اختلاف نہیں، اتحاد: اسلام کا پیغام
’’تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘ (آل عمران)
مسلمانوں کو اللہ نے بہترین اُمت بنایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آپس میں نیکی اور تقویٰ کا درس دیتے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو روکنے والے ہیں۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا یہ اہم فریضہ اس وقت سرانجام ہو سکتا ہے جب ہم آپس میں پیار و اتفاق سے رہیں گے۔ دین اسلام کی ہمہ گیری کا تقاضا یہی ہے کہ اُمت مسلمہ ایک وحدت کی حیثیت سے آپس میں مل کر اتفاق و اتحاد سے رہے۔ اس ضمن میں تمام اہل اسلام کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ نیکیوں کی تلقین کریں، برائیوں سے بچیں اور ایک دوسرے کو برائی سے روکیں۔یہ سب کچھ اُسی وقت ہو سکتا ہے جب ایک خدا، ایک رسولﷺ اور ایک کتاب حق کے ماننے والے آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہیں۔ہمیں تو اللہ خود اپنی مقدس کتاب ہدایت میں یہ حکم دے رہا ہے! ’’تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘ (آل عمران: 103)۔
اسلام ایسا دین نہیں جسے زبردستی لوگوں پر مسلط کیا جائے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے زور زبردستی کرنے سے منع فرمایا ہے اور اللہ نے اسلام کو زور زبردستی پھیلانے سے منع فرمایا ہے۔ یہ تو امن اور سلامتی کا پیارا مذہب ہے اسلام کی مرضی اور منشاء تو یہ ہے کہ مسلمان آپس میں اس پیار و محبت کے ساتھ اتفاق واتحاد کے ساتھ رہیں کے غیر مذہب بھی ان کے اخلاق کو دیکھ کر اسلام کی دولت سے سرفراز ہو جائیں۔
اتحادِ اُمت پر زور دیتے ہوئے خود اللہ نے ارشاد فرمایا کہ ’’بلاشبہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘ (سورۃ الحجرات)۔ جب تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں تو ان کا نفع بھی ایک ہے اور نقصان بھی ایک ہے۔ ان کی طاقت ان کا اتحاد ہے، انھیں دنیا کی دوسری قوموں پر اس لئے بھی برتری حاصل ہو گی کہ مسلمان اتحاد واتفاق کی اس فضاء کو قائم رکھتا ہے اور اس کی قائم رکھنے کیلئے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ یہ اتحاد امت ہی کا اثر تھا کہ کسی زمانے میں مسلمان دنیا کی سب سے بڑی طاقت اور کامیاب قوم تھے۔ ان کی حیثیت ایک مضبوط اور مستحکم دیوار کی سی تھی مگر بد نصیبی سے جیسے جیسے لوگ اس مستحکم دیوار سے اینٹیں نکالتے گئے اور اپنے مفادات کے قلعے تعمیر کرتے گئے، ویسے ہی ان کی عزت و وقار کی یہ دیوار کمزور ہو کر ٹوٹنے اور بکھرنے لگی اور گرتی چلی گئی۔
ہم نے قرآن اور صاحب قرآن کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے، اس لئے آج ہم مفلوک الحال اورپریشان ہیں۔ موجودہ حالات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں، وقت کا اہم تقاضہ ہے کہ ہم مسلمان اتحاد و اتفاق کی فضاء قائم کریں۔ فرقہ واریت کا زہر جو ہماری نئی نسل میں ڈالا گیا ہے اس کو پیار بڑھا کر ختم کریں۔
ملت کی شیرازہ بندی کی آج بہت ہی ضرورت ہے جبکہ مسلمان مسلمان ہی کو مسلک عقیدے کے نام پر کافر کہہ رہا ہے۔ مدارس، مزارات مقدسہ، امام بارگاہوں اور مسلمانوں کے وہ مقامات جہاں اللہ و رسولﷺ کی یاد کی جائے انہیں بم دھماکوں، خودکش حملوں سے گرایا جا رہا ہے۔ نہ مارنے والوں کو معلوم ہے کہ ہم کس جرم کی سزا بے گناہ مسلمانوں کو دے رہے ہیں اور نہ مرنے والوں کو علم ہے کہ ان کو کیوں بے گناہ شہید کیا گیا۔ ہر طرف افراتفر ی ہے جبکہ ہمارا مذہب تو ہمیں پیار محبت کا درس دے رہا ہے۔ ہمیں اتفاق واتحاد سے رہنے کا بتا رہا ہے۔ اسلام تو دوسروں کے ساتھ ایثار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام نے تو ہمدردی کا سبق سکھایا ہے۔ اسلام تو اپنے ذاتی مفادات کو اجتماعی مفادات پر قربان ہونے کا درس دیتا ہے۔
موجودہ دور میں اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ قرآن مقدس اور سنت رسول اللہ ﷺ نے جا بجا اس کی تعلیم و تلقین فرمائی ہے۔ آج پوری دنیا میں اختلاف وانتشار کی وجہ سے جو حالات پیش آرہے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ہماری صفوں میں اتحاد و اتفاق باقی نہیں رہا ، ہم مسلکی و جزوی اختلافات میں منقسم ہوچکے ہیں۔ آج ہم سیاسی و مذہبی انتشار و خلفشار کی وجہ سے دلوں میں نفرت رکھتے ہیں اور یہ نفرت کم ہو نے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ سیاسی انتہا پسندی و فرقہ واریت نے ہمیں اندر سے کھوکھلا اور کمزور بنا دیا ہے۔ پہلے ہم نے اتحاد و اتفاق کا دامن چھوڑا، پھر ہم ادب و احترام کا رشتہ ہی بھول گئے، جس کی وجہ سے تنزلی ہمارا مقدر ٹھہری جبکہ مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ اتحاد و اتفاق کا درس دیا ہے۔