ذوالقرنین اور یاجوج و ماجوج کی دیوار
سورۃ الکہف کی روشنی میں ایک تحقیقی و تفصیلی جائزہ
قرآنِ مجید میں بعض واقعات ایسے بیان ہوئے ہیں جو انسان کو ایمان، حکمت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ انہی میں ایک عظیم واقعہ ذوالقرنین اور یاجوج و ماجوج کی دیوار کا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکہف میں تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا۔ یہ واقعہ صرف ایک تاریخی داستان نہیں بلکہ قیامت کی بڑی نشانیوں، انسانی فساد، عدل و اقتدار اور اللہ تعالیٰ کی نصرت کا اہم باب ہے۔ قرآن و حدیث کی صحیح روایات کی روشنی میں اس واقعہ کا مطالعہ انسان کے ایمان کو تازگی عطا کرتا ہے۔
ذوالقرنین کا تعارف
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیے میں تمہیں اس کا کچھ حال سناتا ہوں‘‘(الکہف: 83)۔ ذوالقرنین کی شخصیت سے متعلق روسائے قریش نے یہود یثرب کی ایما پر آپﷺ سے سوال کیا تھا۔ یہود کا خیال تھا کہ چونکہ ذوالقرنین دو سینگ والے بادشاہ کا تذکرہ صرف ان کے دینی ادب میں پایا جاتا ہے جس کا مطالعہ پیغمبر اسلام ﷺ کی رسائی سے باہر ہے،اس لئے وہ اس کا جواب نہیں دے سکیں گے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے فورا یہاں سورۃ الکہف کی آیت83 تا آیت98 میں نہ صرف ذوالقرنین کی شخصیت ، قوت اور کردار کو سامنے رکھا بلکہ ذوالقرنین کے تین مہمات کو بھی اجاگر کیا ۔قرآن اور بائبل دونوں کی رو سے ذوالقرنین ایک نیک سیرت تاریخی قوت کا نام ہے جو قرآن کی رو سے توحید خداوندی اور بعث بعد الموت اور اخروی جزا و سزا پر ایمان رکھتا تھا۔
وہ صرف پارس کا حکمران تھا بعد ازاں اس نے سلطنت مادا پر قبضہ کرکے اسے اپنی مقبوضات میں شامل کیا تو ایرانی سلطنت بہت ہی وسیع ہو گئی۔ اس حوالے سے اس نے نہ صرف ذوالقرنین کا لقب اختیار کیا بلکہ اپنے تاج کے اوپر دو سینگ بھی لگوالئے۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ سلطنت پارس اور سلطنت مادیہ دونوں کا حکمران ہے۔رضا شاہ پہلوی کے دور میں جب خورس کا مقبرہ دریافت کیا گیا تو کھدائی کے دوران وہاں سے اس کا ایک مجسمہ بھی برآمد ہوا جس کے سر پر دو سینگ تراشے گئے تھے۔بائبل کی رو سے خورس صرف ایک بادشاہ نہیں بلکہ ایک برگزیدہ، مقدس اور عبقری شخصیت بھی تھے۔ جس نے سلیمان ؑ کے بعد 496 قبل مسیح میں بابل کو فتح کرکے بنی اسرائیل کو نجات دلائی جنہیں بابلی فرمانروا بخت بصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر یلغار کرکے قید کیا تھا۔
مذکورہ حوالوں سے ذوالقرنین یہود کے دینی فکر کا مرکزی سوال تھا جس کا جواب قرآن کریم نے دیا کہ ذوالقرنین مشرق سے ابھرنے والی ایک خدائی قوت تھی جسے اللہ نے غلبہ اور فتح زمین پر تسلط کی صفت سے نوازا تھا۔اور اس کو ہر قسم کے اسباب اور وسائل فراہم کئے تھے۔ اس نے قوموں کو فتح تو کیا لیکن انہیں تباہ نہیں کیا ان کے ساتھ حسن سلوک کیا اور ان کی آبادکاری اور تحفظ کو ممکن بنایا۔
ذوالقرنین کے اسفار
سورۃ الکہف میں ذوالقرنین کے تین بڑے اسفار کا ذکر ہے۔ ایک مغرب کی جانب، دوسرا مشرق کی طرف، اور تیسرا ایک دشوار گزار پہاڑی علاقے کی سمت۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’پھر وہ ایک راستے کے پیچھے چلا‘‘(سورۃ الکہف: 85)۔یہ آیات ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف علاقوں تک رسائی، طاقت اور حکمت عطا فرمائی تھی۔ ہر سفر میں اس نے لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کیا۔ نیک لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور ظالموں کے ساتھ قانون و انصاف کا رویہ اختیار کیا۔
دو پہاڑوں کے درمیان ایک قوم
ذوالقرنین اپنے تیسرے سفر میں ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں دو پہاڑ تھے۔ وہاں ایک ایسی قوم آباد تھی جو دوسری زبانیں کم سمجھتی تھی۔قرآنِ مجید میں ہے: ’’یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو ان کے قریب ایک قوم کو پایا جو بات کم سمجھتی تھی‘‘(الکہف: 93)۔اس قوم نے ذوالقرنین سے مدد کی درخواست کی کیونکہ یاجوج و ماجوج ان پر حملے کرتے اور زمین میں فساد برپا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین صرف فاتح نہیں بلکہ مظلوم قوموں کے مددگار بھی تھے۔
یاجوج و ماجوج کا فساد
قرآن نے یاجوج و ماجوج کو مفسد قوم قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’انہوں نے کہا: اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد پھیلانے والے ہیں‘‘( الکہف: 94)۔یہ فساد قتل و غارت، تباہی اور ظلم کی صورت میں تھا۔ قرآن نے ان کی تعداد یا تفصیلات زیادہ بیان نہیں کیں بلکہ اصل توجہ ان کے فساد اور قیامت کے قریب ان کے خروج پر رکھی ہے۔صحیح احادیث میں بھی ان کی کثرتِ تعداد بیان ہوئی ہے۔حضرت ابوسعید خدری ؓسے روایت ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم میں جائیں گے، اور ان میں یاجوج و ماجوج کی کثرت ہوگی۔(صحیح بخاری، بیروت ایڈیشن، جلد 6، حدیث 6530)
قوم کی فریاد اور ذوالقرنین کا جواب
اس قوم نے ذوالقرنین سے درخواست کی کہ وہ یاجوج و ماجوج کے درمیان ایک دیوار تعمیر کردیں اور اس کے بدلے مال لینے کی پیشکش کی۔ قرآنِ کریم میں ہے: ’’کیا ہم آپ کیلئے کچھ مال مقرر کردیں تاکہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں؟‘‘(الکہف: 94)۔ذوالقرنین نے جواب دیا: ’’جو کچھ میرے رب نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہتر ہے‘‘( الکہف: 95)۔یہ جواب ایک مخلص حکمران کے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے خدمت خلق کو تجارت نہیں بنایا بلکہ اللہ کی عطا پر قناعت کرتے ہوئے لوگوں کی مدد کی۔
دیوار کی تعمیر کا قرآنی طریقہ
قرآنِ مجید نے اس دیوار کی تعمیر کا حیرت انگیز طریقہ بیان کیا ہے۔ ذوالقرنین نے لوگوں سے لوہے کے بڑے ٹکڑے لانے کو کہا، پھر انہیں پہاڑوں کے درمیان برابر کردیا۔ اس کے بعد آگ دہکائی گئی اور پھر پگھلا ہوا تانبا اس پر انڈیل دیا گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’میرے پاس لوہے کی چادریں لاؤ، یہاں تک کہ جب دونوں پہاڑوں کے درمیان برابر کردیا تو کہا آگ دھونکو، یہاں تک کہ جب اسے آگ بنا دیا تو کہا میرے پاس پگھلا ہوا تانبا لاؤ تاکہ اس پر ڈال دوں‘‘(الکہف: 96)۔یہ آیات اس زمانے کی ایک غیر معمولی انجینئرنگ کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس دیوار کی مضبوطی کا یہ عالم تھا کہ یاجوج و ماجوج نہ اس پر چڑھ سکے اور نہ اس میں سوراخ کرسکے۔
دیوار کی حقیقت اور اس کی مضبوطی
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’پس وہ نہ اس پر چڑھ سکے اور نہ اس میں نقب لگا سکے‘‘( الکہف: 97)۔یہ دیوار اللہ تعالیٰ کی مدد، انسانی تدبیر اور اجتماعی تعاون کا عظیم نمونہ تھی۔ ذوالقرنین نے قوم کو بھی کام میں شریک کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی مسائل اجتماعی کوشش سے حل ہوتے ہیں۔بعض لوگ اس دیوار کے محل وقوع کے بارے میں مختلف اندازے لگاتے ہیں، لیکن قرآن و حدیث نے اس کی واضح جغرافیائی تعیین نہیں کی۔ اتنی عظیم کامیابی کے بعد بھی ذوالقرنین نے غرور نہیں کیا بلکہ ہر کامیابی کو اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا۔قرآنِ کریم میں ہے: ’’یہ میرے رب کی رحمت ہے۔ پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو وہ اسے ریزہ ریزہ کردے گا، اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے‘‘( الکہف: 98)۔یہ آیت تواضع، ایمان اور آخرت پر یقین کا عظیم سبق دیتی ہے۔ دنیا کی مضبوط ترین چیزیں بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے باقی نہیں رہ سکتیں۔
یاجوج و ماجوج کا خروج
یاجوج و ماجوج کا خروج قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ صحیح احادیث میں آیا ہے کہ آخر زمانے میں یہ دیوار ٹوٹ جائے گی اور وہ نکل آئیں گے۔ حضرت نواس بن سمعان ؓ سے روایت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں یاجوج و ماجوج نکلیں گے اور زمین میں تیزی سے پھیل جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر ایک خاص بیماری بھیجے گا جس سے وہ ہلاک ہوجائیں گے۔(صحیح مسلم، بیروت ایڈیشن، جلد 4، حدیث 2937)۔
اہم اسباق
ذوالقرنین اور یاجوج و ماجوج کا واقعہ محض تاریخ نہیں بلکہ ہدایت کا خزانہ ہے۔ اس سے کئی اہم اسباق ملتے ہیں۔(1)اقتدار اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ (2)عادل حکمران اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ (3)فساد کے خاتمے کیلئے حکمت اور قوت دونوں ضروری ہیں۔ (4)اجتماعی تعاون سے بڑے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ (5)ہر کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ (6)قیامت کی نشانیاں حق ہیں۔ (7)قرآنِ مجید انسان کو تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments