مولانا فضل الرحمن کا متناز ع بیان
(ن )لیگ کی لیڈر شپ کیلئے بڑا امتحان۔ ۔کیوں؟
پاک فوج کے شہدااور ان کی قربانیوں کو تنخواہوں اور مراعات سے جوڑنے کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کے متنازع بیان پر سیاسی حلقوں اور وزراکی جانب سے شدید ردعمل ظاہر کیا گیا اور اسے شہداکی قربانیوں کی توہین قرار دیا گیا۔ وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، عطا اللہ تارڑ، حنیف عباسی اور دیگر نے مولانا فضل الرحمن کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسا بیان ملک و قوم کیلئے جان قربان کرنے والے شہدا کی توہین ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی نے بھی اسی قسم کے تاثرات کا اظہار کیا اور یہ کہاکہ سیاسی رہنمائوں کو شہدا کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور پاک فوج کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں وہ قوم کے ہیرو ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے اس بیان پر دیگر سیاسی جماعتوں کے زعما اور عوامی حلقوں کی جانب سے بھی ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ قصور سمیت مختلف اضلاع میں مذکورہ بیان پر اندراج مقدمہ کی درخواستیں بھی دی گئی ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے ان خیالات کا اظہار کیوں کیا اور اس پر آنے والا ردعمل کیا ظاہر کرتا ہے، ایک رائے تو یہ ہے کہ مولانا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کے حوالہ سے پریشان ہیں اور اس حوالہ سے انہیں شدید تحفظات ہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ وہ سیاسی ناامیدی کا شکار ہیں، اس لئے کہ ایک بڑے اورجہاں دیدہ سیاستدان کے طور پر ان کی سیاسی اہمیت و حیثیت متاثر ہو رہی ہے۔ انہیں حکومت اور حکمران جماعتوں سے تو گلہ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمہ میں بڑا کردار ادا کرنے اور ان کی حکومت کا تختہ الٹنے میں بنیادی کردار ادا کرنے کے باوجود انہیں بعد ازاں بننے والی حکومتوں میں کوئی بڑا کردار نہیں دیا گیا۔ پھر وہ اپوزیشن کے خلا کو پرُ کرنے کیلئے نکلے مگر حکومت کی بجائے ریاست کو ٹارگٹ کرنے پر اتر آئے۔ انہوں نے اس مقصد کیلئے ایک ایسے عمل کو جواز بنا لیا جس بارے قوم بڑی جذباتی ہے اور اسے قومی وحدت کا معاملہ سمجھتی ہے۔قومی مقصد کیلئے شہادتوں کو ہر طرح کے مفادات و مراعات سے بالاتر، ایسا عمل سمجھا جاتا ہے جس کا مقصد خدا کے ہاں سرخرو ہونا ہے۔ جہاں تک فوج اور سکیورٹی فورسز میں اس جذبہ اور ولولہ کا سوال ہے تو یہ خالصتاً قومی جذبہ ہے جو ہماری اصل طاقت ہے۔
مولانا فضل الرحمن کی جانب سے شہادتوں کو صرف ملازمت اور تنخواہوں سے جوڑنے کے اثرات شہدا کے اہلِ خانہ اور پوری قوم پر اچھے ظاہر نہیں ہوئے اور اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمن کے حامی ان کے خیالات کی تائید پر بضد نظر آ تے ہیں اور مختلف جماعتوں اور طبقات کی جانب سے اس بیان پر معافی کے مطالبہ پریہ مؤقف سامنے آ یا ہے کہ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایسے وقت میں جب بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت مختلف حصوں میں دہشت گردی کے خلاف پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے جوان قربانیوں کی تاریخ رقم کر رہے ہیں، کسی سیاسی رہنما کی جانب سے اس قسم کے بیان کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ کسی سیاستدان کیلئے یہ مناسب نہیں کہ شہدا کے احترام اور شہادتوں کے حوالہ سے ابہام پیدا کرے۔ سیاسی قیادت کے درمیان اعتماد اور قومی اتفاق رائے دہشت گردی کے خلاف کامیابی کیلئے ناگزیر ہے؛چنانچہ عوامی بیانات میں احتیاط لازم ہے۔
اس حوالے سے حکومت میں شامل جماعتوں کے ذمہ داران اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے تو ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے لیکن مولانا فضل الرحمن کی جماعت ان کے تحفظات کو جماعتی بیانیہ کے طور پر لے کر چل رہی ہے اور دفاعی محاذ پر آنے کو تیار نہیں، جس سے لگتا ہے کہ یہ تنائو جمعیت علماء اسلام اور حکومت کے درمیان ٹکرائو میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے، لیکن یہ عمل آنے والے حالات میں مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت عام ترسیاسی اختلاف کے باوجو د مولانا فضل الرحمن کا احترام کرتی نظر آتی ہے لیکن لگتا ہے کہ اگر اس متنازع بیان کے حوالہ سے تنائو کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو مسلم لیگ (ن) کی لیڈر شپ پر بھی دبائو آ سکتا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن کے اس بیانیہ کی مذمت کریں۔اگرچہ حکومت کی کوشش ہو گی کہ نوبت یہاں تک نہ آئے کہ ٹکرائو پیدا ہو جائے۔ کیا ایسا ممکن ہو پائے گا؟ فی الحال ایسا نظر نہیں آ رہا۔ البتہ پنجاب کے سیاسی محاذ پر سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے مولانا فضل الرحمن کے متنازع بیان کو خطرناک قرار دیتے ہوئے ان سے پوری قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن قومی اداروں اور شہدا کی عزت و تکریم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے اس ضمن میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ مسلح افواج کے خلاف توہین آمیز بیان بازی ناقابل برداشت ہے اور شہدا کی قربانیاں پوری قوم کا فخر ہیں، لہٰذا قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر تمام سیاسی رہنمائوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کا اس حوالہ سے ردعمل تو ابھی سامنے نہیں آیا لیکن سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کے شہدا کے حوالہ سے آنے والے بیان پر ردعمل کو بروقت قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے اسمبلی سیکرٹریٹ میں مولانا فضل الرحمن کے بیانیہ پر قراردادیں بھی اسمبلی سیکرٹریٹ میں پیش ہوئیں۔ مولانا فضل الرحمن جیسے تجربہ کار سیاستدان کی جانب سے اس قسم کے بیانیہ کو سطحی اور جذباتی تو قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن ان کے اس طرز عمل پر حکومت اور خصوصاً مسلم لیگ (ن) بھی شدید پریشانی کا شکار ہے اس لئے کہ مسلم لیگ (ن) کی لیڈر شپ سے مولانا کا سیاسی اختلاف کے باوجود خاص تعلق ہے اور حکومتی ذمہ داران ہمیشہ ان کا احترام کرتے نظر آئے ہیں۔ لیکن اس مرحلہ پر انہوں نے ایک ایسا بیان دیا ہے جس پر تحفظات تو سب کے ہاں ہیں مگر پھر بھی (ن) لیگ کے ذمہ داران سیاسی وضعداری اور تعلق کی بنا پر احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے نظر نہیں آ رہے۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ اگر اس بیان پر ردعمل بڑھتا گیا تو ( ن) لیگ کی لیڈر شپ کو بھی کسی واضح مؤقف کا اظہار کرنا پڑے گا اور پھر حکومت کو سیاسی محاذ پر پی ٹی آئی کے ساتھ جے یو آئی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ کیا (ن) لیگ ایسا کر پائے گی، یہ دیکھنا ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments