اسلامی سالِ نو ماضی کا جائزہ، مستقبل کا عزم

تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن


یہ مہینہ ہمیں انفرادی اصلاح کے ساتھ ساتھ اجتماعی فلاح کا پیغام بھی دیتا ہے

اسلامی سال کا پہلا مہینہ ’’محرم الحرام‘‘ ہر مسلمان کیلئے صرف نئے ہجری سال کی شروعات نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی لمحہ ہے جو وقت کے مفہوم، زندگی کے نصب العین اور انسان کے رب کے ساتھ تعلق کی گہرائی کو تازہ کرتا ہے۔ اسلامی تقویم کا آغاز کسی جشن یا دنیاوی مسرت کی علامت نہیں بلکہ فکر و احتساب کی صدا ہے، جو ہر مومن کے دل میں یہ سوال جگاتی ہے کہ ایک اور سال گزر گیا، میں نے کیا پایا، کیا کھویا اور آئندہ کی راہ کیسی ہو؟

قرآن مجید نے جن چار مہینوں کو اشہرِ حرم کا شرف عطا فرمایا، ان میں محرم الحرام کو خاص مقام حاصل ہے۔ یہ مہینے صرف چند دنوں کا نام نہیں بلکہ یہ اسلام کے اس معاشرتی پیغام کی علامت ہیں جو امن، عزتِ نفس، رواداری اور باہمی احترام پر قائم ہے۔ اشہرِ حرم کی حرمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسانیت کی فلاح صرف عبادات میں نہیں، بلکہ اخلاقی عظمت، سماجی ذمہ داری اور باہمی رواداری میں بھی ہے۔

محرم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وقت ایک امانت ہے، جو پل پل گزر کر ہماری زندگی کی داستان رقم کر رہا ہے۔ جیسا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں، صحت اور فراغت‘‘ (صحیح بخاری)۔ اس حدیث میں وقت کی اہمیت کو اس خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے کہ انسان کو اپنا ہر لمحہ قیمتی سمجھنا چاہیے۔ محرم کا مہینہ ہمیں یہ شعور عطا کرتا ہے کہ ہم وقت کو بے مقصد نہ گزاریں بلکہ ہر دن، ہر ساعت کو نیکی، خیر اور خدمتِ خلق سے روشن کریں۔

نئے ہجری سال کا آغاز تقویمی لحاظ سے اگرچہ سادہ تبدیلی ہے لیکن روحانی اعتبار سے یہ ایک بڑی تبدیلی کا موقع ہے۔ یہ موقع ہے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کا، اپنے اعمال کا جائزہ لینے کا، اپنے تعلق مع اللہ کو گہرا کرنے کا۔ ایک مؤمن صرف اپنی گزشتہ غلطیوں پر نادم نہیں ہوتا بلکہ آئندہ کیلئے عزمِ نو بھی کرتا ہے۔ وہ یہ ارادہ کرتا ہے کہ میں قرآن کو اپنی زندگی کا رہنما بناؤں گا، سچ بولوں گا، وقت کی قدر کروں گا، معاشرے کیلئے خیر کا سبب بنوں گا اور دنیا میں اسلام کے امن، محبت اور عدل کے پیغام کو عام کروں گا۔

محرم الحرام کا مہینہ ہمیں باطن کی تطہیر، نفس کی تہذیب اور روح کی بالیدگی کی دعوت دیتا ہے۔ یہ صرف ظاہری عزت و وقار کا مہینہ نہیں بلکہ ایک ایسا دورانیہ ہے جو انسان کو اس کی اندرونی حالت پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ہر باشعور مسلمان کو چاہیے کہ وہ خود سے یہ سوال کرے: کیا میرا دل گناہوں سے پاک ہے؟ کیا میری نیت خالص ہے؟ کیا میری زبان دوسروں کیلئے باعثِ خیر ہے؟ کیا میں دوسروں کے حق ادا کر رہا ہوں؟ کیا میں اپنے اردگرد کے لوگوں کیلئے آسانی کا ذریعہ ہوں؟

یہ مہینہ ہمیں انفرادی اصلاح کے ساتھ ساتھ اجتماعی فلاح کا پیغام بھی دیتا ہے۔ آج کا مسلمان جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں سب سے بڑا مسئلہ عدم برداشت، افتراق و انتشار، اور باہمی بدگمانی ہے۔ محرم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک امت ہیں اور امت کا شیرازہ صرف اس وقت محفوظ رہ سکتا ہے جب ہم ایک دوسرے کی عزت کریں اور ہر حالت میں عدل و احسان کو اپنا شعار بنائیں۔

دین صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ حسنِ اخلاق، حسنِ سلوک اور حسنِ تعلقات بھی دین کا جوہر ہیں۔ نبی کریم ﷺکی سیرت گواہ ہے کہ آپﷺ نے صرف نماز، روزہ اور حج کی دعوت نہیں دی بلکہ لوگوں کے ساتھ معاملات میں نرمی، سچائی، خیر خواہی اور عدل کو بھی دین کا حصہ بنایا۔ محرم ہمیں اسی سیرتِ طیبہ کو اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ مہینہ معاشرتی خیر خواہی، اصلاحِ باطن اور فکری بیداری کا موسم ہے۔

عبادت و بندگی کے اعتبار سے بھی محرم کا مہینہ بڑی فضیلت رکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس میں روزہ رکھنے کی خاص تاکید کی۔ گو کہ عبادات کا دائرہ پورے سال پر محیط ہے لیکن محرم کی روحانی فضا دلوں کو عبادت کی طرف کھینچتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان دنوں میں عبادات کے ذریعے اللہ سے قرب حاصل کریں، دعا کریں کہ یا اللہ! ہمیں اس نئے سال میں گناہوں سے بچا، نیکیوں کی توفیق دے اور ہمارے دلوں کو ایمان، محبت اور خیر سے منور کرے۔

جو قومیں وقت کے ساتھ اپنے اہداف مقرر نہیں کرتیں وہ اپنی منزل کھو دیتی ہیں۔ محرم ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کیلئے ایک واضح لائحہ عمل بنائیں۔ ہمیں اس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ ہم خود کو قرآن کے قریب کریں گے، جھوٹ، غیبت، فریب اور بدگمانی سے بچیں گے اور اپنے ہر عمل کو رضائے الٰہی کے تابع بنانے کی سعی کریں گے۔

محرم الحرام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ روحانی بیداری کے بغیر سماجی فلاح ممکن نہیں اور فرد کی اصلاح کے بغیر امت کی اصلاح ناممکن ہے۔ یہ مہینہ ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹنے، اپنے کردار کو سنوارنے اور معاشرے میں بھلائی عام کرنے کا سنہری موقع عطا کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس موقع کو رسمی تقویمی تبدیلی نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک بیداری، تجدیدِ عہد اور عملی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔اللہ رب العزت ہمیں اس مہینے کی روح کو سمجھنے، اس کے پیغام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عظمت محرم اور درسِ صبر و استقامت

’’رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم میں ہیں‘‘ (صحیح مسلم) عاشورا کے روزہ سے گزشتہ ایک سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے(صحیح مسلم)یہ مہینہ اُمت کو وقت کی قدر، قربانی کی عظمت اور حق کیلئے استقامت کی تعلیم دیتا ہے

محبت ِ اہل بیت:ایمان کی روح، دل کا سکون

جس نے فاطمہؓ کو خفا کیا، اس نے مجھے خفا کیا(حدیث مبارکہ) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں‘‘ (جامع ترمذی)

اختلاف نہیں، اتحاد: اسلام کا پیغام

’’تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘ (آل عمران)

ماہ محرم الحرام اور اتحادِ امت

کائنات کا نظامِ وقت الٰہی حکمتوں کا ایک ایسا سرمدی تسلسل ہے جہاں دن، رات اور مہینے محض ہندسوں کا ہیر پھیر نہیں بلکہ اپنے دامن میں تجلیات ربانی، عبرت و موعظت اور حیاتِ نو کے لازوال ابواب سمیٹے ہوئے ہیں۔ جب ہجری سال کا ہلال اپنی پہلی شرمیلی نمائش کے ساتھ آسمانِ دنیا پر نمودار ہوتا ہے، تو وہ کائنات کو محرم الحرام کا پیغام دیتا ہے۔

مسائل اور ان کا حل

تاحیات رہنے کی شرط پرمکان وقف کرنا سوال : میں اپنا ذاتی مکان ایک مدرسہ کووقف کرنا چاہتا ہوں۔ میری شرط یہ ہے کہ جب تک میں حیات ہوں میں اسی میں رہوں گا اور اسی طرح جب تک میراسب سے چھوٹا بیٹا جاوید شاہ حیات ہے وہ بھی اس میں رہے گا۔

بڑی کامیابیاں مگر سیاسی تبدیلیوں کی بازگشت

وفاقی بجٹ پیش ہو چکا ہے اور آئندہ چند روز میں اس کی پارلیمانی منظوری بھی ہو جائے گی مگر بجٹ کے فوری بعد وفاقی دارالحکومت کے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں نے جنم لینا شروع کر دیا ہے۔