مجید امجد کی شاعری، پنجاب کے ثقافتی تناظرمیں

تحریر : نبیل احمد نبیل


مجیدامجد نے پنجابی زبان کے الفاظ کو اُردو نظم کے تخلیقی پیرائے میں اس طرح برتا ہے کہ جو پنجابی زبان سے نا واقف ہیں وہ پنجابی زبان کے مذکورہ الفاظ کو اُردو ہی کے کھاتے میں شمار کریں گے۔

 اُن کے قلم کی معجزہ کاری اور ان کی فکر کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اُردو زبان میں پنجابی زبان کے الفاظ کا استعمال کر کے نہ صرف اُردو کے کینوسں کو وسعت سے ہم کنار کیا بلکہ اُردو اور پنجابی کے قریبی رشتے اور امکانات کو بھی دریافت کیا ہے۔ یہ صرف مجید امجد ہی کا اختصاص ہے۔ وہ بعض دیگر شعرا کی طرح پنجابی یا علاقائی زبانوں کے الفاظ کو سطحی یا غیر تخلیقی انداز سے نہیں برتتے بلکہ ان کے تخلیقی مفاہیم کو دریافت کرتے ہیں اور ان میں تہ داری بھی پیدا کرتے ہیں۔ یہ وہی انداز اور طریق کار ہے جو ولی دکنی اور میر نے فارسی سے دامن چھڑا کر اُردو کے لیے اختیار کیا تھا۔ مجید امجد کے معاصرین کے یہاں یہ وصف خاص موجود نہیں ہے۔ وہ میرا جی ہوں یا ن م راشد، فیض احمد فیض ہوں یا دیگر شعرا، تمام کے تمام فارسی روایت سے وامن نہیں چھڑا سکے جبکہ مجید امجد کے قلم اور ذہن و فکر کا کمال یہ  ہے کہ وہ سنسکرت، پنجابی اور ہندی زبان کی لفظیات کو اس مہارت اور عمدگی سے تخلیقی پیرایہ اظہار عطا کرتے ہیں کہ مذکورہ زبانوں کے الفاظ اُردو میں اس طرح گھل مل جاتے ہیں جیسے گوشت اور ناخن۔ پنجابی کلچر ، پنجاب کی جغرافیائی حدود میں صدیوں کے سماجی تحاور (social interaction) اور انسانوں کے آپسی میل جول کے نتیجے میں زندگی گزارنے کے مخصوص طریق کارکی اہمیت کے سبب پیدا ہوا۔ اہل پنجاب کی انفرادی و اجتماعی سماجی کاوشوں کے نتیجے میں مذکورہ ثقافت نے صدیوں کے ربط و تعامل کے نتیجے میں جنم لیا۔

ان کی نظم’’ بندا ‘‘اگر چہ رومانوی فضا کی نظم ہے، اس نظم میں کھوئی ہوئی محبت کے آثار بھی ہیں مگر اس کا خمیر سارے کا سارا پنجاب کے کلچر میں گندھا ہوا ہے۔ جیسے سونے جاگنے کا معمول، بندا پہننے کا معمول، کانوں میں بندے کا پہننا یہاں کی معاشرتی اور تہذیبی روایت ہے۔بندے کے کھو جانے پر ملال اور مل جانے پر احساسِ تفاخر وغیرہ۔ بندادراصل پنجاب کا روایتی اور ثقافتی مظہر ہے۔ بنداپنجاب کی عورتیں پہنتی ہیں۔ مذکورہ نظم فی الاصل پنجاب کے کلچر کا منظر نامہ ہے۔ مجید امجد کی نظموں میں اُن کا طبقاتی و سماجی اور سیاسی شعور بھی کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ اُن کی ایک نظم میں معاشی و سیاسی جبریت کا شکار ایک بوڑھا جس کی عمر اسی بیاسی سال ہے لیکن وہ بیگار کرنے یہ مجبور ہے۔ مجید امجد روزمرہ کا موضوع لیتے ہیں مگر وہ موضوع عقب میں چلا جاتا ہے، جیسے حقہ، میراثی اور چودھری عقب میں چلے گئے ہیں اور وہ سامنے کے منظر نامے میں پوشیدہ گہرائی اور معنویت کو آشکار کرتے ہیں۔ نظم کے آغاز میں آنے والے کردار کہیں پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اس طرح شاعر نے سامنے کے منظر نامے سے ہویدا ہونے والی سماجی اور معاشی جبریت کو منطبق کر دیا ہے ایک ملک کی کہانی پر۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ شاعر نے معمولی چیزوں سے صرف ِنظر نہیں کیا بلکہ اس جبریت ، جکڑ بندی اور استحصالی نظام کے رشتوں کو پھیلا کر ایک ملک کی کہانی پر اس کا انطباق کیا ہے۔ نظم کے اختتامیے میں شاعر مایوسی کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اس کی آرزو ایک بہتر دنیا کے لیے جوان ہے، ایک ایسی دنیا جو جبریت ، گھٹن اور استحصالی رویوں سے پاک ہو، جہاں ہر طرف نیکی، انسان دوستی اور خیر کے پھول کھیلیں۔ استحصالی معاشرے میں کڑیل جوانوں کی محنت کا ثمر کوئی اور لے جاتا ہے، جس کا اس محنت میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔ یہ نظم شاعر کے اس شعور کی غمازی کرتی ہے جسے طبقاتی شعور کا نام دیا جاتا ہے۔ اس میں استحصال کی کیفیت ہے۔ نظم کے اختتام میں شاعر نا امید یا مایوسی کا شکار نہیں ہے بلکہ وہ پُر امید ہے اور اس نے امید کا چراغ روشن رکھا ہے۔ کڑیل جوان اور سماج کا محنت کش طبقہ دنیا کی آسائشوں کو ارادی یا غیر ارادی طور پر ترک نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے ایسے حالات بنا دیے جاتے ہیں، باوجود اس کے محنت کش محرومی اور بھوک کی آگ میں جل کر دوسروں کے لیے پھول کھلاتا ہے۔ یہ نظم در حقیقت محنت کی عظمت کے لیے ایک سپاس نامہ بھی ہے۔ اس نظم کے کردار تو عقب میں رہ جاتے ہیں مگر’’ کہانی ایک ملک کی ‘‘ کا وہ حصہ توجہ طلب ہے جس میں محنت کش کو ایک طرح کا خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔

 راج محل کے باہر، سوچ میں ڈوبے شہر اور گاؤں

 ہل کی انی، فولاد کے پنجے،

 گھومتے پہیے، کڑیل با ہیں

 کتنے لوگ کہ جن کی روحوں کو سندیسے بھیجیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عالمتاب تشنہ حسبِ حال کے شعور سے ہم آہنگ

ان کی شاعری کا خمیرکشمکشِ حیات اور کرب سے اٹھا:تشنہ ؔکے یہاں بکھرنے کا نہیں بلکہ سمٹ کر ایک اکائی بن جانے کا احساس ہوتا ہے‘ وہ ایک طرف روایت سے وابستہ نظر آتے ہیں اور دوسری طرف اسے جدید شعور میں ڈھالنے کی قوت بھی رکھتے ہیں:احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں کہ عالمتاب تشنہ نے ہجوم ِجمال میں شاعری کا آغاز کیا تھا‘ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ آغاز بہت مبارک ثابت ہوا کیونکہ ان کی شاعری پر اسی جمال کا پر تو ہے

خواتین کرکٹ کانیا عالمی ریکارڈ قائم

آئی سی سی ویمنز ٹی 20ورلڈ کپ 2026 ء:ٹکٹوں کی فروخت نے ایونٹ کو اب تک کا سب سے بڑا خواتین کا ورلڈ کپ ثابت کر دیا:ٹورنامنٹ کا باضابطہ آغاز 12جون کوبرمنگھم میں انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ہونے والے مقابلے سے ہوگا: پاکستان اپنے سفر کا آغاز 14 جون کو بھارت کے خلاف ایجبسٹن، برمنگھم میں ہونے والے مقابلے سے کرے گا

شاہینوں کا ہوم گرائونڈ پرنیا امتحان

آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان:کینگروز23مئی کو اسلام آباد پہنچیں گے، 3ایک روز میچ کھیلے جائیں گے:٭…پاکستان اور آسٹریلیا اب تک 111 ایک روزہ میچ کھیل چکے ہیں۔٭… 71 میچوں میں فتح کینگروز کا مقدر بنی، شاہینوں نے 36 جیتے۔ ٭…4 میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔

چھوٹی سی کوشش

سومی ہرنی اپنی پسندیدہ کتاب تھامے لالی بکری کے ساتھ جیسے ہی گھنے جنگل میں داخل ہوئی تو اسے دور سے مومو چڑا مٹی کھودتا ہوا دکھائی دیا۔

شکرادا کرنا!

اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنا انسان کا فرض ہی نہیں انسان کی عبادت میں بھی شامل ہے۔

افلاطون:جس کے مکالمات نے سقراط کو زندہ کر دیا

اگرچہ عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ افلاطون دنیا کا سب سے بڑا فلسفی تھا، لیکن اس نے جو مکالمات لکھے ہیں، ان میں وہ دوسروں کے اقوال نقل کرتا ہے۔