سانحہ بھاٹی گیٹ‘ ایک اور آئینہ

گل پلازہ کراچی کا جان لیوا صدمہ ہو یا بھاٹی گیٹ لاہور کا دل خراش واقعہ‘ دراصل ایک آئینہ ہوتا ہے جس میں حکمران اپنی کارکردگی کی ہولناک تصویر دیکھ سکتے ہیں۔ حکمرانوں کے حوالی موالی اور خوشامدی سچ کو چھپاتے جبکہ آئینہ سب کچھ سچ سچ بتا دیتا ہے۔ اسی لیے حکمران آئینے سے آنکھیں نہیں ملاتے۔
گزشتہ ہفتے شور کوٹ کے ایک گاؤں سے ایک خاندان داتا دربار حاضری دینے کیلئے آیا۔ اس خاندان میں نوجوان میاں بیوی اور دس ماہ کی بچی کے علاوہ دیگر رشتہ دار بھی شامل تھے۔ داتا دربار میں سلام پیش کرنے کے بعد بھاٹی گیٹ کے باہر ایک کھلے اور بہت گہرے مین ہول میں خاتون اور اس کی دس ماہ کی بچی گر گئے۔ اس پر شوہر چیخ پکار کرنے لگا۔ اس کی فریاد پر کان دھرنے کے بجائے پولیس اسے پکڑ کر تھانے لے گئی اور وہاں اس کو پونے پانچ گھنٹے تک محبوس رکھا گیا‘ تشدد کیا گیا کہ تم نے بیوی اور بچی کو کہیں ٹھکانے لگا دیا ہے اور اب جھوٹا واویلا کر رہے ہو۔
ذرا اس اذیت اور ذلت کا اندازہ لگائیے کہ جو ''گڈ گورننس‘‘ والے صوبے میں ایک عام آدمی کا مقدر ہے۔ وہ نوجوان اس صدمے میں بے قراری سے دم توڑ رہا ہے اور متعلقہ ایس ایچ او اور ایس پی دونوں مل کر اس سے ایک ایسی واردات کا اقرار کروا رہے ہیں جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے شور مچا تو ابتدائی طور پر پنجاب کی وزیر اطلاعات کی جانب سے اسے فیک نیوز قرار دے دیا گیا‘ البتہ اگلے دن وزیر صاحبہ نے اس پر معذرت کر لی تھی۔ اس دوران ماں اور بچی لقمۂ اجل بن گئیں۔ باقی ساری تفصیلات آپ میڈیا میں دیکھ اور سن چکے ہیں۔ اس لیے ان دل فگار خبروں کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔ البتہ ایک بات کا ذکر ضروری ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تھانیدار اور ایس پی صاحب کی محکمانہ تفتیش ہو رہی ہے‘ حالانکہ ان کے خلاف بھی تعمیراتی کمپنی کی ٹیم کی طرح عدالتی کارروائی ہونی چاہیے۔
اب آئینے میں دیکھیے کہ وہ ہمیں کیا بتا رہا ہے۔ آئینہ ہمیں بتا رہا ہے کہ اس ملک میں عام آدمی کی کوئی قدر و قیمت نہیں‘ آئینہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ ہزار دعووں کے باوجود تھانہ کلچر ویسا کا ویسا بلکہ بدتر ہے۔ آئینہ یہ تلخ سچ بھی بول رہا ہے کہ تمام تر عمدہ ٹریننگ کے باوجود ایس پی کا مائنڈ سیٹ بھی وہی ہے‘ جو تھانیدار کا ہے۔ تھانے کو ڈیجیٹائز بھی کیا گیا ہے۔ آئے روز پولیس کی حسنِ کارکردگی کے بارے میں بڑے بڑے دعوے بھی کیے جاتے ہیں مگر حالات ویسے ہی ہیں جیسے ہمیں بھاٹی گیٹ والا آئینہ بتا رہا ہے۔
ذوالفقار احمد چیمہ صاحب سے میری پرانی شناسائی ہے۔ چیمہ صاحب وہ سابق پولیس افسر ہیں کہ جن کی دیانت‘ امانت اور جرأت و شجاعت کا خواص سے لے کر عوام تک ہر کوئی مداح اور دل سے قدر داں ہیں۔ وہ ''عالم باعمل‘‘ ہیں۔ جو کہتے تھے اس پر عمل بھی کرتے تھے۔ وہ جس ضلع میں پولیس سربراہ بن کر جاتے وہاں کے چور اور ڈاکو اس علاقے سے راہِ فرار اختیار کر لیتے۔ اس علاقے کے بااثر لوگ اور بڑے بڑے سیاستدان بھی خبردار ہو جاتے کہ یہ ''ڈاہڈا‘‘ پولیس افسر کسی کی سنتا ہے نہ مانتا ہے اور وہی کچھ کرتا ہے جو قانون کی کتاب اسے بتاتی ہے۔ چیمہ صاحب کہیں سے بھی آنے والے غیرقانونی احکامات کی مزاحمت کرتے تھے۔ وہ قائداعظم اور اقبال کے شیدائی ہیں۔ پولیس کی ملازمت اور ساری دنیا کے سیاحت کے بعد اپنے تجربات اور چشم دید مشاہدات پر مبنی کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ میں نے فون پر چیمہ صاحب سے بھاٹی گیٹ کے حوالے سے پوچھا کہ پولیس کلچر کب بدلے گا‘ عام آدمی کو کب تحفظ ملے گا؟ چیمہ صاحب نے کہا کہ فون پر تو سارے سوالات کے تفصیلی جوابات دینا مشکل ہے۔ انہوں نے اپنی کتابوں کی نشاندہی کی کہ ان میں پولیس اور دیگر کئی شعبوں میں اصلاحات کے حوالے سے آپ کو تجزیاتی معلومات مل جائیں گی۔ حسنِ اتفاق سے ان کی کتاب ''دو ٹوک باتیں‘‘ میری سٹڈی میں رکھی تھی۔ میں پہلے ہی کتاب کو جستہ جستہ دیکھ چکا تھا۔ کتاب کے ایک باب کا عنوان ہے ''انصاف... تھانوں‘ پٹوار خانوں اور ایوانوں میں بھی‘‘۔ اس باب کی چند ابتدائی سطور دیکھیے۔ ''ریاست کا ہر شعبہ تشویشناک حد تک زوال پذیر ہے۔ بڑی وجہ بدنیتی اور بدعنوانی ہے مگر اب بھی بچا جا سکتا ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ نسخہ کیا ہے؟ نسخہ آزمودہ ہے‘ انصاف اور صرف انصاف۔ عدالتوں ہی میں نہیں تھانوں میں‘ پٹوار خانوں میں‘ دکانوں اور کارخانوں میں‘ انتظامی میدانوں میں بھی اور بڑے بڑے ایوانوں میں بھی انصاف کی فراہمی ہی ہماری بقا اور ترقی کی ضمانت دے سکتی ہے‘‘۔
نہ جانے یہ سطور کب لکھی گئی تھیں مگر آج کے حالات کی بھی پوری عکاسی ان میں موجود ہے۔ جب حکمران خود اسی پولیس کے ذریعے اپنی من مانی کیلئے قانون شکنی کراتے ہیں تو پھر پولیس بھی بلاخوف اپنی مرضی چلاتی ہے اور ہر کمزور کو دباتی ہے۔ آج ہمارے سماج میں انصاف تقریباً نایاب ہے۔ پاکستان کی 78برس کی تاریخ میں قانونِ فطرت نے ہمیں اپنے ساتھ پیش آنے والے انفرادی و قومی سطح کے سانحات و حوادث کے ذریعے بارہا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے منسوب الفاظ میں باور کرایا کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے مگر ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔ ہم نے قدرت کی وارننگز اکثر نظر انداز کی ہیں‘ اسی لیے ہم ابھی تک ٹامک ٹوٹیاں مار رہے ہیں۔
میں ایک دو بار پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ موٹروے پولیس بھی تو اسی ملک میں ہے مگر اس کے بارے میں بالعموم کوئی شکایت سننے میں نہیں آتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موٹروے پر حکمرانوں‘ مہربانوں اور دیگر شعبوں سے منسلک بڑی بڑی شخصیات کی طرف سے بالعموم کوئی مداخلت نہیں کی جاتی۔ ان شخصیات کی بڑی بڑی گاڑیاں بھی اگر ٹریفک قوانین‘ حد رفتار کی خلاف ورزی کرتی ہیں تو ان کا بھی اسی طرح چالان ہوتا ہے جیسے ایک عام آدمی کا۔
جب ذوالفقار احمد چیمہ صاحب آئی جی موٹروے تھے تو ایک بار میں نے ان سے اسلام آباد میں پوچھا کہ موٹروے پولیس جیسا نیک نام ادارہ ایمانداری اور خوش اخلاقی جیسے اوصافِ حمیدہ برقرار رکھنے میں کیسے کامیاب ہے؟ چیمہ صاحب کا جواب تھا کہ کچھ تنخواہ میں اضافے اور مراعات کے علاوہ اعلیٰ معیار کی تربیت کا یہ ثمر ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ کئی ماہ کی تلاش کے بعد ہمیں موٹر وے ٹریننگ کالج کیلئے پولیس افسران میں سے گوہرِ مقصود ملا۔ موٹروے پولیس کی ذمہ داری ایک محدود نوعیت کی ہے اور اس کی عمدہ خدمات سے حکمرانوں کو مفت میں نیک نامی مل جاتی ہے۔ مگر ہماری حکومتیں صوبائی پولیس کو اس معیار کی تربیت دینے پر آمادہ ہوں گی اور نہ ہی انہیں خود مختاری اور عدم مداخلت کی گارنٹی دینے پر رضامند ہوں گی۔ سبب اس کا یہ ہے کہ حکمرانوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کیلئے ان سے کئی ماورائے قانون کام بھی لینے ہوتے ہیں۔
اگر اعلیٰ تربیت سے پاکستانی فوج دنیا کی بہترین فوج کا مرتبہ حاصل کر سکتی ہے۔ اسی طرح عمدہ ٹریننگ سے ہماری موٹر وے پولیس مثالی بن سکتی ہے۔ تو ایسے ہی زیورِ تعلیم و تربیت سے آراستہ ہو کر ہر صوبے کی پولیس بھی خادمِ عوام بن سکتی ہے۔ مگر اس کیلئے ہمارے حکمرانوں‘ سیاستدانوں اور مہربانوں کو ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی یقینی بنانا ہو گی۔ جس روز ہمارے حکمرانوں نے اپنا مائنڈ سیٹ بدل لیا اسی روز پولیس کا مائنڈ سیٹ اور کلچر بھی بدل جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں