علم کے موتی

تحریر : عمر عثمان (ملتان)


پرانے زمانے کی بات ہے، ایک تاجر تجارت کی غرض سے بغداد پہنچا۔ پچھلے وقتوں میں تجارت کا یہ قانون تھا کہ تاجر جس ملک میں تجارت کرنے جاتا، سب سے پہلے وہاں کے بادشاہ سے ملاقات کرتا، اپنا سارا سامان تجارت دکھاتا اور اس کی خوبیوں اور انفرادیت سے آگاہ کرتا تھا۔

 چنانچہ اس تاجر کو بھی بادشاہ کے دربار میں پیش کیا گیا۔ تاجر نے بادشاہ کے حضور تحائف پیش کیے۔ پھر مال تجارت نکالا اور ایک ایک چیز کی خوبی بیان کرتے ہوئے دکھانے لگا۔

’’حضور، یہ قیمتی گھڑی ہے جو میں نے یونان سے خریدی ہے، یہ قالین ہے جو میں نے ایران سے خریدا ہے اور یہ خالص ریشم کے تار سے بنا ہے۔ یہ قلم ملاحظہ فرمائیے جو میں نے جاپان سے بہت مہنگے داموں خریدا ہے‘‘۔ تاجر نے ایک ایک مال کی اہمیت بیان کی۔بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا ’’بہت خوب، تمام چیزیں بہت عمدہ نایاب ہیں جو تم نے ایران، یونان اور جاپان سے خریدی ہیں لیکن یہ تو بتائو کہ تمہیں ہمارے شایان شان کوئی چیز نظر آئی‘‘۔

تاجر نے بادشاہ کو متاثر کرنے کیلئے کہا، ’’یوں تو بادشاہ سلامت آپ کے شایان شان بہت چیزیں تھیں لیکن جو چیز مجھے پسند آئی۔ اس کو حاصل کرنے کیلئے مجھے کچھ عرصہ وہاں قیام کرنا پڑتا جبکہ میرے پاس صرف دو دن کا وقت تھا‘‘۔

بادشاہ نے پوچھا ’’اچھا وہ کونسی چیز تھی؟‘‘۔تاجر بولا، ’’جناب وہ ایک موتی ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ وہ دوسروں کو بانٹنے سے بڑھتا ہے۔ اس کو کوئی چرا بھی نہیں سکتا اور اس موتی سے بہت سارے زیور بھی بنا کر پہنے جاسکتے ہیں‘‘۔ بادشاہ بہت متاثر ہوا اور کہنے لگا ’’میں اسے حاصل کرنا چاہتا ہوں‘‘۔یہ کہہ کر اس نے فوراً اپنے ایک خاص وزیر کو مع سامان و سواری اس ہدایت کے ساتھ رخصت کیا کہ اب وہ موتی لے کر ہی لوٹے۔ وزیر اپنے مقصد کیلئے نکل پڑا۔ جنگلوں، سمندروں،  پہاڑوں اور صحراوں غرض یہ کہ ہر جگہ کی خاک چھان ماری۔ وادی وادی گھوما، ہر شخص سے اس نادر و نایاب موتی کا پوچھا مگر سب نے یہ ہی کہا کہ ایسا کوئی موتی نہیں ہے جو چوری نہ ہوسکے اور اس سے بہت سارے زیور بن جائیں۔ لوگ اس کی بات سن کر ہنستے اور کہتے مسافر پاگل ہوگیا ہے۔

یوں ہی مہینوں بیت گئے، ناامیدی کے سائے گہرے ہونے لگے لیکن بادشاہ کے سامنے ناکام لوٹنے کا خوف اس کو چین نہیں لینے دے رہا تھا۔ وزیر نے ہر ممکن کوشش کرلی کہ ایسا موتی مل جائے لیکن یہ نہ ملا،سو اس نے واپسی کا ارادہ کرلیا۔ وزیر اپنی ناکامی پر زارو قطار روتا ہوا جنگل سے گزر رہا تھا۔ رات کافی ہوچکی تھی اور وزیر بہت تھک بھی گیا تھا۔ ایک درخت کے پاس آرام کے ارادے سے لیٹا ہی تھا کہ اسی لمحے ایک روشنی اپنی جانب بڑھتی ہوئی نظر آئی۔ پہلے تو وزیر ڈر گیا مگر پھر ایک آواز نے اس کو حوصلہ دیا۔کوئی کہہ رہا تھا ’’ارے نوجوان ڈرو مت، میں پری ہوں۔ بتا تیرے ساتھ کیا مسئلہ ہے، تو مدتوں کا تھکا ہوا مسافر معلوم ہوتا ہے، بتا میں تیری کیا مدد کروں‘‘۔

وزیر نے اپنی داستان سنائی کہ اسے جس موتی کی تلاش تھی، وہ کہیں نہیں ملا۔ اب پری وزیر کے سامنے آچکی تھی اور وہ وزیر کی بات سن کر بے ساختہ ہنسنے لگی، پھر بولی ’’افسوس کہ تو نے عقل سے کام نہ لیا اور محض ایک موتی کی تلاش میں مہینوں مارا مارا پھرتا رہا‘‘۔

وزیر بولا ’’اچھی پری،میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا‘‘،  وہ بولی، ’’بھلے آدمی، وہ موتی دراصل علم کاموتی ہے لیکن تو اس کی ظاہری شکل کو تلاش کرتا رہا۔ علم تو ایک ایسی شے ہے جسے ہزاروں نام دیے جاسکتے ہیں۔ کہیں اسے پھل دار درخت کہتے ہیں تو کبھی سورج سے تشبیہ دیتے ہیں اور اسے سمندر بھی کہا جاتا ہے لیکن اسے کوئی چرا نہیں سکتا‘‘۔

’’لیکن اس سے زیور بنانے والی صفت‘‘ وزیر نے حیرت سے پوچھا۔پری نے مسکراتے ہوئے کہا ’’علم کی بہت ساری صفات ہیں۔ تم اس موتی کی صورت کو کیوں تلاش کرتے ہو۔ یاد رکھو، ہر شے کی تاثیر کا تعلق اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کی اندرونی خوبیوں سے ہوتا ہے۔ اسی طرح علم بھی ایک نایاب موتی ہے، جسے یہ حاصل ہو جائے، وہ اس سے ایسے ہی سج جاتا ہے جیسے انسان زیور پہن کر سجتا ہے اور اسے کوئی چرا نہیں سکتا بلکہ یہ تو بانٹنے سے بڑھتا ہے، گھٹتا نہیں ہے‘‘۔

وزیر بڑے غور سے پری کی بات سن رہا تھا اور بالآخر اس بات کا قائل ہوگیا کہ واقعی علم ایک ایسا موتی ہے کہ جس کے پاس ہو، وہ دراصل دنیا کے سب سے قیمتی زیور کا مالک بن جاتا ہے۔ وزیر نے پری کا شکریہ ادا کیا جس کے بعد پری وہاں سے غائب ہوگئی۔

وزیر خوشی خوشی اپنی کامیابی کے گیت گاتا ہوا اپنے ملک روانہ ہوگیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے بادشاہ کو علم کے موتی کے بارے میں بتایا اور سمجھایا تو بادشاہ بھی پری کی بات کا قائل ہوگیا کہ صرف علم ہی وہ موتی ہے جسے کوئی چرا نہیں سکتا۔

پیارے ساتھیوں! علم ایک ایسا موتی ہے جس کی چمک دمک زمین سے آسمان، فرش سے عرش تک ہے اور علم کے اس موتی کی روشنی میں ہی انسان اس کائنات کے خالق و مالک تک رسائی حاصل کرتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

لیچی — گرمیوں کا رسیلا اور مزیدار پھل

گرمیوں کا موسم آتے ہی بازاروں میں طرح طرح کے رنگ برنگے پھل نظر آنے لگتے ہیں۔ ان میں ایک نہایت لذیذ، خوشبودار اور رسیلا پھل لیچی بھی شامل ہے۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

کھانے کے فوراً بعدکھیلنے سے پیٹ میں درد کیوں ہوتا ہے؟

ایک تھا لڑکا نور نذیر

ایک تھا لڑکا نور نذیر،اک دن اُس کا جی للچایا

پھولوں کے بارے میں دلچسپ معلومات

٭…ریفلیشیادنیا کا سب سے بڑا پھول ہے۔

اقوالِ زریں

٭…اچھی بات دلوں کو جوڑتی ہے اور بری بات دلوں کو توڑ دیتی ہے۔

ذرا مسکرائیے

باپ بیٹے سے: اگر تم میری طرح محنت کرو گے تو شاندار زندگی پاؤ گے۔ مجھے دیکھو جب میں شہر میں آیا تو سوائے میرے پاس ایک صندوقچی کے کچھ نہ تھا۔