پنجاب کے محکمہ ہائر ایجوکیشن نے چھ سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کو خط لکھ کر ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اداروں کے ناموں سے ''یونیورسٹی‘‘ کا لفظ ہٹا دیں۔ یہ ہدایت پبلک سیکٹر یونیورسٹیز ترمیمی ایکٹ 2026ء کے تحت دی گئی ہے۔ ان چھ اداروں میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور‘ لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی‘ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے علاوہ فیصل آباد‘ سیالکوٹ اور بہاولپور کی خواتین کی جامعات شامل ہیں۔ یہ ادارے بدستور ڈگریاں دیں گے‘ پی ایچ ڈی پروگرام چلائیں گے اور تحقیقی گرانٹس کیلئے مقابلہ کریں گے۔ بس انہیں اپنے نام میں یہ بتانے کی اجازت نہیں ہو گی کہ وہ دراصل ہیں کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے آج سے چوبیس برس پہلے ان اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے ناموں کے ساتھ یونیورسٹی کا لفظ لکھیں۔ 24 سال کے بعد پنجاب حکومت کو خیال آیا کہ وہ فیصلہ غلط تھا‘ لہٰذا ایک بار پھر جامعات کے نام بدل کر یونیورسٹی سے کالج کر دیا گیا۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ نام صرف آرائش کیلئے نہیں ہوتے بلکہ وہ کسی ادارے کی شناخت اور حیثیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ جب کوئی ادارہ خود کو یونیورسٹی کہتا ہے تو وہ طلبہ کو‘ روزگار دینے والوں‘ نگران اداروں اور تحقیقی شراکت داروں کو بتاتا ہے کہ اس کی نوعیت کیا ہے‘ وہ کس درجے کی ڈگریاں دیتا ہے اور وہاں کس نوعیت کا علمی کام ہوتا ہے۔ اسی لیے بظاہر صرف نام کی تبدیلی نظر آنے والی یہ ترمیم سنجیدہ بحث کی مستحق ہے۔ 2002ء میں قانون سازوں نے نام رکھنے کا ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جس کی پاکستان میں پہلے کوئی مثال نہیں تھی۔ انہوں نے ''گورنمنٹ‘‘ اور ''کالج‘‘ برقرار رکھے اور ان کیساتھ ''یونیورسٹی‘‘ کا اضافہ کر دیا۔ مقصد تاریخ کو مٹانا نہیں اسے ساتھ لے کر آگے بڑھنا تھا۔ ورثے کو محفوظ رکھنے کا یہ ایک معقول حل تھا۔ وہ سابق طلبہ جو آج بھی محبت سے اپنے ادارے کو ''جی سی‘‘ کہتے ہیں ان سے کچھ نہیں چھینا گیا تھا‘ پرانا نام نئے نام کے اندر موجود رہا۔ اسلئے نئے ایکٹ کے حامیوں کو ایک سادہ سوال کا جواب دینا چاہیے کہ ''گورنمنٹ کالج یونیورسٹی‘‘ میں کون سا تاریخی ورثہ موجود نہیں تھا جسے ''گورنمنٹ کالج لاہور‘‘ بحال کرتا ہے؟نئے ایکٹ کے حامی کنگز کالج لندن‘ امپیریل کالج لندن‘ ٹرینیٹی کالج ڈبلن اور ڈارٹ ماؤتھ کالج کی مثالیں دیتے ہیں۔ یہ سب جامعات ہیں مگر انکے ناموں میں کالج کا لفظ موجود ہے۔ درحقیقت یہ مثالیں ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ان ناموں کا مفہوم ایسے تعلیمی نظاموں میں سمجھا جاتا ہے جہاں لوگ پہلے ہی جانتے ہیں کہ ان اداروں کی حیثیت کیا ہے۔ اسکے برعکس پاکستان میں ''کالج‘‘ کا ایک واضح اور عام فہم مطلب ایسا تدریسی ادارہ ہے جو عموماً کسی یونیورسٹی سے الحاق رکھتا ہے جبکہ امتحانات لینے اور ڈگری دینے کا اختیار یونیورسٹی کے پاس ہوتا ہے۔ بیرونِ ملک داخلہ دینے والا افسر یا اسناد کی جانچ کرنیوالا ماہر پاکستانی تعلیمی ریکارڈ پر گورنمنٹ کالج دیکھے گا تو اسے اسی مفہوم میں سمجھے گا۔ ڈارٹ ماؤتھ کے فارغ التحصیل طلبہ کو اپنی مادرِ علمی کی حیثیت سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑتی‘ مگر ہمارے طلبہ کو ضرورت پڑے گی۔
2002ء کے بعد گزشتہ دو دہائیوں میں کالج سے یونیورسٹی بننے والے ان اداروں نے اپنے موجودہ ناموں سے ساکھ بنائی ہے۔ سکوپس (SCOPUS) اور ویب آف سائنس (web of science) میں اساتذہ کے تحقیقی مقالوں کے ساتھ انہی ناموں سے ان کی ادارہ جاتی وابستگی درج ہے۔ یہ جامعات ریسرچ آرگنائزیشن رجسٹری (آر او آر) میں رجسٹرڈ ہیں‘ جہاں سے آرکڈ (ORCID) اور کراس ریف (CrossRef) جیسے نظام معلومات حاصل کرتے ہیں۔ تعلیمی اسناد کی جانچ کرنے والے ادارے مثلاً ڈبلیو ای ایس اور ای سی سی ٹی آئی ایس انہیں تسلیم شدہ ڈگری دینے والے اداروں کے طور پر درج کرتے ہیں۔ غیر ملکی جامعات کے ساتھ مفاہمتی یادداشتیں بھی انہی ناموں سے طے ہوئی ہیں۔ ان نظاموں میں نام کی تبدیلی درج تو ہو سکتی ہے مگر یہ عمل اتنا سادہ بھی نہیں۔ اس میں بہت سی رکاٹیں آ سکتی ہیں۔ اکثر تحقیقی کام کا ریکارڈ پرانے اور نئے ناموں میں بٹ جاتا ہے‘ یہاں تک کہ کوئی شخص الگ سے محنت کرکے اسے یکجا کرے۔ اس دوران تحقیقی حوالہ جات کی بنیاد پر بننے والے اشاریے (Indices) بھی متاثر ہوتے ہیں۔ پہلے ہی مالی مشکلات سے دوچار سرکاری جامعات یہ اضافی خرچ برداشت کریں گی جبکہ اس سے کوئی علمی فائدہ نہیں ہو گا۔ پھر انفرادی سطح پر بھی اس کی ایک قیمت ہے۔ فرض کیجیے کہ 2015ء میں فارغ التحصیل ہونے والا ایک شخص ٹورنٹو میں رہتا ہے اور اس کے پاس ''گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد‘‘ کی ڈگری ہے۔ جب کوئی آجر یا امیگریشن حکام اس کی تصدیق کرائیں گے تو ڈگری جاری کرنے والے ادارے کا نام بدل چکا ہو گا۔ یہ فرق بالآخر واضح تو ہوجائے گا مگر خط و کتابت‘ تصدیقی دستاویزات اور تاخیر کے بعد‘ اور اس سب کا خرچ بھی ڈگری رکھنے والے کو اٹھانا پڑے گا۔ اب بیس برس کے دوران چھ اداروں کے فارغ التحصیل افراد کو سامنے رکھ کر اس بوجھ کا اندازہ لگائیے۔
اس ترمیم کے پیچھے موجود ناسٹلجیا کا جذبہ اپنی جگہ مگر اسے اس کی اصل صورت میں دیکھنا چاہیے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے بہت سے سابق طلبہ برسوں سے کہتے آئے ہیں کہ پرانا نام‘ ایک راوین کے الفاظ میں ''شناخت اور ورثے‘‘ کا نام ہے۔ میں اس احساس کو سمجھتا ہوں۔ ناموں سے یادیں وابستہ ہوتی ہیں اور یادوں کی اہمیت اپنی جگہ ہے‘ مگر یادوں کی بنیاد پر پالیسی نہیں بنائی جا سکتی۔ پرانے ناموں کی بحالی کا مطالبہ بنیادی طور پر ماضی کی محبت (Nostalgia) سے جنم لینے والی ایک خواہش ہے۔ یہ مطالبہ زیادہ تر ان سابق طلبہ کی طرف سے آتا ہے جنہوں نے ادارے کو یونیورسٹی کا درجہ ملنے سے پہلے وہاں تعلیم حاصل کی تھی۔ ان میں سے بہت سے اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ ان کے لیے ''جی سی‘‘ محض ایک ادارہ نہیں ایک پورا زمانہ ہے۔ ان کی جوانی‘ ان کے استاد اور وہ لاہور جسے وہ جانتے تھے۔ نام کی بحالی سے گویا اُس زمانے کی واپسی کی امید باندھی جاتی ہے۔ مگر ایسا ممکن نہیں! اوول گراؤنڈ اور گھڑیال والا مینار اپنی جگہ موجود رہیں گے لیکن نام کی تختی سے ایک لفظ ہٹا دینے سے ستر کی دہائی واپس نہیں آ جائے گی۔ اس کے بجائے ان لوگوں کے بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے جنہیں اس فیصلے میں نظر انداز کر دیا گیا۔ لاہور اور فیصل آباد میں تقریباً ربع صدی سے اور نسبتاً نئی خواتین جامعات میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے‘ ہر نیا بیچ ''یونیورسٹی‘‘ کے نام سے تعلیم حاصل کرتا آیا ہے۔ ان کے داخلہ خطوط‘ ڈگریوں‘ تعلیمی ریکارڈ‘ مقالوں اور تحقیقی اشاعتوں پر یہی نام درج ہے۔ ان کے لیے یونیورسٹی کوئی ایسا نیا لیبل نہیں جو ایک پرانے کالج پر زبردستی چسپاں کر دیا گیا ہو۔ یہی ان کے مادرِ علمی کا وہ واحد نام ہے جس سے وہ اسے جانتے ہیں۔ اس لیے حیرت کی بات نہیں کہ یونیورسٹی کے دور میں پڑھنے والے طلبہ اور فارغ التحصیل افراد اس فیصلے سے اضطراب میں ہیں۔عوامی معاملات سے متعلق قانون سازی میں فائدے اور نقصان کو تولنا ضروری ہوتا ہے۔ یہاں فائدہ اور نقصان الگ الگ لوگوں کے حصے میں آ رہے ہیں۔ فائدہ بڑی حد تک جذباتی ہے اور وہ زیادہ تر ان لوگوں کو پہنچتا ہے جو ادارے کو یونیورسٹی کا درجہ ملنے سے پہلے فارغ التحصیل ہوئے تھے۔ اس فیصلے کے منفی ثرات موجودہ طلبہ‘ اساتذہ اور یونیورسٹی بننے کے بعد فارغ التحصیل ہونے والوں کو برداشت کرنا ہوں گے۔ جن میں سے بیشتر افراد ابھی اپنے پیشہ ورانہ سفر کے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور جن کی اسناد‘ تقرریوں اور امیگریشن ریکارڈ میں موجودہ نام درج ہیں۔ گھڑیال کی سوئیاں پیچھے کرنے سے بیتا ہوا ماضی واپس نہیں آئے گا۔ پنجاب اسمبلی کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ ایک نسل کی یادوں کی خاطر دوسری نسل کی شناخت بدلنے کا فیصلہ واپس لے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments