7ویں برسی:ڈاکٹر جمیل جالبی عظیم محقق،ادیب اور نقاد
علمی خدمات کا درخشاں باب، فکر و تحقیق کا معتبر حوالہ:انہیں ’’ تاریخ ادب اردو ‘‘لکھنے کا خیال5 196 ء کے آس پاس آیا تھا۔ اس کی پہلی جلد 1975ئمیں شائع ہوئی اس میں قدیم دور آغاز سے 1750ء تک کی داستان قلم بند ہے‘
سوانحی خاکہ
جمیل جالبی1929ء کو ادبی گہوارے علی گڑھ میں پیدا ہوئے ۔والدین نے نام جمیل خان رکھا مگر انہوں نے اپنے نام کے آگے جالبی خود لگالیا کیونکہ سید جالب دہلوی سے بے حد متاثر تھے۔ جالب صاحب بڑے صحافی تھے ان کے دو اخبار’’ہمت‘‘اور ’’ہمدم‘‘ نکلتے تھے۔
تعلیم: ابتدائی تعلیم علی گڑھ میں حاصل کرنے کے بعد سہارن پور سے میٹرک اور میرٹھ سے بی اے کیا۔ 1947ء میں ترکِ وطن کرکے کراچی آ گئے۔ کراچی سے اُردو اور انگریزی میں ایم اے کیا۔ پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ کی ڈگری بھی حاصل کی۔ انہیں اعزازی ڈگری ڈی ایس سی سے بھی نوازا گیا۔
ملازمت: تعلیمی سلسلہ تھما توانکم ٹیکس کمشنر کے عہدے پر فائز ہوگئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر ہوئے اوراس عہدے پر 1973ء سے 1987ء تک فائز رہے۔اسی سال مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین کے منصب پر فائز ہوگئے۔
اعزازات: ان کی تصانیف پر دائود ادبی انعام سے چار بار نوازا گیا۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی گولڈ میڈل، محمد طفیل ادبی ایوارڈ اور ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
وفات: 18 اپریل 2019ء کو 89 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے۔
ڈاکٹر جمیل جالبی ادب کی دنیا میں کئی حیثیتوں سے جانے جاتے ہیں۔وہ معروف اردو محقق، نقاد اور ماہرِ لسانیات تھے ۔ انہوں نے تاریخِ ادبِ اُردو جیسی اہم کتب لکھیں اور ادبی دنیا میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ادب کے سارے تقاضوں کو انہوں نے بخوبی نبھایا۔ڈاکٹر جمیل جالبی کو ’’ تاریخ ادب اردو ‘‘لکھنے کا خیال 1965ء کے آس پاس آیا اور اس کی پہلی جلد 1975ء میں شائع ہو کر سامنے آئی۔ اس میں قدیم دور سے 1750ء تک کی داستان قلم بند ہے۔ یہ چھ فصلوں میں تقسیم کی گئی ہے۔ ہر فصل میں کئی ابواب ہیں ہر فصل کی یہ خاصیت ہے کہ اس کے پہلے باب میں اس زمانے کی تہذیبی، معاشرتی، ادبی اور لسانی خصوصیات کو بیان کیا گیا ہے اس کے بعد اس کے شعرا اور ادیبوں کی تخلیقات پر بحث کی گئی ہے۔پہلی فصل میں تین ابواب ہیں مسعود سعد سلمان سے گرونانک تک کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ آگے بابر سے شاہجہاں تک کا زمانہ دیا گیا ہے۔ اس زمانے میں افضل پانی پتی کی مشہور تصنیف ’’کٹ کہانی‘‘ کا تفصیلی ذکر ہے۔فصل دوم میں گجری ادب اور اس کی روایت ہے۔ اس میں چار ابواب دیئے گئے ہیں۔ فصل سوم میں ’’اردو بہمنی‘‘ دور ہے، اس میں دو باب پیش کئے گئے ہیں۔ فصل چہارم میں ڈاکٹر جمیل جالبی نے عادل شاہی دور پر تبصرہ پیش کیا ہے اس میں آٹھ ابواب دیئے گئے ہیں۔فصل پنجم قطب شاہی دور ہے۔ فصل ششم ’’فارسی روایت کا نیا عروج ریختہ‘‘ ہے۔ اس میں دو باب ہیں۔ اس کے بعد کتاب کے آخر میں ایک اختتامیہ ہے جس میں اردو زبان کی اہمیت اور تاریخ بتائی گئی ہے۔تاریخ ادب اردو اٹھارویں صدی جلد دوم حصہ اول 1982ء میں شائع ہوئی۔
ڈاکٹر جمیل جالبی کی شخصی تربیت کی بات کی جائے تو1947ء میں تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان آ ئے۔ تعلیم کے زمانے میں جن استادوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ان میں پہلا نام مولوی فیض الحسن کا ہے جنہوں نے ان کے اندر ادبی ذوق پیدا کیا۔ ہائی سکول میں ہی ان کے اندر تخلیقی صلاحیت پیدا ہوچکی تھی۔ سائنس سے انہیں کبھی دلچسپی نہیں رہی ،ان کا رجحان شعر و شاعری کی طرف تھا۔ اسی سلسلے میں ایک واقعہ ہے جب وہ نویں جماعت میں آئے تو ان کے والد نے سائنس کے مضامین رکھوائے۔ جمیل نے خاموشی سے میٹرک سائنس سے پاس کر لیا مگر جب وہ کالج میں پہنچے تو ان کے والد نے پھر سائنس میں داخلہ دلوایا جمیل جالبی نے داخلہ تو لے لیا مگر دو مہینے بعد والد صاحب کو بغیر اطلاع کئے آرٹس میں داخلہ لے لیا۔ جب رزلٹ آیا تو والد صاحب بہت ناراض ہوئے مگر اب کیا تھا۔ جمیل جالبی ادب کی دنیا کو اپنا چکے تھے۔ وہ دن رات انگریزی اردو کے رسالے اور کتابیں پڑھتے تھے۔
خلیق انجم نے اپنے مضمون میں اُن کے کالج کے زمانے کا واقعہ لکھا ہے کہ جب ذرا شعور کی آنکھیں کھلیں اور ادبی ذوق نکھرنا شروع ہوا تو جمیل جالبی نے ’’ساقی‘‘، ’’نگار‘‘ اور ’’ ادبی دنیا‘‘ جیسے رسالے اپنے نام جاری کرا لئے۔ اب ان کی دلچسپی کے میدان کو وسعت مل گئی۔ کلاسیکی اور جدید ادب کا مطالعہ شروع ہو گیا۔مطالعے نے جنون کی صورت اختیار کرلی۔ ہر وقت مطالعے میں مصروف رہتے اگر ایک ساتھ دو تین چھٹیاں ہو جاتیں تو کتابوں کے ساتھ کمرے میں بند ہو جاتے۔ کالج کے طالب علموں نے اُن کا نام ’’ علامہ‘‘ رکھ دیا تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جب جالبی بی اے کر رہے تھے۔ ابتدائی دور میں انہیں سب سے زیادہ محمد حسن عسکری نے متاثر کیا۔یہ زمانہ ترقی پسند تحریک کا تھا۔ کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، اوپندر ناتھ اشک، منٹو، حیات اللہ انصاری، قرۃ العین حیدر، میراجی، ن م راشد، فیض احمد فیض اور اختر الایمان بے حد پسند تھے۔ مطالعہ کی دیوانگی اسی قدر بڑھی ہوئی تھی کہ کتابوں کی تلاش میں دوسرے شہروں تک ہو آتے تھے۔
جمیل جالبی صاحب کو لکھنے کا شوق کم عمری سے ہی تھا۔ ان کی پہلی تخلیق ’’ سکندر اور ڈاکو‘‘ کے عنوان سے ایک ڈرامہ تھا ۔ یہ انہوں نے گیارہ بارہ برس کی عمر میں لکھا تھا۔ ان کی کچھ تحریریں ماہنامہ عصمت میں چھپیں۔’’ بابائے صحافت میر جالب دہلوی‘‘ ان کا پہلا مضمون تھا جو 1974ء میں علی گڑھ میں شائع ہوا۔ پہلی کتاب ’’جانور ستان‘‘ تھی جو جارج آرول کے ناول’’ اینیمل فارم‘‘ کا اردو ترجمہ تھا۔ اس کے بعد تصانیف کا لا متناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ انور عالم صدیقی اپنے مضمون ’’ میرا ہم جماعت‘‘ میں لکھتے ہیں ’’ہمیں دو کتابوں کی تلاش تھی ایک ن م راشد کا مجموعہ ’’ ماورا‘‘ اور دوسری کرشن چندر کا ناول’’ شکست‘‘ ،ہم نے بہت تلاش کی، دوست احباب سے پوچھا مگر کوشش کے باوجود نہ مل سکیں۔ ایک دن جمیل کالج نہیں آئے، میں ان کے گھر گیا تو معلوم ہوا دہلی گئے ہیں۔ دوسرے دن اتوار تھا۔ پیر کو جب کالج آئے تو ’’ ماورا‘‘ اور ’’شکست‘‘ ان کے ہاتھ میں تھیں۔ انہوں نے دونوں کتابیں دور سے دکھائیں۔ چہرہ روحانی مسرت سے معمور تھا۔ پوچھنے پر بتایا کہ وہ سائیکل پر دہلی جا کر یہ کتابیں بیس فیصد کمیشن پر خرید کر لائے ہیں۔ جمیل نے بتایا کہ ماورا کادیباچہ کرشن چندر نے لکھا ہے اور کرشن چندر کا یہ دیباچہ سی ڈی لیوس کی کتاب ’’ اے ہوپ فور پوئٹری‘‘ سے ماخوذ ہے۔‘‘یہ زمانہ کرشن چندر کا تھا۔ ہر طرف ان کا طوطی بول رہا تھا۔ میرا جی کی نظمیں اور حسن عسکری کے افسانے نے سب کو پسند آ رہے تھے۔ طالب علموں پر ترقی پسند تحریک کا اثر تھا۔ آزاد نظم کا زبردست رواج تھا۔ اس وقت جمیل جالبی ان ادیبوں کو دن رات پڑھتے تھے۔ کراچی سے اخبار ’’ امروز‘‘ نکلا تو اس میں کام کرنے لگے لیکن جلد ہی اس کو چھوڑ دیا۔ اس کے بعد ہیڈ ماسٹر ہو گئے۔ یہ سکول کراچی کے بہترین سکولوں میں شمار ہونے لگا۔ اُسی زمانے میں ڈاکٹر جمیل جالبی نے دہلی کا یادگار مشاعرہ سٹیج کیا۔ اعجاز الحق قدوسی اپنے مضمون ’’پرخلوص دوست‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’ میں نے ان کا تعارف جوش صاحب سے کرایا، جوش صاحب ان سے مل کر بہت خوش ہوئے کہنے لگے ان کا نام کے ساتھ جالبی کی نسبت کیسی ہے، میں نے کہا کہ یہ سید جالب دہلوی کے نواسے ہیں اور اسی نسبت سے اپنے آپ کو جالبی کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پیشے کا انسان کی شخصیت پر گہرا اثر پڑتا ہے لیکن ڈاکٹر جمیل جالبی کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا جبکہ وہ تنقید اور تحقیق جیسا خشک کام کرتے تھے پھر بھی انکے چہرے پر کوئی تنائو نہیں کوئی سختی نہیں تھی۔
ملازمت کے باوجود مضامین بھی لکھتے رہے اور ترجمہ بھی کرتے رہے۔ ایلیٹ کے مضامین کا ترجمہ کیا۔ سجاد حسین کی کتاب حاجی بغلول ایڈیٹ کرکے چھپوائی اور جعفرزٹلی کے کلام کو جمع کیا۔
ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنے قلم سے بچوں کو بھی خوش کیا ہے۔ انہوں نے بچوں کیلئے’’ بیدکی کہانی‘‘، ’’بلیاں‘‘، ’’حضرت امیر خسرو‘‘، ’’چھن چھن چھن چھن‘‘، ’’عجیب واقعہ‘‘ اور’’ نئی گلستاں‘‘ جیسی کہانیاں لکھی ہیں۔ یہ عصمت اور ہونہار میں شائع ہوئیں۔’’فسانہ آزاد‘‘ کے مزاحیہ کردار’’خوجی‘‘ پر مبنی داستان’’ہونہار‘‘ میں قسط وار شائع کرائی۔ بچوں کی تربیت پر چند ایسے مضامین بھی لکھے جس سے علمی شوق پیدا ہوا اور ان میں آگے بڑھنے کی ترقی کرنے کی لگن جاگے۔انور عالم صدیقی لکھتے ہیں کہ ایک وقت آ یا کہ جمیل عسکری کے اثر سے آزاد ہو گئے۔ اس اثر سے نکل کر وہ ٹی ایس ایلیٹ کے اثر میں آ گئے۔ لندن گئے تو ان سے مل کر آئے۔ کہتے تھے کہ میں بھی اس انداز سے اردو میں لکھنا چاہتا ہوں۔ اس کا گُر انہوں نے تلاش کیا کہ ایلیٹ کے منتخب مضامین کا اردو میں اس طور پر ترجمہ کیا کہ ایلیٹ کے جملے کی ساخت اردو کے سانچے میں ڈھل جائے۔ ان ترجموں سے جہاں اردو کے تنقیدی سرمائے میں اضافہ ہوا وہاں ترجمے کے ذریعے نیا اسلوب اور طرز ادا کے مختلف طریقے اردو میں منتقل ہوئے۔
تصانیف و تالیفات
1 -ایلیٹ کے مضامین:1960ء
2-حاجی بغلول: منشی سجاد حسین: 1960 ء
3-پاکستانی کلچر: قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ: 1964ء
4-تنقید اور تجربہ(24تنقیدی مضامین کا مجموعہ):1967ء
5-دیوان حسن شوقی: 1971ء
6-مثنوی کدم رائو پدم رائو:1972ء
7-دیوان نصرتی: 1972ء
8-قدیم اردو کی لغت :1973ء
9-تاریخ ادب اردو جلد اول: 1975ء
10-ارسطو سے ایلیٹ تک :1975ء
11-محمد تقی میر: ایک مطالعہ:1981ء
12-تاریخ ادب اردو جلد دوم حصہ اول: 1982ء
13-تاریخ ادب اردو جلد دوم حصہ دوم: 1982ء
14-حیرت ناک کہانیاں :1983ء
15-نئی تنقید(32تنقیدی مضامین کا مجموعہ):1985ء
16-جانورستان( جارج آرول کے ناول’اینیمل فارم کا اردو ترجمہ):1985ء
17-بزم خوش نفساں( شاہد احمد دہلوی کے خاکوں کا مجموعہ):1985ء
18-حیرت ناک کہانیاں(سندھی):1985ء
19-ادب کلچر اور مسائل: 1986ء
20-ن م راشد ایک مطالعہ:1986ء