4ٹیمیں، ایک ٹرافی،تاریخ رقم کرنے کی جنگ
فیفا ورلڈ کپ 2026:سیمی فائنل مرحلہ:فائنل میں رسائی کیلئے 4بہترین ٹیمیں آمنے سامنے پہلے سیمی فائنل میں فرانس اور سپین 15 جولائی کو مد مقابل ہوں گے
فیفا ورلڈ کپ 2026ء اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں دنیا کی نظریں اب صرف اُن چار ٹیموں پر مرکوز ہیں جنہوں نے مہینوں پر محیط جدوجہد، اعصاب شکن مقابلوں اور شاندار کارکردگی کے بعد سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ہر پاس، ہر حملہ، ہر دفاع اور ہر گول نہ صرف میچ بلکہ تاریخ کا رخ بھی بدل سکتا ہے۔ اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ صرف ایک کامیابی ٹیم کو عالمی فٹ بال کے سب سے بڑے اعزاز کے ایک قدم قریب لے جاتی ہے، جبکہ شکست برسوں کی محنت کو چند لمحوں میں ماضی کا حصہ بنا دیتی ہے۔
48 ٹیموں پر مشتمل اس توسیع شدہ ورلڈ کپ نے پہلے ہی کئی حیران کن نتائج، سنسنی خیز مقابلے اور نئی داستانیں جنم دی ہیں۔ نئے فارمیٹ کے باعث سیمی فائنل تک پہنچنے والی ہر ٹیم کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ ناک آؤٹ مقابلے کھیلنے پڑے، جس سے اس ٹورنامنٹ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب میدان میں صرف وہی ٹیمیں باقی ہیں جنہوں نے مستقل مزاجی، بہترین حکمت عملی اور غیر معمولی اعصابی مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے۔
سیمی فائنل صرف دو میچ نہیں ہوتے، بلکہ یہ جذبات، قومی وقار، کھلاڑیوں کے خوابوں اور کروڑوں شائقین کی امیدوں کا امتحان ہوتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں عالمی ستارے اپنی صلاحیتوں کا آخری جوہر دکھاتے ہیں، نئے ہیرو جنم لیتے ہیں اور تاریخ کے صفحات میں سنہری باب رقم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کو فٹ بال کا سب سے زیادہ دباؤ، سب سے زیادہ سنسنی اور سب سے زیادہ یادگار مرحلہ تصور کیا جاتا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے کوارٹر فائنل مرحلے کا آغاز 10 جولائی سے ہوا اور ایک ٹرافی کیلئے 8 ٹیموں کے در میان گھمسان کا رن پڑا۔ جن میں سے صرف چار ٹیمیں اگلے مرحلے سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کریں گی جبکہ چار ٹیمیں خالی ہاتھ اپنے گھروں کو واپس جائیں گی۔سیمی فائنل کیلئے دو ٹیموں فرانس اور سپین کا انتخاب ہو چکا ہے جو 15 جولائی کو امریکہ میں کھیلے جانے والے پہلے سیمی فائنل میں مد مقابل ہوں گی۔
پہلاکوارٹر فائنل بوسٹن اسٹیڈیم میں رواں ٹورنامنٹ میں نا قابل شکست اور تین بار کی عالمی چیمپئن ٹیم فرانس اور مراکش کے درمیان ہوا۔فرانس نے مراکش کو 0-2 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا ئی۔ میچ میں فرانسیسی ٹیم نے ابتدا ہی سے جارحانہ کھیل پیش کیا اور مراکش کے گول پر مسلسل حملے کیے، تاہم پہلے ہاف میں دونوں ٹیمیں کوئی گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ پہلے ہاف میں فرانس کو اس وقت سنہری موقع ملا جب کیلیان ایمباپے کو پنالٹی ملی، لیکن مراکش کے گول کیپر نے شاندار سیو کرتے ہوئے ان کی کوشش ناکام بنا دی، جس کے باعث وقفے تک مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہا۔ دوسرے ہاف میں فرانس نے کھیل پر مکمل گرفت برقرار رکھی۔ 60ویں منٹ میں کپتان کیلیان ایمباپے نے گول کر کے ٹیم کو برتری دلائی، جبکہ صرف چھ منٹ بعد عثمان ڈیمبیلے نے خوبصورت گول اسکور کرکے فرانس کی برتری 0-2 کر دی۔مراکش کو بھی واپسی کے چند مواقع ملے۔ 82ویں منٹ میں فری کک پر فرانسیسی گول کیپر نے شاندار بچاؤ کیا، جبکہ اس کے بعد بھی مراکش کا ایک یقینی گول ضائع ہو گیا۔اس کامیابی کے ساتھ فرانس مسلسل تیسری مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔
دوسرا کوارٹر فائنل سابق عالمی چیمپئن اور پری کوارٹر فائنل میں رونالڈو کی ٹیم پرتگال کو ہرانے والی ٹیم سپین اور بیلجیم کے درمیان ہوا اور سپین نے سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کیا۔ لاس اینجلس میں کھیلے گئے اس کوارٹرفائنل میں سپین نے بیلجیئم کو ایک کے مقابلے میں 2 گول سے شکست دی۔ پہلا ہاف 1-1 سے برابر رہا۔ آخرکار سپین نے اس وقت کامیابی حاصل کی جب بیلجیئم کے متبادل گول کیپر لامنس، جو زخمی تھیبو کورٹوا کی جگہ دوسرے ہاف میں میدان میں آئے تھے، پاؤ کوبارسی کی زمین کے قریب لگائی گئی شاٹ کو قابو میں نہ رکھ سکے۔گیند لامنس کے سامنے اچھلی، جس سے میرینو کو گیند گول میں پہنچانے کا موقع مل گیا۔سابق عالمی چیمپئن سپین کی جانب سے پہلا گول فیبیان نے 30 ویں منٹ میں کیا جس کے بعد بیلجیئم کے ڈی کیٹالا نے 41ویں منٹ میں حساب چُکتا کردیا۔میچ کے اختتامی مراحل میں اسپین نے دوسرا گول کر کے 1-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کی۔ دوسرا گول 88ویں منٹ میں مرینو نے کیا۔سپین کے کوچ لوئس دے لا فوینتے کا کہنا ہے کہ ہم فرانس کو شکست دینے کیلئے سخت محنت کریں گے۔ وہ بھی اتنے ہی پریشان ہوں گے جتنے ہم ہیں۔
دریں اثناء فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں افریقی ٹیموں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف شائقین کو متاثر کیا بلکہ براعظم افریقہ کو زیادہ نمائندگی دینے کے فیفا کے فیصلے کو بھی درست ثابت کر دیا۔ توسیع شدہ ورلڈ کپ میں شریک 10 افریقی ٹیموں میں سے 9 نے ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کی، جو ٹورنامنٹ میں شریک تمام براعظموں کے مقابلے میں کامیابی کا بہترین تناسب قرار پایا۔
48 ٹیموں پر مشتمل فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں افریقہ کیلئے براہِ راست کوٹے کو 5 سے بڑھا کر 9 کیا گیا تھا، جبکہ جمہوریہ کانگو نے بین البراعظمی پلے آف میں کامیابی حاصل کرکے براعظم کی نمائندگی کرنے والی ٹیموں کی مجموعی تعداد 10 تک پہنچا دی تھی۔ ان میں سے صرف تیونس گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکا، جبکہ باقی 9 ٹیموں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا لی۔
اعداد و شمار کے مطابق افریقی ٹیموں کی کامیابی کی شرح 90 فیصد رہی، جو جنوبی امریکا، یورپ اور ایشیا سمیت دیگر تمام خطوں سے بہتر ثابت ہوئی۔ یہ غیر معمولی کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افریقی فٹ بال گزشتہ چند برسوں میں تکنیکی مہارت، جسمانی استعداد اور مسابقتی معیار کے اعتبار سے نمایاں ترقی کر چکا ہے، اور اب افریقی ٹیمیں کسی بھی مضبوط حریف کو شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
اہم اعداد و شمار
٭…کیلیان ایمباپے نے کوارٹر فائنل تک فرانس کے چھ میں سے پانچ میچوں میں گول کیے ہیں اور اس وقت ایڈیڈاس گولڈن بوٹ کی دوڑ میں سرفہرست ہیں۔
٭…ورلڈ کپ کی تاریخ میں لیونل میسی (21) کے بعد سب سے زیادہ گول کیلیان ایمباپے (20) نے کیے ہیں۔
٭…کیلیان ایمباپے نے ایک اور تاریخی اعزاز بھی اپنے نام کیا۔ رواں ورلڈ کپ میں ان کے گولوں کی تعداد 8 ہو گئی ہے، جس کے ساتھ وہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں دو مختلف ایڈیشنز میں آٹھ، آٹھ گول کرنے والے پہلے فٹ بالر بن گئے۔ اس سے قبل انہوں نے قطر میں ہونے والے 2022ء کے ورلڈ کپ میں بھی مجموعی طور پر 8 گول اسکور کیے تھے۔
٭…عثمان ڈیمبیلے ایک ہی فیفا ورلڈ کپ ایڈیشن میں پانچ گول کرنے والے فرانس کے تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ ان سے قبل یہ کارنامہ کیلیان ایمباپے اور جسٹ فونٹین انجام دے چکے ہیں۔
٭…ایوب بوعدی نے 18 سال اور 280 دن کی عمر میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ وہ کسی بھی افریقی ٹیم کی جانب سے نو عمری (ٹین ایج) میں ورلڈ کپ کے پانچ میچ کھیلنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔