26دسمبر 1991ء کو ماسکو کے کریملن پر لہراتا سرخ پرچم جب خاموشی سے اترا تو صرف ایک ریاست نہیں ٹوٹی تھی بلکہ ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا تھا۔ سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ پہلی سرد جنگ بھی تاریخ کے صفحات میں دفن ہو گئی۔ دنیا نے سکھ کا سانس لیا‘ امریکہ نے فتح کا اعلان کیا اور یہ تصور عام ہوا کہ اب نظریاتی کشمکش کا باب بند ہو چکا ہے۔ فرانسس فوکویاما نے لکھا کہ تاریخ ختم ہو گئی‘ مگر آج 2026ء میں اگر عالمی منظرنامے کا جائزہ لیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ سرد جنگ کا خاتمہ نہیں ہوا تھا بلکہ یہ محض ایک وقفہ تھا۔ وہی کشمکش‘ وہی طاقت کا کھیل‘ صرف کردار اور طریقۂ کار بدل گئے ہیں۔ اس بار میدان میں امریکہ کے مقابل چین کھڑا ہے‘ ایک ایسی طاقت جو خاموشی سے ابھر کر عالمی نظام کو چیلنج کر رہی ہے۔
1991ء کے بعد امریکہ نے چین کو گلے لگایا۔ سوچ یہ تھی کہ تجارت سے چین امیر ہو گا اور امیر ہو کر جمہوری ہو جائے گا۔ 2001ء میں چین ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا رکن بنا۔ امریکی فیکٹریاں چین منتقل ہوئیں‘ سب خوش تھے۔ تاہم 2008ء میں جب امریکہ معاشی بحران میں ڈوبا تو بیجنگ اولمپکس کی روشنی میں ایک نیا چین کھڑا تھا۔ پُراعتماد‘ امیر اور خاموشی سے بحری بیڑے بناتا ہوا چین۔ 2009ء میں جب امریکہ کو خطرے کی بُو محسوس ہوئی تو اوباما نے چین کو کاؤنٹر کرنے کیلئے ''Pivot to Asia‘‘ پالیسی کا اعلان کیا۔ اس کہانی میں اصل موڑ 2011ء میں تب آیا جب امریکی دفاعی دستاویز میں پہلی بار چین کو ''Peer Competitor‘‘ یعنی برابر کا حریف لکھا گیا۔ جنوبی چینی سمندر میں چین نے جزیرے بنانا شروع کیے۔ 2012ء میں شی جن پنگ آئے اور ''میڈ اِن چائنا 2025ء‘‘ کا اعلان ہوا‘ یعنی اب چین صرف کھلونے نہیں بلکہ مائیکرو چپس‘ مصنوعی ذہانت اور فائیو جی بھی بنائے گا۔ واشنگٹن میں خطرے کی گھنٹی بج چکی تھی۔ 2017ء میں ٹرمپ کی قومی سلامتی حکمتِ عملی میں باضابطہ لکھا گیا کہ ''چین اور روس نظرثانی پسند طاقتیں ہیں‘‘۔ اسی دن دوسری سرد جنگ کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔
آج دنیا میں عسکری اور معاشی طور پر صرف دو ہی مضبوط طاقتیں ہیں‘ امریکہ اور چین۔ عسکری محاذ پر متعدد مبصرین چین کو کئی میدانوں میں آگے دیکھتے ہیں۔ اس کے پاس ڈرون سوارمز ہیں جو آسمان کو مکھیوں کے چھتے میں بدل دیں۔ ''بیڈو‘‘ سیٹیلائٹ سسٹم ہے جو جی پی ایس کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر کھڑا ہے‘ اور سٹیلتھ بمبار ہیں جو ریڈار کی نبض پر ہاتھ رکھ کر گزر جائیں۔ اس کے نیٹ ورک سینٹرک جنگی ڈاکٹرائن کی جھلک دنیا نے مئی 2025ء میں دیکھی جب پاکستانی شاہینوں نے J-10C فائٹر جیٹ‘ PL-15 میزائل‘ بیڈو‘ اواکس اور ریئل ٹائم سیٹیلائٹ امیجز کے امتزاج سے ایک ایسا جال بنایا جس نے یورپ کے فخر ''رافیل‘‘ کو دھول چٹا دی۔ چین کے طیارہ بردار اور ڈرون بردار بحری بیڑے‘ ہائپرسونک میزائل اور نئے سٹیلتھ جہاز ابھی میدانِ جنگ میں اپنے جلوے نہیں دکھا سکے۔ دوسری طرف نام نہاد سپر پاور امریکہ ہے جو پچھلے 30 برس سے مسلسل جنگ میں ہے۔ اس کا تقریباً ہر نیا ہتھیار عراق کی ریت‘ افغانستان کے پہاڑوں اور بحیرۂ احمر کے پانی میں آزمایا جاتا ہے۔ ایک کے پاس تجربہ گاہ ہے اور دوسرے کے پاس اپنے حریف کی جنگوں سے حاصل کیا گیا تجربہ۔
2025ء کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کی معاشی شرح نمو تقریباً 28.8ٹریلین ڈالر ہے جبکہ سالانہ ترقی کی شرح 2.5فیصد کے لگ بھگ ہے۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے‘ اس کا حجم 18.5ٹریلین ڈالر ہے مگر سالانہ ترقی کی شرح 5.2فیصد ہے۔ ترقی کے اسی نمبر سے امریکہ خوفزدہ ہے کیونکہ اگر چین کی معاشی ترقی اسی رفتار سے جاری رہی تو 2035ء سے پہلے چین دنیا کی نمبر وَن معیشت بن جائے گا۔ واشنگٹن جانتا ہے کہ چین کو روکنا ناممکن ہے اور یہیں سے واشنگٹن کی ''Slow China Policy‘‘ جنم لیتی ہے۔ اس نئی سرد جنگ کا سب سے اہم محاذ توانائی ہے۔ چین دنیا کا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ ہے اور اس کی معیشت کا دارومدار بیرونی توانائی پر ہے۔ امریکہ نے اسی کمزوری کو ہدف بنایا اور ایران‘ روس اور وینزویلا جیسے ممالک پر پابندیاں عائد کر کے چین کی سپلائی لائن متاثر کرنے کی کوشش کی۔ ایران چین کو تیل فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ حالیہ ایران امریکہ کشیدگی اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا مگر چینی جہاز ہرمز سے آزادانہ گزرتے رہے۔ جب امریکہ نے دیکھا کہ ہرمز بند کرنے سے چین کو فرق نہیں پڑا تو امریکی بحریہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی شروع کر دی۔ یہیں سے کہانی میں ایک نیا کردار داخل ہوتا ہے‘ چین کی خاموش طاقت‘ شیڈونگ صوبے میں بنی چھوٹی ''ٹی پاٹ ریفائنریز‘‘۔ انہیں ''ٹی پاٹ‘‘ اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی شکل چائے کی کیتلی جیسی ہوتی ہے۔ یہ امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایران اور روس سے سستا تیل حاصل کرتی رہی ہیں۔ یہ چین کی کل ریفائننگ کا 25فیصد ہیں۔ چینی ٹی پاٹ ریفائنریز کو ایرانی تیل پر آٹھ سے دس ڈالر فی بیرل رعایت ملتی ہے۔ مارچ میں انہوں نے ریکارڈ 18لاکھ بیرل یومیہ ایرانی تیل درآمد کیا۔ ان کے پاس جنگ سے پہلے خریدا ہوا سٹاک بھی موجود تھا‘ اسی لیے جب چین کی سائنو پیک ریفائنری کی پیداوار 7.6 فیصد گر گئی تو ٹی پاٹس 54.58 فیصد استعداد پر چل رہی تھیں۔ یہی وہ نظام ہے جس نے چین کو پابندیوں کے اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رکھا۔ پھر اپریل میں امریکہ نے چین کی ہینگلی پیٹرو کیمیکل سمیت کئی ٹی پاٹ ریفائنریز پر پابندی لگا دی‘ 35کمپنیاں اور 19بحری جہاز بلیک لسٹ کر دیے گئے۔ امریکی وزیر خزانہ نے اسے مالی طور پر گلا گھونٹنے سے تشبیہ دی جبکہ چین نے غیرمعمولی ردِعمل دیتے ہوئے نہ صرف ان پابندیوں کو مسترد کیا بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کو بھی خبردار کر دیا۔ یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ چین اب دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ پوزیشن میں آ چکا ہے۔
سرد جنگ کا دوسرا مرحلہ پہلی سرد جنگ سے مختلف ہے۔ اس بار معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ان کی باہمی تجارت کا حجم 700ارب ڈالر ہے۔ امریکہ چین کو روک نہیں سکتا‘ صرف سست کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے ''ٹی پاٹ‘‘ تک امریکہ ''Slow China Policy‘‘ کے ذریعے چین کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے جبکہ چین ان رکاوٹوں سے ایسے بچ نکلتا ہے جیسے اسے پہلے سے اس کھیل کا اندازہ ہو۔ چین نے دو ٹوک الفاظ میں امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کر دیا ہے کہ ''ایئر فورس ون‘‘ کے بیجنگ اترنے سے قبل آبنائے ہرمز کا مسئلہ حل کریں کیونکہ چین کیلئے اس کی انرجی سکیورٹی پالیسی سب سے اہم اور مقدم ہے۔
کیا امریکہ کا دور ختم ہو رہا ہے؟ مگر یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ عالمی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ چین اب صرف ایک معاشی قوت نہیں بلکہ ایک مکمل سٹریٹجک چیلنجر بن چکا ہے۔ چین کی جانب سے یوان اور ڈیجیٹل یوان میں تجارت کی دھمکی دراصل عالمی مالیاتی نظام کو چیلنج ہے۔ اگر چین واقعی ڈالر کے متبادل نظام کو نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ امریکہ کی عالمی برتری کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہوگا۔ یوں ''کولڈ وار 2.0‘‘ جو 2017ء میں ٹرمپ کے دورِ حکومت میں باضابطہ طور پر شروع ہوئی تھی‘ آج 2026ء میں ٹرمپ ہی کے دورِ حکومت میں امریکہ کے سپر پاور سٹیٹس کے خاتمے کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچتی دکھائی دیتی ہے۔ چین نے ببانگِ دہل پوری دنیا کے سامنے امریکی پابندیوں کا انکار کر کے یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ امریکہ اب سپر پاور نہیں رہا۔