نفرت

تحریر : نعیم انصر ہاشمی( جھنگ)


اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

بچو! ہمارا موضوع زندگی یا موت، زمین یا آسمان نہیں بلکہ ہم نفرت پر بات کرتے ہیں۔ نفرت ایک انسانی رویہ ہے اوریہ ایک منفی رویہ ہے۔ نفرت انسانی ردعمل اور اظہار ہے۔ نفرت کسی سے کسی کا رویہ، برتائو میل جول میں نا اتفاقی، ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث ہو سکتی ہے۔ یہ ایک انسانی فطری تقاضا ہے۔

ہمارا مذہب اسلام اس کی شدید مذمت کرتا ہے اور سختی سے کسی سے بھی نفرت کرنے سے منع کرتا ہے۔ انسان کو انسان سے نفرت کسی نہ کسی سبب کے باعث ہوتی ہے۔ بلاوجہ کسی انسان سے نفرت ، حسد یا عدم برداشت سے پیدا ہوتی ہے۔ نفرت کی یہ علامات ظاہراً نظر آتی ہیں۔ پھر بعض اوقات ایک انسان کی دوسرے انسان سے نفرت انتہا تک پہنچ جاتی ہے۔ برداشت ختم ہو جاتی ہے۔

 اگر ہمیں محبت شفقت کی بجائے نفرت ہی کرنا ہے تو ہم جھوٹ سے نفرت کریں۔ ہمیں چوری سے نفرت ہونا چاہئے، لالچ، سست روی، کاہلی سے نفرت ہونا چاہئے۔ جرم سے نفرت کرنا چاہئے۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنا، اوّل حیثیت میں آنا، نیکیوں پر سبقت بہتر سے بہترین عمل ہے۔ ایک انسان کو دوسرے انسان یا فریق یا حریف کو غلط طریقہ سے حسد کے جذبات اور چور دروازے سے گزر کر آگے بڑھنا بھی نفرت کا ایک پہلو ہے۔ نفرت کی بجائے مقابلہ کی خوشگوار فضا پیدا کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے،جو انتہائی مثبت اور خوش افزاء بات ہے۔ مقابلہ کرنا، محنت کرنا انسان کا کام ہے اور اس عمل میں بہتری، اچھائی ، آسانی اورفتح اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔ 

آج کا دور افراتفری خود غرضی اور بے بسی نفرت کا زمانہ ہے۔ انسان بلاوجہ ایک دوسرے سے نفرت کے جذبات رکھتا ہے۔ معمولی معمولی باتوں کے باعث پڑوسی پڑوسی سے لا تعلق ہے۔ رشتہ داریاں، تعلق، ہمدردی احساسات کے جذبات سے عاری انسان بے زار نظر آتا ہے۔

بچو! انسان ایک گروہ اور معاشرہ کی صورت میں دنیا میں رہتا ہے۔ کالونیاں، محلہ جات کی شکل میں انسان زمین پر قیام پذیر ہے۔ انسان ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ ایک دوسرے سے لین دین نظامِ دنیا ہے۔ جہاں خوشیاں بھی ہیں غم بھی ہیں۔ زندگی اور موت انسان کے ہمراہ ہے۔ ایک دوسرے کی ضروریات زندگی میں ایک دوسرے کے معاون بنئے۔ ایک زنجیر کی صورت کڑی سے کڑی بن کے ایک دوسرے پر خلوص ، محبت اور ایثار نچھاور کریں۔ 

ہم نفرت کے جذبات مکمل ختم تو نہیں کر سکتے لیکن ہر ممکن کوشش کرکے نفرت کو کم کرنے کی جستجو کرتے رہیں۔ ایک دوسرے کے غم میں شریک ہو کر ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں۔ حتیٰ الامکان کوشش کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے مزاج، گفتار میں محبت، رحمدلی پیدا کریں۔ اس سے محبت احترام اور خلوص کا عنصر اور جذبہ بڑھے گا۔ نفرت کی شدت میں کمی آئے گی۔

 ہم کوشش کریں تو نفرت کی فضا محبت میں بدل سکتی ہے۔ اس سے انسان میں برداشت، صبر، خلوص اور اپنانیت پیدا ہو گی۔ لہٰذا نفرت کو جھٹلائیں اور محبت اپنائیں، نفرت خود بخود ہمدردی، خلوص، ایثار میں بدل جائے گی۔ ایسا عمل کریں کہ نفرت کی بجائے محبت امن، بھائی چارہ کی فضا قائم رہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو معاشرہ خود بخود خوشی راحت سکون میں بدل جائے گا۔ انشاء اللہ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔

ذرا مسکرائیے

باپ (بیٹے سے): بتاؤ کن کن ملکوں میں زیادہ سونا پایا جاتا ہے؟ بیٹے نے کہا: جن ملکوں میں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ٭٭٭

پہیلیاں

بیٹی جا پہنچے بازار بابا گھر کا چوکیدر (چابی اورتالا)

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

کچھ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہوئے جوتے کیوں اتار دیتے ہیں؟ بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے بچوں کی عادتیں بھی ان جیسی ہوتی ہیں۔لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے دوسرے ممالک کی تہذیب اور معاشرتی اقدار مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً جاپان اور کوریا میں لوگ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتار دیتے ہیں۔اس طرح گھر کا فرش یا قالین گندے ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔اس کے برعکس یورپ اور دوسرے بہت سے ممالک میں لوگ گھر کے اندر بھی جوتے پہنتے ہیں۔

گاؤں سے جب آئے گائے

گاؤں سے جب آئے گائے پہلے تو شرمائے گائے شہروں کا جب پی لے پانی پھر خود پر اترائے گائے