حسن کردار:فاتح قلوب بننے کا راستہ
’’اور ایک دوسرے کو طعنے نہ دو، اور نہ ایک دوسرے کے نام بگاڑو‘‘(سورۃ الحجرات) ’’اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچتے رہو، کیوں کہ بعض گمان تو گناہ ہیں، اور ٹوہ بھی نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی سے غیبت کیا کرے‘‘ (الحجرات:12)
’’اے ایمان والو! ایک قوم دوسری قوم سے ٹھٹھا نہ کرے، عجب نہیں کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے ٹھٹھا کریں کچھ بعید نہیں کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور ایک دوسرے کو طعنے نہ دو اور نہ ایک دوسرے کے نام بگاڑو، فسق کے نام لینے ایمان لانے کے بعد بہت برے ہیں، اور جو باز نہ آئیں سو وہی ظالم ہیں‘‘(الحجرات: 11)۔
کردار کے لفظی معنی طریقہ، قاعدہ، چلن، خصلت اور عادت کے ہیں۔ انسانی سوچ، نظریات، افکار اور خیالات جب اعمال میں ڈھلتے ہیں تو کردار سامنے آتا ہے۔ انسان اپنی تمام تر عقل و خرد اور فہم و ادراک کو بروئے کار لا کر کبھی رموزِ کائنات کو تو کبھی ذاتِ خود یعنی ذاتِ حق کو پوری طرح سمجھنے کیلئے تحت الشعور اور لاشعور کی گتھیاں سلجھانے میں سرگرداں ہے۔ اپنے نظریات و افکار اور خیالات کی بنیاد کیلئے اسے لامحالہ ایک ایسی ہستی کی ضرورت ہے جو اسے، اُس سے بڑھ کر جانتی ہو اور وہ ہستی اس کے خالق کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ اس لیے دور کوئی بھی ہو، عہد کیسا ہی ہو اسے اپنی راہیں متعین کرنے کیلئے، صراطِ مستقیم پر گامزن ہونے کیلئے اور منزل پانے کیلئے ایمان کی ضرورت ہے، خالق کل کائنات پر کامل ایمان!
یہ ایمان اس کی بنیاد بنتا ہے، سوچ کے صحیح رخ متعین کرتا ہے، خیالات کے دھارے کو درست سمت عطا کرتا ہے اور افکار کو جلا بخشتا ہے۔ یہی بنیاد اس کے قدموں کو زمین پہ مضبوطی سے جماتی اور اس کی نگاہ کو افلاک کی طرف اٹھاتی ہے۔ یہی بنیاد کائنات کے ہر راز سے پردہ اٹھاتی اور ذرے کا جگر چیرنے کے قابل بناتی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جو خود اسے جینا سکھاتی اور دوسروں کیلئے حیات آفریں بناتی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے اور انسان کو انسان کے قریب لاتی ہے۔ امام غزالیؒ کا قول ہے: ’’بندے کی اللہ سے دوری بندے کو بندے سے دور کر دیتی ہے‘‘۔
قارئین کرام! اللہ رب العزت کا احسانِ عظیم ہے کہ اس نے زمین پہ اتارے جانے والے اپنے اس نائب کی اسی بنیاد کو رکھنے اور اس پر کردار کی خوبصورت ترین عمارت بنانے کیلئے صحائف و کتب سماوی نازل فرمائیں۔ حتیٰ کہ آخر میں خاتم النبیین، تاجدارِ انبیاءﷺ کو مبعوث فرما کر حسین طرزِ حیات، اخلاقِ حسنہ اور حسن کردار کی تکمیل یوں فرمائی کہ قیامت تک کیلئے کوئی سوال تشنہ نہ رہا۔
اپنے کلامِ ذاتی میں ’’اے ایمان والو!‘‘ فرماتے ہوئے روئے زمین پہ بسنے والے لوگوں میں سے اپنے بندوں کو چنتے ہوئے انہیں مخاطب فرمانے کے اعزاز سے سرفراز فرمایا۔ پھر وہ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی سمجھائیں جو انسانی معاشرے کو حسن بخشتی ہیں اور ان باتوں سے منع فرما دیا جو معاشرتی بگاڑ، تنزلی اور انتشار کا سبب بنتی ہیں۔ ِ
سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 12 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچتے رہو، کیوں کہ بعض گمان تو گناہ ہیں‘‘۔ نہایت محبت سے انسان کو انسان کے قریب لانے کا سلیقہ سکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’ ، اور ٹٹول بھی نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی سے غیبت کیا کرو‘‘(الحجرات:12)۔ ذہنی و جذباتی تناؤ جو بالآخر معاشروں کی تباہی کا سبب بنتے ہیں، سے بچنے کے قرینے سکھائے: ’’ایک دوسرے کو طعنے نہ دو‘‘ (الحجرات:11) اور ’’نہ ایک دوسرے کو خراب نام سے پکارو‘‘۔ مل جل کر رہنے کے اسلوب سکھائے: ایک دوسرے کا تجسس نہ کیا کرو (الحجرات)۔
قارئین کرام! فاتح عالم کیلئے پہلے فاتح قلوب ہونا ضروری ہے کہ مقصود خطہ زمین کا حصول نہیں، مطلوب روئے زمین پہ انصاف و امن کا قیام ہے۔ مومن کی شان ممالک فتح کر کے انسانوں کو یرغمال بنانا نہیں بلکہ انسانوں کو انسان بنانا ہے۔ وہ ظالم و مظلوم دونوں کا مددگار ہوتا ہے، مظلوم کو اس کا حق دلا کر اور ظالم کو ظلم سے روک کر۔ اس کے پیشِ نظر انسانوں کی حیاتِ فانی ہی نہیں حیاتِ اخروی بھی ہوتی ہے۔
یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم
جہادِ زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں
قومیں افراد سے بنتی ہیں اور ہر فرد اپنی قوم کی اکائی ہوتا ہے۔ ہر اکائی کا حسن کردار شامل ہو تو ہی قومیں مضبوط، مستحکم اور خوشحال ہوتی ہیں۔ باہمی محبت، خلوص، رواداری اور عزت نفس کا پاس ہو گا تو دنیا میں امن، سکون، راحت اور آسودگی ہو گی۔ کردار مضبوط ہوں گے تو معاشرے میں استحکام آئے گا اور مضبوط کردار کی بنیاد وہی پختہ ایمان ہے جس کے بارے سورۃ الحجرات ہی میں ارشاد ہے: ’’اور اللہ نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا‘‘(الحجرات: 7) اور ایمان کے عمل میں ڈھلنے کیلئے ضرورت ہے اتباعِ محمد رسول اللہﷺ کی۔ ایک ایسی عظیم ہستی کے اتباع کی جو حسن اخلاق و حسن کردار کا کامل نمونہ ہے۔ زندگی کے ہر پہلو، ہر حیثیت، ہر مقام پر عمل کرنے کیلئے مثال قرآنی احکامات کی عملی تفسیر، سیرت و کردارِ حضرت محمد مصطفی ﷺمیں موجود ہے۔
یقیناً تم لوگوں کیلئے اللہ کے پیغمبر (کی ذات) میں ایک عمدہ نمونہ موجود ہے‘‘ (الاحزاب: 21) ۔قلزمِ فیوضات حضرت مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’تمام عبادات و مراقبات دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اگر معاملات درست نہ ہوئے‘‘۔ اس لیے کہ عبادات و مراقبات کا عکس اعمال و کردار سے ضرور جھلکتا ہے اور کردار کی درستگی ترقی درجات میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ اللہ کریم ہم سب کو حسن اخلاق و حسن کردار کا وہ نمونہ بنائے جس پر کل بارگاہِ الٰہی میں شفاعت رسالت مآبﷺ سے سرفراز ہو سکیں۔ آمین!
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments