"RBC" (space) message & send to 7575

پرانی تحریروں کا خاموش ورق

ایران کی قیادت نے جنگ کے خاتمے کیلئے کئی مطالبات سامنے رکھے ہیں جن میں خطے کے ممالک سے فوجی اڈوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ اگر کبھی ایسا ہو سکا تو دنیا کی طاقت کا توازن بدل کر کوئی نئی صورت اختیار کر لے گا۔ امریکہ کے بحری بیڑوں‘ عسکری ٹھکانوں اور بحر ہند میں فوجی تنصیبات کی ایک تاریخ ہے۔ اس کا پس منظر آج سے نصف صدی قبل رونما ہونے والے دو واقعات میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک‘ دو بڑی طاقتوں کے مابین سرد جنگ کی گرما گرمی‘ اردگرد اتحادیوں کے دائرے اور دوسری طرف کسی زمانے کی عالمی طاقت برطانیہ کا اس خطے سے کوچ تھا۔ اس وقت روایتی اور غالب سوچ یہ تھی کہ دنیا کے کسی حصے میں طاقت کا خلا پیدا ہوگا تو دوسری عالمی جنگ کے بعد کی دو نئی طاقتیں؛ سوویت یونین اور امریکہ‘ پُر کرنے کی کوشش کریں گی۔ برطانیہ کی طاقت کا سامراجی سورج غروب ہو چکا تھا۔ وہ تھک ہار کر اپنے جزیرہ نما ملک تک محدود ہو چکا تھا بلکہ یورپی دفاع کے نیٹو نظام کے حصار میں چین اور سکون کی زندگی گزار رہا تھا۔ آپ سب کو معلوم ہے کہ اس دفاعی نظام اور اجتماعی سلامتی کی مرکزی طاقت صرف امریکہ کی تھی۔ بڑی جنگ کے خاتمے کے بعد ہی سے امریکہ نے مشرق وسطیٰ‘ خلیج فارس اور بحر ہند میں برطانیہ کی جگہ آہستہ آہستہ سنبھالنا شروع کر دی تھی۔ یہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک عرصہ سے باہمی سمجھوتے اور مغربی مفادات کے تحفظ کا نتیجہ تھا۔ آج کل دمکتی خلیجی امارتیں 70ء کی دہائی کے اوائل میں آزادی سے قبل برطانیہ کے حفاظتی حصارمیں تھیں۔ ابھی وہ تیل اور قدرتی گیس کے وسائل کا حساب کتاب لگا کر آگے کی منصوبہ بندی میں مصروف تھیں۔ یہ 1971ء میں آزاد ہوئیں‘ جبکہ کویت بطور ریاست 1966ء میں اپنا اقتدار حاصل کر چکا تھا۔
اس خطے کیلئے امریکہ نے منصوبہ بندی سرد جنگ کے آثار ہویدا ہوتے ہی کر لی تھی۔ 1949ء میں اس نے مڈل ایسٹ فورس قائم کر کے بحرین میں اپنا جھنڈا لہرادیا۔ خلیجی ریاستوں کی آزادی کے ساتھ 1971ء میں دو چار جہاز بھی اس فورس کے نام پر کھڑے کر دیے۔ اس کے بعد دو اور واقعات رونما ہوئے۔ ایک 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ اور دوسرے اس کے رد عمل میں سعودی عرب کے شاہ فیصل کی پہل کاری اور قیادت میں خطے کے ممالک کی تیل کی برآمد پر مکمل پابندی۔ اب تو نسلیں تبدیل ہو چکی ہیں‘ کسی کو کیا یاد کہ امریکہ اور یورپ میں پٹرول پمپوں کے سامنے کاروں کی کتنی لمبی قطاریں لگتی تھیں۔ اچانک تیل کی قیمت میں تین گنا اضافہ ہوا۔ ایران کے بادشاہ نے اس پابندی میں حصہ نہیں لیا۔ شاہ کا ایران اسرائیل اور امریکہ کا اتحادی تھا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قلت کا ازالہ کرنے کیلئے شاہ نے تیل کی برآمدات میں پوری استعداد کو استعمال کرتے ہوئے اپنی دیرینہ وفاداری کا بھرپور ثبوت دیا۔ ان دو واقعات کے بعد امریکہ نے اپنی دوررس جغرافیائی سیاست کی بنیاد رکھنا شروع کر دی تھی۔ اس کے سامنے کئی اغراض ومقاصد تھے جن میں ایران‘ عربوں اور دیگر حلیفوں کی تیل کی دولت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو امریکہ کی منڈی میں واپس لانا سرفہرست تھا۔ اس کیلئے دو حربے استعمال کیے گئے۔ ایک‘ ایران اور عربوں کے اندر سوویت یونین کی توسیع پسندانہ پالیسی کا پروپیگنڈا کر کے خوف اور عدم سلامتی کا احساس اجاگر کیا گیا۔ دوسرا‘ امریکہ نے اپنے آپ کو ان کی سلامتی کے ضامن کے طور پر پیش کر کے غیر رسمی خفیہ دفاعی معاہدے اور کچھ ضمانتیں فراہم کر کے اپنی پوزیشن مضبوط کر لی۔ اس کی حکمت عملی دو ستونوں پر استوار ہوئی۔ سعودی عرب اور شاہ کا ایران۔ تیل کی دولت سمیٹنے کا آسان اور بہترین طریقہ جدید اسلحہ کی فروخت تھی۔ مغرب میں بیٹھے تزویراتی کھلاڑی تب اس بات پر زور دیتے تھے کہ چونکہ امریکہ کی دفاعی ذمہ داریوں کا مرکز یورپ ہے اس لیے سعودی عرب اور ایران دو اتحادی علاقائی طاقتوں کے طور پر اجتماعی سلامتی کا فریضہ ادا کریں۔ ایران نے تیل کی نئی دولت طاقتور فوجی قوت کیلئے پانی کی طرح بہانا شروع کر دی تھی۔ امریکہ بھی یہی چاہتا تھا۔
جو بات اس زمانے میں دبائی جا رہی تھی وہ امریکہ کے اپنے فوجی اڈوں کے قیام کی منصوبہ بندی تھی۔ تیل کی پابندی کے بعد ہی امریکہ نے بحر ہند میں برطانیہ کے زیر قبضہ سیشلز جزائر کو طویل مدت کیلئے ٹھیکے پر لے لیا اور ڈیگو گارشیا پر بحری بندرگاہ کی تعمیر شروع کر دی۔ امریکی کانگریس‘ میڈیا اور علمی حلقوں میں اس کا جواز یہ دیا جا رہا تھا کہ اگر امریکہ نے اس اہم ترین سمندر میں اپنی فوجی طاقت کھڑی کرنے میں کوتاہی کی تو سوویت یونین وہاں غالب آ جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو پھر نہ علاقائی ممالک کی خیر ہے اور نہ تیل ان علاقوں سے مغرب کی صنعتوں‘ گاڑیوں اور معیشت کے پہیے کو حرکت میں رکھنے کیلئے میسر ہوگا۔ سوویت یونین کی ''جارحانہ ذہنیت‘‘ اس کے ''ظالمانہ نظریے اور توسیع پسندی‘‘ کے بیانیے اتنے حاوی تھے کہ ان پر سوال کرنے والوں کے ماتھے پر فوراً اشتراکیت اور الحاد کا لیبل لگا دیا جاتا تھا۔ اگلی بات کرنے سے پہلے آپ کی اجازت اور معافی کا خواستگار ہوں کہ مقصد نہ خود ستائی ہے اور نہ یہ بتانا ہے کہ 40 سال قبل ہماری تحریریں کس نوعیت کی تھیں۔ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکی جنگ نے اب مجبور کر دیا ہے کہ ان خاموش تحریروں کا کم از کم ایک ورق اس صفحے کی وساطت سے اپنے قارئین کی نذر کیا جائے۔ بیرونِ ملک اپنی تعلیم کے دوران اپنے ایک محترم استاد کے فیض سے اپنی علمی دلچسپی جغرافیائی سیاست اور بحر ہند میں بڑی طاقتوں کی نام نہاد کشمکش کی طرف ہو چکی تھی۔ ایک دو سال سر کھپانے کے بعد جو بات سمجھ میں آئی وہ یہ تھی کہ امریکہ خلیج فارس اور بحر ہند میں اپنی طاقت کے جو عسکری مراکز تعمیر کر رہا ہے ان کا مقصد سوویت یونین کو تزویراتی مات دینا نہیں۔ اس دلیل کی دو بنیادیں تھیں۔ ایک یہ کہ سوویت یونین کے پاس سوائے صومالیہ میں ایک چھوٹی بندرگاہ تک رسائی کے کوئی فوجی تنصیبات نہ تھیں‘ اور نہ ہی اس کا کوئی ایسا ارادہ تھا۔ دوسری‘ امریکی سہولتوں اور فوجی نوعیت کا سازو سامان بحر ہند میں بڑی بحری لڑائی کی تیاری کیلئے نہیں بلکہ صرف علاقائی ممالک کے خلاف استعمال ہونے کیلئے موزوں تھا۔ اس زمانے میں یہ باتیں لکھنے کا رواج نہیں تھا مگر جب ایک کتاب کی صورت‘ جو باہر کے تین ممالک میں شائع ہوئی‘ لکھ دیا تو اپنا فرض پورا کرنے سے جو اطمینان آج بھی حاصل ہے اس کا بیان آسان نہیں۔ اب تو تاریخ کئی بار گواہی دے چکی ہے۔ عراق کی پہلی جنگ سے لے کر افغانستان کی جنگ اور اب اس حالیہ جنگ میں وہی اڈے جن کی نصف صدی پہلے منصوبہ بندی کی گئی تھی‘ استعمال ہو رہے ہیں۔ ایران کا سفر حلیف سے شروع ہوا اور اب دشمن نمبر ایک ہے۔
ایران کی قیادت اسلامی انقلاب کے بعد اس نوعیت کے خطرات کو بھانپ چکی تھی۔ تب سے وہ نبرد آزما ہونے کیلئے اپنے وسائل اور ایک مربوط علاقائی تزویراتی صف بندی ترتیب دے کر سلامتی کی جنگ لڑتا رہا ہے۔ اگر اس روایتی دلیل میں کوئی وزن ہوتا کہ امریکہ بحر ہند میں اس لیے ہے کہ وہاں سوویت یونین نے قدم جمائے ہوئے ہے تو پھر اس کے ٹوٹنے کے بعد اسے رخصت ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر اب امریکہ کی بھڑکتی آگ ایرانیوں پر برسائی جا رہی ہے۔ طاقت کا مرکز امریکہ کے حق میں سرد جنگ کے بعد ہوا تو گردن اور تن گئی اور مداخلتی جنگوں کا دائرہ اور پھیلتا گیا۔ امریکہ کی موجودہ قیادت نے تو بہت کچھ دائو پر لگا دیا ہے۔ دیکھیں اس کے تزویراتی جوئے کی آخری گوٹی کا رخ کیا نکلتا ہے۔ پہلے بھی لکھ چکا کہ اس جنگ کے نتائج پورے خطے میں‘ جس میں وطنِ عزیز بھی شامل ہے‘ بہت دوررس ہوں گے۔ دنیا کی معیشت تیل کے بحران کا دو ہفتوں میں ہی بری طرح شکار ہو چکی ہے۔ اگر یہ جنگ طوالت اختیار کرتی اور ایران اپنے قدموں پر قائم رہتا ہے تو کئی بت‘ صنم کدے اور طاقت کا غرور خاک میں مل جائے گا۔ مگر بات ''اگر‘‘ کی ہے اور ابھی تک حتمی لفظ اس بارے میں ممکن نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں