"SAC" (space) message & send to 7575

وِدہولڈنگ ٹیکس کی بھرمار

پاکستان کے موجودہ ٹیکس نظام کی نمایاں اور سب سے تباہ کن خصوصیت یہ ہے کہ اس کا حد سے زیادہ انحصار پیشگی ٹیکس کٹوتی‘ پیشگی وِدہولڈنگ ٹیکس اور فرضی بنیادوں پر عائد ٹیکسوں پر ہے۔ ریاست نے حقیقی خالص آمدنی کا جائزہ لینے اور اس کا حساب لگانے کی ادارہ جاتی صلاحیت پیدا نہیں کی بلکہ اس کے بجائے وِدہولڈنگ ٹیکس کو محاصل کا بنیادی متبادل بنا دیا ہے۔ ٹیکس قوانین میں وِدہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کی بے شمار شرحیں مختلف مقامات پر بکھری ہوئی موجود ہیں۔ جب بھی کوئی شہری یا کاروباری ادارہ کوئی قابلِ مشاہدہ لین دین کرتا ہے تو بنیادی معاملہ (سورس) ہی پر وِدہولڈنگ ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے جیسے بینک سے نقد رقم نکلوانا‘ بجلی‘ گیس یا دیگر خدمات کا بل ادا کرنا‘ گاڑی رجسٹر کرانا‘ جائیداد خریدنا (حالانکہ یہ تو صرف خریداری ہے اور اس میں خریدنے والے کیلئے کوئی تجارتی منافع شامل نہیں ہے)خام مال درآمد کرنا یا کوئی تجارتی معاہدہ کرنا۔ اس وقت 68 قسم کے وِدہولڈنگ ٹیکس لاگو ہیں جن سے ایف بی آر مجموعی انکم ٹیکس کا 70 فیصد جمع کرتا ہے۔
بنیادی معاملہ (سورس) پر وِدہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ درست طور پر کام کرنے والے نظاموں میں یہ طریقہ کار اس لیے استعمال ہوتا ہے کہ سالانہ آمدنی کے حتمی اور واضح طور پر طے شدہ واجب الادا ٹیکس کے حصہ کے طور پر پیشگی ادائیگی کر دی جائے۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں لین دین پر لگائے گئے ان محصولات کا ٹیکس دینے والے کی ادائیگی کی حقیقی صلاحیت سے بہت کم تعلق ہے۔ مجموعی طور پر انہوں نے ایک ایسا ٹیکس نظام پیدا کر دیا ہے جو اندرونی طور پر غیر مربوط اور متضاد ہے۔ نتیجتاً‘ پاکستان کے ٹیکس نظام کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ اس میں ٹیکس عائد کرنا معاشی پالیسی کا آلہ نہیں بلکہ نقد رقوم (کیش) کے بہاؤ کی مینجمنٹ بن گیا ہے۔ ٹیکس کا یہ نظام خالص منافع پر ٹیکس عائد نہیں کرتا بلکہ اس کے بجائے مجموعی فروخت یا بنیادی لین دین کی مالیت پر ٹیکس نافذ کرتا ہے۔ یہ ساختی خرابی ہے جس سے ان کاروباروں کو شدید نقصان پہنچتا ہے جو ایسے شعبوں میں کام کرتے ہیں جن کا کاروباری حجم تو زیادہ ہے لیکن منافع کم ہے۔ یہ نظام ان برآمد کنندگان کو بھی نقصان پہنچاتا ہے جنہیں عالمی منڈی میں قیمتوں کا سخت مقابلہ درپیش ہوتا ہے۔
جب ذاتی آمدنی پر ٹیکس کی بات آتی ہے تو یکساں معاشی استطاعت رکھنے والے دو افراد پر صرف اس بنیاد پر بالکل مختلف ٹیکس عائد ہوجاتے ہیں کہ ان کی آمدنی کتنی نمایاں ہے اور اس کی رسمی ساخت کیا ہے۔ جس کی آمدن نمایاں ہے اور رسمی شعبہ میں ہے اس پر زیادہ ٹیکس لگ جاتا ہے۔ جس کی آمدن کم نمایاں ہے اور غیر رسمی شعبہ میں ہے اس پر کم ٹیکس لگتا ہے یا بالکل نہیں لگتا۔ یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ ٹیکس نظام کا جائزہ صرف اس بنیاد پر نہیں لیا جانا چاہیے کہ وہ کتنی رقم جمع کرتا ہے بلکہ اس بنیاد پر بھی جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کس قسم کی ترغیبات پیدا کرتا ہے۔ یہ صورتحال افقی مساوات (سب ایک جیسے لوگوں کے ساتھ برابری) کے اصول کی خلاف ورزی کرتی ہے جو معاشیات کا ایک بنیادی اصول ہے اور جس کے مطابق یکساں ادائیگی کی صلاحیت رکھنے والوں پر یکساں ٹیکس عائد ہونا چاہیے۔ اس امتیازی سلوک سے انسانی رویے بنیادی طور پر مسخ ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً اعلیٰ مہارت رکھنے والے پیشہ ور افراد باقاعدہ تنخواہوں کے بجائے غیر رسمی ذرائع سے معاوضہ لینے کا مطالبہ کرتے ہیں‘ اپنی ملازمت کو بیرونِ ملک مشاورتی معاہدوں میں تبدیل کر لیتے یا پھر مکمل طور پرترکِ وطن کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ غیر رسمی معیشت کی طرف رجحان سے ٹیکس کی بنیاد مزید سکڑ جاتی ہے۔ اس کے باعث حکومت نظام میں باقی رہ جانے والے ٹیکس دہندگان پر مزید بھاری بوجھ ڈالنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ یوں یہ سلسلہ بار بار دہرایا جاتا ہے۔ قوانین کی پابندی کرنے والا ٹیکس دہندہ نظام کیلئے بتدریج زیادہ کارآمد اور اسی نسبت سے زیادہ آسان ہدف بنتا جاتا ہے۔پاکستان کی ٹیکس پالیسی ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے اور اسے معتدل بنانے اور یکساں شرحیں برقرار رکھنے میں ناکام ہے اور اس کے بجائے ٹیکس کی بنیاد کو محدود کرتی جاتی ہے کیونکہ اس پالیسی کے تحت اکثر استثنا دیا جاتا ہے‘ صوابدیدی رعایتیں دی جاتی ہیں اور مخصوص شعبوں کیلئے الگ شرحوں کے ذریعے ٹیکس نافذ کیا جاتا ہے اور پھر آمدنی کی کمی پوری کرنے کیلئے قوانین کی پابندی کرنے والے اداروں پر ٹیکس کی شرحیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ ایک شعبہ کو دی جانے والی ہر رعایت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بالآخر باقی تمام لوگوں پر نئے ٹیکس لگانے کا جواز مہیا ہوجاتا ہے۔
ٹیکس پالیسی ایک ایسے مسابقتی کھیل میں تبدیل ہو چکی ہے کہ کس کو کتنی زیادہ سیاسی رسائی دستیاب ہے۔ اس کھیل میں کسی کارپوریٹ ادارے کی کامیابی کا انحصار اس کی عملی کارکردگی یا ایجاد و اختراع سے بہت کم اور اس بات پر زیادہ ہے کہ ریاست تک رسائی کے ذریعے سازگار ٹیکس مراعات حاصل کی جائیں۔ اس کا نتیجہ بدترین امتزاج کی صورت میں نکلتا ہے: قانونی طور پر بلند ٹیکس شرحیں‘ حقیقی وصولی کی کم سطح اور لابنگ کے ذریعہ مراعات حاصل کرنے کی مضبوط ترغیب۔ ہر طریقہ سے پیسے اکٹھے کرنے کی کوشش کے سبب پاکستان کی تجارتی پالیسی بہت مسخ ہو چکی ہے۔ درآمدات پر ٹیکسوں کو تجارتی پالیسی کا آلہ ہونا چاہیے لیکن ہمارے ہاں انہیں آمدنی جمع کرنے کے ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ویتنام جیسے ممالک زیادہ ٹیکس وصول کرتے ہوئے بھی عالمی سپلائی چین میں کہیں زیادہ مؤثر انداز میں جڑے ہوئے ہیں۔ چونکہ بیرونی تجارت کے حجم واضح اور آسانی سے قابلِ نگرانی ہوتے ہیں اس لیے پاکستان نے بین الاقوامی تجارت کو محاصل جمع کرنے کا ایک آسان ذریعہ بنا لیا ہے۔
درآمدات پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی‘ اضافی کسٹم ڈیوٹی (اے سی ڈی)‘ ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) اور درآمد شدہ سامان جیسے صنعتی مشینری‘ ٹیکنالوجی اور صنعتی خام مال پر ودہولڈنگ یا پیشگی انکم ٹیکس کی تہہ در تہہ ساخت نافذ ہے۔ ان کی وجہ سے ملکی صنعتوں کیلئے پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور عالمی مارکیٹوں میں ان کی مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ درآمدات پر بھاری ٹیکس عائد کر کے ریاست مقامی صنعتوں کو غیر مسابقتی بنا دیتی ہے تو پھر اسی نقصان کی تلافی کیلئے بیرونِ ملک سے آنے والی تیار شدہ اشیا پر مزید بلند محصولات عائد کر دیتی ہے۔ جب بلند درآمدی محصولات کے باعث مقامی صنعتیں غیر مؤثر ہوجاتی ہیں تو ریاست مزید مداخلت کرتی ہے اور مخصوص برآمدی رعایتیں دیتی ہے جیسے رعایتی شرح پر قرض‘ ڈیوٹی ڈرابیک (درآمدی محصول کی واپسی کی سکیمیں) اور خصوصی رعایتوں پر برآمدی نظام جس کے غلط استعمال کے خدشات موجود رہتے ہیں۔
لبِ لباب یہ ہے کہ پاکستان کا موجودہ ٹیکس نظام بنیادی طور پر حقیقی خالص آمدنی کے بجائے وِدہولڈنگ‘ پیشگی ٹیکس اور لین دین پر مبنی ٹیکسوں پر انحصار کرتا ہے۔ بینک سے رقم نکلوانے‘ بجلی و گیس کے بل ادا کرنے‘ درآمدات‘ جائیداد اور گاڑیوں کی خریداری سمیت مختلف معاملات پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ خالص منافع کے بجائے کاروبار کی مجموعی فروخت اور لین دین کی مالیت پر ٹیکس عائد ہونے سے کم منافع والے کاروبار اور برآمد کنندگان متاثر ہوتے ہیں۔ یکساں معاشی استطاعت رکھنے والے افراد پر بھی آمدنی کی رسمی یا غیر رسمی نوعیت کے باعث مختلف بوجھ پڑتا ہے جس سے غیر رسمی معیشت‘ ٹیکس سے گریز اور ہنرمند افراد کی بیرونِ ملک منتقلی کی ترغیب بڑھتی ہے۔ نتیجتاً ٹیکس کی بنیاد سکڑتی اور پابندی کرنے والوں پر بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔ مسلسل استثنا‘ خصوصی رعایتیں اور مختلف شرحیں ٹیکس نظام کو غیر مساوی بناتی ہیں اور سیاسی رسائی و مراعات کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ اس طرح درآمدی محصولات کو حکومتی آمدنی کا ذریعہ بنانے سے صنعتی لاگت بڑھتی اور عالمی مسابقت متاثر ہوتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...