حمایت علی شاعر ’’گردِ راہِ سفر‘‘ کے آئینہ دار
ساتویں برسی:شاعری میں شاید ہی کوئی ایسی صنف ہو جس میں انہوں نے اپنی فنی مہارت کا ثبوت نہ دیا ہو:اُردو زبان میں پہلی منظوم سوانح حیات ’’ آئینہ در آئینہ‘‘ لکھی جو چار سو صفحات پر محیط ہے‘اس کی فرمائش صہبالکھنوی نے ’’ افکار‘‘ میں شائع کرنے کیلئے کی‘انہوں نے ہمت کی اور یہ پہاڑ ہتھیلی پر اٹھا لیا
مختصر سوانح
خاندانی نام :حمایت علی
ادبی نام :حمایت علی شاعر
پیدائش:14جولائی 1926
کتب
آگ میں پھول(نظمیں غزلیں، رباعیات)
دودِ چراغِ محفل( یادگار مشاعرہ حیدر آباد کا انتخاب)
مٹی کا قرض( ثلاثیاں، نظمیں، غزلیں)
تشنگی کا سفر( طویل افسانوی و تمثیلی نظمیں)
ہارون کی آواز( نظمیں اور غزلیں)
حرف حرف روشنی (منتخب کلام)
عقیدت کا سفر( تالیف و تحقیق) نعتیہ شاعری کے سات سو سال
آئینہ در آئینہ( منظوم خود نوشت سوانح )
تجھ کو معلوم نہیں(فلمی نغمات)
شیخ ایاز( جدید سندھی ادب کا عہد آفریں شاعر)
کھلتے کنول سے لوگ(دکن کے اہلِ قلم)
اعزازات
صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی
نگار ایوارڈ( بہترین نغمہ نگار) فلم آنچل
نگار ایوارڈ( بہترین نغمہ نگار) فلم دامن
رائٹرز گلڈ آدم جی ادبی ایوارڈ، (مجموعہ کلام) مٹی کا قرض
ایوارڈ برائے اعلیٰ کارکردگی( ریڈیو پاکستان حیدر آباد)
بہترین ڈرامہ نگار (شکست کی آواز۔ منظوم یک کرداری تمثیل) ریڈیو پاکستان، کراچی
وفات:15جولائی2019ء(کینیڈا)
اورنگ آباد،دکن کے ایک فوجی گھرانے سے تعلق رکھنے والے حمایت طراب، جنہیں اردوزبان و ادب سے محبت کرنے والی دنیاحمایت علی شاعر کے نام سے جانتی ہے، اپنے والد کی خواہش کے برعکس فوج کی بجائے ادب کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ جب حمایت طراب تھے اس زمانے میں افسانے لکھا کرتے تھے۔ شاعری کی طرف آئے تو تخلص ’’شاعر ‘‘کر لیا۔ تقسیم ِ ہند کے وقت باقی خاندان کے بھارت میں رہ جانے کے باوجود انہوں نے اپنے لئے پاکستان کو پسند کیا۔ 1950ء کے اوائل میں کراچی آکر ریڈیو پاکستان کا حصہ بنے ۔ریڈیو میں مختلف ذمہ داریاں انجام دینے کے ساتھ 60ء کے عشرے میں انہوں نے پاکستان کی فلمی دنیا میں بطور گیت نگار قدم رکھا اوربہت سے نگار ایوارڈز اپنے نام کیے۔صحافتی ، ادبی اور تحقیقی حوالے سے بے شمار کتابوں کے اس خالق کو حکومت ِ پاکستان کی جانب سے 2002ء پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دیا گیا۔
حمایت علی شاعر کی تخلیقی سرگرمیوں کا عرصہ اتنا طویل ہے کہ بہت سے شاعروں کی اتنی عمر بھی نہیں ہوگی۔وہ کم و بیش چھ دہائیوں تک شعر و ادب کی تخلیق کاری میں سرگرم رہے۔ ان کی تصنیفات و تخلیقات کی فہرست خاصی لمبی ہے اور انہوں نے نظم و نثر دونوں میں لکھا اور پوری دلجمعی سے لکھا ۔ شاعری میں شاید ہی کوئی ایسی صنف ہو جس میں حمایت علی شاعر نے اپنی صلاحیت اور فنی مہارت کا ثبوت نہ دیا ہو۔تنقید و تحقیق کے میدان میں بھی پیچھے نہیں رہے اور تراجم میں بھی قابلِ ذکر کام کیا۔
ایک فنکار کے طور پہ حمایت علی شاعر شعوری طور پر کسی ایسی جدت کے طرف دار نہیں تھے جو اس کا رشتہ اپنے عہد یا اپنے عہد کی زندگی سے توڑ لے۔ ان کے خیال میں جتنی اہمیت روایت کی ہوتی ہے، اتنی ہی ان اقدار کی بھی ہوتی ہے جنہیں عصر رواں جنم دیتا ہے۔ ان کے نزدیک فنکار اپنے عہد کا نمائندہ انہی معنوں میں ہوتا ہے اور ادب اپنے عہد کی تاریخ انہی معنوں میں مرتب کرتا ہے کہ وہ اپنے عصر کے شعور کا ترجمان ہوتا ہے۔ بقول فیض احمد فیض ’’حمایت علی شاعر نے جدید شاعری میں بہت سے ایسے پیرائے وضع کئے ہیں جو پہلے نہ تھے۔ وہ بہت ضبط اور نظم کے ساتھ لکھتے ہیں۔ آج کل لوگوں کو پرانی روایات کو توڑنے پھوڑنے کا شوق ہے جو یقینا صحت مند بات ہے۔ لیکن روایات کو پائوں تلے روند دینا اچھی بات نہیں۔ حمایت علی شاعر نے ماضی کی روایات کو پائمال نہیں کیا۔ شاعر جب اختصار سے لکھتا ہے تو اس اختصار میں بھی بہت سی بلاغت ہوتی ہے۔ اس اختصار سے معنی کے بہت سے پہلو پڑھنے والے تک پہنچ جاتے ہیں‘‘۔
ادب شناسی اور شعر فہمی حمایت علی شاعر کی بنیادی خصوصیات ہیں، تاہم اصل صفت ان کا پاکیزہ ادبی شعور اور تخلیقی جوہر ہے۔ انہوں نے ادبی تخلیقات میں بھی کئی طرح سے جدت کا ثبوت دیا ۔ اردو شاعری میں ثلاثی کو متعارف کرایا اور پھر اپنی منظوم سوانح حیات پیش کرکے ایک قدم اور آگے بڑھے۔ خودنوشت سوانح حیات تو بہت لکھی گئیں لیکن یہ اردو زبان میں پہلی منظوم سوانح حیات ہے جس کا عنوان ’ آئینہ در آئینہ‘ ہے اور چار سو صفحات پر محیط ہے ۔روداد اس خود نوشت کی یوں ہے کہ صہبالکھنوی صاحب نے شاعر سے خود نوشت لکھنے کی فرمائش کی۔ صہبا اپنے رسالے ’’افکار‘‘ میں متعدد مشاہیر ادب کی خود نوشتیں قسط وار شائع کر چکے تھے ۔شاعر سے بھی فرمائش کی گئی اور اس شرط کے ساتھ کہ منظوم لکھو۔ شاعر نے ہمت کی اور یہکر دکھایا۔ جنوں کی حکایات لکھیں، نازک مرحلوں اور مقامات سے گزرنا پڑا تو مردانہ وار گزرے۔ حمایت علی شاعری کی منظوم خود نوشت کو اس لحاظ سے اولیت حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے حالات و واقعات ابتدا سے آخر تک تسلسل کے ساتھ باقاعدہ نظم کئے اور شاعرانہ مہارت کے ساتھ کئے ۔ صرف اپنے ذاتی حالات ہی نہیں لکھے بلکہ ان کی زندگی جن مختلف مراحل سے گزری اور جس ماحول سے گزری انہوں نے اس کی جھلکیاں بھی پیش کیں۔ اس طرح اس میں مختلف ادوار، سماجی اور سیاسی حالات و واقعات کی تصویریں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔انہوں نے اس میں تاریخی، ادبی، تہذیبی، سیاسی اور ثقافتی حوالوں سے فکرو خیال کے رنگ بھر دیئے ہیں۔
وہ اپنی شاعری کے متعلق ایک جگہ لکھتے ہیں کہ میری پوری شاعری ’گردِ راہِ سفر‘ کی آئینہ دار ہے۔ یہ گرد زندگی کے ہر موڑ پر میرے دامن ، میرے تن من سے لپٹی رہی ہے اور سچ پوچھئے تو اسی گرد سے میری شاعری ابھری ہے اور شاید کسی روز اسی گرد میں دب کر بھی رہ جائے۔
حالات زندگی میں جھانکیں تو میٹرک کی سند کے مطابق حمایت علی شاعر کی تاریخ پیدائش14جولائی 1926ء ہے۔آبائی شہر اورنگ آباد تھا۔1951ء میں میٹرک کا امتحان دے کر ہندوستان سے پاکستان آ گئے۔ ادبی زندگی کا آغاز 1945ء میں ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ہندوستان میں آزادی کے جذبے کا وفور تھا اورپاکستان ناگزیر تھا۔ ادھر حیدر آباد(دکن) سیاسی اعتبار سے ایسے گروہ کے ہاتھ میں آ گیا تھا جس کی سیاسی بصیرت اپنی مثال آپ تھی۔ خیر، اورنگ آباد، جس کی خاک کو ولی جیسے شاعر کے نقش کف پا کا شرف حاصل ہے، جہاں کی فضائوں میں دائود جیسے شیریں مقال شاعر کے نغمے گونجے اور جس کی مٹی نے سراج کو آج بھی اپنے سینے سے لگا رکھا ہے۔ عرصۂ دراز سے ادبی اور علمی اعتبار سے اس قدر محدود ہو کر رہ گیا تھا کہ اپنی آواز کی بازگشت بھی سنائی نہیں دیتی تھی۔ حمایت علی شاعر کی شاعری نے اس ویرانے میں جنم لیا اور آنکھیں کھول کر جب اطراف میں دیکھا تو دور دور تک اندھیرا تھا۔ کہیں کہیں کچھ چراغ ٹمٹما رہے تھے جن کی لرزتی ہوئی روشنی ان کے دل کی ڈھارس بندھا دیتی تھی۔
جہاں تک حمایت علی شاعر کے کلام کا تعلق ہے اسے تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ غم جاناں، غم وطن اور غم جہاں۔ غم جاناں کے زمرے میں جو تخلیقات شامل ہیں ان میں یقیناً ان کاذاتی غم موضوع شعر ہے لیکن انہوں نے کوشش کی ہے کہ ان کاذاتی غم ’ نجی غم‘ بن کر نہ رہ جائے بلکہ سماجی زندگی کے رشتے سے یہ موضوع غم مشترک کی حیثیت اختیار کر جائے؛ چنانچہ اسے غم دوراں سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔غم وطن یقیناً ان کے یہاں غم جاناں سے مختلف ہے۔اس کا لب و لہجہ مختلف ہے، اس میں تلخی کا احساس مختلف ہے۔ اس کے بعد غم جہاں کا سلسلہ ہے جس میں غم جاناں اور غم وطن دونوں شامل ہیں۔ ان کی جو تخلیقات اس دائرے میں آتی ہیں اس میں کہیں آپ کو بے پناہ ضبط کا احساس ہوگا اور کہیں ایسا محسوس ہوگا کہ چیخ ، للکار بن گئی ہے۔
حمایت علی شاعر بے شمار سدا بہار فلمی گیتوں کے بھی خالق تھے۔ انہیں بہت سے اعزازات سے نوازا گیا۔ان کے شعری مجموعوں میں ’آگ میں پھول‘ ،’مٹی کا قرض‘، ’تشنگی کا سفر‘ اور ’ہارون کی آواز‘ شامل ہیں۔ ان کی نعتیہ شاعری کا انتخاب ’حرف حرف روشنی‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے علاوہ شیخ ایاز کے فن اور شخصیت پر ’شخص وعکس‘ کے نام سے تنقیدی مقالات اور ’بنگال سے کوریا تک‘ طویل افسانوی نظم بھی ان کی مطبوعات میں شامل ہے۔حمایت علی شاعر کا انتقال 15 جولائی 2019ء کو کینیڈا میں ہوا ، وہیں آسودۂ خاک ہیں۔
منتخب غزلیں
ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ
دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ
کس لیے کیجے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش
جب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ
کتنے سادہ دل ہیں اب بھی سن کے آواز جرس
پیش و پس سے بے خبر گھر سے نکل جاتے ہیں لوگ
اپنے سائے سائے سر نہوڑائے آہستہ خرام
جانے کس منزل کی جانب آج کل جاتے ہیں لوگ
شمع کے مانند اہل انجمن سے بے نیاز
اکثر اپنی آگ میں چپ چاپ جل جاتے ہیں لوگ
شاعرؔان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ
ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ
………
آنکھ کی قسمت ہے اب بہتا سمندر دیکھنا
اور پھر اک ڈوبتے سورج کا منظر دیکھنا
شام ہو جائے تو دن کا غم منانے کے لیے
ایک شعلہ سا منور اپنے اندر دیکھنا
روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا
اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا
سنگ منزل استعارہ سنگ مرقد کا نہ ہو
اپنے زندہ جسم کو پتھر بنا کر دیکھنا
کیسی آہٹ ہے پس دیوار آخر کون ہے
آنکھ بنتا جا رہا ہے روزن در دیکھنا
ایسا لگتا ہے کہ دیواروں میں در کھل جائیں گے
سایۂ دیوار کے خاموش تیور دیکھنا
صفحۂ قرطاس ہے یا زنگ خوردہ آئینہ
لکھ رہے ہیں آج کیا اپنے سخن ور دیکھنا
………
اس کے غم کو غم ہستی تو مرے دل نہ بنا
زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا
تو بھی محدود نہ ہو مجھ کو بھی محدود نہ کر
اپنے نقش کف پا کو مری منزل نہ بنا
اور بڑھ جائے گی ویرانء دل جان جہاں
میری خلوت گہ خاموش کو محفل نہ بنا
پھر مری آس بندھا کر مجھے مایوس نہ کر
حاصل غم کو خدارا غم حاصل نہ بنا
منتخب اشعار
میں کچھ نہ کہوں اور یہ چاہوں کہ مری بات
خوشبو کی طرح اڑ کے ترے دل میں اتر جائے
………
اس جہاں میں تو اپنا سایہ بھی
روشنی ہو تو ساتھ چلتا ہے
………
اس دشت پہ احساں نہ کر اے ابر رواں اور
جب آگ ہو نم خوردہ تو اٹھتا ہے دھواں اور
سورج کو یہ غم ہے کہ سمندر بھی ہے پایاب
یا رب مرے قلزم میں کوئی سیل رواں اور
………
سورج کے اجالے میں چراغاں نہیں ممکن
سورج کو بجھا دو کہ زمیں جشن منائے
………
اپنے کسی عمل پہ ندامت نہیں مجھے
تھا نیک دل بہت جو گنہ گار مجھ میں تھا
………
کیا کیا نہ زندگی کے فسانے رقم ہوئے
لیکن جو حاصلِ غمِ دل تھے وہ کم ہوئے
اے تشنگیٔ درد، کوئی غم، کوئی کرم
مدت گزر گئی ہے ان آنکھوں کو نم ہوئے
………
آج اے دل، لب و رخسار کی باتیں ہی سہی
وقت کٹ جائے گا کچھ پیار کی باتیں ہی سہی
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments