کھمبے لگا لیں۔ کسی نے مزاحمت کی تو کروڑوں کے جرمانے ہوں گے تو جب یہ بل میرے پاس آیا تھا تو یہ ناروا شق مجھے تو نظر ہی نہیں آئی تھی۔ لیکن ایک بات پر مجھے تعجب ہے۔ میں تو ہرے موتیا جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوں۔ مگر ایوانوں کے دیگر ارکان اور کابینہ میں تشریف فرما لائق حضرات نے یہ شقیں کیوں نہ دیکھیں؟ میں تو ہر وقت دست بدعا ہوں کہ یہ بیماری جو مجھے لاحق ہے‘ دیگر معززین کو نہ لگے! معلوم نہیں یہ شقیں انہیں کیوں نہ دکھائی دیں!!
سبز موتیا کے کچھ فوائد بھی تو ہیں۔ مغربی ممالک اس مرض سے محفوظ ہیں مگر دوسری طرف یہ بھی دیکھیے کہ برطانیہ کے وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ نیا وزیر اعظم دس سال میں ساتواں وزیراعظم ہو گا۔ یہ جو ہمارے ہاں تین تین‘ چار چار بار ایک ہی شخص وزیراعظم یا صدر بنتا ہے تو یہ سب سبز موتیا کی برکت ہے۔ چار چار دہائیوں سے نام نہاد سیاسی جماعتوں پر ایک ایک خاندان کی اجارہ داری چلی آ رہی ہے۔ یہ مزے مغربی ملکوں کے سیاست دانوں کو کہاں نصیب!! آپ زیادتی کی انتہا ملاحظہ کیجیے کہ وزیراعظم برطانیہ اپنی پارٹی ہی کی حمایت سے محروم ہو گیا ہے۔ سبز موتیا کی برکت ہے کہ یہاں پارٹی کا کوئی رکن لیڈر کی حمایت نہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اور ہاں! یہ تو بتانا میں بھول ہی گیا کہ ماہر امراض چشم نے مجھے دوائیاں کون کون سی دیں۔ اس نے قطرے دن میں تین بار ڈالنے کے لیے کہا۔ یہ قطرے طوطا چشمی اور بے وفائی کے ہیں۔ صبح اٹھتے ہی آنکھیں گرم پانی سے دھونی ہیں۔ اس پانی میں چاپلوسی کا سفوف ملانا ہو گا۔ ڈاکٹر نے نئی عینک بنوانے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ نئی عینک میں بے ضمیری اور ڈھٹائی کے شیشے لگائے جائیں گے۔ پرہیز کا پوچھا تو بتایا کہ غیرت سے مکمل پرہیز کرنا ہو گا۔ تاریخ کے مطالعہ سے بھی بچنا ہو گا۔ طاقت کے لیے جہالت کے کیپسول زندگی بھر لینے ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں