جغرافیہ کی اُستادکا تاریخی کردار

پچاس کی دہائی میں سب سے اہم عرب رہنما اور مصر کے صدر کرنل جمال عبدالناصر نے اپنی سوانح حیات لکھی تو کتاب کا معیار کافی پست تھا مگر اس میں ایک جملہ بڑا کمال کا اور فکر انگیز تھا اور وہ تھا ''مصری تاریخ کو ایک ہیرو کی تلاش تھی اور یہ محض اتفاق ہے کہ تاریخ نے مجھے ہیرو کا کردار ادا کرنے کیلئے چن لیا‘‘۔ 1930ء کی دہائی میں ہندوستانی مسلمانوں کی عصری تاریخ ایک ہیرو کو ڈھونڈ رہی تھی۔ سارے ہندوستان میں ان خوبیوں کا مالک (جو ہیرو کا کردار ادا کرسکتا) نہ ملا تو تاریخی جبر لندن سے ایک بڑے کامیاب بیرسٹر کو واپس ہندوستان لے آیا اور یوں محمد علی جناح کو قائداعظم بنا دیا۔ میں دو تین مثالوں پر اکتفا کروں گا ورنہ ساری انسانی تاریخ ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے جو تاریخی ضرورت پوری کرنے کیلئے سیاسی افق پر ابھرے۔ساٹھ کی دہائی میں جنرل ایوب خان کی دس سالہ آمریت کا ستارہ غروب ہونے لگا تو ہماری تاریخ نے کروٹ لی اور ایک نئے ہیرو کی ڈھنڈیا پڑی اور وہ ہیرو تھے ذوالفقار علی بھٹو‘ جن کو خود نہ خبر تھی اور نہ احساس کہ پاکستانی تاریخ نے انہیں عہد ساز کردار ادا کرنے کیلئے چن لیا ہے۔خود بھٹو صاحب کو یقین نہ تھا کہ وہ 1970ء کے انتخابات میں مغربی پاکستان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرلیں گے اور اقتدار کا ہما ان کے سر پر بیٹھنے والا ہے۔ بھٹو صاحب کے ایوب خان سے راستے جدا ہوئے تو وہ ایک عرصہ یوسفِ بے کارواں کی طرح سیاسی ویرانے میں بھٹکتے پھرے۔ میاں ممتاز دولتانہ کی (کونسل) مسلم لیگ سے لے کر ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی میں شمولیت کی کوشش میں ناکام ہوئے تو انہیں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر کا وہ سرسبز لان نظرآیا جس میں ان کی پارٹی کی کلی کھل کر پھول بنی۔ ان کی پارٹی کے ایک قطرے (اور وہ بھی تصوراتی) سے ایک جاندار اور چھا جانے والی سیاسی جماعت بننے کے عمل میں جن لوگوں نے کلیدی کردار ادا کیا ان میں ڈاکٹر کنیز فاطمہ یوسف سرفہرست تھیں۔
لاہور میں جو تین افراد پیپلز پارٹی کے معرضِ وجود میں آنے سے پہلے عوام دوست اور ترقی پسند سیاست میں سرگرم تھے وہ تھے ڈاکٹر مبشر حسن‘ شیخ محمد رشید اور محمد حنیف رامے ۔ اُن دنوں حنیف رامے صاحب سندر داس روڈ (ایچیسن کالج کی عقبی سڑک) پر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ راجہ غالب احمد اور مسز غالب کے ساتھ ایک گھرانہ بن کر رہتے تھے۔ مجھے وہ شام اچھی طرح یاد ہے جب میں رامے صاحب اور غالب صاحب کے ساتھ بیٹھا اس فکر میں سرگرداں تھا کہ ہماری تاریخ نے جس شخص کو ہیرو کا کردار ادا کرنے کیلئے چنا ہے وہ ماسوائے بھٹو صاحب کے اور کوئی نہیںہو سکتا۔ بدقسمتی سے ہماری ان سے کوئی شناسائی نہیں اور رسائی کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا۔کریں تو کیا کریں؟ ہم تینوں خاموش بیٹھے کبھی ایک دوسرے کو دیکھتے تھے اور کبھی بے بسی کے عالم میں چھت کو گھورتے تھے۔ افلاک سے ہمارے نالوں کا جواب آنے میں دیر نہ لگی۔ رامے صاحب کی اہلیہ (شاہین) چائے کی ٹرالی لے کر کمرہ میں داخل ہوئیں تو انہوں نے یہ منظر دیکھ کر پوچھا کہ آپ سب کیا سوچ رہے ہیں؟ ہم نے انہیں اپنا مسئلہ بتایا تو وہ مسکراتے ہوئے بولیں کہ میں آپ کا مسئلہ حل کر سکتی ہوں۔ ہم نے بے تابی سے پوچھا کہ وہ کس طرح؟ انہوں نے کہا کہ وہ جب گرلز کالج کوئٹہ میں پڑھتی تھیں تو وہاں جغرافیہ کے مضمون کی ایک پروفیسر تھیں‘ جو آج کل گرلز کالج راولپنڈی کی پرنسپل ہیں اور بھٹو صاحب سے ان کا اتنا اچھا رابطہ ہے کہ وہ آپ کو ان سے ملوا دیں گی۔ یہ خاتون تھیں ڈاکٹر کنیز فاطمہ یوسف۔ اب پہلا مرحلہ تو یہ تھا کہ ہم ڈاکٹر کنیز فاطمہ سے ملیں اور اپنا نقشہ (چاہے وہ کتنا دھندلا ہو) ان کے سامنے رکھیں۔ یہ کام مسٹر اور مسز رامے نے اپنے ذمہ لیا۔ وہ پنڈی گئے اور کنیز فاطمہ صاحبہ سے ملے۔ ملاقات بڑی اچھی اور حوصلہ افزا رہی۔ رامے صاحب نے ہمیں واپس آکر جو رپورٹ دی اس میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کنیز فاطمہ صاحبہ نے ایک شخص کو ان سے ملوایاجس کا نام خورشید حسن میر تھا۔ وہ راولپنڈی میں ایک وکیل ہے اور کنیز فاطمہ صاحبہ کا ہم خیال ہونے کی وجہ سے ان کا قابلِ اعتماد ساتھی ہے۔ چند دن ہی گزرے ہوں گے کہ خورشید حسن میر نے کسی نہ کسی طرح ہم تک یہ خوشخبری پہنچا دی کہ ڈاکٹر صاحب نے ہمارا بھٹو صاحب سے دوستانہ تعارف کرانے کا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ بھٹو صاحب اتنے سال ایوب خان کے ساتھ رہ چکے تھے کہ وہ اپنی سیاسی جماعت بنانے اور عوامی حمایت کے بل بوتے پر اقتدار حاصل کرنے کے بارے میں شدید تحفظات رکھتے تھے۔ ڈاکٹر صاحبہ کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے بھٹوصاحب کو جمہوری راستے پر چلتے ہوئے سیاسی میدان میں اترنے پر آمادہ کر لیا۔
ڈاکٹر صاحبہ ایک متوسط گھرانے میں لاہور میں 1923ء میں پیدا ہوئیں اور یکم دسمبر 2018ء کو خاموشی سے اس دنیا سے چلی گئیں۔ وہ کوئٹہ‘ فیصل آباد اور راولپنڈی میں خواتین کے کالجوں کی پرنسپل رہیں۔ راولپنڈی کے اصغر مال کالج میں شعبۂ جغرافیہ قائم کیا۔ پنجاب یونیورسٹی میں جغرافیہ کی پروفیسر ڈاکٹر مریم الٰہی اُن کی ہمعصر تھیں۔ یہ دونوں 22 لڑکیوں کے اس گروپ میں شامل تھیں جنہوں نے 1947ء میں مہاجرین کے کیمپ میں رضا کارانہ کام کیا ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے 1941ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اسلامیہ کالج کوپر روڈ لاہور میں داخل ہوئیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے جغرافیہ میں ایم اے کیا۔ انہوں نے 1948ء سے1956ء تک ملتان اور لاہور میں خواتین کے کالجوں میں پڑھایا۔ 1956ء میں انہیں فُل برائٹ سکالرشپ ملا اور وہ امریکہ کی کلاک یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کیلئے داخل ہوئیں اور تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ بھٹو صاحب برسرِ اقتدار آئے تو اُنہوں نے (غالباً ڈاکٹرصاحبہ کی سفارش پر) خورشید حسن میر کو اپنی کابینہ میں شامل کیا اور ڈاکٹر صاحبہ کو اسلام آباد میں قائداعظم یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنا دیا۔ ڈاکٹر صاحبہ شروع دن سے پاکستان پر امریکہ کی بالادستی کی مخالف تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ایوب خان کی نہ صرف دفاعی بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں امریکہ کی اطاعت اور فرمانبر داری کی پالیسی کی کڑی نقاد تھیں۔ اپریل 1979ء میں بھٹو صاحب کو ایک متنازع اور ناقابلِ دفاع عدالتی فیصلے کے ذریعے سزائے موت دی گئی تو ڈاکٹر صاحبہ نے وائس چانسلر کے عہدے سے استعفیٰ دیا اور لندن چلی گئیں جہاں انہوں نے جلا وطنی کے چھ برس گزا رے۔
ڈاکٹر صاحبہ نے زندگی بھر شادی کی اور نہ ہی کوئی کتاب لکھی۔ انہوں نے اپنے ورثہ میں کچھ نہ چھوڑا۔ ڈاکٹر صاحبہ کا مضمون جغرافیہ اور جغرافیائی معیشت تھا۔ انہوں نے (امریکی دبائو کے تحت) پاکستان اور بھارت کے مابین 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بھی ایک لفظ نہ کہا۔ ایک اور بات بھی کرنا چاہتا ہوں‘ گر آپ اس کے مزاحیہ پہلو سے محظوظ ہوں تو مناسب رہے گا۔ ڈاکٹر صاحب کی چھوٹی بہن (شمیم)بلیک برن میں رہتی تھیں اور ایک خوشحال ڈاکٹر کی بیوی تھیں۔ شمیم صاحبہ کو بی بی سی کی اردو نشریات کی سربراہی کا خبط تھا جس میں اس مضمون نگار کی بی بی سی سے وابستگی حائل تھی۔ وہ نجانے میرے خلاف اپنی بڑی بہن کو کیا کہتی رہتی تھیں کہ ڈاکٹر صاحبہ میرے ساتھ برسوں ناراض رہیں۔ میں بلیک برن سے نقل مکانی کر کے لندن کے مضافات میں رہنے لگا تو میری نشریاتی ذمہ داری کی اسامی خالی ہو گئی اور اچھا ہوا کہ طویل انتظار کے بعد وہ موصوفہ کو مل گئی تو ڈاکٹر صاحبہ کا غصہ ٹھنڈا ہوا۔ آپ نے دیکھاکہ کس طرح بظاہر بڑے لوگ بھی معمولی باتوں پر خوش یا ناراض ہو جایا کرتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں