چھوٹی سی کوشش

تحریر : دانیال حسن چغتائی


سومی ہرنی اپنی پسندیدہ کتاب تھامے لالی بکری کے ساتھ جیسے ہی گھنے جنگل میں داخل ہوئی تو اسے دور سے مومو چڑا مٹی کھودتا ہوا دکھائی دیا۔

 سومی نے حیرت سے پوچھا: ارے مومو بھائی! یہ تم کیا کر رہے ہو؟ تمہارے ننھے پر تو مٹی سے بھر گئے ہیں۔

مومو نے سر اٹھایا اور چہچہاتے ہوئے جواب دیا: سومی شہزادی! میں یہاں پودا لگاؤں گا تاکہ جب یہ بڑا ہو جائے تو ہم سب اس کے گھنے سائے میں بیٹھ کر گپ شپ کریں۔ سومی کو مومو کی یہ عقلمندی بہت پسند آئی۔ اس نے سوچا کہ جنگل کا یہ حصہ تو بالکل ویران ہو چکا ہے، کیوں نہ ہم سب مل کر اسے دوبارہ ہرا بھرا بنائیں۔

سومی نے لالی بکری کی طرف دیکھا جو ہری جھاڑیاں چرنے میں مصروف تھی اور کہا: لالی! جلدی سے جاؤ اور جنگل کے تمام ساتھیوں کو بلا لاؤ۔

 لالی تیزی سے دوڑی اور کچھ ہی دیر میں گجراج ہاتھی، زیبرو اور زرفو زرافے کو ساتھ لے آئی۔ تب تک سومی اور مومو مل کر پیپل کا چھوٹا سا پودا زمین میں گاڑ چکے تھے۔ سومی! سب خیریت تو ہے؟ تم نے ہمیں اس طرح اچانک کیوں بلوایا؟ زیبرو نے زمین پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔

 سومی نے مسکرا کر کہا: سب ٹھیک ہے، بس تم سب کیلئے ایک بہت ضروری کام ہے۔ اتنے میں زرفو زرافے کی نظر مومو پر پڑی تو وہ بولا: مومو چڑے! تمہیں کیا ہوا ہے؟ تمہارے منہ پر اتنی مٹی کیوں لگی ہوئی ہے؟

مومو نے سنجیدگی سے جواب دیا: میں اپنے لگائے ہوئے پودے کو پانی دے رہا ہوں۔ یہ بڑا ہوگا تو ہم سب کو ٹھنڈی ہوا اور سایہ دے گا۔

 یہ سن کر سب جانور حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ گجراج ہاتھی نے اپنی سونڈ ہلاتے ہوئے کہا: مومو! یہ پودا تو برسوں میں بڑا ہوگا، تم ناحق تھک رہے ہو۔

سومی ہرنی نے سب کو سمجھاتے ہوئے کہا: دوستو! کیا تم نہیں جانتے کہ یہ درخت ہمارے لیے کتنے ضروری ہیں؟ یہ جتنے زیادہ ہوں گے، ہمیں اتنی ہی تازہ آکسیجن ملے گی اور ہم سانس کی بیماریوں سے بچے رہیں گے۔ کیا تمہیں یاد نہیں پچھلے سال ہمارے کتنے ہی دوست اسی بیماری کی وجہ سے ہمیں چھوڑ گئے تھے؟ سومی کی بات سن کر سب افسردہ ہو گئے۔ زرفونے اپنی گردن بلند کی اور کہا: بات تو پتے کی ہے، ہمیں درختوں کی اہمیت کو سمجھنا ہو گا۔

اسی وقت سب نے مل کر منصوبہ بنایا۔ اگلے دن سومی اور اس کے ساتھی دور دراز علاقوں سے سو پودے لے آئے۔ سومی نے زرفو اور زیبرو کے ساتھ مل کر جنگل کے ویران حصوں میں پودے لگانے شروع کر دیے۔ کبوتروں اور چڑیوں نے مل کر پھل دار پودوں کے بیج جمع کیے اور گجراج ہاتھی نے اپنی طاقت سے گڑھے کھود کر وہ بیج لگائے۔ کومل کوئل نے گلاب کے پودے کی قلمیں لگائیں۔

سومی نے سڑک کے کنارے نیم، پیپل، املتاس اور شیشم کے پودے لگوائے، جبکہ جنگل کے وسط میں دیودار، صنوبر اور چنار کے پودے لگائے گئے۔ پورا ہفتہ سارا جنگل ایک ٹیم بن کر کام کرتا رہا۔ گجراج ہاتھی اور زرفو مٹی لاتے، جبکہ زیبرو اور ریچھ ندی سے پانی بھر کر لاتے۔

ہفتے کے آخر تک پورا علاقہ ننھے پودوں سے سج چکا تھا۔ سومی بہت خوش تھی۔ اس نے زرفو زرافے کی سربراہی میں ایک ٹیم بنائی جس کی ذمہ داری روزانہ پودوں کی دیکھ بھال، انہیں پانی دینا تھا۔ سب نے مل کر عہد کیا کہ وہ اپنے ان ننھے پودوں کی حفاظت کریں گے تاکہ ایک دن یہ تناور درخت بن کر ماحول کو خوشگوار بنا دیں۔

پیارے بچو! آپ بھی مومو چڑے اور سومی ہرنی کی طرح ہمت کریں اور اپنے حصے کا ایک پودا ضرور لگائیں۔ آپ کی یہ چھوٹی سی کوشش زمین کو خوبصورت گلستان بنا سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

شکرادا کرنا!

اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنا انسان کا فرض ہی نہیں انسان کی عبادت میں بھی شامل ہے۔

افلاطون:جس کے مکالمات نے سقراط کو زندہ کر دیا

اگرچہ عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ افلاطون دنیا کا سب سے بڑا فلسفی تھا، لیکن اس نے جو مکالمات لکھے ہیں، ان میں وہ دوسروں کے اقوال نقل کرتا ہے۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

پولیس کاروں پر فلیش لائٹ کیوں ہوتی ہے؟

محنت ہی سے راحت ملتی ہے

محنت ہی سے راحت ملتی ہے،محنت ہی سے عظمت ملتی ہے

سنہری باتیں

٭:اپنے تھوڑے کو دوسرے کے زیادہ سے بہتر جانو، سکون میں رہو گے۔

ذرا مسکرائیے

ماں نے دیکھا کہ بیٹا بلب زور زور سے اپنے سر پر رگڑ رہا ہے۔