"SAC" (space) message & send to 7575

معیشت سے غیر ہم آہنگ سول سروس

گزشتہ دو مضامین میں ہم نے یہ نظریہ پیش کیا کہ نظام حکومت میں اصلاحات کیلئے سول سروس میں اصلاحات بنیادی حیثیت رکھتی ہیں لیکن ہماری سول سروس کا بدلتے ہوئے زمانہ کے تقاضوں کے مطابق ارتقا نہیں ہو سکا۔ یہ فرسودہ سرکاری مشینری جدید دور کی ضروریات پوری نہیں کرسکتی۔ حکومت کے تقریباً تمام اعلیٰ ترین عہدوں پر ایک جنرلسٹ گروپ یعنی پی اے ایس افسران کی اجارہ داری ہے۔ اس گروپ کا ایک افسر مقابلہ کے ایک امتحان کی بنیاد پر سروس میں داخل ہوتا ہے اور اسے اگلے عہدہ پر ترقی ملتی رہتی ہے حالانکہ وہ کسی مخصوص شعبہ میں مہارت سے محروم ہوتا ہے۔ اس معاملہ کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ موجودہ سول سروس اعلیٰ سطح پر بنائی جانے والی پالیسیوں پر عمل درآمد کرانے میں اکثر و بیشتر ناکام رہتی ہے۔حالت یہ ہے کہ حکومت کی اچھی طرح تشکیل دی گئی پالیسیوں پر بھی عمل درآمد ناقص ہوتا ہے جس کی تین بڑی وجوہات ہیں۔(الف): حکومت سے کسی معاملہ کی منظوری لینے اور دستاویزات کی تصدیق کیلئے بہت زیادہ مراحل ہیں حتیٰ کہ معمول کے معاملات میں بھی۔ (ب): فرسودہ ضوابط اور انتظامی نظام‘ جو نوآبادیاتی دور سے ورثہ میں ملے ہیں یا بعد میں وضع کیے گئے‘ ان کا بہت سختی سے تحفظ کیا جاتا ہے۔ (ج): کام کاج کے ایسے طریقہ کار ہیں جو اعلان کردہ پالیسی سے متصادم ہیں۔ حکومت کے متعدد قواعد و ضوابط اب غیرمتعلق ہو چکے ہیں یا ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ معیارات اور پیمانے اکثر فرسودہ‘ غیر واضح یا غیر ضروری طور پر سخت ہیں۔ ان کے نتیجہ میں ایسے اخراجات عائد ہوتے ہیں جنہیں کاروباری لوگ مشکل سے برداشت کر سکتے ہیں۔
اختیارات کے ارتکاز‘ پیچیدہ طریقہ کار اور مبہم معیارات کی وجہ سے نہ صرف فیصلہ سازی سست ہوجاتی ہے بلکہ سرکاری اہلکاروں کو ناجائز مالی فائدہ حاصل کرنے کے مواقع بھی مل جاتے ہیں۔ یہ انتظامات اس لیے برقرار ہیں کیونکہ وہ معاشی لین دین پر اہلکاروں کا اختیار قائم رکھتے ہیں۔ تاہم حکومتی نظام کو اس بات کی سمجھ نہیں کہ انتظامی قواعد اور سرکاری افسروں کے رویہ کی وجہ سے کاروباری ماحول کس طرح متاثر ہوتا ہے اور کاروباری لوگوں کی کتنی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حکومت کے بہت سے فرائض اب متروک یا غیر ضروری ہو چکے ہیں۔ متعدد اداروں کے اختیارات اکثر ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور وہ ایک جیسی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ اسلام آباد کے بلیو ایریا سے گزرتے ہوئے بے شمار سرکاری دفاتر نظر آتے ہیں جن کے نام خود مختلف حکومتی اداروں کیلئے غیر مانوس ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ ادارے کرتے کیا ہیں۔ 18ویں ترمیم کے بعد اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے گئے لیکن وفاقی حکومت کے حجم میں اس کے مطابق کمی نہیں کی گئی۔ حتیٰ کہ کسی ایک حکومت (وفاقی ہو یا صوبائی) کے اندر بھی متعلقہ فرائض اکثر کئی محکموں اور خودمختار اداروں میں بٹے ہوئے ہیں۔ بعض وزارتوں کی ذمہ داریوں اور ان سے منسلک ایجنسیوں کے فرائض میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اختیارات کی اس تقسیم کے نتیجہ میں کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور پالیسی میں ہم آہنگی‘ اس پر عملدرآمد اور اداروں کے درمیان باہمی رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ اگرچہ ریاستی مشینری کمزور ہوگئی ہے لیکن بااثر نیٹ ورکس اس استحصالی نظام کو جاری و ساری رکھنے کیلئے سرگرم ہیں۔اس پورے ریگولیٹری ڈھانچہ کی بنیاد بیوروکریسی کا یہ یقین ہے کہ مارکیٹ پر بڑی حد تک اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ بیوروکریسی کو یہ بھی یقین ہے کہ ریاست معاشی سرگرمیوں کو منظم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں (ڈونرز) نے بھی بعض اوقات مختلف ممالک میں ایک جیسے ادارہ جاتی انتظامات کو فروغ دیا جس سے اس حکومتی رجحان کو تقویت ملی حالانکہ ان ممالک کے حجم‘ صلاحیت اور ادارہ جاتی کلچر میں نمایاں فرق ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ان اداروں میں تقرریاں بھی میرٹ کی بنیاد پر ہوں۔
ہماری سول سوسائٹی بھی اکثر مارکیٹ کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے جس سے بیوروکریسی کو ریگولیشنز بنانے کا مزید جواز مل گیا۔ مارکیٹ پر مبنی ترغیبات اور سزاؤں کے نظام کو رائج نہیں کیا گیا بلکہ براہ راست سرکاری کنٹرول کو ترجیح دی گئی۔ پاکستان کی اپنی معاشی ترقی بھی اس طور سے ہوئی جس سے اس حکومتی رجحان کو تقویت ملی۔ وہ اس طرح کہ ابتدا میں ہمارا متوسط طبقہ متحرک اور آزادانہ معاشی ترقی کے عمل کے نتیجہ میں وجود میں نہیں آیا بلکہ اس کی تشکیل بڑی حد تک سرکاری شعبہ میں ملازمت کے ذریعہ ہوئی۔ آج بھی بہت سے لوگ یہ تصور نہیں کرسکتے کہ وہ ریاستی سرپرستی کے بغیر ترقی کرسکتے ہیں۔ وہ ریاست کو ایک کُلی اختیار کا حامل سرپرستی کا ادارہ سمجھتے ہیں جو اس بات کا ذمہ دار ہے کہ انہیں خطرات سے تحفظ دے اور ہر ممکن ضرورت پوری کرے۔
اس سارے عمل کا نتیجہ ہر شعبہ زندگی میں وسیع پیمانہ پر ریاستی مداخلت کی صورت میں نکلا۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی تحقیق کے مطابق حکومت کے ملکیتی اداروں اور خصوصی ریگولیٹری حکم ناموں (ایس آر اوز) کے کلچر کی بنا پر معیشت کا تقریباً 70 فیصد حصہ ریاست کے زیر اثر ہے۔ 120 سے زیادہ ریگولیٹری اداروں اور تجارتی اور کاروباری ریگولیشنز کا ایک پیچیدہ جال موجود ہے جو مارکیٹ کو مسخ کرتا اور کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ کردیتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا حجم بدستور بڑا ہے‘ وہ مداخلت پسند ہیں اور پوری طرح جوابدہ بھی نہیں۔ حکومتیں خدمت کے بجائے حکمرانی کرنے کی طرف زیادہ مائل ہیں۔ فیصلہ سازی کی مرکزیت اور فرسودہ اور حد سے زیادہ تعداد میں قواعد پر بلاسوچے سمجھے عمل۔ ان دو چیزوں نے مل جل کر معاشی ترقی کے امکانات کو شدید نقصان پہنچایا۔
اس حکمت عملی کے سبب جو ڈھانچہ‘ نظام اور کاروباری طریقہ کار وجود میں آئے ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومتی شعبوں میں ضرورت سے زیادہ عملہ بھرتی ہوگیا اور حکومت نے بہت زیادہ ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ آج سرکاری شعبہ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں سے کہیں زیادہ فرائض انجام دے رہا ہے جبکہ اسے ایسی بیوروکریسی چلا رہی ہے جو اہلیت کی کمی‘ مبینہ طور پر مسلسل کم ہوتی ہوئی تنخواہوں کے باعث پست حوصلہ‘ بدعنوانی‘ سیاسی مداخلت اور کمزور جوابدہی کا شکار ہے۔ نظام صرف افسروں کی ضروریات اور سہولیات پوری کرنے میں لگا ہوا ہے لیکن عوام کو خدمات مہیا کرنے کی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔ تعلیم کا شعبہ اس مسئلہ کی واضح مثال ہے۔ پاکستان کی آمدنی کی سطح والے ملک کے لیے تعلیم پر جی ڈی پی کا کم سے کم چار فیصد کے برابر رقم خرچ کرنا معمول سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں پاکستان حکومت تعلیم کے سرکاری شعبہ پر تقریباً دو فیصد خرچ کرتی ہے (تازہ ترین اعداد وشمار اس سے بھی کم ہیں)۔ گویا تعلیم پر حکومتی اخراجات درکار اخراجات سے تقریباً 2 فیصد پوائنٹ کم ہیں‘ اسکے باوجود پاکستان میں ناخواندہ افراد کی شرح ان ملکوں سے تقریباً 24 فیصد پوائنٹ زیادہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ تعلیم پر کم وسائل اور فنڈز خرچ کیے جارہے ہیں بلکہ مسئلہ متعلقہ حکومتی اہلکاروں کی ناقص جوابدہی کا بھی ہے۔ان تمام باتوں کے باوجود اس بات کی سنجیدہ جانچ پڑتال نہیں کی جاتی کہ موجودہ فرائض‘ قواعد و ضوابط اور سرکاری روایات کس حد تک اب موزوں رہ گئے ہیں۔ دنیا میں ٹیکنالوجی تیزی سے بدل رہی ہے‘ بین الاقوامی مارکیٹ کے تقاضے بدلتے جا رہے ہیں‘ میڈیا بہت فعال ہے اور سول سوسائٹی بہت باخبر ہوگئی ہے اور اپنے حقوق پر اصرار کرنے لگی ہے‘ لیکن حکومتی نظام میں جمود کی صورتحال برقرار ہے۔
سول سروس کا نظام اور معاشرہ کے وہ بااثر طبقات کے ساتھ جو پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں‘ ان دونوں کا اتحاد ہے۔ اس گٹھ جوڑ کا موجودہ نظام کو برقرار رکھنے میں بڑا مفاد وابستہ ہے۔ یہ دونوں فریق بامعنی تبدیلی کی مزاحمت کرتے ہیں۔ اس لیے یہ توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا کہ موجودہ انتظامی کلچر بنیادی ادارہ جاتی اصلاحات کے بغیر اچانک دیانت داری‘ انصاف‘ غیر جانبداری اور شفافیت اختیار کر لے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...