حفیظ تائب وفورِ شوق و عقیدت کی آ واز

تحریر : ڈاکٹر عرفان احسن پاشا


ان کی نعت عشق و وارفتگی کے ساتھ تمام ممکنہ فنی محاسن سے آراستہ ہے :حفیظ تائب نے عام روایت سے ہٹ کر رسول مقبول سے عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے‘رسول اکرمﷺ کی ذات پاک سے محبت کیساتھ اسوۂ حسنہ کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں‘دوسری اہم خوبی یہ ہے کہ جو کچھ کہا ہے اسے تخلیقی سطح پر محسوس کیا ہے:پاکستان اور ملتِ اسلامیہ کو در پیش مسائل کا اظہار جس شائستگی سے حفیظ تائب کی نعتوں میں ملتا ہے دوسروں کے ہاں نظر نہیں آتا‘ بقول احمد ندیم قاسمی ،حفیظ تائب کی نعتیں پڑھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ کے توسط سے وہ کائناتِ انسانی کے مثبت مطالعے میں مصروف ہیں

تعارف

حفیظ تائب (اصل نام عبد الحفیظ )  14فروری1931ء کو پشاور میں پیدا ہوئے ۔ آبائی وطن احمد نگر ضلع گوجرانوالہ تھا۔ ان کے والد حاجی چراغ دین اپنے علاقے کے تعلیم یافتہ اور معزز لوگوں میں شامل تھے۔ 1945ء میں مڈل کا امتحان پاس کیا اور1947ء میں میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ 1949ء میں محکمہ برقیات میں ملازمت مل گئی اور لاہور چلے آئے۔ لاہور آکر ان کے ادبی ذوق میں نکھار پیدا ہوا۔آغاز سخن غزل سے کیا لیکن ان کی غزل میں بھی مقصدیت نمایاں تھی۔  

 دوران ملازمت 1974ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے پنجابی کیا۔ 1976ء سے 2003 ء تک پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ پنجابی میں تدریسی فرائض سرا نجام دئیے ۔

حفیظ تائب کی اولین ادبی نعتیہ کاوش ’’صلو علیہ وآلہٖ‘‘ تھی۔ اسی مجموعے پرانہیں آد م جی ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پنجابی نعت و منقبت پر مشتمل ان کا دوسرا مجموعہ کلام ’’ سک متراں دی‘‘  کے نام سے منصہ شہود پر جلوہ گر ہوا جس پر انہیں 1986ء میں رائٹرز گلڈ ایوارڈ ملا۔ان کی نعتیہ شاعری کا تیسرا مجموعہ ’’وسلموا تسلیما‘‘ 1990ء میں منظر عام پر آیا، اس پر انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

زندگی کے آ خری ایام میں حفیظ تائب ذیابیطس جیسے  میں مبتلا رہے۔ 2004ء میں12 اور 13 جون کی درمیانی شب اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ علامہ اقبال ٹاؤن، کریم بلاک کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

 اردو اورپنجابی کے ممتاز نعت گو حفیظ تائب کے کلام میں اُن کا عشق و عقیدہ جھلکتا ہے۔نعت کا فن ہمیشہ ہی سر سبز رہا۔ یہ مضمون سدا بہار ہے، اس پر خزاں نہیں آتی، اسے صر صرِ ایام افسردہ نہیں کر سکتی، یہ وہ گُل ہے جو ہمیشہ شگفتہ رہتا  ہے اور مدح رسولﷺ کا جذبہ بڑھتا جاتا ہے۔ نعت کا گلشن آج بھی خوب پھل پھول رہا ہے۔اسی گلشن کا ایک بلبلِ خوش نوا تھے حفیظ تائب ۔ اُن کی نعت اپنے زمانے میں اپنا نقش قائم کر چکی ہے، لہٰذا تعریف و تعارف یا اُن کے کمالِ فن کی وضاحت تحصیل حاصل ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ ہر صنف کی طرح، نعت میں بھی ہر شاعر یا نعت گو کی ایک انفرادی آواز ہوتی ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ حفیظ تائب نعت کی ایک انفرادی آواز ہیں جو اپنے ہم عصروں سے ممتاز مقام رکھتے ہیں۔حفیظ تائب کی نعت صرف آواز اور لہجہ ہی نہیں اس میں حرفِ مطلب بھی ہے، وصفِ حسن بھی ہے مگر غزل کا سا نہیں، اظہارِ شوق بھی ہے مگر گیت کا سا نہیں، توصیف بھی ہے مگر قصیدے کے مانند نہیں، اس میں التجا و تمنا بھی ہے، طلب و تقاضا بھی ہے مگر زر و مال اور متاعِ قلیلِ دنیا کا نہیں۔ بقول ڈاکٹر وحید قریشی حفیظ تائب نے عام روایت سے ہٹ کر رسول مقبولﷺ سے عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے عام نعت گوؤں کی پیروی میں صرف رسول پاکﷺ کے سراپا کو موضوع نہیں بنایا،رسول اکرمﷺ کی ذاتِ اقدس سے محبت کے ساتھ اسوۂ حسنہ کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔ دوسری اہم  خوبی یہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے اسے تخلیقی سطح پر محسوس کیا ہے۔ یہ کلام ان اعلیٰ لمحات کی روداد ہے جو کسی بھی بڑے شاعر کے لیے سرمایۂ افتخار ہو سکتی ہے۔

ریاض مجید لکھتے ہیں: حفیظ تائب کی نعت کا مرکزی موضوع آنحضرتﷺ کی ذاتِپاک اور متعلقات سے ارادت اور عقیدت مندی ہے مگر یہ عقیدت مندی آپﷺ کی شانِ اقدس کی مدح و توصیف تک محدود نہیں، تائب نے صاحبِ موضوع کے ارشادات و پیغامات اور مقاصدِ نبوت و بعثتِ نبوی کو، جو جدید نعت کی اصل خوبی ہے، مسلسل پیش نظر رکھا ہے۔ اُن کی نعت گوئی اصلاحی اور مقصدی پہلو لیے ہوئے ہے۔پاکستان اور ملتِ اسلامیہ کو  در پیش مسائل کا اظہار جس شائستگی سے حفیظ تائب کی نعتوں میں ملتا ہے دوسروں کے ہاں  نظر نہیں آتا۔ مسلمانوں کی زبوں حالی، پاکستان میں سیاسی انتشار، اخلاقی و مذہبی قدروں کی پامالی سے مسجد اقصیٰ کے ماتم اور افغانستان میں روسی جارحیت پر نالہ و فریاد کے جو مضامین تائب کی نعت گوئی میں ملتے ہیں ان کے سبب نہ صرف تائب کے فن بلکہ صنفِ نعت کو وسعت ملی ۔

٭دے تبسم کی خیرات ماحول کو، ہم کو درکار ہے روشنی یا نبیؐ

٭جلنے لگے اب سرو و صنوبر مرے آقا

یہ وہ نعتیں ہیں جو ملکی و ملی احساسات سے لبریز ہیں۔ تائب نے معاصر مذہبی، سیاسی اور معاشرتی مسائل و اقدار کو جز وِ نعت بنا کر صنفِ نعت کو وقیع اور وسیع کیا ہے۔ بقول احمد ندیم قاسمی ،حفیظ تائب کی نعتیں پڑھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ کے توسط سے وہ کائناتِ انسانی کے مثبت مطالعے میں مصروف ہیں۔حفیظ تائب خود اپنی نعت کا تجزیہ یوں کرتے ہیں:

مدحِ نبیﷺ وہ چشمۂ نور و حضور ہے

جس سے ہیں تابناک مرے خدّو خالِ فن

شیرازۂ حیات ہے وابستۂ حضورﷺ

پروردۂ نگاہِ کرم اعتدالِ فن

نعت کے موضوع سے حفیظ تائب کی تخلیقی وابستگی کے اثرات ان کے طرزِ اظہار میں نمایاں ہیں۔ سبک الفاظ کا انتخاب، مترنم بحور، جذبے کا رچاؤ جو اس دور کے نعت گو شاعروں کے نمایاں اوصاف ہیں، تائب کے فن میں اپنی پوری دلاویزیوں کے ساتھ جھلکتے ہیں۔ ان کے ساتھ جذب و کیف اور اخلاص و گداز کے جوہر نے انہیں معاصر نعت نگاروں کی صف میں ممتاز و منفرد حیثیت عطا کی ہے۔ بقول ڈاکٹر سید عبداللہ: زبا ن و بیان میں کمال درجے کی شستگی اور شائستگی، سکون و سکونت اور برجستگی کے باوجود متانت جو لازمہ ٔادب ہے، آرائش کا یہ رنگ اور زیبائش کا یہ ڈھنگ تائب کے مجموعہ صلوٰ اعلیہ وآلہٍ میں ہر جگہ جلوہ افزا ہے۔حفیظ تائب نے اپنی نعت کو مادی اغراض سے پاک رکھنے کی کوشش کی ہے اور اس روش سے بچے ہیں۔ان کی عقیدت، بے لوث، بے غرض، ہر مادی مدعا سے پاک ہے اوران کی نعتیں ہر دوسرے نعت گو سے الگ پہچانی جاتی ہیں۔ 

 شعری محاسن

حفیظ تائب نے نعت میں اپنے اکثر مضامین قرآن پاک سے اخذ کئے ہیں۔معنوی محاسن کے علاوہ ان کے یہاں ذخیرہ ٔالفاظ بھی وسیع ہے اور الفاظ کی بندش میں دلکشی بھی بے حد ہے۔ الفاظ کی فراوانی کے علاوہ عمدہ ردیفوں کی فراوانی بھی ہے۔ پھر ترکیبات اور تشبیہات و استعارات بھی بکثرت ہیں۔بقول احمد ندیم قاسمی، جدید اردو نعت گوئی میں حفیظ تائب کی آواز سب سے منفرد نہایت بھر پور اور انتہائی شیریں آواز ہے۔ اُن کی نعت میں عشق و عقیدت کی وارفتگی پر با محمدؐ ہوشیار کی سلیقہ مندی کا پہرہ ہے۔ ساتھ ہی حفیظ تا تب کی نعت تمام فنی محاسن سے آراستہ ہے اور ایک کڑی حدِ ادب قائم رکھ کر اس اعلیٰ معیار کی نعت کہنا جو اس دور میں سند کا درجہ رکھتی ہے صرف حفیظ تائب کا اعزاز ہے۔قاسمی صاحب کہتے ہیں کہ اس حقیقت کو اب تمام اہلِ فن کے ذہنوں پر آفتاب بن کر طلوع ہونا چاہیے کہ حفیظ تائب ہی نے اردو اور پنجابی نعت گوئی کو حیاتِ نو بخشی ہے اور ہم سب لوگ جو کبھی کبھار نعتیں کہہ لیتے ہیں دراصل اسی کے مقلد ہیں۔ حفیظ تائب کے لیے  نعت گوئی سرمایۂ افتخار ہے جیسا کہ خود  کہتے ہیں:

مدحتِ سرکار ہے سرمایۂ صد افتخار

 کاسۂ فن میں ہے خیراتِ رسولﷺ ہاشمی

منتخب اشعار

جی رہا ہوں میں اس دیار سے دور

چارہ جو جیسے چارہ کار سے دور

…………

اب کونسی نعمت کی طلب حق سے کروں میں

دہلیز پہ سلطانِ مدینہﷺ کی کھڑا ہوں

…………

ہو کرم تو نکل ہی آتی ہے

حاضری کے شرف کی بھی صورت

…………

نہ جھپکی آنکھ جس کی رو بروئے جلوہ باری

سرِ قوسین ذاتِ ربِّ عزت دیکھنے والا

…………

خلق عظیم و اُسوۂ کامل حضورﷺ کا!

آدابِ زیست سارے جہاں کو سکھا گیا

…………

اے رحمتِّ عالم تری یادوں کی بدولت

کس درجہ سکوں میں ہے مرا قلبِ تپیدہ

…………

حفیظ تائب کی نعتیں

خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیر البشرﷺ

خوش نژاد و خوش نہاد و خوش نظر، خیر البشرﷺ

دل نواز و دلپذیر و دل نشین و دلکشا

چارہ سازو چارہ کار و چارہ گرخیر البشرﷺ

حسنِ فطرت، حسنِ موجودات، حسنِ کائنات

نورِ ایقاں، نورِ جاں، نورِ بصر، خیر البشرﷺ

سر بسر مہر و مروّت، سر بسر صدق و صفا

سر بسر لطف و عنایت، سر بسر خیر البشرﷺ

آفتابِ اوجِ خوبی، ماہتابِ برتری

آب و تابِ چہرۂ شام و سحر خیر البشرﷺ

صاحبِ خلقِ عظیم و صاحبِ لطفِ عمیم

صاحبِ حق، صاحبِ شقّ القمر خیر البشرﷺ

خدمتِ اقدس ہیں یہ نذرِ عقیدت ہو قبول

کیا سخنور اور کیا عرضِ ہنر خیر البشر ﷺ

در پہ پہنچے کس طرح وہ بے نوا، بے بال و پر

اک نظر تائب کے حالِ زار پر خیر البشر ﷺ

…………

پائی نہ تیرے لطف کی حد سید الوریٰ ﷺ

تجھ پر فدا مرے اب و جد سید الوریٰ ﷺ

تیری ثنا ورائے نگاہ و خیال ہے

 فخرِ رسل، حبیبِ صمد، سید الوریٰ ﷺ

تو مہر لازوال سرِ مطلعِ ازل

تو طاقِ میں شمعِ ابد سید الوریٰ ﷺ

اہل جہاں کو ایسی نظر ہی نہیں ملی

دیکھے جو تیرا سایۂ قد سید الوریٰ ﷺ

گزرے جو اس طرف سے وہ گرویدہ ہو ترا

یوں عنبریں ہو میری لحد سید الوریٰ ﷺ

درکارِ مرگ وزیست کے ہر موڑ پر مجھے

تیری پناہ، تیری مدد،سید الوریٰ ﷺ

تائب کی یہ دعا ہے کہ اُس کی بیاضِ نعت

بن جائے مغفرت کی سند سید الوریٰ ﷺ

…………

ظہورِ سرورِ کون و مکاں، ظہورِ حیات

انہی کے فکر کی خیرات ہے شعورِ حیات

وہ جن کی شان سے ارض و سما کی آرائش

وہ جن کے دم سے فروزاں ہے نزد و دُورِ حیات

انہی کے حسن کا پر تو ہے عالمِ امکاں

انہی کے جلوئوں کا عکسِ جمیل نورِ حیات

انہی کی راہ سے ملتی ہے منزلِ عرفاں

انہی کی چاہ سے وابستہ ہے سرُورِ حیات

جمال ان کا ہے تائب فروغِ دیدہ وراں

مقال اُن کا سکوں بخش، ناصبورِ حیات

…………

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

مجید امجد، فطرت سے ہم کلام

مٹی جسم ہے، مٹی نور ہے، مٹی وقت کا ریلا ہے،ہرے بھرے میدان، ابلتے قرینے، باسمتی کی باس،سانسیں، عمریں، قدریں سب کچھ سکے، پیسے، چربی، ماس

کینگروز کا سپن کے جال سے شکار

گرین شرٹس کی ہوم گرائونڈ پر تاریخی فتح:گرین شرٹس نے مسلسل تیسری ون ڈے سیریز اپنے نام کر کے تاریخ رقم کر دی

پاکستان کا ایٹمی سفر!

گرمیوں کا موسم اور شام کا وقت تھا۔ آسمان پر ہلکی سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ گھر کے صحن میں ارحم اور ارسل اپنے تایا ابو کے ساتھ بیٹھے تھے۔ دونوں کے ہاتھوں میں اسکول کی کاپیاں تھیں۔

توبہ

عامر انتہائی شریر لڑکا تھا۔ ہر وقت شرارتیں کرتا، دوسروں کو ستانے میں اُسے بڑا مزہ آتا تھا۔

آم — پھلوں کا بادشاہ

گرمیوں کا موسم آتے ہی بازاروں میں خوشبودار آم نظر آنے لگتے ہیں۔ آم ایک ایسا پھل ہے جسے دنیا بھر میں بے حد پسند کیا جاتا ہے۔

پرندوں کی دلچسپ دنیا

٭… شتر مرغ دنیا کا سب سے بڑا پرندہ ہے، لیکن یہ اڑ نہیں سکتا۔