"RKC" (space) message & send to 7575

کتابوں میں قید قدیم جنگیں

سعدیہ نذیر سے پندرہ برس سے زائد کا فیملی تعلق ہے۔ قابل لیکن سیلف میڈ پرسن۔ ان کی خوبی انسان دوستی اور کتابوں سے محبت ہے۔ مجھے بہت سی اچھی کتابیں تحفے میں دیں‘ جو میں نہ پڑھتا تو بہت کمی رہتی۔ The Forty Rules of Love کی مصنفہ ترک لکھاری ہیں۔ یہ مولانا رومی اور شاہ شمس تبریز پر لکھا گیا ایسا کمال ناول ہے کہ میں نے پڑھنے کے بعد اپنے اندر بہت تبدیلیاں محسوس کیں۔ دس برس گزر گئے لیکن اس ناول کا رومانس کبھی کم نہیں ہوا۔ سعدیہ سے مڈل ایسٹ بحران پر بات ہو رہی تھی۔ انہوں نے میرے لیے نئی کتابیں خریدی ہیں اور مجھے ٹائٹل بھیجے ہیں۔ وہ مڈل ایسٹ میں ہیں اور اپنے دفتر کے بعد ان کا شوق کتابیں پڑھنا ہے۔ میں نے ایک دن پوچھا کہ کیا مصروفیات رہتی ہے؟ تو کہنے لگیں کہ ان کی خوش قسمتی کہ جہاں وہ رہتی ہیں وہاں قریب ہی ایک بڑا بک سٹور ہے۔ وہ جب بھی تھکی ہوئی ہوں تو بک سٹور کو پیدل نکل جاتی ہیں۔ وہاں کتابوں میں بہت سا وقت گزارتی ہے‘ کچھ نئی کتابیں خریدتی ہیں اور گھر لوٹ آتی ہیں۔ وہ اپنے لیے خریدی گئی کتابوں کی تصویریں میرے ساتھ شیئر کرتی رہتی ہیں اور جب بھی پاکستان آئیں‘ سب بنڈل مجھے دے جائیں گی۔ اپنی بھی اور میرے لیے خریدی گئی نئی کتابیں بھی۔
میں نے پوچھا: جنگ کی وجہ سے کیا حالات ہیں؟ کہنے لگیں: ویسے سب ٹھیک ہے مگر صاف ظاہر ہے کہ جب جنگ چل رہی ہو تو ذہنی دبائو تو رہتا ہی ہے لیکن ویسے سب امن ہے۔ میں نے کہا: آپ نے ایک بات نوٹ کی‘ ہم یہ سب جنگی باتیں‘ انسانوں اور تہذیبوں کی بربادی کی کہانیاں کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں اور اب بھی پڑھتے ہیں۔ اپنے آرام دہ کمروں میں لیٹ کر مختلف حملہ آوروں کی انسانی معاشروں پر فتوحات کے بارے میں پڑھنا ایک ذہنی عیاشی لگتا ہے۔ہم ان معاشروں اور انسانوں کا وہ درد اور خوف محسوس ہی نہیں کر سکے جو انہیں لاحق ہوگا۔ کہیں دور پہاڑوں اور صحرائوں سے سرپٹ گھوڑوں پر سوار تلواریں لہراتے جنگجو لمحوں میں زندگیاں ختم کر دیتے۔ گھر اجڑ جاتے‘ بچے مارے جاتے‘ خواتین کو غلام بنا لیا جاتا‘ گھروں اور گائوں کو آگ لگا دی جاتی‘ سب کچھ لوٹ لیا جاتا‘ کھیت جلا دیے جاتے اور بچے کھچے مرد غلام بنا کر اپنے ساتھ لے جاتے۔ اندازہ کریں کہ وہ لوگ کس دہشت سے گزرتے ہوں گے اور ان کی زندگیاں بھلا دوبارہ نارمل ہو پاتی ہوں گی؟ میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا The Mongol Storm۔ یہ منگولوں کی فتوحات (یا بربریت) کے بارے میں ہے۔ اسے پڑھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے کہ اس دور میں انسان کیسے گاجر مولی کی طرح کاٹ دیے جاتے تھے۔ اگرچہ سب کچھ شاہ خوارزم کے دور میں شروع ہوا‘ جب چین سے آئے تاجروں کے ساتھ سرحدی علاقوں میں برا سلوک کر کے انہیں قتل کر دیا گیا جس کا بدلہ لینے کیلئے منگول نکلے اور انہوں نے پوری دنیا جلا دی۔ اگرچہ وہ آئے تو اپنے تاجروں کا بدلہ لینے کیلئے تھے لیکن پھر ان کے منہ کو ایسا انسانی لہو لگا کہ سب کچھ تہس نہس کرتے وہ بغداد تک جا پہنچے۔ وہ واحد جنگجو تھے جن کی دہشت ان سے پہلے سفر کرتی تھی اور اس دہشت کے سہارے وہ جنگیں لڑے بغیر جیت جاتے تھے۔ مقامی افراد ہتھیار ڈالنے کو تیار رہتے کہ کون اس صحرائی آندھی کا مقابلہ کرے۔ ان مقامیوں کا بھلا صحرا سے نکلے وحشیوں سے کیا مقابلہ‘ جنہوں نے پہلی دفعہ صحرائی ریت سے پرے ایک مہذب اور خوشحال دنیا دیکھی تھی۔ ان کا سب سے بڑا ہتھیار ایک ہی تھا کہ وہ سب کچھ جلا دیتے تھے‘ لہٰذا دہشت پھیلتی جاتی تھی اور ہر سو ان کے نام کے چرچے ہوتے۔ جب وہ بغداد پہنچے تو آخری عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کو کہا کہ ہتھیار ڈال دو اور قلعے کے دروازے کھول دو۔خلیفہ نے جواب بھجوایا کہ دروازے کھول دیتے ہیں لیکن کسی کا جانی نقصان نہ کیا جائے۔ منگولوں نے ہامی بھر لی۔ قلعہ کھولا گیا تو منگولوں نے قتلِ عام شروع کر دیا اور خلیفہ کو بھی وحشیانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا۔ ان وحشیوں کو کون سے وعدے باندھ سکتے تھے؟
ایسی کہانیاں آپ سب نے پڑھی ہوں گی کہ ہمارے اپنے خطے میں کیسے دنیا بھر کے جنگجو حملہ آور ہوتے رہے اور یہاں بھی وہی بربادی ہوئی جو دنیا کے دوسرے حصوں میں ہو رہی تھی۔ باقی چھوڑیں‘ نادر شاہ کو دیکھ لیں جس نے دلّی کو فتح کر کے قتلِ عام کیا تھا۔ منگولوں سے گلہ تو بعد میں کریں کہ وہ وحشی تھے‘ لیکن نادر شاہ تو مسلمان تھا اور مسلمانوں کا اتنا لہو بہایا گیا کہ دلّی کی گلیاں لہو میں ڈوب گئیں۔ اسی طرح فرانس کے نپولین کی جنگی کہانیاں پڑھ لیں۔ اندازہ ہو جائے گا کہ صرف چند برسوں میں اس کے شہنشاہ بننے کی خواہش لاکھوں لوگوں کی جان لے گئی اور خود اس نے اپنے آخری دن ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملکیت ایک جزیرے پر گزارے۔ وہاں بھی اس کا فرمان تھا کہ قید میں بھی اسے شہنشاہ پکارا جائے۔ جو تباہی یورپ میں نپولین نے مچائی وہ کبھی نہیں رکی بلکہ نپولین کے بعد‘ تقریباً ایک سو سال کے اندر پہلی عالمی جنگ لڑی گئی جس میں کروڑوں لوگ مارے گئے۔ تباہی اور بربادی چار سال تک جاری رہی۔ جنگ میں کچھ کمی ہوئی تو روس میں انقلاب آ گیا اور عام مزدورں اور کسانوں نے زار کے خلاف بغاوت کر دی۔ زار کو خاندان سمیت قتل کر دیا گیا۔ اس طرح کی بغاوت فرانس میں بھی ہو چکی تھی جس میں بادشاہ اور ملکہ بھی قتل کر دیے گئے تھے۔ اس بربادی میں کچھ کمی ہوئی تو دوسری عالمی جنگ شروع ہو گئی اور دوبارہ کروڑوں لوگ مارے گئے‘ کروڑوں دیگر متاثر ہوئے‘ بے گھر ہوئے اور اذیتیں اٹھائیں۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ سلطنتِ برطانیہ ختم ہوئی اور نئے ملکوں نے جنم لیا۔ تاہم اگلی دہائیوں میں سرد جنگ شروع ہو گئی اور کچھ سکون ملا۔
اگرچہ جنگیں پھر بھی ہوتی رہیں لیکن اُس سطح کی تباہی وبربادی نہ دیکھی گئی جو پہلی یا دوسری عالمی جنگ میں انسانوں کا مقدر بنی تھی۔ پھر کتابوں میں عراق‘ افغانستان اور لیبیا کی جدید ادوار کی جنگوں کا پڑھا بلکہ اب تو ٹی وی چینلز پر براہِ راست جنگ کی کوریج گھر میں بیٹھ کر دیکھی۔ لیکن ہم سب نے کبھی نہ سوچا تھا کہ اپنی زندگیوں میں ہم خود پر میزائل فائر ہوتے دیکھیں گے‘ ہمارے ملک پر بھی حملے ہوں گے اور ہم جوابی حملے کریں گے۔ ابھی جو کچھ ایران اور مڈل ایسٹ میں ہو رہا ہے وہ ہمارے تصور میں بھی نہیں تھا۔ ہم سب کتابیں پڑھنے والے یہی سمجھتے تھے کہ یہ سب کچھ بہت دور‘ کتابوں میں ہوتا ہے۔ سب جنگجو اور جنگیں کتابوں میں بند ہیں‘ اب انسان بہت سمجھدار اور مہذب ہو چکا ہے۔ اب انسان ایک دوسرے کو نہیں ماریں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ جینا سیکھ چکے ہیں۔ لیکن ایران میں سکول پر امریکی میزائل حملے میں 170کے قریب بچیاں شہید ہوئیں تو دل بجھ سا گیا۔ ابھی ایک ایرانی ماں کی وڈیو دیکھی جو اپنے چھوٹے سے بیٹے کو زور سے گلے سے لگا کر اس کا خوف دور کر رہی تھی کہ میں تمہارے ساتھ اور تم میرے ساتھ ہو۔ جب اسرائیلی بمباری کی آوازیں آتیں تو ماں بیٹا ڈر کے مارے ایک دوسرے سے لپٹ جاتے۔ اس ایک وڈیو نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے کہ جنگ انسانوں کیلئے کیا خوف‘ ڈر اور تباہی لاتی ہے۔ یہی کچھ ایرانی حملوں سے مڈل ایسٹ میں ہو رہا ہے۔ کسی نے سچ کہا تھا: غریب لوگ امیروں کی جنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہی کچھ ہوتا آیا اور یہی ہو رہا ہے۔ میں نے سعدیہ سے کہا: ہم تاریخ کی کتابیں پڑھ پڑھ کر خود کو یہ تسلی دیے بیٹھے تھے کہ جنگیں اب کتابوں میں قید ہیں۔ سعدیہ کا جواب آیا: ہم غلط تھے۔ جنگیں کبھی کتابوں میں قید نہیں تھیں۔ ہم اب حقیقی دنیا میں ہیں جہاں اس وقت جنگیں لڑی جا رہی ہیں اور ہم ان کا حصہ ہیں۔ اس دور پر کبھی اگلے زمانوں میں کتابیں لکھی جائیں گی اور ہماری طرح کچھ اور کتابوں کے شوقین اُن زمانوں میں یہی یقین کر بیٹھیں گے کہ جنگیں محض کتابوں میں قید ہیں اور وہ بھی ہماری طرح غلط نکلیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں