بہادر شاہ ظفر کی شاعری ان کی زندگی کی دستاویز

تحریر : ڈاکٹر شاہ عالم


انیسویں صدی سیاسی اور معاشرتی سطح پر انتشار اور ابتری کی صدی تھی مگر تخلیقی اعتبار سے یہ زمانہ خاصا تابناک رہا ہے۔

 غالب ہند اسلامی تخلیقی روایت کی عظمت کے سب سے بڑے ترجمان تھے۔ اسی لیے اُس عہد کو عہدِ غالب سے موسوم کیا جاتا ہے۔ بقول صلاح الدین محمود اردو کی بہترین نثر اور بہترین نظم دونوں کی تخلیق کا اعزاز غالب ہی کے حصے میں آیا۔ غالب کے معاصرین میں حکیم مومن خاں مومن، شیخ ابراہیم ذوق، شیفتہ اور بہادر شاہ ظفر کی تخلیقی استعداد بھی غیرمعمولی تھی اور خود غالب بھی ان کے ادبی کمالات کے معترف تھے۔ تاہم ان میں سے کسی کو بھی ہم غالب کا ہمسر نہیں کہہ سکتے۔

بہادر شاہ ظفر کی شاعری اپنا ایک مخصوص جمالیاتی ذائقہ اور اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ اُس عہد کے تناظر میں ان کی شاعری نسبتاً زیادہ توجہ طلب کہی جاسکتی ہے۔ ظفر کی شاعری چونکہ اس عہد کے دیگر شعراکے مقابلے میں اپنے عہد کے مسائل سے زیادہ قریب تھی۔ اس لیے ظفر کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں ان عوامل کو بھی نظر میں رکھنا ہوگا جن سے وہ پورا عہد اور خود بہادر شاہ ظفر کی زندگی متاثر ہوئی۔ ظفر جس سیاسی انحطاط اور باطنی آشوب سے دوچارہ تھے اس کی تصویر ان کی شاعری میں بہت نمایاں ہے۔مغلیہ سلطنت کا زوال، انگریزوں کا روز افزوں اقتدار، شاہی خاندان کی بے بسی ظفر کے لیے بہت بڑا المیہ تھی۔ ظفر کے یہاں اپنے عہد کے سیاسی خلفشار اور سماجی صورتِ حال کا بیان معروضی یا سپاٹ اندازمیں نہیں ملتا۔ ان واقعات کی جڑیں ان کی روح میں پیوست تھیں۔ ایک طرف اجتماعی اور انفرادی مسائل کا بوجھ تھا دوسری طرف ان کی طبیعت کے خاص میلان نے ان کی شاعری میں مایوسی اور حزن کی ایک خاص کیفیت پیدا کردی تھی۔ ظفرکی شاعری ان کی زندگی کی دستاویز بھی ہے۔

افسردگی کے اسباب ان کے خارجی حالات میں تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ ان کی شاعری سے ایک ایسا کردار ابھرتا ہے جس کی ہر سانس  میں درد و غم کی لہریں چھپی ہوئی ہیں۔ ظفر کی شاعری کا یہ کردار ان کی ابتدائی شاعری میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔یہ کردار حسرت و ناکامی کا اعلامیہ ہے۔ اس کے حوالے سے ظفر اپنی روداد بیان کرتے ہیں۔ غدر کے واقعات تو دل دوز تھے ہی لیکن ظفر کی شاعری میں اس دردانگیز قصے کی شروعات شاعری کے آغاز میں ہی ہوچلی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے ظفر ان حالات کے پیدا ہونے سے پہلے اس ذہنی ماحول میں گھر چکے تھے جو 1857ء کے ساتھ مرتب ہوا۔ بقول خلیل الرحمن اعظمی ،کہنے کو تو ظفر نے اپنی زندگی کے آخری ایام رنگون کے بلاخانے میں گزارے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی پوری زندگی ایک طرح کی روحانی کشمکش اور ذہنی جلاوطنی میں گزری ایک مسلسل کچوکے دینے والا عذاب اور ہڈیوں کو پگھلا دینے والا غم اس کی شاعری کا صل محرک ہے۔مثال کے طور پر دیوانِ اول میں ایسے اشعار بکثرت موجود ہیں جن میں انہوں نے اپنے آشوب اور اذیت کا اظہار کیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ شعر نہیں ظفر کے باطنی منظرنامے کے اوراق ہیں جن پر اداسی کے تمام رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ چند اشعار ملاحظ کیجیے:

اُڑ کے جاسکتا نہیں تا سر دیوار چمن

دام صیاد سے چھوٹا بھی تو میں کیا چھوٹا

..........

گئی نہ مر کے بھی میرے نصیب کی گردش

کہ سنگ قبر مرا سنگ آسیا ٹھہرا

..........

سوزشِ دل کو ہیں کیا خاک بجھاتے میری

مجھ کو رسوائے جہاں دیدہ تر کرتے رہے

یہ اشعار ظفر کی ولی عہدی کے زمانے کے ہیں۔ انکی اس کیفیت کے خارجی اسباب بھی تھے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

مرزا عظیم بیگ چغتائی ہشت پہلو ادیب

85 ویں برسی:مزاح نگاری کا جو ملکہ انہیں حاصل ہوا وہ اس دور کے بہت کم لکھنے والوں کونصیب ہوا :عظیم بیگ چغتائی نے اپنے افسانوں اور ناولوں کا دائرہ صرف ہنسنے ہنسانے تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ المیہ ناول اور افسانے بھی لکھے اور زندگی کی مکمل تصویر پیش کرنے پر پوری توجہ د:کیفیت اور کمیت ہر دو اعتبار سے ان کے ادبی کارنامے ان گنت ہیں‘ ان کی خدمات کا دائرہ وسیع اور شخصیت بوقلموں ہے‘ ان سب پر مستزاد ان کا پیرایہ بیان اور طرز نگارش ہے

الفاظ و معنی اورزبان کا رشتہ

الفاظ زندگی کی حرکت وکیفیت کے آئینہ دارہیں ، مفہومی علائم کی ڈگرسے گزرکرانسانی اظہاروابلاغ کی منزل تک جاپہنچتے ہیں۔

ہاکی کاعالمی میلہ شروع:وقارکی بحالی گرین شرٹس کیلئے چیلنج

ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈکپ2026:عالمی رینکنگ کی بنیاد پر شامل 16 بہترین ٹیموں کو ابتدائی مرحلے کیلئے 4 مختلف پولزمیں تقسیم کیا گیا ہے:ہاکی کی تاریخ میں پہلی بار مردوں کا ورلڈ کپ دو ممالک کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جا رہا ہے

سبز پرچم سے سبز درخت تک!

شہرکے ایک محلے میں دو دوست جنید اور جہانزیب رہتے تھے۔دونوں آٹھویں جماعت کے ذہین اور سمجھدار طالب علم تھے۔

اپنا گھر

شکیل کے کمرے میں بکھرے ہوئے کپڑے، کھلا ہوا سوٹ کیس اور میز پر دھرا پاسپورٹ اس کے پختہ ارادے کو ظاہر کر رہا تھا۔ وہ اپنے ابو کے سامنے کھڑا، جذبات سے مغلوب آواز میں اپنا حتمی فیصلہ سنا رہا تھا۔

طوطا: ذہانت،قدرت کا ذہین اور رنگین شاہکار

طوطا دنیا کے خوبصورت اور ذہین پرندوں میں شمار ہوتا ہے۔