بیسویں صدی کا صوفی شاعر

پنجاب کی سرزمین کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس پر چار بڑے صوفیا (بلھے شاہ‘ غلام فرید‘ شاہ حسین اور سلطان باہو) گزرے ہیں اور ان چاروں نے تصوف کے وہ چراغ روشن کیے جو صدیاں گزر جانے کے بعد بھی روشن ہیں۔ یہ چاروں کمال کے شاعر بھی تھے۔ یہ صوفیا کرام کا پنجابی شاعری پر بہت بڑا احسان تھا۔ بیسویں صدی میں شاعری کے میدان میں ایک اور صوفی ابھرا‘ اور وہ تھے صوفی غلام مصطفی تبسم۔ 4 اگست 1899ء کو وہ امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم چرچ مشن ہائی سکول امرتسر میں حاصل کی۔ ایف اے اور بی اے ایف سی کالج لاہور سے کیا ‘ فارسی کی سند اسلامیہ کالج لاہور سے حاصل کی اور بی ٹی سینٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے کیا۔ تین سال سینٹرل ماڈل سکول لاہور میں پڑھایا۔ 1927ء میں اپنی مادرِ علمی (سینٹرل ٹریننگ کالج) میں فارسی کے اُستاد رہے اور 1931ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بطور لیکچرار وابستہ ہوئے اور 30 برس تک وہاں پڑھایا۔ ان کے نامور شاگردوں میں فیض احمد فیض‘ ن م راشد‘ شہزاد احمد‘ مصطفی زیدی اور مظفر علی سید شامل ہیں۔ زندہ دلانِ لاہور نامی ادبی گروپ نے دو جرائد (کارواں اور نیرنگِ خیال) کے ذریعے ایک تاریخی ادبی معرکہ لڑا۔ پطرس بخاری‘ امتیاز علی تاج‘ حفیظ جالندھری‘ عبدالمجید سالک اور ڈاکٹر تاثیر کے علاوہ صوفی تبسم بھی اس گروپ کے ہراول دستہ میں شامل تھے۔ صوفی صاحب قادر الکلام شاعر‘ قابل معلم‘ پختہ ادیب اور مستند نقاد تھے۔ اُردوکے علاوہ فارسی اور پنجابی یعنی تین زبانوں میں شاعری کرتے تھے۔ ان کے مجموعہ کلام ''انجمن‘‘ میں تینوں زبانوں کی شاعری ہے۔ اُنہوں نے افسانے اور ڈرامے بھی لکھے۔ بچوں کے لیے کئی نظمیں لکھیں اور ''ٹوٹ بٹوٹ‘‘ جیسا کردار تخلیق کیا۔ 1954ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ریٹائر ہوئے تو لاہور میں ایرانی کلچرل سنٹر قائم کیا۔ 1957ء میں یہ ایرانی سفارتخانے کے حوالے کر دیا گیا اور اس کا نام ''خانہ فرہنگ ایران‘‘ رکھا گیا تو وہی اس کے پہلے ڈائریکٹر بنائے گئے۔
کافی عرصہ ریڈیو پاکستان کے مشیر رہے۔ اقبال اکیڈمی لاہور کے نائب صدر اور پاکستان آرٹس کونسل (لاہور) کے صدر رہے۔ الحمرا کی نئی عمارت کی تعمیر میں بھی اُن کا اہم کردار رہا۔ علامہ اقبال (جن کے نوجوان مداحوں اور ملنے والوں میں صوفی صاحب سرفہرست تھے) کے جشنِ صد سالہ اور امیر خسرو کے 500ویں جشن کے انعقاد کا سہرا صرف اُن کے سر باندھا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے امیر خسرو کی مثنویاں مرتب کیں۔ شیکسپیئر کے چند ڈراموں کے علاوہ اقبال اور غالب کے کلام کا پنجابی ترجمہ کیا۔ حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ خدمت اور ستارۂ امتیاز اور حکومت ایران نے اُنہیں تمغہ فضیلت سے نوازا۔ اُنہیں اُردو‘ فارسی اور پنجابی کے ہزاروں اشعار یاد تھے جو وہ عالم وجد میں سناتے تھے۔ آنکھیں بند کر کے مسکراتے ہوئے دھیمی آواز‘ جیسے خواب دیکھ رہے ہوں۔
ساٹھ کی دہائی میں صوفی صاحب اپنے وقت کے نامور ہفت روزہ ''لیل و نہار‘‘ کے مدیر رہے۔ میرے لیے یہ مقامِ فخر ہے کہ میں نے دو برس ایک چھت تلے صوفی صاحب جیسی بڑی شخصیت کی رفاقت میں کام کیا۔ شاید ہی کوئی ہفتہ ایسا گزرتا ہو جب ہم نے مل کر چائے نہ پی ہو۔ وہ مجلسی انسان تھے۔ حمید اختر‘ مولوی محمد سعید‘ عبداللہ ملک‘ اختر میرزا اور آئی اے رحمان اس ادارے کے دو اخبارات (امروز اور پاکستان ٹائمز) میں کام کرتے تھے۔ صوفی صاحب کی خدمت میں یہ سبھی افراد اکثر حاضری دیتے تھے۔ صوفی تبسم سنجیدہ اور متین ہونے کے ساتھ بڑے خوش مزاج اور زندہ دل شخص بھی تھے۔ لطائف سنتے اور سناتے اور بچوں کی سی معصومیت سے دبی آواز میں ہنستے یا مسکرانے پر اکتفا کرتے۔ دفتر کے ساتھیوں کے ساتھ تعلق صرف دفتر تک محدود نہ رکھتے‘ ذاتی تعلق بھی گرمجوشی سے قائم رکھتے۔ یہاں اپنی مثال دینا لایعنی نہیں۔ میری اہلیہ کو طبی معائنہ کے لیے ایک ہسپتال جانا پڑا جس کے سربراہ صوفی صاحب کے پرانے دوست تھے۔ صوفی صاحب کو پتا چلا تو اصرار کر کے وہ خود ہمارے ساتھ گئے۔ ہسپتال میں کافی وقت لگ گیا مگر وہ سارا وقت ہمارے ساتھ رہے۔ میری طرح بے شمار لوگ اُن کے احسان مند ہیں۔ ذاتی مدد کے لیے کمر بستہ رہنا اُن کے کردار کا لازمی حصہ تھا۔ 79 برس کی عمر میں‘ 7 فروری 1978ء کو وہ اس لاہور سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے جس کی وہ برسہا برس آبرو اور پہچان رہے۔ وہ 13 کتابوں کے مصنف تھے‘ جو شاعری اور تنقیدی مضامین کے مجموعے تھے۔ ان کی آخری یادگار 'علامہ اقبال سے آخری ملاقاتیں‘ ہے جو اُن کے بیٹے (صوفی گلزار احمد) نے اُن کی وفات کے بعد مرتب کر کے شائع کرائی۔ صوفی صاحب نے اپنی زندگی کے آخری سالوں میں دو بڑے صدمے دیکھے جنہوں نے انہیں ادھ موا کر دیا۔ ایک تھا اُن کی رفیقۂ حیات کی وفات کا صدمہ اور دوسرا جوان سال بیٹے (صوفی نثار احمد) کی وفات کا صدمہ۔ ان کی آخری آرام گاہ ان دونوں کی قبروں کے قریب باغ گل بیگم قبرستان میانی صاحب میں ہے۔
انتظار حسین نے ''ملاقاتیں‘‘ کے نام سے خاکوں پر مشتمل جو کتاب مرتب کی‘ اس کتاب سے ایک اقتباس: ''صوفی صاحب کے سامنے امرتسر کا نام لے دو‘ بس پھر وہ شروع ہو جاتے ہیں۔ صوفی صاحب نے اپنے دادا کے گھر پرورش پائی ۔ دادا درویش صفت آدمی تھے۔ ان کے گھر میں صرف دو تھالیاں تھیں ایک میں وہ اور صوفی صاحب کی دادی کھانا کھاتے تھے اور دوسری میں وہ درویش جو اُن کا مہمان تھا۔ دادا کہتے تھے سامان کس دن کے لیے جمع کیا جائے۔ تیسری تھالی کس کے لیے رکھی جائے؟ ... صوفی صاحب کہتے ہیں کہ جب پریشانیاں گھیر لیتی تھیں تو وہ علامہ اقبال کی خدمت میں پہنچتے اور اُن کی باتیں خاموشی سے سنتے اور ساری پریشانیوں اور تکلیفوں سے نجات حاصل کر کے وہاں سے نکلتے۔ اُنہوں نے بتایا کہ علامہ حقہ پیتے رہتے۔ بہرحال اس کی نال منہ میں دبائے رکھتے اور باتیں کیے جاتے۔ صوفی صاحب نے کہا کہ وہ بھی حقہ کے بغیر بات نہیں کر سکتے۔ رات کو پیچ پیچ کر آنکھ کھلتی ہے تو اس کے ایک دو گھونٹ پی کر پھر سو جاتے ہیں۔ اب لے دے کے صرف حقہ ہی صوفی صاحب کا ساتھی رہ گیا تھا۔ باقی رہے فیض صاحب تو ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ آج یہاں کل وہاں۔ ایک بار فیض صاحب سے کہنے لگے کہ تم ذرا ہماری تنہائی کا اندازہ لگائو کہ تم یہاں سے چلے جائو گے تو یہ دیواریں ہوں گی اور میں ہوں گا اور پھر اپنے دو اشعار سنائے:
چشم نظارہ میں یہ کھلے کیا گرہ کشود؍ جب دیکھنا یہی دیوار و در دیکھنا
دیدار بزمِ یار تبسم کہاں نصیب؍ اب رہ گیا ہے کوچۂ دلدار دیکھنا‘‘
صوفی صاحب کی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ساتھ وابستگی نصف صدی پر محیط ہے۔ اُن کے لکھے گیت نور جہاں‘ فریدہ خانم‘ نسیم بیگم اور غلام علی سمیت نامور گلوکاروں نے گائے۔ نور جہاں نے اُن کے لکھے ہوئے جنگی ترانے گائے‘ جو 65ء کی جنگ میں ریڈیو پاکستان نے نشر کیے۔ صوفی صاحب ایک باغ وبہار شخصیت تھے۔ اب تو وہ سماجی‘ ثقافتی اور تہذیبی سانچہ ہی ٹوٹ چکا جس میں صوفی صاحب اور اُن کے ہمعصر لوگ ڈھل کر بڑے ہوئے۔
آخر پہ ایک مزاح پارہ: صوفی تبسم صاحب کو ان کا ایک قاری بہت پسند کرنے لگا مگر وہ صوفی کی پیش کو زیر سمجھا اور ان کو رشتہ بھیج دیا۔ بدلے میں صوفی صاحب نے‘ جنہوں نے ان دنوں داڑھی رکھی ہوئی تھی‘ اپنی داڑھی والی ایک تصویر اسے بھیج دی۔ مایوس عاشق نے جواباً لکھا ''صوفی تیرا ککھ نہ رہوے۔ میں نے تو اپنی اماں سے تیرے لیے بات بھی کر لی تھی‘‘۔ نوٹ: یہ قصہ مارچ 2021ء میں شائع شدہ ایک خود نوشت ''قصہ چار نسلوں کا‘‘ سے لیا گیا ہے‘ کالم نگار اس واقعے کی صحت کے بارے کچھ نہیں کہہ سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں