صاف شفاف‘ دھاندلی اور مداخلت سے پاک حالیہ عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی بھاری اکثریت کے ساتھ فتح سے زیادہ بڑی خبر پہلی مرتبہ 300ممبران کے پارلیمنٹ میں جماعت اسلامی اتحاد کی 77 سیٹوں پر کامیابی ہے۔ بی این پی گزشتہ چار دہائیوں کے دوران‘ 1981ء سے لے کر 2006ء تک چار مرتبہ برسراقتدار رہی۔ دو مرتبہ محترمہ خالدہ ضیا وزیراعظم بنگلہ دیش رہیں۔ بیگم خالدہ ضیا کا دور اگرچہ نسبتاً جمہوری تھا مگر 2000ء کے اوائل میں آنے والی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹوں کے مطابق بی این پی کی بنگلہ دیش میں حکومت کرپشن میں پہلے دو چار ملکوں میں شامل تھی۔ اب بی این پی کیلئے کرپشن سے نجات‘ گڈ گورننس‘ حقیقی عدل و انصاف اور جمہوری کلچر کا قیام سب سے بڑے چیلنج ہیں۔
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو متحدہ پاکستان سے وفاداری کی پاداش میں عوامی لیگ نے ''غداری‘‘ کے الزام سے نوازا اور ان پر ناقابلِ تصور مظالم ڈھائے گئے۔ مگر جوں جوں عوامی لیگ کا حقیقی چہرہ بنگالی قوم کے سامنے آتا رہا توں توں جماعت کی دیانت و امانت اور اپنے ہم وطنوں کیلئے سچے جذبۂ ہمدردی کا نقش ان کے دلوں پر ثبت ہوتا چلا گیا۔ جماعت اسلامی نے اتنے ناموافق اور معاندانہ حالات میں یہ مقام کیسے حاصل کیا ‘ یہی وہ سوال ہے کہ جس کا جواب تلاشِ بسیار کے بعد ہم آپکی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے نئے حالات کا جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ ''بدل دو نظام‘‘۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے نہ اپنی دعوت کو بدلا نہ اپنی شناخت کو بدلا اور نہ ہی جماعت کے نام کو بدلا‘ مگر انہوں نے اپنے آپ کو بدلا اور ہر قسم کے ظلم کا مقابلہ کرنے کیلئے کمربستہ ہو گئے۔ جماعت نے اپنا نظام کیسے بدلا؟ فکرِ مودودی ہی جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور جماعت اسلامی پاکستان کی قوتِ محرکہ ہے۔ ہم اسی حوالے سے پہلے بنگلہ دیش کی جماعت کا مختصر جائزہ لیں گے اور پھر یہ دیکھیں گے کہ جماعت اسلامی پاکستان نے بھی ''بدل دو نظام‘‘ کا نعرہ تو بلند کیا مگر نہایت موافق حالات ہونے کے باوجود وہ کچھ نہیں بدل سکی۔ ایسا کیوں ہے؟
پاکستان کے ایک معروف صحافی‘ عارف الحق عارف صاحب 1984ء میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس کی رپورٹنگ کیلئے بنگلہ دیش گئے تھے۔ عارف صاحب کی بنگلہ دیشی حکمرانوں کے ساتھ نہایت اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ ممتاز پاکستانی اخبار نویس کو اس موقع پر بیگم حسینہ واجد نے شیخ مجیب الرحمن کے دھان منڈی والے گھر میں مدعو کیا تھا۔ تب حسینہ واجد کے پاس کوئی عہدہ نہ تھا۔ انکی سب سے اہم ترین ملاقات جماعت اسلامی کے امیر پروفیسر غلام اعظم صاحب سے ہوئی۔ ان دنوں جماعت اسلامی شدید مالی و افرادی مسائل کا شکار تھی۔ ''غداری‘‘ کے داغ کے باوجود جماعت اسلامی نے صرف 13 برس کے دوران نہ صرف دوبارہ سیاست میں اپنی حیثیت منوا لی تھی بلکہ بی این پی نے اسے اپنا سیاسی حلیف بنا لیا تھا۔ 1971ء کے تلخ ترین حالات کے باوجود اس وقت بنگلہ دیش کے قائدین تلخیاں بھلا کر باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے راستے پر گامزن ہو چکے تھے۔ پروفیسر صاحب نے عارق الحق کو بتایا کہ جب ملک دولخت ہو گیا تو جہاں دنیا اور پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا تھا وہاں جماعت اسلامی نے بھی اسے اپنے وطن کے طور پر اپنی آنکھوں میں بسا لیا۔ آغاز میں جماعت کے خلاف شدید تعصب پر جماعت کے زعما کی خوئے دل نوازی اور وہاں کے کارکنوں کی اپنے بنگالی بھائیوں کیلئے ہمدردی و خدمت گزاری باہمی اعتماد اور محبت میں بدل گئی۔ 1984ء میں جماعت کے مالی حالات ناگفتہ بہ اور دفاتر کھنڈرات بنا دیے گئے تھے۔ بقول پروفیسر غلام اعظم مرحوم اب ہمارے سامنے نہ بڑے دفاتر تھے اور نہ مالی وسائل کی فکر‘ نہ سہولتوں کی فراہمی کی سر دردی کہ جن کی وجہ سے بعض اوقات تحریکی ترجیحات ہی بدل جاتی ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ تحریکی مناصب کی طلب بلکہ چاہت کو نااہلی سمجھنے کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ بے سرو سامانی ہی ہمارا قیمتی اثاثہ بن چکا تھا۔ اب جماعت اور جمعیت مرد و خواتین کارکنوں کو ایک ہی دھن تھی کہ ایک ایک بنگالی بھائی اور ایک ایک بہن اور بیٹی تک دعوت پہنچانے کو جماعت نے اپنا شیوہ بنا لیا۔ پروفیسر غلام اعظم کے بقول اب آرام دہ دفاتر کے بجائے ڈھاکہ سے چٹاگانگ تک کی گلیاں‘ شاہراہیں اور شہر اور گاؤں ہمارا ٹھکانا تھے۔ جماعت کے زعما نے اس دور کی تنگی ترشی کو Blessing in disguise قرار دیا۔
بیگم حسینہ واجد 1996ء سے 2001ء تک اور پھر 2009ء سے 2024ء تک بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں۔ حسینہ واجد کا دوسرا دور انتہائی سفاکانہ‘ منتقمانہ اور آمرانہ تھا۔ اسی دور میں اس نے جماعت اسلامی کو کالعدم قرار دیا۔ ہزاروں کی تعداد میں جماعت کے لیڈروں اور کارکنوں کو جیلوں میں ٹھونسا اور جماعت کے کئی قائدین کو تختۂ دار پر لٹکایا۔ ان بدترین حالات میں جماعت اور جمعیت نے چھپتے چھپاتے ڈھاکہ سے چٹا گانگ تک ہر گھر پر دستک دی اور انہیں مولانا مودودیؒ کے الفاظ میں سلامتی کا راستہ دکھایا۔ یہ اسی انفرادی رابطے کا ثمر ہے کہ آج جماعت بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میں حزبِ اختلاف ہے۔ البتہ گزشتہ ڈیڑھ دو ہائیوں کے دوران کثرتِ سازو سامان کے باوجود جماعت اسلامی پاکستان پارلیمانی و سیاسی سطح محدود سے محدود تر ہو گئی ہے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی حکمت عملی حقیقت پسندانہ جبکہ جماعت اسلامی پاکستان کی تخیلاتی ہے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش مولانا مودودیؒ کے دیے ہوئے وژن کے مطابق دعوت‘ جمہوریت اور انتخابات کو حالات کی تبدیلی کا واحد راستہ سمجھتی ہے‘ جبکہ جماعت اسلامی پاکستان کبھی انتخاب اور کبھی بائیکاٹ کا راستہ اپناتی رہی ہے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے خلاف تعصبات کی بادِ سموم کے دوران بھی جماعتی قائدین نے جماعت ہی کو اپنی شناخت رکھا جبکہ پاکستان میں شخصیات آگے نکل گئیں اور جماعت پیچھے رہ گئی۔ اس کے برعکس جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی پالیسی حقیقت پسندانہ رہی۔ انہوں نے جو بھی انتخاب لڑا وہ کسی اتحاد کے ساتھ لڑا۔ حالیہ انتخابات میں بھی جماعت اسلامی نے 11 رکنی اتحاد کے ساتھ انتخاب میں حصہ لیا اور اتنی بڑی کامیابی حاصل کی۔ بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کی فہمِ جمہوریت واضح ہے کہ جمہوریت سے مراد انتخابی کامیابی اور پارلیمنٹ میں اپنی بھرپور موجودگی ہے۔ یہاں پاکستان میں جماعت اسلامی ایک بڑے مغالطے میں مبتلا ہو گئی کہ ہم نے انتخابی اتحادوں میں دوسروں کو اپنا کندھا فراہم کیا اور خود کچھ حاصل نہیں کیا۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
1970ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی پاکستان نے چند سیٹیں کراچی اور ایک دو مقامات سے اپنی انفرادی حیثیت سے جیتی تھیں۔ اس کے بعد ایم ایم اے جیسے اتحادوں سے جماعت قومی و صوبائی اسمبلیوں اور وزارتوں تک پہنچی۔ ہمیں جماعت اسلامی کی دیانت و امانت کے مداح بڑی تعداد میں جماعت کے زعمائے کرام کی خدمت میں بہت سی گزارشات پہنچانے کا فریضہ سونپتے رہتے ہیں۔ ہم بصد ادب جماعت کی لیڈر شپ سے صرف ایک گزارش کریں گے کہ وہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی پالیسیوں کا بغور جائزہ لے اور فراخدلی کیساتھ خود احتسابی سے کام لے کر از سر نو اپنی حکمت عملی مرتب کرے۔ جماعت بڑے بڑے شو اور دھرنوں کے بجائے کراچی کی طرح پنجاب کے گلی کوچوں میں بھی اپنے بلدیاتی اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کا اعلان کرے۔ اگر پنجاب کے ہر وارڈ اور اس کے ہر صوبائی و قومی حلقے میں جماعت کی متبادل قیادت بطور انتخابی امیدوار موجود ہوتی تو جماعت کی مقبولیت کا عالم کچھ اور ہوتا۔ جماعت اسلامی پاکستان سیاسی میدان میں ہو گی تو اس کا سیاسی دام لگے گا۔ وگرنہ دھرنوں اور بڑے بڑے شوز سے مطلوبہ پارلیمانی نتائج حاصل نہ ہو سکیں گے۔