سید ضمیر جعفری اُردوادب کا چھتناور درخت
آ ج27ویں برسی:اُنہوں نے مزاح سے زیادہ سنجیدہ ادب لکھا مگر شہرت مزاحیہ کلام کی وجہ سے حاصل ہوئی :یہ کہا جا سکتا ہے کہ ضمیر جعفری نے اپنی آخری سانس تک قوم کو ہنسایا بھی ، گرمایا بھی اور اسے سنجیدگی سے سوچنے پر بھی آمادہ کیا، وہ ادب میں ہمیشہ نیا پن لے کر آتے رہے‘ پرانے پنجابی پوٹھوہاری الفاظ کو موتیوں کی طرح جڑتے تھے اور لفظ کو معنی کو وقت کی قید سے آزاد کر دیتے تھے
سید ضمیر جعفری کی شاعری کے چھتناور درخت نے زندگی کے صحرا میں دور دور تک چھائوں کر رکھی ہے۔ادب کی دنیا میں کم و بیش نصف صدی تک یہ آواز مسلسل و منفرد اور معتبر رہی اور اس نے شعوری طورپر بھی اور لاشعوری طور پر بھی اپنے بہت سے ہم عصروں اور اپنی آنے والی نسلوں کو متاثر کیا ۔ ضمیر جعفری ہر محفل نظم، نثر کی جان اور آن اور مان رہے، جہاں بھی گئے پاکستان کی پہچان رہے۔سیدضمیر جعفری نے اگرچہ زیادہ شہرت مزاحیہ شاعری کی وہ سے پائی مگر جب ان کا سنجیدہ کلام ’’قریۂ جاں‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تو سنجیدہ ادبی حلقوں کو بھی چونکا گیا۔ دراصل بات وہی ہے جو ڈاکٹر جمیل جالبی نے کہی تھی کہ جیسے پانی ٹھنڈا ہویا گرم بنیادی طور پر پانی ہوتا ہے، اس طرح شاعری مزاحیہ ہو یا سنجیدہ اگر شاعری ہے تو ازدل خیزد،بر دل ریزد (بات جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے)کے مصدق اثر کرتی ہے۔ ان کے دونوں انداز کے کلام کو ملا کر دیکھئے تو عہدِ حاضر کی ایک بھاری بھر کم شخصیت آپ کے نہاں خانہ دل میں شعر پڑھتے ہوئے وارد ہو گی۔خود ضمیر جعفری اپنے بارے میں کچھ یوں رائے دیتے ہیں: ’’میرا قریبی حلقۂ احباب واضح طور پر تین گروہوں میں تقسیم ہے، ایک وہ جو میری سنجیدہ شاعری کو پسند اور مزاحیہ کو ناپسند کرتا ہے، ایک وہ جو مزاحیہ شاعری کو کارِ خوش گردانتا ہے اور ایک وہ جو میرے اس سارے عمل ہی کو اکارت سمجھتا ہے‘‘۔مگر ظاہر ہے کہ شاعری یا ادب اس تیسرے حلقے کیلئے تو لکھا ہی نہیں جاتا۔ ضمیر کی شاعری کا ایک قابلِ ذکر حصہ قومی یا وطنی شاعری پر مشتمل ہے اور یہ کوئی لاشعور ی رو یہ نہیں، شعوری رویہ ہے کیونکہ ان کا نظریہ تھا کہ ’’آزادی اور سلامتی کیلئے تلوار کا سہارا لازمی تو ہوتا ہے لیکن میں تلوار کی آزادی کا حامی نہیں میں سمجھتا ہوں کہ قلم کی طاقت بھی جنگ ختم کرنے کیلئے استعمال کرنی چاہئے، جنگ کیلئے نہیں۔ قلم سے تو قومی نظمیں لکھنی چاہئیں۔ قوم کو گرمانا چاہئے‘‘۔لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ضمیر جعفری نے اپنی آخری سانس تک قوم کو ہنسایا بھی ، گرمایا بھی اور اسے سنجیدگی سے سوچنے پر بھی آمادہ کیا۔ یہ آواز عجیب مترنم لہجے میں خود ہنسے بغیر اپنا کلام مشاعروں میں پڑھ کر سامعین کو فلک شگاف قہقہے لگانے پر مجبور کر دیتی تھی ۔
اپنی 83 برس کی بھر پور زندگی میں جو کم و بیش پہلی جنگ عظیم سے لے کر گزشتہ صدی کے آخری برس تک جاری رہی، انہوں نے بہت دنیا دیکھی۔ اس کے نشیب و فراز کا مطالعہ اور مشاہدہ کیا اور اس کے ہر دور کو اپنی تحریروں میں اپنے تاثرات کے ساتھ محفوظ کر دیا۔ اُن کے لکھے ہوئے واقعات اور کردار ایسے ہیں کہ ان کی قلم کی نوک پر آنے کے بعد خوامخواہ ان میں ایک طرح کی دلچسپی اور شگفتگی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ ادب میں ہمیشہ نیا پن لے کر آتے رہے۔ پرانے پنجابی پوٹھوہاری الفاظ کو موتیوں کی طرح جڑتے تھے اور لفظ کو یوں استعمال کرتے کہ معنی کو وقت کی قید سے آزاد کر دیتے تھے۔انہوں نے مزاح سے زیادہ سنجیدہ ادب لکھا مگر شہرت ان کے مزاحیہ کلام سے حاصل ہوئی۔سید ضمیر جعفری جب فوج میں تھے تو ان کی دوستی سویلین حضرات کے ساتھ تھی اور جب ریٹائر ہو گئے تو ان کے احباب میں فوجی سرفہرست تھے۔ ان اسماء میں بریگیڈیئر گلزار اور کرنل محمد خان بڑی شہرت رکھتے ہیں۔ مگر ایک اہم نکتہ یہ کہ ان کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے اور وہ جگت بزرگ کی حیثیت سے نوجوانوں، بوڑھوں اور حاکموں کے درمیان یکساں طور پر مقبول تھے۔ سید ضمیر جعفری کو یہ منفرد شخصیت صلاحیتوں کی بنا پر حاصل نہ ہوئی بلکہ اپنی شخصیت کی انفرادیت انہوں نے خود تشکیل کی تھی اور اپنا زمانہ خود پیدا کیا تھا۔ ان کی شخصی خصوصیت اپنے کھرے پن کی شہرت رکھتی تھی، لہٰذا ان کے جسم و جان میں کوئی تضاد نہیں تھا اور نہ ہی وہ فکری اختلاف رکھتے تھے۔
سید ضمیر حسین شاہ ولد سید حیدر شاہ ضلع جہلم کے ایک گائوں چک عبدالخالق میں پیدا ہوئے۔ ان کی تاریخ پیدائش یکم جنوری 1916ہے۔ لوئر مڈل کا امتحان گائوں ہی سے پاس کیا۔ میٹرک جہلم سے، ایف اے اٹک سے اور بی اے اسلامیہ کالج لاہور سے کیا۔ ان کے بزرگ ایران سے پہلے ملتان آئے تھے۔ سید ضمیر جعفری کہتے ہیں’’ہمارے خاندان پر اتنا عروج کبھی آیا ہی نہیں کہ زوال بھی آئے‘‘۔ضمیر جعفری نے حصولِ تعلیم کے بعد دفتر ضلع میں کلرکی اختیار کی پھر حکومتِ ہند میں ذرا اونچے درجے پرفائز ہو کر جنوب مشرقی ایشیائی کمان(ہیڈ کوارٹر سنگاپور) میں تعینات ہوگئے۔ ان کا تعلق فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ سے تھا جس میں ان دنوں حکومت برطانیہ نے بہترین شاعر اور ادیب اکٹھے کئے ہوئے تھے مثلاً کرنل فیض احمد فیض، میجر چراغ حسن حسرت، کیپٹن ن، م راشد، میجر آغا بابر، کرنل مسعود احمد اور کمانڈر حسن عسکری( ابن سعید)۔1948ء میں پاکستان واپس آئے۔1949ء میں کپتانی سے استعفیٰ دیا اور راولپنڈی سے کرنل مسعود احمد اور کیپٹن انعام قاضی کی شراکت میں ایک روزنامہ اخبار ’ ’بادِ شمال‘ ‘جاری کیا، مگر وہ مالی دشواریوں کی وجہ سے ایک برس بھی نہ چل سکا۔ پھر 1951ء میں سیاست میں جانے کی سوجھی اور جہلم کے دیہی حلقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں کھڑے ہوگئے مگر ہار گئے اور پھر عمر بھر سیاست کے خار زار میں قدم نہیں رکھا۔ 1952ء میں دوبارہ فوج میں کمیشن لے لیا جہاں سے 1966ء میں میجر کے رینک سے ریٹائرمنٹ لی۔ فوج میں ملازمت کے پہلے دور میں آپ نے 1948ء میں جنگِ کشمیر میں اور دوسرے دور میں 1965ء کی جنگ ِستمبر میں عسکری خدمات سرانجام دیں۔1966ء میں دارالحکومت اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے میں ڈائریکٹر شعبہ تعلقات عامہ مقرر ہوگئے اور پندرہ برس تک اس حیثیت میں اہم خدمات سرانجام دیں۔ پھر کچھ عرصہ بعد پاکستان نیشنل سنٹر میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔ وہاں سے ہٹے تو افغان مہاجرین کے محکمے میں مشیر رہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان سے بھی وابستہ رہے اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا زیادہ وقت ادبی سرگرمیوں کیلئے وقف کر دیا۔ ابتدا میں ان کا قیام اسلام آباد میں ہی رہا مگر عمر بھر کی محنت کے باوجود اپنی درویشانہ فطرت کے باعث ذاتی مکان نہ بنا سکے اور آخر جب وہ اسلام آباد سے اپنے بیٹے کے پاس کراچی جانے لگے تو اسلام آباد کی تمام ادبی تنظیموں نے مل کر ان کے اعزاز میں ایک بہت بڑی تقریب کا اہتمام کیا۔ کراچی میں وہ اپنے بڑے بیٹے سید احتشام ضمیر کے پاس رہے اور کچھ عرصہ بعد وہ دوسرے بیٹے کے پاس امریکہ چلے گئے۔ وہیں سرطان کی بیماری کا علاج کرا رہے تھے کہ 12مئی 1999 ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔
سیدضمیر جعفری نظم و نثر میں بے تحاشا شائع ہوتے رہے ۔خاکوں اور مزاحیہ مضامین اور سفر ناموں کے علاوہ ان کا روزنامچہ بھی کئی پرچوں میں مسلسل شائع ہوتا رہا جس کا عنوان ’’ضمیر کی ڈائری‘‘ تھا۔ ’’راول رنگ‘‘ اور ’’ضمیریات‘‘ کے عنوان سے مستقل کالم بھی لکھتے رہے۔ اپنے کلام نظم و نثر کو خود ترتیب دینے سے گریزاں رہتے تھے حالانکہ زندگی بھر میں انہوں نے بہت لکھا۔ دراصل ان کے اندر درویشی کی صفات ننھیال کی طرف سے در آئی تھیں۔ ان کا سلسلہ پنجابی کے ایک انتہائی مقبول درویش شاعر سلطان العارفین پیر سید محمد شاہ صاحب سے ملتا تھا۔’’ من کے تار‘‘ کے عنوان سے ضمیر جعفری نے پیر سید محمد شاہ کی کتاب کا اردو میں منظوم ترجمہ بھی کیا ۔ ضمیر جعفری میاں محمد بخش سے بھی بے حد متاثر تھے اور ان کی لازوال مثنوی ’’سیف الملوک‘‘ کو اردو نظم میں منتقل کرنا بھی ان کا ایک بہت بڑا ادبی کارنامہ ہے۔ بنیادی طور پر انہیں علمی وراثت اپنے دادا سید احمد شاہ سے عطا ہوئی تھی جو ضلع جہلم کے قلعہ رہتاس کے واحد اور تاریخی مدرسے کے پہلے ہیڈ ماسٹر تھے۔ مزاح نگاری کی طرف آنے کی بنیادی وجہ ضمیر کے اپنے کہنے کے مطابق یہ تھی کہ انہوں نے اپنے والد محترم کو عمر بھر کبھی کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا جس کے ردعمل میں مزاح کا جذبہ پروان چڑھا۔ ان کے شعروں میں نغمگی دریائے جہلم کی عطا ہے جو ان کے چک کے قریب سے گزرتا ہے۔
مزاحیہ غزلیں
شوق سے لختِ جگر نورِنظر پیدا کرو
ظالمو! تھوڑی سی گندم بھی مگر پیدا کرو
ارتقا تہذیب کا یہ ہے کہ پھولوں کے بجائے
توپ کے دھڑ، بم کے دھڑ، راکٹ کے سر پیدا کرو
میں بتاتا ہوں زوال اہلِ یورپ کاپلان
اہلِ یورپ کو مسلمانوں کے گھر پیدا کرو
میری دشواری کا کوئی حل مرے چارہ گرو
جلد تر پیدا کرو اور مختصر پیدا کرو
میری درویشی کے جشن تاجپوشی کے لیے
ایک ٹوپی اور کچھ مرغی کے پر پیدا کرو
حضرتِ اقبال کا شاہیں تو کب کا اُڑ چکا
اب کوئی اپنا مقامی جانور پیدا کرو
…………………
مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار میں روزے سے ہوں
ہر کسی سے کرب کا اظہار میں روزے سے ہوں
دو کسی اخبار کو یہ تار میں روزے سے ہوں
میرا روزہ اک بڑا احسان ہے لوگوں کے سر
مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار میں روزے سے ہوں
میں نے ہر فائل کی دمچی پر یہ مصرع لکھ دیا
کام ہو سکتا نہیں سرکار میں روزے سے ہوں
اے مری بیوی مرے رستے سے کچھ کترا کے چل
اے مرے بچو ذرا ہوشیار میں روزے سے ہوں
شام کو بہر زیارت آ تو سکتا ہوں مگر
نوٹ کر لیں دوست رشتے دار میں روزے سے ہوں
تو یہ کہتا ہے لحن تر ہو کوئی تازہ غزل
میں یہ کہتا ہوں کہ بر خوردار میں روزے سے ہوں
…………………
غزلیں
ہم زمانے سے توقع ہی کہاں رکھتے ہیں
ایک لمحہ بھی مسرت کا بہت ہوتا ہے
لوگ جینے کا سلیقہ ہی کہاں رکھتے ہیں
کچھ ہمارے بھی ستارے ترے دامن پہ رہیں
ہم بھی کچھ خواب جہانِ گزراں رکھتے ہیں
چند آنسو ہیں کہ ہستی کی چمک ہے جن سے
کچھ حوادث ہیں کہ دنیا کو جواں رکھتے ہیں
جان و دل نذر ہیں لیکن نگہ لطف کی نذر
مفت بکتے ہیں قیامت بھی گراں رکھتے ہیں
اپنے حصے کی مسرت بھی اذیت ہے ضمیر
ہر نفس پاس غم ہم نفساں رکھتے ہیں
……………………
اپنے ظرف اپنی طلب اپنی نظر کی بات ہے
رات ہے لیکن مرے لب پر سحر کی بات ہے
آشیاں کے ساتھ پوری زندگی بدلی گئی
کم نظر سمجھے کہ مشت بال و پر کی بات ہے
تا ابد کتنے اندھیرے تھے کہ روشن ہو گئے
شمع کا جلنا بظاہر رات بھر کی بات ہے
زندگی صدیوں کا حاصل زندگی صدیوں کا روپ
زندگی جو چشمک برق و شرر کی بات ہے
منزل اک رہرو کا تھک جانا ہے ورنہ زندگی
اک مسلسل رہ گزر پیہم سفر کی بات ہے
……………………
درد میں لذت بہت اشکوں میں رعنائی بہت
اے غم ہستی ہمیں دنیا پسند آئی بہت
ہو نہ ہو دشت و چمن میں اک تعلق ہے ضرور
باد صحرائی بھی خوشبو میں اٹھا لائی بہت
مصلحت کا جبر ایسا تھا کہ چپ رہنا پڑا
ورنہ اسلوب زمانہ پر ہنسی آئی بہت
بے سہاروں کی محبت بے نواؤں کا خلوص
آہ یہ دولت کہ انسانوں نے ٹھکرائی بہت
بے خیالی میں بھی کتنے فاصلے طے ہو گئے
بے ارادہ بھی یہ دنیا دور لے آئی بہت
اپنی فطرت میں بھی روشن ہوں گے لیکن اے ضمیر
میری راتوں سے بھی تاروں نے چمک پائی بہت
……………………