عالمتاب تشنہ حسبِ حال کے شعور سے ہم آہنگ

تحریر : ڈاکٹر عرفان احسن پاشا


ان کی شاعری کا خمیرکشمکشِ حیات اور کرب سے اٹھا:تشنہ ؔکے یہاں بکھرنے کا نہیں بلکہ سمٹ کر ایک اکائی بن جانے کا احساس ہوتا ہے‘ وہ ایک طرف روایت سے وابستہ نظر آتے ہیں اور دوسری طرف اسے جدید شعور میں ڈھالنے کی قوت بھی رکھتے ہیں:احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں کہ عالمتاب تشنہ نے ہجوم ِجمال میں شاعری کا آغاز کیا تھا‘ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ آغاز بہت مبارک ثابت ہوا کیونکہ ان کی شاعری پر اسی جمال کا پر تو ہے

عالم تاب تشنہ اُردو کے ان نامور شعرا میں سے ہیں جنہیں وہ شہرت اور مقام نہ مل سکا جس کے وہ بجا طور پر مستحق ہیں۔ تشنہ کا ادبی قد کاٹھ وہی پہچان سکتے ہیں جو شعر و ادب کی قدرو قیمت سے حقیقی طور پر واقف ہیں۔ ان کے اشعار بلاشبہ دل میں اُتر جانے والے ہیں۔ وہ  10جولائی 1935ء کو میرٹھ(اُتر پردیش) میں پیدا ہوئے اور 11مئی 1991ء کو کراچی میں انتقال ہوا۔  تشنہ کا پہلا مجموعہ کلام’’ موج موج تشنگی ‘‘ اُن کی پچیس سالہ شعری ریاضت کا نتیجہ ہے۔ ان کے اشعار میں ہمیں احساس کی  حدت محسوس ہو تی ہے، زندگی کے تجربوں کی سچائی سلیقۂ اظہار کے ساتھ متاثر کرتی ہے اور ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ تشنہ کی شاعری ردیف و قافیہ کی آرائش کا نتیجہ نہیں بلکہ براہ راست زندگی کی کشمکش سے وجود میں آئی ہے۔اسی کشمکش حیات سے ان کی شاعری کا خمیر اُٹھا ہے اور جدید زندگی کے تضاد ات اُبھر کر سامنے آئے ۔ تشنہ کی شاعری میں جو کرب کا احساس ملتا ہے اس کا بنیادی سبب بھی یہی ہے۔ ماضی کی یادیں حال کے شعور سے ہم آہنگ ہونا چاہتی ہیں اور ایک ایسے کرب کو جنم دیتی ہیں جو ذات سے نکل کر کائنات پر چھا جاتا ہے اور جسے حسنِ ذات اور حسنِ کائنات کی شاعری کا نام دیا جا سکتا ہے۔ کرب جو کھو کر پانے اور پا کر  کھونے، یاد کرکے بھول جانے اور بھول کر یاد کرنے کے عمل سے پیدا ہوتا ہے اس کرب میں ہجر و وصال ایک ہو گئے ہیں۔ بقول ڈاکٹر جمیل جالبی، زندگی کی کشمکش اور تضاد سے پیدا ہونے والا کرب اتنا سفاک ہوتا ہے کہ شاعرکی شخصیت کو پاش پاش کر دیتا ہے، لیکن تشنہ کے مزاج کے ٹھہرائو نے تخلیقی سطح پر ایک ایسا سہارا پیدا کردیا ہے کہ ان کا احساس پارہ پارہ نہیں ہوتا بلکہ وحدت بن کر اور گہرا ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کی غزلوں میں مسلسل غزل کی فضا کا اثر در آیا ہے۔ یہ رنگ و اثر وہاں اور نکھرتا ہے۔

  اردوغزل جس انتشار کا شکار رہی اور بدلتے ہوئے معاشرے میں جس لب و لہجہ آہنگ کی متلاشی رہی اس میں بکھر جانے کا پتہ تو چلتا ہے لیکن روایت کے بننے اور سمٹنے کا احساس نہیں ہوتا۔  تشنہ کے یہاں بکھرنے کا نہیں بلکہ سمٹ کر ایک اکائی بن جانے کا احساس ہوتا ہے۔ وہ ایک طرف روایت سے وابستہ نظر آتے ہیں اور دوسری طرف اسے اپنے جدید شعور میں ڈھالنے کی قوت بھی رکھتے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ عالمتاب تشنہ نے ہجوم ِجمال میں شاعری کا آغاز کیا تھا۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ آغاز بہت مبارک ثابت ہوا کیونکہ ان کی شاعری پر اسی جمال کا پر تو ہے۔ اسی لئے تشنہ کی شاعری، جذبے کے حسن، اس کی شدت اور اس کی تہذیب کی شاعری ہے۔ پھر انہوں نے جذبے کو محدود نہیں رکھا۔ کبھی یہ جذبہ کسی ایک ذات پر مرکوز ہے تو کبھی کائنات اس کے حصار میں ہے۔ یہ ہمہ جہتی اور ہمہ گیری انہیں روایت کے ساتھ مثبت وابستگی نے بخشی ہے کہ وہ روایت کی نفی بھی نہیں کرتے اور عصرِ جدید کے حوالے سے اس روایت میں ترمیم و اضافہ کو بھی کفر نہیں گردانتے۔ تشنہ بس لمحے میں زندہ رہتے ہیں، اس کا بھی انہیں مکمل ادراک ہے۔ ماضی سے بھی دامن کشاں نہیں اور مستقبل میں جھانکنے کا بھی حوصلہ رکھتے ہیں۔

یوں انہیں اردو کی جدید غزل کے ایک حساس اور باشعور باشندے کی حیثیت حاصل ہے اور یہ حیثیت ہر لحاظ سے اہم ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا عالمتاب تشنہ کے دوسرے مجموعہ کلام’’آ ئینے کے اس طرف ‘‘کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ تشنہ کی غزل میں ’’تُو‘‘ گوشت پوست کی محبوبہ کی صورت میں بھی موجود ہے اور ایک ماورائی قوت کے روپ میں بھی اور یہ عمل ان کے ہاں کلاسیکی روایت سے مضبوط انسلاک کا اعلامیہ ہے مگر ان کی غزل میں ’’توُ‘ ان کی اپنی ذات کے اُس حصے کے روپ میں بھی ابھرا ہے جو ’’تیسری ہستی‘‘ بن کر خود ذات سے ہم کلام ہونے کی کوشش میں ہے۔ یہ روش اصلاً جدید دور کی روش ہے جو فرد کے آشوبِ آگہی کی پیداوار ہے۔ آپ چاہیں تو اسے سیاحتِ باطن کا نام بھی دے سکتے ہیں مگر اصل بات شاید یہ ہے کہ پہلے ’’مکالمہ‘‘ مَیں اور تُو کے مابین تھا جبکہ نئے زمانے میں مکالمہ’’ میں اور میں‘‘ میں ہونے لگا ہے۔ تاہم لطف کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو میں دوسری ’’ میں‘‘ اپنی قلب ماہیت کے بعد ’’تُو‘‘ کے روپ میں اُبھر آئی ہے اور یوں’’مَیں اور تُو‘‘کا رشتہ برقرار رہا ہے۔ 

عالمتاب تشنہ اپنے شعری نظریے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ شاعری کا اسلوب خوبصورت پیرہنی کا متقاضی ہے۔ شاعری دراصل سراپا جمال ہے اور غزل اُردو شاعری کی سب سے زیادہ نازک طبع، کامنی پیکر، خوش اندام صنف سخن ہے جس کے جمال کی پاسبانی شاعر کے لئے بہر طور لازم ہے۔ یوں تو لباس کی تراش خراش بدلتی رہتی ہے یہاں تک کہ بدہیتی و بد وضعی بھی فیشن کا حصہ بن جاتی ہیں لیکن یہ فیشن عارضی ہوتا ہے کہ حسُن کے معیارات تو مسلمہ طور پر طے ہیں۔ بدہئیتی و بد وضعی تو ایک طرح کی اقدار سے بغاوت کا بے باکانہ اظہار ہے جو جلد ترک بھی کر دیا جاتا ہے۔  بقول عالمتاب تشنہ استقلال تو صرف حسن کو حاصل ہے ادب میں تجریدی بدہئیتی ذہنی انتشار کا ایک اظہار ہے اور جو جتنا بکھرا ہوا ہوتا ہے وہ تجریدیت میں اتنا ہی کامل۔ ہمارا انتشار بے چہرگی اور تجریدیت دورحاضر کے تضاذِدات کا بھی مظہر ہیں جو اپنے تخلیقی تجسس میں عصری آگہی یا دانشِ حاضر سے مرعوب ہو جاتے ہیں وہی ان تضادات میں گم بھی ہو جاتے ہیں۔ شاعر کی نظر تو آگے کے زبان و مکان پر ہونی چاہئے۔ ان امکانات پر جو سیاہ عصبیتوں میں خیر کی روشنی کی بشارت دیتے ہیں۔ جو زندگی کو ہمہ پہلو سمجھتے ہیں اور اس کے ہر رخ کو اپنی شاعری کا کل قرار دیتے ہیں۔ جو ذہنی بے راہ روی سے شاعری کو بے منزلت کارتخلیق نہیں بناتے بلکہ  فکر کی ان بلندیوں کو اُجاگر کرتے ہیں جو نئی جہتوں اور نئی منزلوں سے آشنا کرے۔شاعری کا یہی سفر منزل کی نشان دہی کرتا ہے۔ 

تشنہؔ جن کا اصل نام سید عالمتاب علی تھا قیام پاکستان کے بعد پاکستان آگئے تھے۔اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔متعدد ممالک سے تعلیم و تربیت حاصل کی اور اعلیٰ عہدوں پہ فائز رہے۔ان کی تصانیف میں ’ موج موج تشنگی‘، ’آئینے کے اس طرف‘ اور ’خوابِ نیم شب ‘ شامل ہیں۔ ’خوابِ نیم شب‘ شیکسپیئر کے ڈرامہ’مڈسمر نائٹ ڈریم‘ کا ترجمہ ہے۔انہوں نے کیٹس اور شیلے کی نظموں کے ترجمے بھی کیے تھے لیکن ان نظموں کو منظر عام پر نہیں لائے۔ 

غزلیات

سفر میں راہ کے آشوب سے نہ ڈر جانا

ملے جو آگ کا دریا تو پار کر جانا

یہ اک اشارہ ہے آفاتِ ناگہانی کا

کسی جگہ سے پرندوں کا کُوچ کر جانا

یہ انتقام ہے، دشتِ بلا سے بادل کا

سمندروں پہ برستے ہوئے گزر جانا

تمہارا قرب بھی دوری کا استعارہ ہے

کہ جیسے چاند کا تالاب میں اُتر جانا

عجب ہیں رزم گہہِ زندگی کے یہ انداز

اُسی نے وار کیا جس نے بے سپر جانا

ہمارے دم سے ہی آوارگی ٔشب تھی ہمیں

عجیب لگتا ہے اب شام ہی سے گھر جانا

زمانہ بیت گیا ترکِ عشق کو تشنہ

مگر گیا نہ ہمارا اِدھر اُدھر جانا

…………

گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیئے گئے

ہم ساتھ کے قبیلوں میں ضم کر دیئے گئے

پہلے نصابِ عدل ہوا ہم سے انتساب

پھر یوں ہوا کہ قتل بھی ہم کر دیے گئے

پہلے لہولہان کیا ہم کو شہر نے

پھر پیرہن ہمارے علم کر دیئے گئے

ہر دور میں رہا یہی آئینِ منصفی

جو سر نہ جھک سکے وہ قلم کر دیئے گئے

اس دورِ نا شناس میں ہم سے عرب نژاد

لب کھولنے لگے تو عجم کر دیئے گئے

جب درمیاں میں آئی کمالِ بشر کی بات

ہفت آسمان زیرِ قدم کر دیئے گئے

پہلے ہی کم تھی قریۂ جاناں میں روشنی

اور اس پہ کچھ چراغ بھی کم کر دیئے گئے

تشنہ جو لفظ مصلحتاً ہم نہ کہہ سکے

دیوارِ وقت پر وہ رقم کر دیئے گئے

…………

جدھر بھی دیکھتا ہوں، اک تحّیر ہے، تماشا ہے

خدایا کس سے پوچھوں، آئینے کے اس طرف کیا ہے

 سنا ہے قریۂ جاں سے ہے آگے کوچۂ جاناں

مگر یہ راستہ آشوبِ جاں سے ہو کے جاتا ہے

تم اپنے دل کی ویرانی سے آنکھیں مت بجھا لینا

دریچے ہوں اگر روشن تو گھر آباد لگتا ہے

طنابِ خیمۂ جاں کھینچ لیں سب قافلے والے

سکوتِ شب یہ کہتا ہے کہ پھر طوفاں کا خطرہ ہے

ابھی تو راستوں کی تجھ سے ہونی ہے حنا بندی

ابھی اے آبلہ پائی تجھے کانٹوں پہ چلنا ہے

غبارِ راہ کیا ہم تو تھکن بھی چھوڑ آئے ہیں

ہمیں آتا ہے تکمیلِ سفر کا جو قرینہ ہے

ہمیں ساحل پہ رکھّو یا سرِ گرداب چھوڑ آئو

یہ کشتی بھی تمہاری ہے، یہ دریا بھی تمہارا ہے

ہمیں اک سو ختہ ساماں نہیں، تنہائی شب میں

چراغِ آخرِ شب بھی ہمارے ساتھ جلتا ہے

کتابوں کا لکھا تو عمر بھر تم نے پڑھا تشنہ

ذرا وہ بھی تو پڑھ لیتے جو دیواروں پہ لکھا ہے

منتخب اشعار

دشتِ تنہائی میں رہتا ہے مرے ساتھ یہ کون

کون خوابوں میں مرے ساتھ سفر کرتا ہے

کون دے جاتا ہے دروازہ ٔ دل پر دستک

کون مجھ کو ترے آنے کی خبر کرتا ہے

٭٭٭٭٭

ہر ایک گام پہ یہ کون روکتا ہے قدم

یہ راستہ تو مجھے تیرے گھر کا لگتا نہیں

جو آئینے سے مجھے مسکرا کے دیکھتا تھا

 بہت دنوں سے وہ چہرہ نظر نہیں آیا

٭٭٭٭٭

آنکھیں مری تھیں اور ترا عکس رو برو

یہ سحرِ دید تھا کہ فسوں آئینے کا تھا

٭٭٭٭٭

لہو میں جیسے وہ جگنو پکڑ کے چھوڑ گیا

کچھ ایسا کھل کے ملا، جگمگا گیا مجھ کو

٭٭٭٭٭

اُن کے رو برو کرتے درد تم بیاں اپنا

کربِ شامِ غم اپنا حالِ زارِ جاں اپنا

٭٭٭٭٭

چراغ  میں بھی تھا اور روشنی بھی رکھتا تھا

بجھا گئی ہے ترے شہر کی ہوا مجھ کو

لبوں پہ حرفِ تمنا کا عکس آنے لگا

دکھا رہا تھا کوئی دل کا آئینہ مجھ کو

٭٭٭٭٭

ڈالے گئے شگاف دریچوں کے نام پر

دیوار کا تھا زخم جسے در کہا گیا

٭٭٭٭٭

دیا اندھیرے بانٹ رہا تھا

میں بھی جھولی بھر لایا ہوں

٭٭٭٭٭

ہرا بھرا ہے ان کا سبزہ

اندر سے میں سوکھ رہا ہوں

٭٭٭٭٭

شکستِ شیشۂ دل کی صدا ہوں

میں خود بھی خود کو سننا چاہتا ہوں

٭٭٭٭٭

میں تجھ کو چاہوں تو ایسا کہ خود فنا ہو جاؤں

مرا وجود ترا آئنہ دکھائی دے

٭٭٭٭٭

رات کے سارے منظر میرے اپنے تھے

جب آنگن میں چاند اترا تو میں نے دیکھا

٭٭٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

مجید امجد کی شاعری، پنجاب کے ثقافتی تناظرمیں

مجیدامجد نے پنجابی زبان کے الفاظ کو اُردو نظم کے تخلیقی پیرائے میں اس طرح برتا ہے کہ جو پنجابی زبان سے نا واقف ہیں وہ پنجابی زبان کے مذکورہ الفاظ کو اُردو ہی کے کھاتے میں شمار کریں گے۔

خواتین کرکٹ کانیا عالمی ریکارڈ قائم

آئی سی سی ویمنز ٹی 20ورلڈ کپ 2026 ء:ٹکٹوں کی فروخت نے ایونٹ کو اب تک کا سب سے بڑا خواتین کا ورلڈ کپ ثابت کر دیا:ٹورنامنٹ کا باضابطہ آغاز 12جون کوبرمنگھم میں انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ہونے والے مقابلے سے ہوگا: پاکستان اپنے سفر کا آغاز 14 جون کو بھارت کے خلاف ایجبسٹن، برمنگھم میں ہونے والے مقابلے سے کرے گا

شاہینوں کا ہوم گرائونڈ پرنیا امتحان

آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان:کینگروز23مئی کو اسلام آباد پہنچیں گے، 3ایک روز میچ کھیلے جائیں گے:٭…پاکستان اور آسٹریلیا اب تک 111 ایک روزہ میچ کھیل چکے ہیں۔٭… 71 میچوں میں فتح کینگروز کا مقدر بنی، شاہینوں نے 36 جیتے۔ ٭…4 میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔

چھوٹی سی کوشش

سومی ہرنی اپنی پسندیدہ کتاب تھامے لالی بکری کے ساتھ جیسے ہی گھنے جنگل میں داخل ہوئی تو اسے دور سے مومو چڑا مٹی کھودتا ہوا دکھائی دیا۔

شکرادا کرنا!

اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنا انسان کا فرض ہی نہیں انسان کی عبادت میں بھی شامل ہے۔

افلاطون:جس کے مکالمات نے سقراط کو زندہ کر دیا

اگرچہ عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ افلاطون دنیا کا سب سے بڑا فلسفی تھا، لیکن اس نے جو مکالمات لکھے ہیں، ان میں وہ دوسروں کے اقوال نقل کرتا ہے۔