صلوٰۃ التسبیح گناہوں کی معافی کا عظیم تحفہ

تحریر : مولانا رضوان اللہ پشاوری


ایک بہت اہم اور عظیم نماز جس کی احادیث میں بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں، وہ ’’صلوٰۃ التسبیح‘‘ہے۔ اس نماز کی ادائیگی میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگتا ہے لیکن فضائل اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر پورا دن بھی لگ جائے تو زیادہ نہیں۔

 اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اِس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا : ’’صلوٰۃ التسبیح اگر ممکن ہوتو روزانہ ایک دفعہ پڑھو، اگر یہ نہیں کر سکتے تو ہر جمعہ میں ایک مرتبہ پڑھو، اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو ہر مہینے میں ایک دفعہ پڑھو، اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو سال میں ایک مرتبہ پڑھو اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو اپنی پوری زندگی میں ہی ایک دفعہ پڑھو(ابودائود، ابن ماجہ)۔ 

صلوٰۃ التسبیح کی برکت سے اللہ تعالیٰ بکثرت گناہ معاف کرتے ہیں، احادیث میں اِس کثرت کی کئی مثالیں ذکر کی گئی ہیں۔حضرت عکرمہ ؓ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓکا قول نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺنے ایک مرتبہ اپنے چچا حضرت عباس ؓسے فرمایا’’ اے عباس میرے چچا میں تمہیں ایک عطیہ کروں ،ایک بخشش کروں ،ایک خاص چیز بتاوں، تمہیں دس چیزوں کا مالک بناؤں، جب تم اس کام کو کرو گے تو اللہ جل شانہ تمہارے سب گناہ پہلے اور پچھلے پرانے اور نئے ،غلطی سے کئے ہوئے اور جان بوجھ کر کئے ہوئے، چھوٹے اور بڑے،چھپ کر کئے ہو یا کھلم کھلا کئے ہو، سب ہی معاف فرما دیں گے، وہ کام یہ ہے کہ چار رکعت نفل صلوٰۃ التسبیح کی نیت باندھ کر پڑھ اور پھر با قی نماز کا طریقہ سکھایا۔

طبرانی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ’’ اگر تیرے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں یا ریت کے ذرات کے برابر ہوں تو اللہ تعالیٰ سب کو معاف کر دے گا (طبرانی: 987)۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ وہ نماز ہے، جس کے پڑھنے کی برکت سے دس قسم کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ اگلے گناہ،پچھلے گناہ، قدیم گناہ، جدید گناہ،  غلطی سے کیے ہوئے گناہ، جان بوجھ کر کیے ہوئے گناہ، صغیرہ گناہ، کبیرہ گناہ، چھپ کر کیے ہوئے گناہ، کھلم کھلا کیے ہوئے گناہ(ابودائود:1297)۔

ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ ا گر تم ساری دنیا کے لوگوں سے بھی زیادہ گناہ گار ہو تو معاف ہو جائیں گے (ابودائود: 1298)۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تمہارے گناہ ریت سے بھی زیادہ ہوں تو اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کردیں گے‘‘(ابن ماجہ : 1386)۔

صلوٰۃ التسبیح : اَسلاف کے اقوال

حضرت عبد العزیز بن ابی روّادؒ جو حضرت عبداللہ بن مُبارک ؒ کے استاد ہیں فرماتے ہیں: جس کا جنت میں جانے کا ارادہ ہو اُس کیلئے ضروری ہے کہ صلوٰۃ التسبیح کو مضبوطی سے پکڑے۔ 

حضرت ابو عثمان حیری ؒجوکہ ایک بڑے زاہد ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے مصیبتوں اور غموں کے ازالے کیلئے صلوٰۃالتسبیح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔(فضائل ذکر) 

علّامہ تقی الدین سبکیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص اِس نمازکی فضیلت و اہمیت کو سُن کر بھی غفلت اختیار کرے، وہ دین کے بارے میں سستی کرنے والا ہے، صلحاء کے کاموں سے دور ہے، اس کو پکا (یعنی دین میں چست)آدمی نہ سمجھنا چاہیے۔(فضائل ذکر) 

صلوٰۃ تسبیح پڑھنے کا طریقہ

اس نماز کے پڑھنے کا طریقہ جو حضرت عبداللّٰہ بن مبارک سے ترمذی شریف میں مذکور ہے یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد ثنا یعنی سبحانک اللھم پڑھے پھر کلمات تسبیح یعنی سُبحَانَ اللّٰہِ وَاَلحَمدُ للّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکبَر پندرہ مرتبہ پڑھے پھر حسب دستور اعوذ باللّٰہ و بسم اللّٰہ و الحمد شریف اور سورۃ پڑھے پھر قیام میں ہی یعنی سورۃ کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے وہی کلمات تسبیح دس مرتبہ پڑھے۔ رکوع کرے اور رکوع کی تسبیح کے بعد وہی کلمات دس بار کہے، پھر رکوع سے اٹھ کر قومہ میں دس بار اور دونوں سجدوں میں سجدے کی تسبیح کے بعد دس دس بار اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی حالت میں یعنی جلسہ میں دس بار وہی کلماتِ تسبیح کہے۔ اس طرح ہر رکعت میں الحمد سے پہلے پندرہ مرتبہ اور سورۃ ملانے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے قیام ہی میں دس مرتبہ اور رکوع و قومہ اور دونوں سجدوں میں اور دونوں سجدوں کے درمیانی جلسے میں دس دس بار وہی کلمات کہے اس طرح ہر رکعت میں پچھتر مرتبہ اور چار رکعتوں میں تین سو مرتبہ یہ کلماتِ تسبیح ہو جائیں۔ اگر ان کلمات کے بعد وَلَا حُولَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ العَلِیَّ العَظِیمِ بھی ملا لے تو بہتر ہے، کیونکہ اس سے بہت ثواب ملتا ہے اور ایک روایت میں یہ الفاظ زیادہ آئے بھی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء : سورۂ انبیا میں فرمایاگیا ہے: لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا اور وہ غفلت کا شکار ہیں، دین کی باتوں سے رو گردانی کر رہے ہیں اور جب بھی نصیحت کی کوئی نئی بات ان کے پاس آتی ہے تو توجہ سے نہیں سنتے‘ بس کھیل تماشے کے انداز سے سنتے ہیں اور نبی کریم کو اپنے جیسا بشر قرار دیتے ہیں‘ قرآن کو جادو‘ خوابِ پریشاں‘ شاعری اور خود ساختہ کلام قرار دیتے ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء :سترہویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیاء سے ہوتا ہے۔ سورۂ انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ لوگوں کے حساب و کتاب کا وقت آن پہنچا ہے لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔

اعتکاف قرب الٰہی کا سنہری موقع

اعتکاف کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے(بیہقی) ’’جو شخص اللہ کی رضا کیلئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کر دیتا ہے، ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے‘‘ (طبرانی، بیہقی)

مسائل اور ان کا حل

تکبیر تحریمہ کے بعد مقتدیوں کا پیچھے بیٹھے رہنا سوال:۔ جب حافظ صاحب تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز تراویح شروع کر دیتے ہیں، تو عموماً مساجد میں دیکھا جاتا ہے کہ کچھ لوگ بلا عذر پیچھے بیٹھے رہتے ہیں اور جب حافظ صاحب رکوع میں جاتے ہیں تو فوراً کھڑے ہو کر رکوع میں شامل ہو جاتے ہیں، ان لوگوں کا یہ عمل شرعاً کیسا ہے؟

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

واقعہ موسیٰ علیہ السلام:سولہویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السّلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں، اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں کر پائیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

موسیٰ و خضر علیہ السلام:سولہویں پارے کا آغاز بھی سورۃ الکہف سے ہوتا ہے۔ پندرھویں پارے کے آخر میں جناب ِموسیٰ علیہ السّلام کی جنابِ خضر علیہ السّلام سے ملاقات کا ذکر ہوا تھا‘ جنابِ موسیٰ علیہ السّلام حضرت خضر علیہ السّلام کی جانب سے کشتی میں سوراخ کرنے اور پھر ایک بچے کو قتل کر دینے کے عمل پر بالکل مطمئن نہ تھے۔