کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوان ہوتے ہیں جن کی تعلیم‘ تربیت اور اخلاق کی بنیاد پر ہی کوئی قوم ترقی کے مدارج طے کر سکتی ہے۔ اگر قوم کے نوجوان دین‘ ملک اور ملت سے محبت کرنے والے ہوں تو قوم کے بہتر مستقبل کی امید کی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی قوم کے نوجوان بداخلاقی اور بے راہ روی کا شکار ہو جائیں تو روشن مستقبل کی امیدیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ہمارے ملک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تعداد میں کم ہیں‘ تاہم ان نوجوانوں کی ملک کی تعمیر وترقی کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو دیکھ کر ہر محب وطن انسان مطمئن ہوتا ہے لیکن ان نوجوانوں کو اگر کسی مسئلے کا سامنا کرنا پڑے تو ہر ذی شعور انسان کو تکلیف ہوتی ہے۔
پاکستان کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے حوالے سے ایک تشویشناک مسئلہ گاہے گاہے رپورٹ ہوتا رہتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی ترسیل جاری ہے۔ ایک مطبوعہ رپورٹ کے مطابق 2025ء کے دوران پاکستان بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے 385 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں طلبہ اور طالبات کے علاوہ کچھ سپورٹنگ سٹاف بھی ملوث پایا گیا۔ اتنی بڑی تعداد میں منشیات کے کیسوں کا رپورٹ ہونا ہر ذی شعور انسان کو ذہنی تشویش میں مبتلا کر دیتا ہے اور ہر دردمند ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ اس مسئلے کے تدارک کیلئے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔ یہ ایک سماجی المیہ ہے اور اس سے عہدہ برآ ہونے کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے درج ذیل نکات پر توجہ دینا ضروری ہے:
1۔ والدین کی ذمہ داری: والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی روز مرہ سرگرمیوں پر بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ جو والدین اپنے بچوں کے معمولات کے بارے میں حساس ہوتے ہیں‘ وہ اپنی اولاد کی سرگرمیوں میں تبدیلی کو دیکھ کر فوراً سے پہلے ان کے تدارک کیلئے کوشاں ہو جاتے ہیں۔ بچوں کی دوستی اور ان کے گھر آنے جانے کے اوقات میں تبدیلی آ جائے یا وہ ذہنی افسردگی‘ ڈپریشن اور اعصابی تنائو کا شکار نظر آئیں تو والدین کو فوراً سے پہلے ان کے مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ان بچوں کو فاصلے پر رکھنے کے بجائے ان کو اپنے مزید قریب کر کے مفید مشورے دینے چاہئیں تاکہ اگر وہ کسی منفی سمت میں جا رہے ہیں تو ان کو بروقت روکا جا سکے۔
2۔ اداروں کی انتظامیہ اور اساتذہ کی ذمہ داری: سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی انتظامیہ اور اساتذہ کی ذمہ داری صرف بچوں کو تعلیم دینا نہیں بلکہ ان کی تربیت کا مؤثر انتظام کرنا بھی ہے۔ ان کی صلاحیتوں اور توانائیوں کو درست سمت پر لگانے کے حوالے سے رہنمائی کرنا اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔ جو اساتذہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت کا فریضہ انجام دیتے ہیں‘ان کے طلبہ ہمیشہ مثبت راہوں پر گامزن نظر آتے ہیں‘ تاہم جو اساتذہ اس حوالے سے کوتاہی کا مظاہرہ کرتے ہیں‘ کئی مرتبہ ان کے شاگردوں میں غیر اخلاقی رویے جنم لینا شروع کر دیتے ہیں۔
3۔ اچھے دوستوں کا انتخاب: زندگی میں برائیوں اور بے راہ روی سے بچنے کیلئے اچھے دوستوں کا چنائو انتہائی ضروری ہے‘ وگرنہ کئی مرتبہ بُری صحبت کے نتیجے میں انسان نظریاتی‘ اعتقادی اور عملی اعتبار سے گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کلام اللہ میں ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو اپنے دوست کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں تباہی اور ہلاکت کے راستے پر چل نکلا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الفرقان کی آیات: 27 تا 29 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا: ہائے کاش کہ میں نے اللہ کے رسول کی راہ اختیار کی ہوتی۔ ہائے افسوس! کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کر دیا کہ نصیحت میرے پاس آ پہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو (وقت پر) دغا دینے والا ہے‘‘۔
4۔ طلبہ تک منشیات کی ترسیل کو روکنا: طلبہ تک منشیات کی ترسیل کو روکنے کیلئے منظم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور ایسا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے کہ طلبہ تک منشیات ترسیل نہ ہو سکے۔21 مئی 2026ء کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے وفاقی دارالحکومت کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے خاتمے کیلئے اقدامات کی درخواست پر سماعت کی۔ پٹیشنر کے وکیل نے عدالت میں بتایا کہ کراچی میں ایک منشیات کیس چل رہا ہے‘ اُس میں رائیڈر اور ڈِلیوری بوائز کے ملوث ہونے کا بتایا گیا ہے۔ معزز جسٹس صاحب نے کہا کہ میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ منشیات رائیڈر اور ڈِلیوری بوائے کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ ایچ ای سی حکام نے بتایا کہ ہم نے تعلیمی اداروں میں رائیڈر کی ایک جگہ مختص کروا دی ہے ‘ جو بھی رائیڈر یا ڈلیوری بوائے آتا ہے پہلے اس کی چیکنگ کی جاتی ہے۔
5۔ منشیات کی روک تھام کیلئے سخت سزائوں کا نفاذ: معاشرے میں منشیات کی روک تھام کیلئے منشیات کے دھندے میں ملوث افراد کو کڑی سزائیں دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ضمن میں اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں منشیات فروشوں کو سزائے موت تک سنائی جاتی ہے۔ منشیات کے سوداگر درحقیقت فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں نمٹنا انتہائی ضروری ہے۔ نبی کریمﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں سنگین نوعیت کے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو کڑی سزائیں دیں۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ''کچھ لوگ عکل یا عرینہ (قبیلوں) کے مدینہ میں آئے اور بیمار ہو گئے۔ رسول اللہﷺ نے انہیں لقاح میں جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہاں اونٹوں کا دودھ وغیرہ پئیں؛ چنانچہ وہ لقاح چلے گئے اور جب اچھے ہو گئے تو رسول کریمﷺ کے مقرر کردہ چرواہے کو قتل کر کے وہ جانوروں کو ہانک کر لے گئے۔ علی الصبح رسول کریمﷺ کے پاس (اس واقعہ کی) خبر آئی تو آپﷺ نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے۔ دن چڑھے وہ پکڑ کر حضورﷺ کی خدمت میں لائے گئے۔ آپﷺ کے حکم کے مطابق ان کے ہاتھ پائوں کاٹ دیے گئے اور آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیر دی گئیں (انہوں نے چرواہے کو اسی طرح قتل کیا تھا) اور پھر وہ (مدینہ کی) پتھریلی زمین میں پھینک دیے گئے۔ (پیاس کی شدت سے) وہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت انسؓ ہی سے روایت ہے کہ ''ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے چاندی کے زیور کے لالچ میں مار ڈالا۔ اس نے لڑکی کو پتھر سے کچل کر مارا۔ وہ لڑکی نبی کریمﷺ کے پاس اس حالت میں لائی گئی کہ اس کے جسم میں کچھ جان باقی تھی۔ آنحضرتﷺ نے پوچھا: کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارے سے انکار کیا۔دوبارہ پوچھا کہ کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس مرتبہ بھی اس نے اشارے سے انکار کیا۔ آنحضرتﷺ نے جب تیسری مرتبہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارے سے اقرار کیا۔ چنانچہ آنحضرتﷺ نے اس قاتل یہودی کو دو پتھروں میں کچل کر مارنے کی سزا سنائی‘‘۔
6۔ نشے کے شکار طلبہ کی بحالی کیلئے کوششیں: جو طلبہ منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں ان کو دھتکارنے یا نظر انداز کرنے کے بجائے ان کے علاج ومعالجہ پر توجہ دے کر ان کی بحالی کیلئے بھرپور کوششیں کرنی چاہیے۔ کسی بھی انسان کو کسی الجھن‘ تشویش یا مشکل سے نجات دلانے کیلئے معاشرے کے لوگوں کو اپنی ذمہ داری کو نبھانا چاہیے۔
اگر مذکورہ بالا تدابیر پر عمل کر لیا جائے تو معاشرے میں منشیات کی لعنت پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے نوجوانوں کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق دے‘ آمین!
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments