شعرکہانی

تحریر : ملک احسن اعوان


ایک چھوٹے سے گائوں میں ایک لڑکا رہتا تھا، اس کا نام ابرار تھا۔ وہ غریب کسان کا بیٹا تھا، مگر دل میں بڑے خواب رکھتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، جیسے اس کے اندر کوئی روشنی بھڑک رہی ہو۔

 اس کے باپ کی تھوڑی سی زمین تھی، جس پر وہ دن رات محنت کرتا، مگر بمشکل گھر کا خرچ پورا ہوتا۔ 

ابرار روزانہ اسکول کے بعد کھیتوں میں باپ کا ہاتھ بٹاتا، مگر اس کا دل کتابوں میں اٹکا رہتا۔ اسے پڑھنے کا جنون تھا۔ وہ اکثر آسمان کی طرف دیکھ کر کہتا: میں بڑا آدمی بنوں گا۔باپ مسکرا کر کہتا: بیٹا، اللہ پر بھروسہ اور اپنی محنت پر یقین رکھو۔ 

گائوں کے لوگ ابرار کے خوابوں پر ہنستے۔ وہ کہتے: ارے، یہ کسان کا بیٹا کیا کر لے گا ؟ مگر ابرار کے دل میں علامہ اقبالؒ کا یہ شعر نقش تھا: 

 خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے 

خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے  

یہ شعر اس کیلئے دعا بن گیا تھا۔ وہ ہر صبح اس شعر کو دہراتا ، جیسے اسے اپنی روح میں اُتار رہا ہو۔ 

میٹرک کے امتحانات قریب آئے تو ابرارنے دن رات ایک کر دیا۔ کھیتوں میں کام کرنے کے بعد رات گئے تک پڑھتا رہتا۔جب نتیجہ آیا تو وہ گائوں میں اوّل آیا۔ اسکول کے استاد نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہاـ: بیٹا! تم میں آگ ہے، اسے بجھنے نہ دینا۔ 

باپ کے پاس شہر بھیجنے کیلئے پیسے نہیں تھے مگر ابرار نے ہمت نہ ہاری۔ وہ چھوٹے موٹے کام کرنے لگا۔ اس نے آہستہ آہستہ اتنے پیسے جمع کر لیے کہ شہر جاسکے۔ شہر آ کر ابرار نے ایک چھوٹے سے ہوسٹل میں کمرہ لے لیا۔ دن میں کالج جاتا، رات کو ہوٹل میں برتن دھوتا۔

ایک دن ہوٹل کے مالک نے کہا: بیٹا، تم اتنی محنت کرتے ہو، کبھی آرام بھی کر لیا کرو۔ ابرار مسکرا کر بولا: آرام تو نصیب والوں کو ملتا ہے، میں اپنی تقدیر خود بنانا چاہتا ہوں، اس لئے محنت کرتا ہوں۔  

ہر رات وہ چھت پر جاکر آسمان کو دیکھتا، ستاروں کو تکتا اورعلامہ اقبالؒ کا شعر دہراتا: ’’خودی کو کر بلند اتنا۔۔ ‘‘اور پھر اپنے اندر ایک نیا حوصلہ محسوس کرتا۔ 

وقت گزرتا گیا۔ ابرار نے انٹر میں اعلیٰ نمبر حاصل کیے ، مگر یونیورسٹی کی فیس بہت زیادہ تھی۔ وہ مایوس ہوگیا۔ رات کو اس نے اللہ سے دعا کی : اے اللہ، میں نے ہمیشہ تیرا نام لے کر محنت کی، اب تو چاہے تو مجھے آگے بڑھنے کی راہ بنا دے۔

اگلے ہی دن اسے یونیورسٹی سے کال آئی۔ اسے اسکالرشپ مل گئی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اسے لگا جیسے خدا نے اس کی رضا خود اس سے پوچھی ہو۔ وہ جان گیا کہ اگر انسان اپنی خودی پہچان لے تو قدرت اس کے قدم چومتی ہے۔ 

ابرار نے انجینئرنگ میں داخلہ لیا۔ وہ نہ صرف کلاس کا بہترین طالب علم بنا بلکہ دوسروں کی مدد بھی کرتا۔ جب کبھی کوئی دوست کہتا: یار، قسمت ساتھ نہیں دے رہی۔ ابرار مسکرا کر کہتا:قسمت ان کا ساتھ دیتی ہے جو خود پر بھروسہ کرتے ہیں۔ 

چار سال کی انتھک محنت کے بعد ابرارنے یونیورسٹی میں ٹاپ کیا۔ اسے ایک بڑی کمپنی میں نوکری مل گئی۔ آج وہ وہیں تھا جو کبھی اس کا خواب ہو ا کرتا تھا۔ جب اسے پہلی تنخواہ ملی تو اس نے سب سے پہلے اپنے باپ کو بھیجی۔ خط میں لکھا: بابا! آپ نے مجھے دعا دی تھی کہ اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اللہ نے میری محنت کو عزت دی۔

کچھ سالوں بعد ابرار اپنے گائوں واپس آیا۔ وہ اب انجینئر بن چکا تھا، مگر غرور سے خالی۔ وہ سیدھا اسکول گیا، جہاں کبھی مٹی کے فرش پر بیٹھ کر خواب دیکھا کرتا تھا۔ اس نے اسکول کے بچوں کو جمع کیا اور کہا: میں بھی تم جیسا ہی تھا مگر یقین سے بھرپور ۔ یاد رکھو، تمہاری اصل طاقت تمھارا یقین ہے۔ اگر تم اپنی خودی کو پہچان لو، تو دنیا تمہارے قدموں میں ہوگی۔ 

ایک بچے نے پوچھا: سر، خودی کیا ہوتی ہے؟

ابرار نے مسکرا کر جواب دیا: خودی وہ شعلہ ہے جو انسان کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے میں کچھ کرسکتا ہوں۔ جب یہ آگ بھڑک جائے تو اس کے آگے تقدیر بھی نہیں ٹھہر سکتی۔  

بچے تالیاں بجانے لگے، مگر ابرار کے چہرے پر سکو ن کی مسکراہٹ تھی۔ اسے احساس تھا کہ وہ اب صرف اپنی نہیں ، دوسروں کی تقدیر بدلنے آیا ہے۔ وقت گزرتا گیا ۔ ابرار نے گائوں میں ایک اسکول قائم کیا تاکہ غریب بچوں کو مفت تعلیم ملے۔چند سالوں بعد وہ اسکول ایک اہم تعلیمی مرکز بن گیا۔ غریب بچے اب ڈاکٹر، انجینئر اور استاد بننے لگے۔

ایک دن ابرار کے استاد ، جنھوں نے بچپن میں اس کا حوصلہ بڑھایا تھا، اس سے ملنے آئے۔ انھوں نے کہا: بیٹا، تم نے اپنی خودی کو پہچان لیا۔ اب تم دوسروں کو اُن کی پہچان سکھا رہے ہو۔ یہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔ 

ابرار نے آسمان کی طرف دیکھا ، دل ہی دل میں بولا:اے خدا، تیرا شکر ہے! آج میں سمجھ گیا ہوں کہ خودی کو بلند کرنے کا مطلب صرف کامیابی نہیں، بلکہ دوسروں کو روشنی دینا ہے۔ 

اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ تھی اور دل میں اطمینان۔ کیوں کہ اب وہ اس مقام پر پہنچ چکا تھا جہاں خدا خود اس سے پوچھتا تھا: 

’’بتا، تیری رضا کیا ہے؟‘‘

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

بادل لوٹ آئے

پہاڑی وادی شیرانوالا میں سردیوں کا موسم اپنے عروج پر تھا، اس بار بادل جیسے اس خوبصورت زمین کو بھول چکے تھے۔

طرزِ گفتار

زمیں کے تارو! ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں بے شمار اچھائیوں کے ساتھ لاتعداد برائیاں بھی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر ہر چیز کو جوڑا پیدا فرمایا ہے۔

آڑو: صحت بخش اور لذیذ پھل

گرمیوں کا موسم اپنے ساتھ بہت سے مزیدار پھل لاتا ہے، جن میں آڑو ایک نہایت مقبول اور خوش ذائقہ پھل ہے۔

کالے بادل آئیں گے

کالے بادل آئیں گےآ کر مینہ برسائیں گے

نصیحت آموز باتیں

٭…پانی ضائع نہ کریں۔٭…کھانا ضائع نہ کریں۔

ذرا مسکرائیے

ماں (بیٹے سے): اگر تم میرے کہنے پر عمل نہیں کرو گے تو میں تمہیں سخت سزادوں گی۔