جماعت اسلامی بنگلہ دیش …انتخابی کامیابی

جوں جوں بنگلہ دیش سے 12فروری کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی کی کامیابی کی خبریں آنے لگیں توں توں ملکِ عزیز کے چند دانشوروں کی نیندیں اڑتی جا رہی تھیں۔ یہ اکا دکا دانشور ماضی میں زندہ رہنے اور خلطِ مبحث کے دلدادہ ہیں۔ یہ مستقبل اور حال کی نئی لہروں سے بے خبر ہیں۔ تین چار روز قبل ایک معاصر میں اپنے تئیں بہت بڑے دانشور ہونے کے دعویدار ہمارے ایک مہربان نے ''جماعت اسلامی کا فہمِ جمہوریت‘‘ کے عنوان سے ایک کالم لکھا۔ متحدہ پاکستان ہو یا موجودہ پاکستان یا بنگلہ دیش‘ جماعت اسلامی نے گزشتہ 78 برس کے دوران جہاں سردارِ اسلام کا علم سر بلند رکھا وہاں جمہوریت کے پرچم کو بھی اپنے سینے سے لگایا اور اسے ملک کے تمام دکھوں کا مداوا قرار دیا اور اس پر ایک روز کیلئے بھی کمپرومائز نہیں کیا۔
جماعت اسلامی کا فہمِ جمہوریت بڑا واضح ہے جب جنرل ایوب خان نے مولانا مودودیؒ سے کہا تھا کہ مولانا آپ سیاست اور جمہوریت کے گندے کام کو چھوڑیں تو مولانا کا دو ٹوک جواب تھا کہ سیاست دین ہی کا تو کام ہے اور جمہوریت کے راستے سے ہی پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔ آج مولانا مودودیؒ کے اسی وژن کا ثمر ہے کہ بنگلہ دیش میں 12فروری 2026ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی کو بی این پی کے بعد دوسری بڑی پارٹی کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ غیرسرکاری نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اتحاد نے 297 سیٹوں پر ہونیوالے انتخابات میں 212 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ جماعت اسلامی اتحاد کو77 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔اگرچہ بنگلہ دیش میں بھی پا کستان کی طرح بعض سیٹوں پر‘ کہ جہاں جماعت اسلامی اور بی این پی کے درمیان بڑے تھوڑے سے مارجن کے ساتھ مقابلہ جاری تھا‘ وہاں ووٹوں کی گنتی والا سسٹم کچھ وقت کیلئے سست رفتاری کا شکار ہوا‘ تاہم عالمی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات وہاں کی 31 سالہ تاریخ کے پُرامن ترین انتخابات تھے۔ حسینہ واجد کے دور میں ہر انتخاب کے موقع پر قتل و غارت گری ہوتی تھی۔ یہ بنگلہ دیش کی منتقم اور انتہائی ظالم اور بدترین آمرانہ مزاج رکھنے والی وزیراعظم حسینہ واجد کے 14 سالہ استبدادی دورِ حکومت کے بعد پہلے عام انتخابات تھے۔ اس 14 سالہ فاشسٹ زمانۂ اقتدار میں شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی حسینہ واجد نے مقتدرہ‘ عدلیہ‘ دیگر سکیورٹی فورسز اور بھارت کی اشیر باد کے ساتھ اپنی من مانی کرنے‘ سیاسی مخالفین کو تختۂ دار پر لٹکانے‘ اس دوران ہونے والے تینوں بالخصوص 2024ء کے انتخابات میں جنوبی ایشیا کی تاریخ کی بدترین دھاندلی کی۔ لوگوں کی زباں بندی کر دی گئی‘ جماعت اسلامی جیسی کلمۂ حق بلند کرنے والی جماعت پر کئی برس سے پابندیاں عائد تھیں۔ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو پسِ دیوارِ زنداں بھیج دیا گیا جہاں ان کی صحت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ 2013ء سے 2016ء تک حسینہ واجد نے جھوٹے مقدمات میں جماعت اسلامی کی پانچ بڑی شخصیات کو سزائے موت دی جن میں ہر دلعزیز امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور سابق وزیر جناب مطیع الرحمن نظامی بھی شامل تھے۔
قارئین کو یاد دلا دوں کہ ہیومن رائٹس واچ جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی کی 2024ء میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین بنگلہ دیشی انتخابات میں آزادانہ اور منصفانہ پولنگ نہیں ہوئی۔ ہیومن رائٹس کی ڈائریکٹر آبزرویشن کے مطابق بنگلہ دیش میں جمہوریت نہیں آمریت تھی۔ حسینہ واجد کے دور میں وہاں بدترین آمریت کے ساتھ ساتھ بدعنوانی و رشوت ستانی کا دور دورہ تھا۔ 16جولائی 2024ء کی ایک عالمی رپورٹ کے مطابق اس دور کی بنگلہ دیشی وزیراعظم کے ایک چپڑاسی کے اکاؤنٹ سے 400 کروڑ نکلے تھے۔ 2024ء کے الیکشن سے قبل بی این پی اور جماعت اسلامی کو کالعدم قرار دے کر 20 ہزار کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ حسینہ واجد کے دورِ حکومت کے چودہ برس کے دوران جیلوں اور پھانسیوں کے علاوہ 80ہزار افراد کو لاپتا کر دیا گیا‘ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق اپوزیشن جماعتوں سے تھا۔جب 2024ء میں ظلم حد سے بڑھ گیا تو بنگلہ دیش کے نوجوان حسینہ واجد کی ظالمانہ و غاصبانہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے جون اور جولائی 2024ء میں آمریت سے آزادی اور بدعنوانی سے نجات کیلئے زبردست تحریک چلائی۔ بنگلہ دیش کی اس فاشسٹ حکومت نے اپنا تسلط برقرار رکھنے کیلئے مراعات یافتہ سکیورٹی فورسز کے ذریعے 1400 نوجوانوں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ پھر وہی ہوا جو تاریخ میں بارہا ایسی فاشسٹ حکومتوں کے ساتھ ہوتا رہا۔ حسینہ واجد کا بھی وہی حشر ہوا۔ وہ ایک ہیلی کاپٹر پر پانچ اگست 2024ء کو بھارت کی طرف فرار ہو گئی تھیں۔
بنگلہ دیش میں 12فروری 2026ء کو ہونے والے پُرامن اور بڑی حد تک دھاندلی سے پاک انتخابات کا پیغام یہ ہے کہ نصف صدی کی خونیں تاریخ سے بنگلہ دیش نے من حیث القوم بہت بڑا سبق سیکھا ہے۔ لگتا ہے کہ سیاستدانوں‘ مقتدرہ‘ عدلیہ اور سول سوسائٹی‘ سب نے متفقہ اور متحدہ فیصلہ کیا ہے کہ اب انہیں جمہوریت اور صرف جمہوریت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ آمریت کو قریب نہیں پھٹکنے دینا۔ عدل و انصاف کا بول بالا کرنا ہے اور بدعنوانی سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔ ہمیں یہ لگتا ہے کہ اب بنگلہ دیش کی اسٹیبلشمنٹ نے بھی عوام کے جمہوری فیصلے پر سرنگوں کر دیا ہے۔یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ بی این پی کے موجودہ سربراہ طارق الرحمن‘ جو جنرل ضیا الرحمن اور خالدہ ضیا کے صاحبزادے ہیں‘ خود دو نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن بھی ڈھاکہ سے اپنی سیٹ جیت گئے ہیں۔ بی این پی اور جماعت اسلامی ماضی کی حلیف جماعتیں ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان جماعتوں کے اندر بالغ نظری موجود ہے۔ بی این پی کے سربراہ طارق الرحمن نے لندن کی جمہوری فضا میں دو دہائیوں سے زیادہ وقت گزارا ہے۔ توقع کی جا تی ہے کہ وہ دو تہائی اکثریت لیکر بھی اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ کرپشن سے مکمل نجات کیلئے اُجلے کردار اور بے داغ دامن کی شہرت رکھنے والی جماعت کے ویژن اور تعاون سے استفادہ کرینگے۔ بنگلہ دیش کے آمرانہ پامال راستوں کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہہ دیں گے۔ اس تاریخی موقع پر بنگلہ دیش کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر یونس اور وہاں کے آرمی چیف جنرل وقار الزماں سب سے زیادہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ان دونوں شخصیات نے انتخاب کو پُرامن بنایا۔
بنگلہ دیش میں الیکشن کے ساتھ ساتھ ایک ریفرنڈم بھی ہوا ہے۔ اس ریفرنڈم میں صرف ''ہاں‘‘ یا ''ناں‘‘ میں جواب دینا تھا۔ یہ ریفرنڈم بنگلہ دیش میں سیاسی استحکام لانے کیلئے کرایا گیا ہے۔ ریفرنڈم میں سیاسی اصلاحات کے ایجنڈے میں شامل ایک نکتہ یہ تھا کہ کوئی وزیراعظم دو بار سے زیادہ انتخاب میں شرکت نہیں کر سکے گا۔ بنگلہ دیش میں اس وقت صرف ایک منتخب ایوان ہے‘ اصلاحات میں ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے قیام کی تجویز بھی رکھی گئی ہے۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ مکمل طور پر آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن قائم کیا جائے جس پر ملک کا کوئی بڑے سے بڑا ادارہ بھی اثر انداز نہ ہو سکے۔ بنگلہ دیش کو ایک اسلامی فلاحی و جمہوری ریاست بنانے کیلئے وہاں جتنی قربانی جماعت اسلامی نے دی اتنی کسی اور جماعت نے نہیں دی۔ یہ وہ جماعت ہے کہ جس کے نمائندوں‘ عہدیداروں اور وزیروں تک نے کبھی ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی۔ بنگلہ دیش کے عوام دل و جان سے جماعت کی ان صفات کے قدر دان ہیں۔ 1971ء کی انتہائی تلخ یادوں کو ہمارے بنگالی بھائیوں نے بڑی حد تک بھلا دیا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش دو الگ ملک مگر ایک قوم ہیں۔ یوں کہیے یک جان دو قالب۔
پاکستان کے برعکس جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو اتنی بڑی کامیابی کیسے ملی۔ وہاں اور یہاں کی جماعت اسلامی کا موازنہ اگلے کالم میں پیش کریں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں