"MAHG" (space) message & send to 7575

اسلام آباد میں تاریخ رقم

اسلام آباد میں تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔ و ہاں سجی بیٹھک نے اقوام عالم کو امن کی امید دلائی ہے اور وہاں ہو رہے مذاکرات پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہیں۔ دوسری طرف بھارت تلملا رہا ہے کہ اس کا کردار صفر ہو گیا ہے ۔ بے شک ہماری عسکری استعداد‘ تدبر اور اعلیٰ سفارت کاری کی دنیا پر دھاک بیٹھ گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کامیاب سفارتکاری رنگ لا رہی ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تاریخی‘ ثقافتی اور جغرافیائی تعلقات ہیں جبکہ امریکہ کے ساتھ سٹریٹجک اور معاشی روابط اہمیت رکھتے ہیں۔ ایران اور امریکہ جیسے دو بڑے ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت‘ توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی امن پر بھی تھے۔ تاہم اس نازک مرحلے پر پاکستان نے دانشمندی‘ بصیرت اور متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا جو نہ صرف ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے وقار کا واضح ثبوت بھی ہے۔ یہ کامیابی اتفاقیہ نہیں بلکہ پاکستان کی طویل سفارتی روایت‘ جغرافیائی اہمیت اور عالمی امور میں مسلسل کردار کا نتیجہ ہے۔ پاکستان ایک نہایت اہم جغرافیائی مقام پر واقع ہے جہاں ایشیا‘ مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا آپس میں ملتے ہیں۔ یہی محلِ وقوع اسے تجارتی راستوں‘ سیاسی روابط اور سفارتی تعلقات کے لیے ایک کلیدی مرکز بناتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے منصوبے اس اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں اور علاقائی روابط و عالمی تجارت میں پاکستان کے کردار کو مضبوط بناتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ہزاروں جانوں کا نذرانہ اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے عالمی امن کے لیے کس حد تک قیمت ادا کی۔ اس کے باوجود عالمی سطح پر اسے وہ اعتراف دیر سے ملا جس کا وہ حقدار تھا۔ اب صورتحال بدلتی نظر آ رہی ہے‘ دنیا پاکستان کے کردار کو نہ صرف تسلیم کر رہی ہے بلکہ اسے قدر کی نگاہ سے بھی دیکھ رہی ہے۔
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے نمائندوں کو مذاکرات کی دعوت دینا محض ایک سفارتی قدم نہیں بلکہ ایک جرأت مندانہ اور دور اندیش فیصلہ تھا۔ حا لانکہ اسرائیل نے امن مذاکرات کو سبو تاژ کرنے کیلئے لبنان کو خون میں نہلا دیا جس پر ایران کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اگر جنگ بندی میں لبنان کو شامل نہ کیا گیا تو یہ مذاکرات بے نتیجہ ہوں گے۔ ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت اس بات کی غمازی ہے کہ امریکہ بھی چاہتا ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں۔ اس مکالمے کا مقصد صرف جنگ روکنا نہیں بلکہ پائیدار عالمی امن کی بنیاد رکھنا ہے۔ امریکہ ایران جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کرنے پر دنیا بھر میں عالمی قیادت ‘ عالمی ادارو ں اور عالمی میڈیا کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اورفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زبردست انداز میں تحسین و ستائش کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ سفارتکاری نے تباہی کے دروازے سے دنیا کو واپس کھینچ لیا ہے۔ اب سیاست نہیں بلکہ ریاست چمکانے کا وقت ہے۔ اگر مذاکرات کامیابی سے ہم کنار ہوتے ہیں تو اس کے نتیجے میں علاقائی اور عالمی امن و استحکام کی ضمانت مل جاتی ہے تو چہار دانگ عالم میں پاکستان کی سفارت کاری کا ڈنکا بجے گا۔تاہم اصل امتحان شروع ہے ؛چنانچہ سوال اب یہ نہیں رہا کہ جنگ ہوئی یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اب مذاکرات ثمرآور ہوں گے۔ جنگ بندی پر آمادگی بظاہر خوش آئند ہے لیکن اس کے پس پردہ ٹرمپ کے محرکات کو بھی مد نظر رکھنا ہوگاکیونکہ ٹرمپ کی سیاست ماضی میں بھی ہمیشہ دباؤ اور پھر ڈیل کی صورت پر چلتی رہی ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ تہران بھی 2018 ء والا نہیں رہا۔ اس نے آبنائے ہر مز کے ذریعے اقوام عالم بالخصوص امریکہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو اس کی قیمت عالمی معیشت بھی ادا کرے گی۔ یورپی ممالک اگر ایران کے حملوں کو جائز قرار نہیں دے رہے تو امریکہ یا اسرائیل کو کھلی چھوٹ دینے کے حق میں بھی نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جنگ لمبی چلی تو تیل اورگیس کی قیمتیں آسمان پر جانے سے مہنگائی کی شدید لہرآئے گی ۔ مہاجرین کا نیا بحران یوکرین کے بعد ایک دوسرے بڑا جھٹکا ہو گا؛ چنانچہ اگر کسی ایک فریق نے بھی اپنی سیاسی انا کو قومی سلامتی سے بڑا سمجھ لیا تو یہی بحران بڑی خلیجی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔
ساری دنیا میں اس جنگ بندی کو ایران کی مثالی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ جہاں تک امریکہ کا سوال ہے وہ اپنے آپ کو شاباش دے رہا ہے۔ امریکہ نے ایران میں رجیم چینج کے مقصد سے جنگ شروع کی تھی جس میں وہ ناکام رہا‘ دوسری طرف امریکہ کا سپر پاور کا غرور و تکبر بھی خاک میں مل گیا۔عالمی سیاست میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے‘ نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں۔ اس تبدیلی کے دور میں وہی ممالک کامیاب ہوتے ہیں جو حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔1990ء میں امریکہ نے جو ادارے قائم کیے تھے‘ جنہوں نے امریکہ کے غیر قانونی اقدامات کوقانونی رنگ دیا وہ ادارے اب رہ نہیں پائیں گے‘ اب مغرب کے بجائے ایشیا طاقت کا مرکز بننے جا رہا ہے ۔ شنگھائی تعاون تنظیم ہو گی‘ ورلڈ بینک کی جگہ ایشین ڈیویلپمنٹ بینک‘ آئی ایم ایف‘ ایف اے ٹی ایف کے بعد برکس جیسے ادارے سامنے نظر آئیں گے۔ پیٹرو ڈالر کی اجارہ داری کا خاتمہ بھی قریب نظر آتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ جنگ امریکہ کو لے ڈوبی ہے۔ امریکہ کی تنہائی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی سپر پاور کا سورج غروب ہو چکا ہے۔ اب امریکہ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کے غرور اور تکبر کے سامنے بے جا تحدیدات اور محدود وسائل کے باوجود ایران اس کے آگے سر نگوں نہیں ہوا بلکہ سیز فائر نے اسے طاقتور ملک بنا دیا۔ ایران کے 10نکاتی منصوبے میں عراق‘ لبنان اور یمن میں جنگ کا مکمل خاتمہ‘ ایران کے خلاف جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ‘ پورے خطے میں تمام تنازعات کا اختتام‘ ایران کی تعمیرِ نو کے اخراجات کیلئے مکمل معاوضے کی ادائیگی‘ ایران پر عائد تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ‘ امریکہ کے پاس منجمد ایرانی اثاثوں اور فنڈز کی فوری رہائی اور جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی مکمل یقین دہانی‘ مندرجہ بالا شرائط کی منظوری کے ساتھ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی اور آبنائے ہر مز پر ایرانی کنٹرول ایجنڈے کا حصہ ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ دس نکاتی ایجنڈے میں ایران نے بڑا واضح بتا دیا ہے اور آبنائے ہرمز پر اس نے اپنا کنٹرول ثابت کر کے دکھایا ہے۔ دنیا کو سمجھ آگئی ہے کہ طاقت کا محور تبدیل ہو چکا ہے۔ بے شک اس میں خلیجی ممالک کا بھی نقصان ہوا ہے لیکن یہ ابتدا ہے اور اس کے بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے جن میں ان کی حکومتوں میں تبدیلی نہیں بلکہ نقشوں میں تبدیلی بھی ہو گی۔
تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں دنیا میں عزت پاتی ہیں جو مشکل وقت میں دانشمندی اور جرأت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ پاکستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا محافظ ہے بلکہ عالمی امن کا ذمہ دار حامی بھی ہے۔ اسلام آباد کی یہ سفارتی پیش رفت ایک نئے دور کی شروعات ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کے عالمی وقار میں اضافے کا سبب بنی ہے بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ امن‘ استحکام اور تعاون کے لیے نئے راستے ابھی بھی ممکن ہیں۔ اگر یہ سمت برقرار رہی تو پاکستان آنے والے وقت میں عالمی امن کے قیام میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں