انمول رشتہ

تحریر : دانیال حسن چغتائی


فراز اپنے چھوٹے بھائی سرمد سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ وہ جہاں بھی جاتا، سرمد کا خیال رکھتا اور اپنی ہر چیز اسے دیتا لیکن اس قدر پیار کے باوجود، سرمد کی کچھ عادات فراز کو سخت ناپسند تھیں۔

 سرمد عمر میں چھوٹا ہونے کے ساتھ ساتھ حد درجے شرارتی، لاپرواہ تھا۔ اس کی سب سے پریشان کن عادت یہ تھی کہ وہ چیزیں سلیقے سے رکھنے کے بجائے ادھر ادھر بکھیر دیتا اور اس سے بھی بڑھ کر، فراز کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔

سرمد کا پسندیدہ مشغلہ یہ تھا کہ جب بھی فراز اسکول کا ہوم ورک کرنے بیٹھتا یا اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کی تیاری کرتا، سرمد چپکے سے اس کی پنسل، کاپی یاگیند چھپا دیتا۔ فراز گھنٹوں اپنی چیزیں ڈھونڈتا رہتا۔

 فراز نے اسے کئی بار پیار سے سمجھایا: سرمد میاں! شرارتیں وہاں تک اچھی لگتی ہیں جہاں تک کسی کا نقصان نہ ہو، دوسروں کو تنگ کرنا اچھی بات نہیں۔

 مگر سرمد پر جیسے کوئی اثر ہی نہ ہوتا، وہ چند دن سیدھا رہتا اور پھر اپنی حرکتوں پر اتر آتا۔

ایک دن صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ فراز اہم امتحانی پروجیکٹ تیار کر رہا تھا کہ سرمد نے اس کے رنگ اور فائلیں کہیں چھپا دیں۔ کافی تلاش کے بعد جب چیزیں ملیں تو وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا اور فراز کی محنت ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ اس بار فراز کو شدید غصہ آیا۔ اس نے سرمد کو سخت ڈانٹا اور فیصلہ کر لیا کہ اب وہ اس سے کوئی تعلق نہیں رکھے گا۔ فراز نے سرمد سے بات چیت بالکل بند کر دی اور اس کے ساتھ کھیلنابھی چھوڑ دیا۔

 سرمد نے اسے معمول کی ناراضی سمجھا لیکن جب دو تین دن گزر گئے اور فراز نے اس کی طرف دیکھا تک نہیں، تو سرمد سخت پریشان ہو گیا۔ وہ روتا ہوا فراز کے پاس گیا، اس کا ہاتھ پکڑا اور بولا: بھیا! مجھے معاف کر دیں، اب میں کبھی آپ کی چیزیں نہیں چھپاؤں گا۔مگر فراز نے اپنا رخ دوسری طرف موڑ لیا۔

اب سرمد کو اپنی غلطی کا اندازہ ہونے لگا۔ کھیل کا میدان ہو یا پڑھائی، اسے ہر جگہ اپنے بڑے بھائی کی شدید کمی محسوس ہوتی۔ اب وہ اکیلا ہی گھر کے بڑے سے لان میں اداس بیٹھا رہتا، کبھی کسی تتلی کے پیچھے بھاگتا تو کبھی مٹی میں لکیریں کھینچ کر خود کو مصروف رکھنے کی ناکام کوشش کرتا۔

دوسری طرف، فراز بظاہر تو ناراض تھا لیکن اس کا دل اپنے چھوٹے بھائی کیلئے تڑپتا تھا۔ جب بھی سرمد لان میں اکیلا کھیل رہا ہوتا، فراز کمرے کی کھڑکی کے پردے کے پیچھے چھپ کر اس پر نظر رکھتا۔ وہ مسلسل ڈرتا رہتا کہ کہیں سرمد بھاگتے ہوئے گر نہ جائے، اسے چوٹ نہ لگ جائے یا وہ اکیلے پن میں کوئی الٹی سیدھی حرکت نہ کر بیٹھے۔ یہ بڑے بھائی کی بے لوث محبت ہی تو تھی جو ناراضی میں بھی سرمد کی حفاظت کر رہی تھی۔ فراز کا دل بھی چاہتا تھا کہ وہ دوڑ کر جائے اور اپنے بھائی کو گلے سے لگا لے لیکن وہ چاہتا تھا کہ سرمد کو اپنی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کا احساس اچھی طرح ہو جائے۔

کئی دن گزر گئے۔ ایک شام فراز نے دیکھا کہ سرمد لان میں سر جھکائے، نہایت اداس اور خاموش بیٹھا ہے۔ بھائی کی یہ حالت دیکھ کر فراز کے دل کا پگھل جانا لازمی تھا۔

فراز کمرے سے نکلا اور سیدھا لان میں سرمد کی طرف بڑھا۔ سرمد نے جب اپنے سامنے کسی کا سایہ دیکھا تو سر اٹھایا۔ سامنے فراز کھڑا مسکرا رہا تھا۔ فراز نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور کہا: اب اکیلے کھیلنے کا مزہ آ رہا ہے؟

فراز کا یہ جملہ سننا تھا کہ سرمد کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ اس کی اداسی پل بھر میں کافور ہو گئی اور وہ اچھل کر اپنے بھائی کے گلے لگ گیا۔ اسے اچھا دوست اور شفیق بھائی واپس مل گیا تھا۔ 

سرمد نے کان پکڑ کر دوبارہ ایسی حرکتیں نہ کرنے کا پکا وعدہ کیا۔اور فراز نے ہنستے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس کے بعد، دونوں بھائی ایک بار پھر خوشی خوشی لان میں کھیلنے لگے اور پورا گھر ان کے قہقہوں سے گونج اٹھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم

لاہور ہائی کورٹ میں اصلاحات ،جدید عدالتی نظام اور فوری انصاف کا نیا باب:دوسالہ دور میں عدالتی ،انتظامی ،ڈیجیٹل اور انفراسٹرکچر اصلاحات کی نئی تاریخ رقم

خوبانی: صحت بخش پھل

گرمیوں کے موسم میں آنے والے مزیدار پھلوں میں خوبانی ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ اپنے سنہری زرد رنگ، خوشبودار ذائقے اور نرم گودے کی وجہ سے یہ بچوں اور بڑوں سب کی پسندیدہ ہوتی ہے۔

قلعہ بران :رومانیہ کا پراسرار تاریخی شاہکار

رومانیہ کے خوبصورت پہاڑی سلسلے کارپیتھین کے دامن میں واقع قلعہ بران دنیا کے مشہور تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

فوقی نے اک چوزہ پالا

فوقی نے اک چوزہ پالا،چوں چوں چوں چوں کرنے والا

نصیحت آموز باتیں

٭…ہمیشہ سچ بولیں۔

ذرا مسکرائیے

استاد (شاگرد سے) :بلبل کا مذکر بتاؤ؟