بالآخر دستخط ہو گئے!

ماننا پڑے گا‘ اوپر سایۂ خدائے وذوالجلال تھا اور نیچے پاکستان کی ڈپلومیسی تھی۔ جو کام یو این او نہ کر سکا‘ او آئی سی جس کا تصور تک نہ کر سکی‘ یورپی یونین کوئی کردار ادا نہ کر سکی‘ وہ کام اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر‘ وزیر خارجہ اسحق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی انتھک اور مخلصانہ محنت نے کر دکھایا۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران معاہدے کا کپ بارہا لب تک آیا مگر کوئی نہ کوئی سِپ راستے میں حائل ہو گیا۔ بالآخر جمعرات کے روز پیرس میں جی سیون کے ڈنر کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے۔ تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے الیکٹرانک دستخط کیے اور بطور ثالث وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں دستخط ثبت کیے۔ بلاشبہ چودہ نکاتی یادداشت ایک تاریخی معاہدۂ امن کی طرف پیش قدمی کا سندیسہ ہے۔ روس‘ چین‘ جی سیون اور خلیجی ممالک نے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ دنیا کے ہر ملک نے امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ صرف اسرائیل کی صہیونی قیادت کے سینے پرسانپ لوٹ رہے ہیں۔
28 فروری کو اسرائیل نے امریکہ کو ساتھ ملا کر ایران پر حملہ کیا تو اس کا خیال تھا گریٹر اسرائیل کا خواب بس شرمندۂ تعبیر ہونے کو ہے۔ اسرائیل کی سوچ یہ تھی کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی حکومت بکھر جائے گی۔ غاصب صہیونی ریاست کا ظالم وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سمجھتا تھا کہ عرب ماضی کی طرح کسی سنہری جال میں گرفتار ہو جائیں گے اور ''عجم‘‘ کو ختم کرنے کیلئے وہ دامے‘ درمے‘ قدمے‘ سخنے ایران کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے مگر اسرائیل کو اندازہ نہ تھا کہ 1980ء کی دہائی کے بجائے اکیسویں صدی کی عرب قیادت کہیں زیادہ سمجھدار ہے‘ لہٰذا وہ کسی پھندے میں نہیں پھنسے۔ اس بار یورپ کیا‘ امریکہ کیا‘ ایشیا اور افریقہ ہر جگہ اسرائیلی و امریکی حملے کی پُرزور مذمت کی گئی۔ علاوہ ازیں ایران نے ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ خود صیّاد داد دینے پر مجبور ہو گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت بہت سمارٹ ہے۔
دورانِ جنگ ایران نے اسرائیل کے اندر اور خلیج کی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل گرا کر دنیا کو حیران کر دیا۔ ایران نے متحدہ عرب امارات‘ کویت‘ بحرین‘ قطر‘ عمان اور شام و عراق میں بھی موجود امریکی عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل سمجھتا تھا کہ ایران میں بڑی شہادتوں کے بعد وہاں کی حکومت بوکھلا جائے گی اور رجیم چینج ہو جائے گا۔ وہ ایران کے ٹکڑے کرنے اور گویا بلوچستان میں پاکستان کی شہ رگ پر آ کر قابض ہونے اور پاکستان کو ٹف ٹائم دینے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ مگر ہوتا وہی ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی حکومت کی پالیسی سے اختلاف رکھنے والے بھی اپنی حکومت کے ساتھ مل کر سو جان یک قالب ہوئے۔ ان کا اعلان تھا کہ ہمارے داخلی اختلافات اپنی جگہ مگر ہم بیرونی جارحیت کے مقابلے میں ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح دشمن کے خلاف کھڑے ہیں۔ بلاشبہ سہ فریقی جنگ میں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو بڑی شہرت اور کامیابی ملی مگر ایران نے جس مہارت‘ جرأت اور چابکدستی کے ساتھ آبنائے ہرمز کی بندش کا ہتھیار استعمال کیا اس سے دنیا دنگ رہ گئی۔
جنگ کے پہلے روز ہی‘ 28 فروری کو ایک امریکی میزائل نے میناب شہر میں ایک پرائمری سکول میں بچیوں کو نشانہ بنایا۔ اس بہیمانہ حملے میں 168 پھول سی بچیاں خاک و خون میں نہا گئیں۔ نیتن یاہو تو پہلے ہی قاتلِ غزہ کی شہرت رکھتا تھا مگر بچیوں کی شہادت نے امریکہ کی اخلاقی ساکھ کو بھی بری طرح مجروح کر دیا۔ امریکہ کی داخلی تحقیق کے مطابق اس کی ذمہ داری امریکی وزارتِ دفاع پر عائد ہوتی ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو دھمکیوں اور بڑھکوں سے جھکانا چاہا مگر جلدی اسے اندازہ ہو گیا کہ ایرانی حکمران لوہے کے چنے ہیں جنہیں چبانا اُن کے بس میں نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو ابتدا میں ہی یہ بھی محسوس ہو گیا تھا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جو جنگ چھیڑی ہے وہ بالکل بلاجواز ہے۔ ایسی بلاجواز جنگ کی امریکی کانگریس حمایت کر رہی تھی نہ امریکی عوام۔ یورپ کے لوگ ہی نہیں وہاں کی حکومتیں بھی اس کے خلاف تھیں۔ ہرمز کی بندش کے بعد خلیج سے تیل کی ترسیل کا نظام بھی تقریباً معطل ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی کساد بازاری کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔
ان حالات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ذریعے ایران کے ساتھ پہلے سیز فائر کیا اور پھر مستقل اور پائیدار امن کیلئے مذاکرات شروع کر دیے۔ دو اڑھائی ماہ کے اس عرصے میں ڈونلڈ ٹرمپ ایک ہی سانس میں صلح کے معاہدے کی بات کرتے‘ پھر جنگ کی دھمکی دیتے‘ پھر ایران کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے ہولناک مناظر دکھاتے مگر بین الکلام یا بین السطور صاف دکھائی اور سنائی دیتا کہ ٹرمپ ایران پر کیے گئے بلا ضرورت حملے کے بعد مکمل سیز فائر کرنا چاہتے ہیں۔ G7ممالک کے اجلاس کے بعد پیرس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 14نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت برائے ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کی تشریح اور دفاع کیا۔ اس پریس کانفرنس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا دھیما مفاہمتی لب و لہجہ ان کے گزشتہ چند ماہ کے گرجتے چمکتے لب و لہجے سے یکسر مختلف تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ ایران پر حملے جاری رکھتے تو عالمی معیشت شدید نوعیت کی کساد بازاری کا شکار ہو جاتی۔ دنیا تیل کی بوند بوند کو ترس جاتی اور ٹرانسپورٹ ہی نہیں انڈسٹری کا پہیہ بھی جام ہو کر رہ جاتا۔ اس مفاہمتی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ دو ماہ کی طے شدہ مدت برائے امن معاہدہ کے دوران ایران کو اس کے پڑوسی تین سو ارب ڈالر برائے تعمیر ِنو‘ سرمایہ کاری کے طور پر دیں گے۔ اس دوران آبنائے ہرمز کسی ٹول ٹیکس کے بغیر کھلی رہے گی۔ یادداشت میں تسلیم کیا گیا ہے کہ حتمی مذاکرات کے دوران تمام محاذوں پر بشمول لبنان میں جنگ بند کی جائے گی۔ معاہدے کی توثیق سلامتی کونسل سے کرائی جائے گی۔ ایران پر بلاجواز مسلط کی گئی جنگ میں اسرائیل کو بدترین قسم کی جنگی و اخلاقی ہزیمت اٹھانا پڑی۔ پہلے غزہ اور اب ایران جنگ کے بعد اسرائیل کو شکست کے علاوہ معاشی بدحالی کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ اکتوبر 2026ء میں اسرائیل میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس ناکامی کے بعد اور کرپشن کے الزامات سے داغدار نیتن یاہو انتخابی اکھاڑے میں اترے گا تو یقینا اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا‘ جبکہ اس کی مقبولیت کا گراف پہلے ہی بہت نیچے گر چکا ہے۔
یہ سوال بھی بار بار پوچھا جا رہا ہے کہ کیا باہمی یادداشت ایک پائیدار امن کے معاہدے میں ڈھل سکے گی؟ یقینا اجمال کی تفصیل لکھتے ہوئے کچھ بحث و تمحیص تو ضرور ہوگی البتہ امریکہ اور ایران نے اس چودہ نکاتی یادداشت کو اپنے اپنے ملک کیلئے بہترین قرار دیا ہے۔ اس لیے دونوں کی کوشش ہوگی کہ یہ بیل منڈھے چڑھے۔ البتہ نیتن یاہو کی طرف سے رکاوٹیں ڈالنے اور معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں تو ہوں گی مگر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو سخت لہجے میں کہا ہے کہ اسرائیل کا وجود امریکہ کے بغیر چند گھنٹے بھی قائم نہیں رہ سکتا ‘ اپنی حرکتوں سے باز آ جاؤ اور لبنان پر حملے نہ کرو۔ مگر جمعرات کے روز اسرائیل نے لبنان پر پھر حملہ کر کے تین لبنانی شہریوں کو شہید کر دیا۔ اسرائیل کو روکنا امریکہ کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح نائب امریکی صدر نے بھی اسرائیل کے لوگوں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں تمہارا واحد ہمدرد امریکہ ہے ۔ اس لیے اپنی قیادت کو عقل کے ناخن لینے کا سبق دو۔ مفاہمتی میدان میں اپنا صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی پاکستانی قیادت کو ملک کے اندر بھی صلح کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں