ابنِ صفی اُردو کے عظیم جاسوسی ناول نگار
46ویں برسی: ان کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ زبان کے معیار،دلکشی اور چاشنی کو برقراررکھا: ابن صفی کے ناولوں میں ایک مشن یا مقصد موجود ہے، اس لیے انہیں محض تفریحی ادب نہیں کہا جاسکتا‘ ان میں فکری و ذہنی تربیت بھی پوری طرح موجود ہوتی ہے: اردو زبان میں ابن صفی سے زیادہ کسی ادیب کو نہیں پڑھا گیا‘ انہوں نے ادب کو خواص سے نکال کر عوام تک پہنچا یاجو ان کے آنے والے ناول کا بے چینی سے انتظاربھی کرتے تھے
مختصر سوانح
نام: اسرار احمد
پیدائش: 6 2جولائی 1928ء اتر پردیش، ضلع الہ آباد، قصبہ نارا ۔
تعلیم : گریجوایشن،آگرہ یونیورسٹی
ادبی زندگی: آ غاز بطور شاعر اسرار ناروی کے نام سے۔
ناولوں کی تعداد: 250 سے زائد۔ محض 20 برس کے عرصے میں 250 سے زیادہ جاسوسی ناول لکھے
پاکستان ہجرت: اگست 1952 ء
انتقال: 26 جولائی 1980ء
تدفین: پاپوش نگر قبرستان، کراچی
ابن صفی اردو ادب کا ایسا کردار ہیں جو اپنی زندگی میں ہی دیو مالائی شخصیت بن گئے ۔اردو میں جدید جاسوسی کہانی کی ایک مستقل صنف کی حیثیت سے انہوں نے ہی متعارف کروایااور پھر ان کی تقلید میں نوجوان جاسوسی کہانی نگاروں کی ایک بڑی تعداد پیدا ہو ئی۔ ابن صفی کے بیشتر ناولوں کو دو خانوں میں رکھا جا سکتاہے۔ ایک وہ جن میں روز مرہ کے جرائم اپنی تمام نئی پیچیدگیوں کے ساتھ سامنے آتے ہیں اور سراغرسانوں کا گروہ ان کو بے نقاب کرنے اور مجرموں کو ٹھکانے لگانے میں بالآخر کامیاب ہوتا ہے۔ ابن صفی کے ناولوں کی دوسری قسم وہ ہے جن میں مجرم یا مجرموں کا ایک گروہ جدید آلات اور ذرائع سے کام لیتا ہے اور سراغرسانوں کیلئے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی قسم کی کہانیوں میں وہ کہانیاں بھی شامل ہیں جن میں غیر ملکی جاسوس وطن کے غداروں کے ساتھ مل کر جرم جال بُنتے ہیں اور اکثر سراغرسانوں کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ فریدی اور عمران کے سلسلوں کے ناول انہیں دو اقسام میں آتے ہیں۔
بقول مجنوں گورکھپوری، سراغرساں کیلئے پہلی بات جو اساسی حیثیت رکھتی ہے یہ ہے کہ اس کو ایک خاص ذہنی ساخت کا آدمی ہونا چاہیے اور شروع سے آخر تک تمام تر خارجی اسباب و ذرائع کے باوجود اس ذہنی ساخت کو نمایاں اور غالب رہنا چاہئے۔ فریدی، حمید، عمران اور کسی حد تک انور کے اندر وہ خصوصیت موجود ہے جو کسی کو سراغرساں بنا سکتی ہے اورعملاً کہانی کے دوران اور انجام میں ان کا یہ ذہنی جوہر انتہائی ہوتا ہے۔ مجنوں گورکھپوری کہتے ہیں کہ ابن صفی کے ناولوں میں اول میں نے فریدی کے سلسلے تک اپنا مطالعہ محدود رکھا اور فریدی کا کردار مجھے سنجیدہ اور اس کے مخصوص پیشے کیلئے بہت موزوں معلوم ہوا۔ اس کی یہ ادا بھی مجھے پسند آئی کہ وہ اپنی انسپکٹری پر قائم رہا اور کسی اونچے منصب کو قبول نہیں کیا۔ وہ اونچے منصب والے کسی محکمے میں کام کی صلاحیت رکھتے ہوئے بھی کچھ زیادہ کام نہیں کرتا۔ لیکن فریدی کے کارناموں اور ان میں اس انہماک کے ساتھ تمام ادنیٰ سے اعلیٰ منازل کو طے کرنے کیلئے وہ اپنی جیب سے جتنا خرچ کرتا ہے وہ ایک داستانی دولت کا متقاضی ہے جو اس دور میں بڑے بڑے جاگیردار یا سرمایہ دار کو میسر نہیں، مگر اس کو ہم ایک تخیل اور تصور کے طور پر قبول کر سکتے ہیں۔دوسری جانب حمید سراغراسانی کی تمام صلاحیتیں رکھتا ہے اور بڑے کام کا آدمی ہے۔
ابن صفی کے تمام کردار اچھوتے تو ہوتے ہی ہیں۔ قاسم بھی ایک اچھوتا کردار ہے اور اس کی حرکتیں تفریح کا اچھا سامان بہم پہنچاتی ہیں۔ حمید کی شرارتوں سے بار بارزِچ ہو کر قاسم کی حمید کے ساتھ دوستی یقیناً قابلِ تحسین بات ہے لیکن دوچار ناول پڑھنے کے بعد یہ محسوس ہوئے بغیر نہیں رہتا کہ قاسم اور حمید کے کردار پڑھنے والے کو کس قدر محو رکھتے ہیں۔
بقول ابن صفی ایک لکھنے والے کا فرض ہے کہ وہ عوام کی مانگ کو مدنظر رکھتے ہوئے دھیرے دھیرے ان کی شعوری سطح کو بلند کرتا رہے۔ اس طرح کہ وہ کسی قسم کی تکان یا گرانی محسوس نہ کریں۔ ابن صفی کے ناولوں میں ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان میں زبان کا معیار قائم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ یہ خصوصیت ادب کے اعلیٰ میزان پر بھی پوری اترتی ہے مگر پھر بھی ابن صفی اپنی کہانیوں میں زبان کی دلکشی اور ادبی چاشنی قائم رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ان کی زبان ایسے معیار کی ہوتی ہے جو تعلیم یافتہ طبقے میں بھی قبول اور پسند کی جاتی ہے۔ ان کی زبان میں ادبی چاشنی بھی ہوتی ہے اور محاوروں کا لطف بھی، جو کہانی کی گہرائی اور دلکشی کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ بعض لوگوں کو شکایت ہے کہ ان کے بہت سے افسانوں میں کردار اور مواقع کے اعتبار سے یکسانی پیدا ہو گئی۔ شکایت بجا ہے مگر جو شخص معاشرے کے ایک ہی پہلو کو لے کر اتنے افسانے یا ناول لکھے گا اس کے یہاں کسی حد تک یکسانی پیدا ہو جائے گی۔مگر ان کے ناول عام طور سے ہم کو تھکاتے نہیں بلکہ وقت گزاری کیلئے اچھا ذریعہ ہوتے ہیں۔
ابن صفی کا ذہن جاسوسی ناولوں کی ٹکسال تھا۔ انہو ں نے محض 20 برس کے عرصے میں 250 سے زیادہ جاسوسی ناول لکھے یعنی تقریباً ہر ماہ ایک ناول ۔ حالانکہ ابن صفی نے اپنی زندگی کی شروعات شاعری سے کی تھی پھر طنزیہ اور مزاحیہ مضامین لکھنے لگے جن کی تعداد بھی دو سو سے کم نہیں، کئی انگریزی ناولوں کے اردو میں ترجمے بھی کئے لیکن ان کی منزل اردو کا عظیم جاسوسی ناول نگار بننا تھی جس کیلئے انہوں نے شاعری اور مزاح نگاری ترک کی۔
مختلف اخباروں کو دیئے گئے انٹرویوز میں ابن صفی نے اپنے متعلق کئی اہم باتوں کا تذکرہ کیا ہے مثلاً ان کی بیماری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 1960ء میں وہ ایک مہینے میں چار ناولوں کی حیرت انگیز سیریز لکھ رہے تھے کہ بے انتہا ذہنی دبائو کی وجہ سے وہ شیزو فرینیا کا شکار ہو گئے اور پھر تین برس کے علاج کے بعد صحت یاب ہوئے۔1963ء میں صحت یابی کے بعد ڈاکٹر نے انہیں مہینے میں ایک ناول لکھنے کا مشہورہ دیا اور یوں یہ سلسلہ26جولائی 1980ء میں ان کی وفات تک جاری رہا۔ اپنی صحت یابی کا ثبوت انہوں نے 1963ء میں ’ڈیڑھ متوالے‘ جیسا شاندار اور پلاٹ کے اعتبار سے انتہائی مضبوط ناول لکھ کر دیا۔
1952ء میں ابن صفی کا جاسوسی دنیا کا پہلا ناول ’دلیر مجرم‘ شائع ہوا جس کی تمام کاپیاں ایک ہی ہفتے میں فروخت ہو گئیں۔ اس کی مانگ کو دیکھتے ہوئے ناشر کو ’دلیر مجرم‘ کو کئی مرتبہ شائع کرنا پڑا تھا۔ غیر ملکی فضائوں میں لکھے گئے عمران سیریز اور جاسوسی دنیا کے کئی دلچسپ ناولز قارئین کے ذہنوں میں اب بھی محفوظ ہیں۔ ایسے کسی بھی ایڈونچرس ناول کو لکھنے سے پہلے ابن صفی اس ملک و خطے کے حالات، رسم و رواج، رہن سہن، جغرافیائی حالات اور ماحول کے بارے میں مکمل آگاہی کی غرض سے ان ملکوں کے بارے میں مواد جمع کرکے اس کا بغور مطالعہ کرتے تھے۔ اٹلی، فرانس، زنجبار، تنزانیہ، سپین وغیرہ میں ان کے کرداروں کی مہم جو کہانیوں کا رنگ ہی کچھ اور ہے۔ ان میں عمران کی ایڈلاوا سیریز سرفہرست ہے۔ انگوروں سے ڈھکی جھیل کو موکے گرد گھومتی ایڈلاواسیریز کا ناول’ خیر اندیش‘ کون بھول سکتا ہے۔ پڑھنے والا سب کچھ بھلا کر اسی ماحول کا حصہ بننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
ادبی مقام
ابن صفی کے فن کو سراہنے والوں میں بابائے اردو مولوی عبد الحق، محمد حسن عسکری اور پروفیسر مجنوں گورگھپوری جیسی قد آور ادبی شخصیات شامل ہیں۔ مغربی شخصیات میں انگریزی میں جاسوسی کہانیاں لکھنے والی عالمی شہرت یافتہ ادیبہ اگاتھا کرسٹی، اردو زبان کی جرمن سکالر خاتون کرسٹینا اوسٹر ہیلڈ اور نارویجین پروفیسر فن تھیسن شامل ہیں۔ کرسٹینا اوسٹر ہیلڈ نے ابن صفی کے فن کے بارے میں کہا تھا ’’ابن صفی کی جس بات سے میں سب سے زیادہ متاثر ہوں وہ یہ ہے کہ ان کے کردار فریدی اور عمران کبھی کسی عورت کی جانب بری نظر سے دیکھتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔ ابن صفی کے جاسوسی ناول کی جاسوسی ادب میں اس لحاظ سے انوکھی حیثیت ہے کہ اس میں ایک مشن یا مقصد موجود ہے۔ اس لیے اسے محض تفریحی ادب نہیں کہا جاسکتا۔ ان کے جاسوسی ناولوں میں فکری و ذہنی تربیت بھی پوری طرح موجود ہوتی ہے‘‘۔
پروفیسر ڈاکٹر سید محمد ابوالخیر کشفی نے ابن صفی کو یوں خراج تحسین پیش کیا ’’میں نے کبھی ابن صفی کے ناولوں کو کتابوں کے درمیان میں چھپا کر نہیں رکھا۔ کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ آپ ابن صفی کے ناول کیوں پڑھتے ہیں تو میں جواب دیتا ہوں کیونکہ ابن صفی ہمارے کئی ناول نگاروں سے بہتر زبان لکھتے ہیں۔ جب محمد حسن عسکری نے یہ شکایت کی کہ اردو نثر کا فن زوال پذیر ہے اور کوئی اچھی زبان نہیں لکھ رہا ہے تو میں نے انہیں ابن صفی کی جاسوسی دنیا کا ایک ناول پڑھنے کو دیا۔ اس کے بعد وہ ہر ماہ پوچھتے تھے کشفی صاحب، ابن صفی کا نیا ناول آ گیا؟‘‘
انگریزی میں جاسوسی کہانیاں لکھنے والی عالمی شہرت یافتہ ادیبہ اگاتھا کرسٹی نے ریڈیو پاکستان کو ایک انٹر ویو میں بتایا تھا کہ مجھے اُردو نہیں آتی لیکن برصغیر کے جاسوسی ادب سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتی ہوں۔ اردو میں صرف ایک اوریجنل رائٹر ابن صفی ہیں اور سب اس کے نقال ہیں، کسی نے بھی اس سے ہٹ کر کوئی نئی راہ نہیں نکالی۔
یہ حقیقت ہے کہ اردو زبان میں ابن صفی سے زیادہ کسی ادیب کو نہیںپڑھا گیا۔ درحقیقت انہوں نے ادب کو خواص سے نکال کر عوام تک پہنچا یا ، جو نہ صرف ان کے ناولوں کا مطالعہ کرتے تھے بلکہ آنے والے ناول کا بے چینی سے انتظار کرتے تھے۔اردو کے اس عظیم ادیب کا 52 سال کی عمر میں 26 جولائی 1980ء کو کراچی میں انتقال ہوا۔
ابن صفی کی جاسوسی دنیا
فریدی حمید سیریز
1 خوفناک جنگل
2 دلیر مجرم
3 عورت فروش کا قاتل
4 لاشوں کا سوداگر
5 آخری چٹان
6 پراسرار کنواں
7 زہریلا ناگ
8 خوفناک عمارت
عمران سیریز
1 خوفناک ہنگامہ
2 دہشت گرد
3 لاشوں کی بارات
4 نیلی لکیر
5 سیاہ جزیرہ
6 عمران کی واپسی
7 سنہری چڑیل
8 بلیک لینڈ
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments