ڈیجیٹل دور میں خواتین کی معاشی خودمختاری

تحریر : راضیہ حق


دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انٹرنیٹ، آرٹیفشل انٹیلی جنس، ای کامرس، فری لانسنگ اور سوشل میڈیا نے نہ صرف کاروبار کے انداز بدل دیے ہیں بلکہ روزگار کے نئے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔

 اس بدلتی دنیا میں خواتین کے لیے معاشی خودمختاری کے ایسے مواقع پیدا ہوئے ہیں جن کا چند برس پہلے تصور بھی مشکل تھا۔ اب کسی خاتون کے لیے معاشی طور پر بااختیار بننے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ روزانہ دفتر جائے یا کسی روایتی ملازمت سے وابستہ ہو۔ اگر اس  کے پاس انٹرنیٹ، ایک کمپیوٹر یا سمارٹ فون اور سیکھنے کا جذبہ موجود ہے تو وہ گھر بیٹھے اپنی صلاحیتوں کو آمدنی میں تبدیل کر  سکتی ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں خواتین کی بڑی تعداد اب بھی معاشی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ نہیں لے پا رہی۔ محدود ملازمتیں، سماجی پابندیاں، گھریلو ذمہ داریاں اور سفری مسائل خواتین کی پیشہ ورانہ ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ایسے میں ڈیجیٹل معیشت ان کے لیے ایک امید افزا متبادل بن کر سامنے آئی ہے۔

فری لانسنگ، ای کامرس اور مصنوعی ذہانت 

آج فری لانسنگ دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی صنعتوں میں شامل ہے۔ کانٹینٹ کری ایشن، گرافک ڈیزائننگ، ویب ڈویلپمنٹ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سوشل میڈیا مینجمنٹ اور ورچوئل اسسٹنٹ جیسی خدمات کی عالمی سطح پر مانگ بڑھ رہی ہے۔ پاکستانی خواتین بھی ان شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور گھر بیٹھے عالمی منڈی سے منسلک ہو کر آمدنی حاصل کر رہی ہیں۔ای کامرس نے بھی خواتین کے لیے کاروبار کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں۔ دستکاری، ملبوسات، بیکنگ، گھریلو مصنوعات اور دیگر اشیا سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے فروخت کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت نے مواد نویسی، تحقیق، ترجمہ، ڈیزائن اور دیگر تخلیقی شعبوں میں نئی راہیں کھولی ہیں۔ اگر خواتین جدید ڈیجیٹل مہارتیں حاصل کریں تو وہ عالمی مارکیٹ میں زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکتی ہیں۔

چیلنجز اور حل

اگرچہ مواقع بڑھ رہے ہیں لیکن کئی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں مثلاً ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی، مالی وسائل تک محدود رسائی، معیاری انٹرنیٹ کی عدم دستیابی، سائبر ہراسمنٹ اور آن لائن فراڈ جیسے مسائل خواتین کی پیش رفت میں حائل ہیں، جبکہ  بعض خاندانوں میں آن لائن کام کو  ابھی باقاعدہ پیشہ تسلیم نہیں کیا جاتا جس سے خواتین کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ان مسائل کے حل کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، نجی شعبے اور سماجی تنظیموں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ خواتین کے لیے ڈیجیٹل مہارتوں،  فری لانسنگ، ای کامرس، مالیاتی خواندگی اور سائبر سکیورٹی سے متعلق تربیتی پروگراموں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ساتھ ہی خواتین کو بھی مسلسل سیکھنے، انگریزی زبان اور جدید ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

معاشی خودمختاری صرف آمدنی کمانے کا نام نہیں بلکہ خود اعتمادی، بہتر فیصلہ سازی اور خاندان کی خوشحالی کا ذریعہ بھی ہے۔  جب خواتین معاشی طور پر مضبوط ہوتی ہیں تو اس کے مثبت اثرات بچوں کی تعلیم، صحت، معیارِ زندگی اور قومی معیشت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ڈیجیٹل دور نے خواتین کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھول دیے ہیں مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ جدید مہارتیں سیکھیں، ٹیکنالوجی کو اپنائیں اور دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ اگر ریاست، نجی شعبہ اور معاشرہ خواتین کو سازگار ماحول فراہم کرے تو لاکھوں خواتین نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتی ہیں بلکہ ملک کی اقتصادی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہی ڈیجیٹل دور میں حقیقی معاشی خودمختاری کی بنیاد ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

چہرے کی دلکشی کے لیے گھریلو ٹریٹمنٹ

ہر خاتون کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا چہرہ صاف اور قدرتی طور پر دلکش نظر آئے۔ خوبصورت جلد صرف مہنگی کریموں یا بیوٹی ٹریٹمنٹس سے ہی حاصل نہیں ہوتی، بلکہ روزمرہ کی اچھی عادات، متوازن غذا اور چند محفوظ گھریلو نسخے بھی جلد کی خوبصورتی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آج کا پکوان:مرغ دال

اجز: ایک عدد درمیانی سائز کی مرغی (گوشت)، آدھا کلو چنے کی دال، ایک عدد بڑا پیاز باریک کٹا ہوا، آدھا کلو ٹماٹر باریک کٹے ہوئے، دو عدد ہری مرچیں، چھ چمچ ادرک لہسن کا پیسٹ، ایک پیالی دہی، نمک حسبِ ذائقہ، آدھا چمچ پسی ہوئی ہلدی، ایک چمچ پسا ہوا دھنیا، دو چمچ کٹا ہوا ثابت مصالحہ، آدھا چمچ زیرہ، گرم مصالحہ حسبِ ضرورت، چند تیز پتے اور تیل حسبِ ضرورت۔

احمد ندیم قاسمی: انسان دوست ادیب اور شاعر

20 ویں برسی:ان کی شاعری اور افسانوں میں فکری گہرائی اور وسعت کے ساتھ تاریخی اور عمرانی شعور بھی نمایاں ہے:قاسمی صاحب نے لکھا ہے کہ زندگی کے کر بناک حالات انہیں فنکار بنایا، ان کی جگہ کوئی معمولی اور عمومی ذہن کا بچہ ایسے حالات میں پرورش پاتا تو وہ کوئی بھی منفی قدم بھی اٹھا سکتا تھا

فیفا ورلڈ کپ 2026 سنسنی خیز مرحلےمیں داخل

رائونڈ آف32 اختتام پذیر:پہلے ناک آئوٹ مرحلہ میں میسی ،صلاح اور ڈیاز نمایاں رہے ،رائونڈ آف 16 کا آغاز

غرور کا انجام

تپتی دوپہر میں ریاض نے ایک ہی رٹ لگا رکھی تھی۔ اس کے دوست پسینے سے شرابور، تھکے ہارے بیٹھے تھے۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

جب ہمیں گرمی لگتی ہے تو پسینہ کیوں نکلتا ہے؟