"AIZ" (space) message & send to 7575

ختمِ نبوت کانفرنس

سید عطا اللہ شاہ بخاری بر صغیر کے عظیم رہنما‘ بے مثل خطیب اور بلند پایہ عالم دین تھے۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی بیداری میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اگر سید عطا اللہ شاہ بخاری کی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو ان کی خدمات دو بنیادی نکات کے گرد گھومتی ہیں۔ انہوں نے تحریک آزادی کیلئے نمایاں کردار ادا کیا‘ برصغیر کے طول وعرض میں بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کر کے لوگوں کو انگریز سامراج سے آزادی حاصل کرنے کیلئے متحرک کیا۔ ان کی دوسری اہم خدمت یہ ہے کہ انہوں نے تحریک ختم نبوت میں مثالی کردار ادا کیا۔ انہوں نے 1934ء میں تحریک ختم نبوت کو منظم کرنے کیلئے اپنے سفر کا آغاز قادیان سے کیا۔ 29 دسمبر 1929ء کو انہوں نے مجلس احرارِ اسلام کی بنیاد رکھی اور اس کے بانی رہنما کی حیثیت سے برصغیر کے طول وعرض میں بہت سے اسفار کیے۔ انہوں نے مجلس احرار اور ختم نبوت کے پیغام کو برصغیر کے طول وعرض میں پھیلانے کیلئے اپنی زندگی کو وقف کیے رکھا۔ شاہ صاحب کو اپنی جرأتِ اظہار اور بے باکی کی وجہ سے قید وبندکی صعوبتوں کو بھی برداشت کرنا پڑا اور تاریخی دستاویزات کے مطابق وہ تقریباً ساڑھے بارہ برس تک قید وبند میں رہے۔
سید عطا اللہ شاہ بخاری کی رحلت کے بعد مجلس احرارِ اسلام نے اس مشن کو آگے بڑھانے کیلئے اپنے آپ کو منظم رکھا۔ چناب نگر میں مجلس احرارِ اسلام کے زیر اہتمام ہر سال 11 اور 12 ربیع الاوّل کو دو روزہ سالانہ کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے جید اور نامور علما کو مدعو کیا جاتا ہے۔ مجھے بھی گزشتہ برسوں کے دوران اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جاتی رہی لیکن دیگر بہت سی مصروفیات اس کانفرنس میں شرکت کے راستے میں حائل ہوتی رہیں۔ اس سال جب مجھ سے عطا اللہ شاہ بخاری کے نواسے اور مجلس احرارِ اسلام کے امیر سید کفیل شاہ بخاری اور نائب امیر عبداللطیف چیمہ نے رابطہ کیا تو میں نے کانفرنس میں شرکت کی ہامی بھر لی۔
11 ربیع الاول کو عشا کی نماز کے بعد قرآن وسنہ موومنٹ چنیوٹ کے چیئرمین مدثر رحمانی‘ فیصل آباد کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر مصدق اور دیگر احباب کے ہمراہ میں جب مسجد احرار چناب نگر پہنچا تو وہاں کفیل شاہ بخاری نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بھرپور انداز سے ہمارا استقبال کیا۔ کفیل شاہ بخاری نے عطا اللہ شاہ بخاری کی خطابت اور ان کی جرأت کے بہت سے واقعات بیان کیے۔ اس موقع پر والد گرامی علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے ملک بھر میں ختم نبوت اور دیگر موضوعات پر خطابات کے حوالے سے بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ کفیل شاہ صاحب نے بتلایا کہ والد گرامی جب ملتان تشریف لاتے تو وہ بڑے شوق سے ان کا خطاب سننے کیلئے جاتے تھے۔ کانفرنس سے جید علما کرام ختم نبوت کے موضوع پر اپنے اپنے انداز میں اظہارِ خیال کرتے رہے۔ مجھے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ میں نے جن گزارشات کو سامعین کے سامنے رکھا‘ ان کو کچھ ترامیم اور اضافے کے ساتھ قارئین کی نذر کرنا چاہتا ہوں:
اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو مختلف علاقوں اور اقوام کی رہنمائی کیلئے مبعوث کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو اپنی قوم کی رہنمائی کیلئے‘ حضرت ہود علیہ السلام کو قوم عاد کی رہنمائی کیلئے‘ حضرت صالح علیہ السلام کو قوم ثمود کی رہنمائی کیلئے اور حضرت شعیب علیہ السلام کو قوم مدین کی رہنمائی کیلئے مبعوث کیا۔ اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام قوم سدوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ حضرت موسیٰ‘ حضرت ہارون‘ حضرت دائود‘حضرت سلیمان‘ حضرت زکریا‘ حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام نے بنی اسرائیل کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا لیکن جب نبی کریمﷺ کو مبعوث کیا گیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الاعراف کی آیت: 158 میں آپﷺ کی رسالت و نبوت کی جامعیت کا اظہار فرمایا: ''آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ سبا کی آیت: 28 میں اس حقیقت کو کچھ یوں بیان فرمایا: ''ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے خوشخبریاں سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے‘ ہاں مگر (یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بے علم ہے‘‘۔ چونکہ نبی کریمﷺ جمیع انسانیت کے مقتدا ہیں‘ اس لیے آپﷺ پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسالت ونبوت کے سلسلے کو ہر اعتبار سے تمام فرما دیا اور سورۃ الاحزاب کی آیت: 40 میں اس امر کا اعلان فرما دیا: ''محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیا کے آخر میں (سلسلۂ نبوت ختم کرنے والے) ہیں‘‘۔
عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:
صحیح بخاری وصحیح مسلم‘ مسند احمد اور سنن الکبریٰ للبیہقی میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: میری اور سابق انبیاء کرام کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک شخص نے ایک خوبصورت گھر بنایا مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس گھرکو دیکھ کر اس کی خوبصورتی پر تعجب کرتے ہیں‘ مگر کہتے ہیں کہ کیا خوب ہو اگر (وہ آخری) اینٹ بھی اپنی جگہ پر لگا دی جائے‘ پس میں وہ اینٹ ہوں اور میں آخری نبی ہوں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ''قیامت اُس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تیس بڑے کذاب نہیں آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ ''رسول اللہﷺ جب جنگ تبوک کیلئے نکلے تو آپﷺ نے حضرت علیؓ کو مدینہ میں اپنا نائب مقررکیا۔ حضرت علیؓ نے عرض کی کہ (میں تو میدانِ جنگ کا سوار ہوں) کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں کے پاس چھوڑکر جانا چاہتے ہیں؟ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے علی! کیا آپ اس بات پر خوش نہیں کہ آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہو جو موسیٰ کو ہارون علیہما السلام سے تھی‘ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ''بنی اسرائیل پر انبیاء کرام حکومت کرتے اور ان کی رہنمائی بھی کرتے رہے۔ جب ایک نبی کا انتقال ہو جاتا تو دوسرا نبی ان کی جگہ لے لیتا۔ میرے بعدکوئی نبی تو نہیں ہوگا؛ تاہم خلفا ہوں گے اور تعداد میں بہت ہوں گے‘‘۔ سنن ترمذی میں حدیث ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ''میرے بعد تیس بڑے جھوٹے آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ ہوگا کہ وہ نبی ہے جبکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔
قرآن مجید کی آیاتِ بینات اور احادیث طیبہ میں گو اس مسئلے کو بڑی وضاحت سے بیان کر دیا گیا لیکن بدقسمتی سے نبی کریمﷺ کے عہد مبارک سے لے کر آج تک بہت سے لوگ نبوت کا جھوٹا دعوی کرتے رہے اور ہر دعویٰ کرنے والا ناکام ونامراد رہا۔ پاکستان میں منکرین ختم نبوت کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دلانے کیلئے علماء کرام نے بہت محنتیں کیں اور مختلف ادوار میں مختلف طرح کی تحریکیں چلائی گئیں لیکن اس کو قانونی حیثیت دلانے کا موقع اُس وقت آیا جب 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے اس بات کو طے کر دیا کہ جو نبی کریمﷺ کی ختم نبوت کا منکر ہے‘ وہ دائرہِ اسلام سے خارج ہے۔ بعد میں اس فیصلے کو قانونی حوالے کے طور پہ دنیا کے مختلف ممالک میں پیش کیا جاتا رہا۔ نبی کریمﷺ کی ختم نبوت کی چوکھٹ کے تحفظ کیلئے جس طرح علمائے اسلام اپنا کردار ادا کرتے رہے‘ آج پھر اسی جذبے کے ساتھ اس عقیدے کو عام کرنے کی بھرپور انداز سے کوشش کی جانی چاہیے اور یہ بات دنیا کے سامنے رکھنی چاہیے کہ نبی کریمﷺ کی حرمت اور آپﷺ کی ختم نبوت پر امت کسی قسم کا سمجھوتا کرنے کیلئے تیار نہیں۔ عوام نے علما کرام کے خطابات کو بڑی توجہ سے سنا اور یوں احرار ختم نبوت کانفرنس اپنے جلو میں بہت سی یادوں کو لیے مکمل ہوئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...