میر تقی میرؔ سماجی شعور و آگہی کا شاعر

تحریر : ڈاکٹر شفیع الرحمن


میر تقی میر(1723-1810ء) ایک نابغۂ روزگار شخصیت کا نام ہے۔ ایسی شخصیات ہر روز پیدا نہیں ہوتیں، میر کو خود اس کا بات کا احساس ہے؛یہ شعر ان کے حسب حال ہے

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

مذکورہ شعر کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ میر نے نابغہ روزگار کے لیے یہ بات کہی ہے۔ میر تقی میر نے اردو شاعری کی مختلف اصناف پر طبع آزمائی کی اور تقریباً ہر صنف کو اعتماد بخشا لیکن صنفِ غزل کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ میر نے غزل میں ایسے ایسے گل بوٹے کھلائے جو آج تک کسی اور سے نہ ہو سکا۔ میر نے وقت کی دھڑکن کو اپنے خون میں شامل کرکے اپنی شاعری میں سمولیا ہے۔ان کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم ان سے اتنے قریب ہوجاتے ہیں کہ ان کا خون ہماری رگوں میں گردش کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ چند اشعارملاحظہ ہوں:

٭ باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنئے گا

پڑھتے کسو کو سنئے گا تو دیر تلک سر دھنئے گا

٭ بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو

ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

 میر کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ہم پر یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ میر نے جو کچھ شعر کی شکل میں ہمیں دیا وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی ہے۔ میر کے اشعار پڑھنے کے بعد ہمیں ایسا بالکل نہیں لگتا ہے وہ اشعار دو ڈھائی سو برس پہلے کہے گئے ہیں بلکہ جب جب ہم ان کے اشعار کو پڑھتے ہیں تب تب یہ ہمیں تازہ اور ہمارے عہد کے ہی معلوم ہوتے ہیں۔ بقول حسن رضوی، ہم جب بھی اُن کا کوئی شعر پڑھتے ہیںتو ایسا معلوم ہوتاہے کہ جیسے کوئی ہمارے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ ہمارا بزرگ، دوست اور ساتھی ہے۔ اسی طرح زمانے کے سرد و گرم کو جھیلے ہوئے دکھ اٹھائے ہوئے، آشوبِ روزگار کا مارا ہوا،ہمارے زخموں پر اپنے اشعار سے مرہم رکھ دیتا ہے۔ میر نے اپنی شاعری میں تشبیہات و استعارات کے ذریعے ایسا پیکر تراشا جس میں زندگی کی حرارت محسوس ہوتی ہے۔ ان کے کلام میں جہاں شگفتگی اور مسرت کی جھلک نظر آتی ہے وہاں  کسی نہ کسی گوشے میں درد و غم کا گزر بھی ملتا ہے۔ میرکی شاعری حد درجہ داخلی، شخصی اور نشتریت سے بھری ہے۔ ان کی  شاعری میں انسان اور انسانیت کی آواز ہے کیونکہ انہوں نے شاعری نہیں ساحری کی ہے۔ ان کے اشعار ہمارے دل پر  فوراً اثر کرتے ہیں اور ہمیں بے اختیار کردیتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ایسی حسن کاری ہے کہ ہم اسے بیان نہیں کرسکتے۔ انہوں نے اپنی سحر بیانی سے آپ بیتی کو جگ بیتی بنا دیا اور یہ انہی کا کمال ہے۔

میر کی شاعری میں جو سوزو گداز اور اثر و تاثیر ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی ذات نے غمِ عشق، غمِ روزگار اور انقلابِ زمانہ کی سختیاں جھیلیں۔ انہیں اپنے عزیزوں کی بدسلوکی کا زخم کھانا پڑا، عشق میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، پے در پے بیرونی حملوں نے دلی اور اہلِ دلی پر جو آفت توڑی اسے سہنا پڑا۔ ا ن حالات نے ان کی شخصیت پر جو اثر چھوڑے وہ ان کی شاعری کے سلسلے میں بہت اہم ہیں۔ شاعری میں سوز و گداز کی سی کیفیت انہیں اثرات کے نتیجہ ہیں۔ میر جب اپنے دل کے لٹنے کا ذکر کرتے ہیںتو اس کے پس منظر میں وہ سارے انقلابات ہوتے ہیں۔ جن سے دلی دو چار تھی۔ اس طرح ان کا ذاتی غم آفاقی ہوجاتا ہے گویا ان کی شاعری کی اہم ترین خصوصیات آفاقیت اور عمومیت ہیں۔ انہوں نے گرچہ اپنے ہی جذبات و احساسات بیان کیے ہیں لیکن ان میں ایک عام انسان کے دل کی دھڑکن صاف سنائی دیتی ہے۔ ایک ایسا انسان جس پر وہ سب کچھ بیت سکتا ہے جو میر پر بیت چکاہے۔ ان کی دنیا میں وہ تمام حالات پیدا ہوسکتے ہیںجن کو میر اپنی زندگی میں دیکھ چکے تھے۔ اسی لیے میرکی شاعری اپنے اندر موافقت کی فضا رکھتی ہے۔ ان کی شاعری میں عام انسانی اپیل ہے۔ جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے اسی وجہ سے ان کا چرچا گھر گھر ہے اور جو مقبولیت انہیں ان کی حیاتِ زندگی میں انہیں حاصل تھی اس سے کہیں زیادہ انہیں آج حاصل ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عبداللہ حسین:اداس نسلوں کے ناول نگار

گیارھویں برسی: انہوں نے اپنے ناولوں اور افسانوں کے انگریزی میں تراجم کیے جبکہ براہ راست انگریزی میں بھی لکھا: فکشن اصل میں حقیقت ہی کی توسیع ہے، جب تک حقیقی اجزا نہیں لیے جائیں گے فکشن کی کوئی تصویر مکمل نہیں ہو سکتی:عبداللہ حسین:انہوں نے تجربات سے اپنی تخلیق کا مواد حاصل کیا‘ وہ خود کو ان فکشن نگاروں میں شمار کرتے ہیں جو محض تخیل کی بنا پر فکشن تخلیق نہیں کرتے بلکہ حقیقت کے مشاہدے سے اپنے لئے مواد حاصل کرتے ہیں

فیفا ورلڈ کپ 2026ء :رائونڈ 32کا آغاز

ناک آئوٹ مرحلہ 32ٹیموں کے درمیان 16مقابلے ہونگے

گولڈن بوٹ کی دوڑ

فیفا ورلڈ کپ 2026 اپنے سنسنی خیز مقابلوں، حیران کن نتائج اور عالمی شہرت یافتہ ستاروں کی شاندار کارکردگی کے باعث دنیا بھر کے شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

یوم شہادت سید نا امام حسین رضی اللہ عنہ

رمز قرآن از حسین رضی اللہ عنہ آمو ختیم ہم نے قرآن کا اصل راز حسین رضی اللہ عنہ سے سیکھا ہے (اقبالؒ)

کہ یہی۔۔۔۔پیغام حسین ؓ ہے

رحمت عالم ﷺ کا فرمانِ مقدس کہ ’’حسینؓ مجھ سے ہے اور میں(محمدﷺ) حسین ؓ سے ہوں‘‘(جامع ترمذی:3775)۔ لوگ اس بات سے تو واقف تھے کہ بلاشبہ حضرت امام حسین ؓ حضوراقدس ﷺ سے ہی ہیں لیکن حضور سیدِ عالم ﷺکا حسینؓ سے ہونا،یہ بات سمجھ سے بالا تر تھی۔

سید نا امام حسین ؓ

کوئی نہیں حسین ؓ سا حسین ؓ بس حسین ؓ ہے چراغ ہدایت اور حیات انسانی کا ابدی سفر