چارٹر آف اکانومی پر پیش رفت کیوں نہیں ؟

تحریر : سلمان غنی


سیاسی محاذ پر ڈائیلاگ کا عمل کیسے ممکن ہو گا؟

بیرونی محاذ پر زبردست پذیرائی کے ساتھ اگر داخلی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو کوئی بھی باشعور پاکستانی ملکی سیاست پر اطمینان کا اظہار کرتا نظر نہیں آتا ۔زیادہ مایوسی اس بات کی ہے کہ ان حالات میں سیاسی قوتوں کا کوئی کردار نظر نہیں آ رہا تاہم بعض سیاسی حلقے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے پلیٹ فارم سے سیاسی قوتوں کے درمیان مفاہمت کیلئے کردار ادا کررہے ہیں ۔  آج کے حالات میں سیاسی قوتوں کے درمیان مکالمہ اہم قومی ضرورت ہے۔ جب تک سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو  برداشت کرنے اور سننے کیلئے تیار نہیں ہوں گی اس وقت تک قومی سطح پر اتفاق رائے ممکن نہیں۔ پاکستان اگر امریکہ، ایران جنگ میں سفارتی اور ثالثی کردار ادا کر سکتا ہے تو ملک کے اندر اہلِ سیاست مل بیٹھ کر اپنے درمیان تنازعات اور اختلافات کا حل کیوں نہیں نکال سکتے؟ کچھ سیاسی قوتیں آپس میں مذاکرات کی بجائے صرف اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کو ترجیح دینے کی بات کرتی ہیں، یہ عمل بھی سیاست کے حوالہ سے اچھا نہیں اور اس  نے ملک میں سیاست کو کمزور کیا ہے۔ جمہوری نظام کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو دیوار سے لگانے اور کردار کو ختم کرنے کی بجائے ایک دوسرے کوبرداشت کریں۔یہ ملک جمہوری جدوجہد کی بنا پر بنا تھا اور جمہوریت کی مضبوطی ہی اسے استحکام کی منزل پر پہنچا سکتی ہے ۔

سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات اور حکومت واپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک کا خاتمہ اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سیاسی استحکام ناگزیرہے اور قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ سٹیک ہولڈرز ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کے  مضبوط مستقبل کیلئے مل بیٹھیں۔ وزیراعظم شہبازشریف چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کی بات کرتے نظر آ رہے ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ بھی ایک قدم آگے بڑھیں اور اس مقصد کیلئے ساز گار ماحول یقینی بنائیں ۔اگر وہ قومی اسمبلی کے ایوان میں چل کر اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی نشست پر جا کر اُن سے ہاتھ ملا کر سیاسی محاذ پر مثبت پیغام دے سکتے ہیں تو ملک کے وسیع تر مفاد میں وہ ہاتھ ملانے کے ساتھ ساتھ نبھانے کا سیاسی عمل بھی اختیار کر دیکھیں۔ اس کا نقصان تو نہیں ہوگا البتہ سیاسی محاذ پر درجہ حرارت میں خاصی کمی آ سکتی ہے۔ اگر ایوانوں میں پاکستان کی کامیاب ثالثی پر مشترکہ قرارداد پاس کی جا سکتی ہے تو ملک میں معاشی استحکام کیلئے سیاسی قیادت مل کر کیوں نہیں بیٹھ سکتی؟ اپوزیشن میں وہ لوگ جو سیاسی قیادت سے مل بیٹھنے کو اپنی توہین قرار دیتے رہے ہیں انہیں بھی اپنے طرز عمل میں تبدیلی لا کر سیاست کیلئے سیاسی طرز عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

یہی نوشتۂ دیوار اور یہی وقت کی آواز ہے جسے جتنا جلد پڑھ لیا جائے اتنا ہی بہتر ہوگا ۔ہم جتنی تگ دو بیرونی محاذ پر کرتے نظر آ رہے ہیں اس سے آدھی کوشش سیاسی محاذ پر کی جائے تو یہاں سے بھی اچھے نتائج اور ثمرات سامنے آ سکتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے پاس تو مینڈیٹ ہی پی ٹی آئی کے بانی کی رہائی، ریلیف اور ان کے سیاسی کردار کیلئے راستہ بنانے اور معاملات کو آگے چلانے کا تھا، اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ شریف خاندان اور دیگر اہل سیاست کے ساتھ اچکزئی کے اچھے تعلقات کار تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حوالے سے بھی پی ٹی آئی اور اپوزیشن کے حلقے مطمئن نظر نہیں آ رہے، اس لئے کہ وہ اب تک نہ تو کوئی راستہ بنا سکے اور نہ ہی حکومت سے بات چیت کیلئے دروازہ کھل سکا۔ یہی وجہ ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے نہ صرف حکومت کی ساکھ پر سوال اٹھا یا بلکہ حکومت پر جمہوری اداروں کی کمزوری کا اعتراض بھی جڑ دیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہبازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے ایسا کون سا جرم کیا ہے کہ انہیں احتجاج کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے، جس پر وزیراعظم شہبازشریف نے نہ صرف قومی اداروں کا دفاع کیا بلکہ حکومت کی ساکھ پر اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دیا اور کہا کہ اگر وہ ہماری حکومت کی ساکھ پر سوال اٹھا رہے ہیں تو پھر یہ 2018ء کے الیکشن کی تحقیقات کرا لیں اُس میں کیا کچھ ہوا ہے تو اگر وہ حکومت آئینی تھی تو یہ حکومت بھی جائز ہے۔ سپیکر ایاز صادق نے بھی اپوزیشن لیڈر کی جانب سے خود پر آئین کا دفاع نہ کرنے کے الزام پر سخت ردعمل دیا اور کہا کہ وہ اپوزیشن لیڈر کو یہاں قومی اداروں کو ٹارگٹ نہیں کرنے دیں گے، پاکستان کی بجائے افغانستان کو  ترجیح دیئے جانے والے بیانات کی ایوان میں کوئی گنجائش نہیں۔

ایوان میں اپوزیشن لیڈر کی جانب سے اختیار کئے جانے والے طرز عمل سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ حکومت پر تو دبائو نہیں بڑھا سکے خود دبائو میں ہیں۔ وہ اپنے اصل مینڈیٹ میں سرخرو نہ ہونے کے باعث اب ایوان میں نئی صورتحال پیدا کرکے سرخرو ہونا چاہتے ہیں۔ وہ شاید بھول گئے کہ سیاست میں راستہ سیاسی طرز عمل اختیار کرنے سے بنتا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ پی ٹی آئی اور اپوزیشن ابھی تک ایوان کے اندر اور باہر کوئی ایسی حکمت عملی اختیار نہیں کر سکی کہ کہا جا سکے کہ ان کیلئے راستہ بن پائے گا۔ اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ سیاسی محاذ پر انتشار  ختم کرنے میں سنجیدگی کا فقدان ہے جو سب کو پریشان کئے ہوئے ہے۔

ادھرپنجاب حکومت کی جانب سے محرم الحرام خصوصاً عاشورہ کے موقع پر امن و امان کیلئے خصوصی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز اس ضمن میں خود سارے انتظامات اور اقدامات کا جائزہ لیتی اور ہدایات جاری کرتی نظر آ رہی ہیں۔ صوبائی وزرا کو خصوصی طور پر صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں بھجوا کر انہیں امن و امان کے حوالے سے انتظامات اور اقدامات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے سول سیکرٹریٹ میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس سینٹر کے دورہ کے دوران پنجاب  بھر میں سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تمام جلوسوں اور مجالس کی لائیو مانیٹرنگ کو بھی دیکھا۔ مختلف اضلاع میں جلوسوں کے روٹس کا معائنہ اور سیف سٹی کیمروں کی نگرانی کا جائزہ بھی لیا۔ انہوں نے محرم میں امن کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرقہ واریت اور نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے گرد ہی گھیرا تنگ کیا جائے اور اتحاد بین المسلمین کیلئے ممکنہ اقدامات بروئے کار لانے چاہئیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے ہدایات اور مانیٹرنگ کے عمل کے باعث امید ہے  کہ عاشورہ پر امن ہوگا اور اس صورت میں حکومت کی ساکھ بھی مضبوط ہوگی اور حکومت پر عوام کا اعتماد بھی بڑھے گا۔ ایسے مواقع پر ریاستی اداروں ، مقامی انتظامیہ اور مذہبی طبقات میں ہم آہنگی، امن کو یقینی بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

پاکستانی ثالثی کی فتح

اس سال فروری کے آخر میں شروع ہونے والی بڑی جنگ اپنے عروج پر تھی، ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر تباہ کن فضائی جاری تھے تو دوسری طرف اسرائیل پر ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی بارش برس رہی تھی۔

سیاست میں وقار اور بصیرت کی مثال

قیادت محض حالات کے دھارے میں بہنے کا نام نہیں بلکہ حالات کا رخ بدلنے اور مشکل حالات میں راستہ نکالنے کی صلاحیت کا نام ہے۔

کے پی کے بجٹ ناراض اراکین کی ایک نہ چلی

بجٹ منظور نہ کرنے کی دھمکی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر سہولت کاری کے الزامات اوربانی پی ٹی آئی کی رہائی تک بجٹ کے بائیکاٹ کے اعلانات ،پی ٹی آئی کے ناراض ارکین کے تمام دعوے دھرے رہ گئے اور بجٹ نہ صرف منظور کرلیاگیا بلکہ اس پر بحث بھی محض برائے نام ہی ہوئی ۔

امن، ترقی اور عوامی اعتماد کے تقاضے

جمہوریت کا حسن صرف انتخابات کے انعقاد میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، انصاف کی فراہمی اور ترقی کے ثمرات کی منصفانہ تقسیم میں ہے۔

آزاد کشمیر انتخابات، سیاسی سرگرمیاں عروج پر

آزاد جموں و کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے مسلم لیگ(ن)نے 45 میں سے دو خواتین سمیت 37 انتخابی حلقوں کے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیئے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی آئندہ چند روز میں اپنے امیدواروں کو ٹکٹ دے گی۔

ڈیجیٹل سیفٹی اورپرائیویسی ۔۔۔ آن لائن اپنا تحفظ کیسے کریں؟

ڈیجیٹل دور نے ہماری زندگیوں کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ آج موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نہ صرف رابطے کا ذریعہ ہیں بلکہ تعلیم، کاروبار، معلومات اور اظہارِ رائے کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔