موسم گرما گھر کی سیٹنگ، صحت اور جلد کی حفاظت

تحریر : اُم فرویٰ


ہمارے ملک میں گرمیوں کا موسم سخت اور طویل ہوتا ہے خاص طور پر مئی سے اگست تک درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے گھریلو ماحول کو بہتر بنائیں بلکہ اپنی صحت اور جلد کی مناسب دیکھ بھال بھی کریں۔ گرمیوں میں متوازن، صحت مند اور آرام دہ طرزِ زندگی اپنانے کے لیے یہ تجاویز اور مشورے مفید ہو ثابت ہو سکتے ہیں ۔

گھر کی سیٹنگ

گرمیوں میں گھر کو ٹھنڈا رکھنا ایک چیلنج ہوتا ہے لیکن چند سادہ تبدیلیاں ماحول کو خوشگوار بنا سکتی ہیں جیسا کہ ہوا کی آمدورفت،ہلکے رنگوں کے پردوں اور بلائنڈز کا استعمال،اندرون خانہ اور بیرون خانہ موسمی پودے۔سب سے اہم یہ ہے کہ گھر کی کھڑکیاں صبح اور شام کے وقت کھلی رکھیں تاکہ تازہ ہوا اندر آ سکے۔ اگر ممکن ہو تو کراس وینٹیلیشن کا انتظام کریں اس سے گھر کے اندر کے ٹمپریچر میں نمایاں کمی آئے گی۔پردے، بیڈ شیٹس اور صوفہ کور کے لیے ہلکے رنگوں کا استعمال کریں جیسے سفید، ہلکا سبز یا نیلا۔ یہ رنگ نہ صرف آنکھوں کو ٹھنڈک دیتے ہیں بلکہ گرمی کو بھی کم جذب کرتے ہیں۔دوپہر کے وقت سورج کی تیز روشنی کو روکنے کے لیے موٹے پردے یا بلائنڈز استعمال کریں تاکہ کمرہ گرم نہ ہو۔ گھر کے اندر یا بالکونی میں پودے رکھنے سے ماحول خوشگوار اور قدرے ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ یہ نہ صرف خوبصورتی بڑھاتے ہیں بلکہ ذہنی سکون بھی فراہم کرتے ہیں۔

برقی آلات کا محتاط استعمال:غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات بند رکھیں کیونکہ یہ گرمی پیدا کرتے ہیں۔ ایل ای ڈی بلب استعمال کریں جو کم حرارت خارج کرتے ہیں۔

 گرمی سے بچاؤ ضروری:گرمیوں میں صحت کے مسائل جیسے ڈی ہائیڈریشن، ہیٹ سٹروک اور کمزوری کا احساس عام مسائل ہیں اس لیے احتیاط بہت ضروری ہے۔

پانی کا زیادہ استعمال:دن بھر میں کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی ضرور پئیں۔ لیموں پانی، ستو، ناریل کا پانی اور تازہ جوس کا استعمال اس موسم میں صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو گا۔

متوازن غذا:ہلکی اور جلد ہضم ہونے والی غذا کا انتخاب کریں۔ سبزیاں، پھل، دہی اور سلاد کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔ تلی ہوئی اور مصالحے دار اشیاسے پرہیز کریں۔

گرمی سے بچاؤ:دوپہر 12 بجے سے 4 بجے تک سورج کی شدت سب سے زیادہ ہوتی ہے اس دوران باہر جانے سے حتیٰ الامکان بچیں۔اگر ضرور نکلنا ہو تو چھتری ‘ کیپ ، ہیٹ یا دھوپ سے بچاؤ کا کوئی اور ذریعہ استعمال کریں۔ 

ڈھیلے اور سوتی کپڑے:گرمیوں میں کاٹن کے ہلکے کپڑے پہننا فائدہ مند ہے جو پسینہ جذب کریں اور جسم کو ٹھنڈا رکھیں۔

مناسب آرام:گرمی میں تھکن زیادہ محسوس ہوتی ہے اس لیے دن میں تھوڑا آرام کرنا جسم کے لیے مفید ہے۔

 جلد کی حفاظت:گرمیوں میں جلد کو سورج کی تیز شعاعوں، پسینے اور آلودگی سے نقصان پہنچ سکتا ہے اس لیے اس کی خاص دیکھ بھال ضروری ہے۔باہر نکلنے سے پہلے کم از کم SPF 30 سن سکرین لازمی لگائیں، چاہے موسم ابر آلود ہی کیوں نہ ہو۔

چہرے کی صفائی:دن میں دو سے تین بار ہلکے فیس واش سے چہرہ دھوئیں تاکہ پسینہ اور میل صاف ہو سکے۔

موئسچرائزر کا استعمال:گرمیوں میں بھی جلد کو نمی کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ہلکا موئسچرائزر استعمال کریں۔

قدرتی ٹوٹکے:گھر میں موجود اشیاجیسے ایلوویرا، کھیرے کا رس اور عرقِ گلاب جلد کو ٹھنڈک اور تازگی دیتے ہیں۔

میک اپ کم رکھیں:گرمیوں میں ہلکا میک اپ کریں تاکہ جلد سانس لے سکے اور پسینے کی وجہ سے مسائل پیدا نہ ہوں۔

گھر کے کاموں کی منصوبہ بندی

مشکل اور زیادہ محنت طلب کام صبح یا شام کے وقت انجام دیں تاکہ گرمی کی شدت سے بچا جا سکے۔

 یاد رکھیں گرمی صرف جسم ہی نہیں بلکہ ذہن پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اس لیے ذہنی سکون کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔کتابیں پڑھیں، ہلکی ورزش کریں یا عبادت اور دعا کریں تاکہ ذہن پُرسکون رہے۔پرسکون اور مکمل نیند جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بہت ضروری ہے، اس لیے سونے کا باقاعدہ معمول بنائیں۔گرمیوں کا موسم اگرچہ مشکل ہوتا ہے لیکن مناسب احتیاط اور بہتر طرزِ زندگی اپنا کر اسے خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔ گھر کی مناسب سیٹنگ، متوازن غذا، وافر پانی کا استعمال اور جلد کی درست دیکھ بھال ہمیں نہ صرف صحت مند رکھتی ہے بلکہ خوبصورتی کو بھی برقرار رکھتی ہے۔ تھوڑی سی توجہ اور منصوبہ بندی آپ کو اس سخت موسم میں بھی تروتازہ اور پرجوش رکھ سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

ڈیجیٹل دور، سوشل میڈیا اور خواتین آن لائن ہراسگی سے کیسے بچیں ؟

موجودہ ڈیجیٹل دور نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اس تبدیلی میں خواتین کا کردار نہایت اہم اور نمایاں ہے۔ پاکستان میں بھی خواتین تیزی سے ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بن رہی ہیں۔

آج کا پکوان: تربوز کا شربت

تربوز کا شربت بہت مزیدار، ٹھنڈا اور تازگی بخش مشروب ہے۔ اسے گھر میں آسانی سے بنایا جا سکتا ہے۔

آغا حشر کاشمیری اُردو کے بلند پایہ ڈرامہ نگار

اُردوکے شیکسپیئر کی آ ج91ویں برسی: یوں تو اور بھی اچھے اچھے ڈراماٹسٹ موجود تھے، احسن، بیتاب، طالب، مائل سب کے سب ناٹک کی لنکا کے باون گزے تھے لیکن آغا کے سامنے بونے معلوم ہوتے تھے اور سچ تو یہ ہے کہ آغا سے پہلے اس فن کی قدر بھی کیا تھی، بچارے ڈراماٹسٹ تھیٹر کے منشی کہلاتے تھے

کلامِ غالب کی معنویت

مرزا غالب کی شاعری کو صدی دو صدی بعد کے زمانے سے ہم آہنگ کر کے دیکھنے کی گنجائش یوں بھی پیدا ہو گئی ہے کہ گزشتہ برسوں میں شرح اور تعبیر کے نظریات میں بھی معنی کے اکہرے پن اور قطعیت سے انکار کا رجحان زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔

پاکستان سپرلیگ11 :زلمی کاراج، ریکارڈزکی برسات

پی ایس ایل 11 کے لاہور میں کھیلے جانے والے فائنل میں شائقین کو شرکت کی اجازت دے دی گئی:پشاور زلمی کے کوشل مینڈس اس وقت بیٹنگ چارٹ پر راج کر رہے ہیں اور’’گرین کیپ‘‘اپنے نام کر رکھی ہے

فیفا ورلڈ کپ2026:ایران کی شرکت اور عالمی فٹ بال کا نیا نقشہ

فٹ بال کا میگا ایونٹ11 جون سے 19 جولائی تک کھیلا جائے گا:امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد ایران نے ورلڈکپ بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی تاہم اب ایران کی شرکت کے حوالے سے بے یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں