اعتدال طعام …سنت نبوی ﷺ

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


’’مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے‘‘۔(صحیح بخاری)

اسلام دین فطرت ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال، توازن اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔ کھانے پینے کے معاملات بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ قرآنِ کریم انسان کو اسراف سے بچنے اور نعمت الٰہی سے فائدہ اٹھانے کی تلقین کرتا ہے، جبکہ رسول اکرمﷺ نے اپنے قول و عمل سے اعتدالِ طعام کا ایسا عملی نمونہ پیش فرمایا جو نہ صرف جسمانی صحت بلکہ روحانی پاکیزگی اور اخلاقی تربیت کا بھی ضامن ہے۔ آج جب بے اعتدالی، شکم پرستی اور غیر صحت مند غذائی عادات مختلف بیماریوں اور معاشرتی مسائل کو جنم دے رہی ہیں، سنتِ نبویﷺ کی روشنی میں اعتدالِ طعام کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ درحقیقت متوازن خوراک اور میانہ روی کا طرزِ عمل ایک صحت مند، فعال اور باوقار زندگی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

ایک عجمی بادشاہ نے نبی اکرم ﷺکی خدمت میں اپنا ایک ماہر طبیب علاج معالجہ کی غرض سے بھیجا ۔ چند سال تک وہ عرب کے شہروں میں رہا مگر اس دوران آزمائش کیلئے بھی اس کے پاس کوئی شخص نہیں آیا اور نہ ہی کسی نے اس سے اپنا علاج معالجہ کرایا۔ طبیب نے نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنی شکایت عرض کی: ’’اے اللہ کے رسولﷺ ! بادشاہ نے مجھے خاص طور پر آپﷺ کے صحابہ کرامؓکے علاج معالجہ کیلئے بھیجا تھا ۔ طویل عرصہ سے میں یہا ں مقیم ہوں مگر آج تک کسی نے مجھ سے اپناکوئی علاج معالجہ نہیں کروایا‘‘۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’دراصل میرے صحابہ کھانے پینے کے معاملہ میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہیں، جب تک ان میں کھانا کھانے کی سچی طلب پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک وہ کھانا نہیں کھاتے اور ابھی ان کی کچھ بھوک باقی ہوتی ہے کہ وہ کھانے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیتے ہیں‘‘۔طبیب نے عرض کیا: ’’ اے اللہ کے رسول ا ! واقعی ان کی صحت و تندرستی کا رازیہی ہے‘‘۔ 

حضرت مقدام بن معدی کربؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’انسان نے اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ آدمی کیلئے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھ سکیں۔ اگر اس سے زیادہ کھانا ضروری ہو تو ایک تہائی کھانے کیلئے، ایک تہائی پینے کیلئے اور ایک تہائی سانس کیلئے رکھے‘‘۔(جامع الترمذی: 2380، ابن ماجہ: 3349)

ایک اور حدیث مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے‘‘۔(صحیح بخاری: 5393، صحیح مسلم: 2060)، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مومن کھانے میں اعتدال اور قناعت اختیار کرتا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: ’’آلِ محمد ﷺ نے مسلسل دو دن کبھی پیٹ بھر کر جو کی روٹی نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے‘‘۔(صحیح بخاری: 5416)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’روزہ ڈھال ہے‘‘۔(صحیح بخاری: 1894، صحیح مسلم: 1151)،روزہ انسان کو خواہشاتِ نفس اور کھانے پینے میں اعتدال کی تربیت دیتا ہے۔

اطباء اور اہل معرفت نے لکھا ہے کہ کم کھانے اور بھوکا رہنے سے ایک تو دل کی صفائی ہوتی ہے، دوسرے طبیعت تیز ہوتی ہے اور تیسرے بصیرت بڑھ جاتی ہے ۔ اس لئے کہ پیٹ بھر کر کھانے سے طبیعت میں بلادت (کند ذہنی)آتی ہے ، دل کا نور جاتا رہتا ہے اور معدے کے بخارات دل کو گھیر لیتے ہیں ، جس کا اثر دل پر بھی پڑتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے ، بلکہ کم عمر بچہ اگر زیادہ کھانے لگ جائے تو اس کا حافظہ بھی جلدی ہی خراب ہوجاتا ہے اور اس کا ذہن بھی کند ہوجاتا ہے ۔

ابو سلیمان درانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ بھوکا رہنے کی عادت پیدا کرو ! کہ یہ نفس کو مطیع کرتا ہے ، دل کو نرم کرتا ہے اور آسمانی علوم اس سے حاصل ہوتے ہیں ۔حضرت شبلیؒ فرماتے ہیں کہ : ’’جس دن میں اللہ تعالیٰ کیلئے بھوکا رہا ، اس دن میں نے اپنے اندر عبرت اور حکمت کا ایک دروازہ کھلا پایا ‘‘۔ اسی وجہ سے حضرت لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’’بیٹا ! جب معدہ بھر جاتا ہے تو فکر سوجاتی ہے ، حکمت گنگی ہوجاتی ہے اوراعضاء عبادت کرنے سے سست پڑ جاتے ہیں‘‘۔ابو یزید بسطامیؒ فرماتے ہیں کہ ’’ بھوک ایک ابر( بادل) ہے ، جب آدمی بھوکا رہتا ہے تو وہ ابر دل پر حکمت کی بارش برساتا ہے‘‘ ۔

کم کھانے اور بھوکا رہنے سے آدمی کا دل نرم رہتا ہے، جس سے ذکر وغیرہ کا اثر دل پر ہوتا ہے۔ بسا اوقات آدمی بڑی توجہ سے ذکر کرتا ہے لیکن دل اس سے لذت حاصل نہیں کرتا اور نہ ہی اس سے متاثر ہوتا ہے اور جس وقت دل نرم ہوتا ہے تو اس وقت ذکر میں بھی لذت آتی ہے اور دعا و مناجات میں بھی خوب مزہ آنے لگتا ہے۔

اسلام انسان کو بھوک سے نڈھال ہونے کا نہیں بلکہ اعتدال اور توازن کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ کریم اسراف سے روکتا ہے اور رسول اکرمﷺ پیٹ کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تعلیم دے کر صحت مند اور متوازن طرزِ زندگی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

 

اسی طرح کم کھانے سے آدمی میں عاجزی اور مسکنت پیدا ہوتی ہے اور اس کی اکڑ جاتی رہتی ہے جو سرکشی اور اللہ تعالیٰ غفلت کا سرچشمہ ہے۔ نفس کسی چیز سے بھی اتنا زیر نہیں ہوتا جتنا بھوکا رہنے سے ہوتا ہے اور آدمی جب تک اپنے نفس کی ذلت اور عاجزی نہیں دیکھتا اس وقت تک اپنے مولیٰ کی عزت اور اس کا غلبہ نہیں دیکھ سکتا ۔ اس لئے آدمی کو چاہیے کہ وہ کم سے کم کھائے اور کثرت سے بھوکا رہے تاکہ ذوق میں اپنے مولیٰ کی طرف متوجہ رہے۔

کم کھانے اور بھوکا رہنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آدمی کے اندر مصیبت اور فاقہ زدہ لوگوں سے غفلت بھی پیدا نہیں ہوتی ، جب کہ پیٹ بھرے آدمی کو اس بات کا بالکل اندازہ نہیں ہوسکتا کہ بھوکوں اور محتاجوں پر کیا گزر رہی ہے؟۔

اسی طرح کم کھانے اور بھوکا رہنے سے آدمی طرح طرح کے گناہوں سے بھی بچا رہتا ہے ۔ اس لئے کہ پیٹ بھر کر کھانا تمام شہوتوں کی جڑ ہے جب کہ کم کھانا اور بھوکا رہنا ہر قسم کی شہوت کو توڑ دیتا ہے ۔ آدمی کیلئے سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ وہ اپنے نفس پر قابو رکھے اور اس کیلئے سب سے بڑی بدبختی یہ ہے کہ اس کا نفس اس پر قابو پالے ۔

اسی طرح کم کھانے اور بھوکا رہنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے نیند کم آتی ہے اور کثرت سے جاگنے کی دولت نصیب ہوتی ہے۔ اس لئے کہ پیٹ بھر کر کھانے سے پیاس خوب لگتی ہے جس کو بجھانے کیلئے خوب پانی پیاجاتا ہے اور زیادہ پانی پینے سے نیند بھی خوب آتی ہے ۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ستر حکیموں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زیادہ پانی پینے سے زیادہ نیند آتی ہے اور زیادہ سونے سے زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ ضائع  اور بے کار ہوکر رہ جاتا ہے ۔

پیٹ بھر کر کھانا کھانے سے اکثر سستی اور کاہلی پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے عبادات وغیرہ میں اکثر ضعف اور خلل پیدا ہوتا ہے اور عبادت کیلئے آدمی اپنے آپ کو اچھی طرح فارغ نہیں کرسکتا ۔ پھر کم کھانے اور بھوکا رہنے میں بدن کی صحت کا راز بھی مضمر ہے کہ بہت سے امراض زیادہ کھانے ہی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ زیادہ کھانے سے معدہ اور رگوں میں ’’اخلاطِ ردیہ‘‘ جمع ہوجاتے ہیں ، جن سے طرح طرح کے امراض پیدا ہوتے ہیں ، جبکہ کم کھانے اور بھوکا رہنے سے آدمی ان تمام امراض سے بچا رہتا ہے۔

کہتے ہیں خلیفہ ہارون الرشید نے ایک مرتبہ چار ماہر حکیموں( ہندی ، رومی (انگریزی) عراقی اور سوادی) کو اپنے پاس جمع کیا اور ان سے کہا کہ  کوئی ایسی دوا بتلاؤ جو کسی چیز کو نقصان نہ پہنچاتی ہو‘‘۔ ہندی نے کہا : ’’ہلیلہ سیاہ ہے‘‘ عراقی نے کہا: ’’تخم سپندان ہے‘‘ رومی (انگریزی) نے کہا : ’’گرم پانی ہے‘‘ سوادی نے کہا کہ : ’’یہ سب چیزیں غلط ہیں ٗ ہلیلہ سیاہ ‘‘ معدہ کو روندتا ہے ’’تخم سپندان ‘‘ اس میں پھسلن پیدا کرتا ہے اور ’’گرم پانی‘‘ اس کو ڈھیلا کردیتا ہے ۔‘‘ ان سب حکیموں نے سوادی سے کہا کہ : ’’پھر تم ہی بتاؤ ! ایسی کون سی دواء ہے جو کسی بھی چیز کو نقصان نہ پہنچاتی ہو؟۔‘‘ سوادی نے کہاکہ: ’’کھانا اس وقت تک نہ کھایا جائے جب تک کہ خوب رغبت پیدا نہ ہوجائے اور ایسی حالت میں ختم کردیاجائے کہ ابھی زیادہ کی رغبت باقی ہو ۔‘‘ تمام حکیموں نے یک زبان ہوکر کہا کہ: ’’ تونے ٹھیک کہا ہے‘‘ اور سب نے اس کی بات سے اتفاق کرلیا۔

ایک فلسفی حکیم کے سامنے حضور اقدس ا کا یہ ارشاد نقل کیا گیا کہ : ’’ تہائی پیٹ کھانے کے لئے ، تہائی پانی کے لئے اور تہائی سانس لینے کے لئے ہوتا ہے ۔‘‘ اس نے سن کر بڑا ہی تعجب کیا اور کہا کہ : ’’کھانا کم کھانے میں اس سے بہتر اور مضبوط بات میں نے آج تک کسی سے نہیں سنی ۔ بلاشبہ یہ کسی حکیم حاذق کا کلام ہے۔‘‘

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

اسلام میں راز داری

انسانی وقار کا تحفظ اور ایک صالح معاشرے کی تشکیل راز فاش کرنے سے جہاں دوسرے کی عزت مجروح ہوتی ہیں، وہیں آپس میں نفرت کا سبب بھی بنتا ہے جب کوئی شخص کوئی بات کہے پھر اِدھر اُدھر دیکھے (یعنی چاہے کہ یہ بات دوسروں تک نہ پہنچے) تو وہ بات امانت ہے (ابو داؤد)

حج کے بعد کی زندگی اصل امتحان!

’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، اور اللہ کے رسولﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو‘‘ (سورہ محمد) حج کی قبولیت کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ انسان گناہوں والی زندگی کو چھوڑ کر نیکیوں والی زندگی اختیار کرے

علم کی حقیقت و اہمیت

’’اللہ تم میں ایمان والوں اور جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے کے درجات بلند فرمائیں گے‘‘(المجادلہ:11) ’’بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘(سورۃ الزمر: 9)

مسائل اور ان کا حل

بغیر وضو اذان دینا سوال :میں بحری جہازپر بطور انجینئر کام کرتا ہوں، وہاں باقاعدہ اذان ہوتی ہے اور نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔شپ پر سپیکر کا مائیک مسجد ایریا کے بجائے دوسری جگہ پر لگا ہوا ہے۔ جب اذان کا وقت ہوتا ہے توہم وہاں سے گزرتے ہوئے بغیر وضو کے بھی اذان پڑھ دیتے ہیں ؟میرا سوال یہ ہے کہ بغیر وضو کے اذان دینا کیسا ہے اور کیا مسجد کے بغیر بھی اذان دینا ٹھیک ہے ؟(محمد عثمان، کراچی)

جامع القرآن ،پیکر تسلیم و رضا،خلیفہ سوم، ذوالنورین شہادتِ حضرت سیدنا عثمان غنی ؓ

قرآن مجید کی اشاعت اور ایک ہی قرات پر عالمِ اسلام کو متفق کر نا آپؓ کا عظیم کارنامہ ہے

پیکرِ جو دو سخا

اسلامی تاریخ کی بے مثال اور عہد آفرین شخصیت