جدید اُردو شاعری کی عصری معنویت

تحریر : محمد اسد اللہ


جدیدیت اور ترقی پسند تحریک عالمی ادبیات میں رو نما ہونے والی دو اہم تحریکات تھیں۔ اردو ادب پر ان دونوں تحریکات کے گہرے اثرات مرتسم ہوئے۔

ترقی پسند تحریک کے عطا کر دہ ادبی سرمائے کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ زمینی حقیقتوں کی عکاسی، بعض روایات سے بغاوت، احتجاج اور سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت اس کی امتیازی خوبیاں تھیں۔ یہی ترقی پسندی کی پہچان بھی تھی۔ جدیدیت کے متعلق یہ خیال عام ہے کہ وہ ترقی پسند تحریک کے رد میں وجود میں آ ئی تھی۔ حالانکہ جدیدیت محض ترقی پسندی سے انحراف نہ تھا، اس تحریک کی بنیاد عصری زندگی کے وہ نئے مسائل تھے جن کے فنی اظہار کے لئے نئے وسیلے، اسالیب اور طریقے در کار تھے۔ جدیدیت نے تخلیقی سطح پر یہ لوازمات مہیا کئے۔ اسی کے ساتھ عصری شعور کے اظہار نے اسے ترقی پسندی سے الگ کر دیا تھا۔ ہر زمانے میں نئے مسائل سر اٹھاتے ہیں اور ان میں سے کچھ شعر و ادب کا موضوع بھی قرار پاتے ہیں۔ یہ مسائل فرد کی اپنی ذات کے متعلق بھی ہو سکتے ہیں اور بعض بیرونی معاملات بھی ہو سکتے ہیں جن کا ادراک فنکار کو ذاتی شعور، تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں طبع آزمائی پر آمادہ کرتا ہے پھر وہ انہیں ادب کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ جدیدیت نے ادب میں ایک بدلتی ہوئی زندگی اور بڑے تغیرات کی زد پر موجود دنیا کو اپنا موضوع بنایا اور اس کے لیے اپنے اظہار کے طور طریقے اپنائے جن میں موضوعات کے ساتھ زبان، بیان، لفظیات اور طرزِ اظہار سب میں نمایاں تبدیلیاں موجود تھیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے جدیدیت کی تحریک کو ماہ و سال کے حوالے سے بیان کر تے ہوئے لکھا ہے:خالص میکانیکی اور زمانی نقطہ نظر سے نئی شاعری سے میں وہ شاعری مراد لیتا ہوں جو 1955 ء کے بعد تخلیق ہوئی ہو۔ 1955 ء کے پہلے ادب کو میں نیا نہیں سمجھتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ 1955 ء کے بعد جو بھی کچھ لکھا گیا وہ سب نئی شاعری کی زمرے میں آ تا ہے اور یہ بھی نہیں کہ 1955 ء کے پہلے کے ادب میں جدیدیت کے عناصر نہیں ملتے۔

 یوں تو حالی اور محمد حسین آ زاد کی ان کوششوں کو نئی شاعری کا نقطہ آغاز خیال کیا جاتا ہے جس کے تحت انہوں نے روایتی شاعری سے قدرے انحراف کر کے نئے زمانے کے تقاضوں کو موضوعِ سخن بنانے پر زور دیا اور غزل کے مقابلے میں نظم کو بروئے کار لانے کا مشورہ دیا حالانکہ وہ ان شعبوں میں کوئی غیر معمولی تبدیلیاں پیدا نہیں کر پائے۔ اس سلسلے میں خلیل الرحمن اعظمی لکھتے ہیں:شاعری کے سلسلے میں ’’جدید‘‘ کی صفت بطور اصطلاح ہمارے ہاں اس وقت استعمال میں آئی جب آ زاد اور حالی نے شعوری طور پر مقصدی، افادی اور اصلاحی قسم کی نظمیں لکھنے اور اس رجحان کو فروغ دینے کی کوشش کی اس وقت سے لے کر اب سے کچھ دنوں پہلے تک جدید شاعری کے جتنے رجحانات سامنے آئے ہیں ان کے پیچھے زمانہ حاضر سے متعلق کسی نہ کسی  نصب العین کا تصور کار فرما رہا ہے۔ بعض اوقات ایک رجحان دوسرے رجحان کی ضد یا ردعمل کے طور پر وجود میں آ یا۔ حالی اور محمد حسین آ زاد کی کوششوں سے ایک نئی سمت میں اردو شاعری کے سفر کا آغاز ضرور ہوا مگر اس میں قدیم طرزِ شاعری سے انحراف کا پہلو نمایاں تھا اسی کے ساتھ غزل کے مقابلے میں انہوں نے نظم کو ترجیح دی کیونکہ یہ نئے عہد کے اظہار اور نئے موضوعات کو بڑے پیمانے پر پیش کرنے کے لیے مناسب تھی۔

مذکورہ دونوں ادیبوں کی جدت پسندی اس رجحان سے قدرے مختلف تھی جو آگے جا کر جدیدیت کے نام سے پہچانا گیا۔ حالی اور آ زاد کے متعلق شمیم حنفی لکھتے ہیں:حالی اور آ زاد کی اصلاح پسندی ان کے تخلیقی مزاج سے زیادہ ان کے عہد کی ترجمانی ہے۔ ان کے خیالات میں تضاد نیز ان کے انفرادی میلانِ طبع اور ان کے عہد کے تقاضوں میں کش مکش کا سبب یہی ہے کہ ان کی شخصیتیں اس مزاج سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں تھیں اور اس مزاج سے ان کا رشتہ تخلیقی یا فنی کم، شعوری زیادہ تھا۔ جدید شاعروں نے زندگی کے ابھرتے ہوئے زاویوں کو محسوس کر کے نئی واردات مرتب کی اور اپنے مشاہدات اور تجربات کو لسانی پیرائے میں پیش کیا۔ انہوں نے روایتی شاعری کے متعین وسائل کے بجائے اپنے ادبی وسائل کو استعمال کیا۔ جدید شاعری کے علمبرداروں کے ذہن میں مخصوص لائحہ عمل اور منصوبہ بندی ضرور تھی جس نے اس رجحان کی تشکیل کی تھی۔ حالی اور محمد حسین آ زاد کے بعد حسرت موہانی کی غزلوں میں جو نیا پن نظر آتا ہے اسے غزل کے احیا سے تعبیر کیا گیا۔ اسی دور میں شاد عظیم آ بادی اور بعض دیگر شعرا کی غزلیں بھی ایک نئے انداز کا احساس دلائی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

ابنِ صفی اُردو کے عظیم جاسوسی ناول نگار

46ویں برسی: ان کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ زبان کے معیار،دلکشی اور چاشنی کو برقراررکھا: ابن صفی کے ناولوں میں ایک مشن یا مقصد موجود ہے، اس لیے انہیں محض تفریحی ادب نہیں کہا جاسکتا‘ ان میں فکری و ذہنی تربیت بھی پوری طرح موجود ہوتی ہے: اردو زبان میں ابن صفی سے زیادہ کسی ادیب کو نہیں پڑھا گیا‘ انہوں نے ادب کو خواص سے نکال کر عوام تک پہنچا یاجو ان کے آنے والے ناول کا بے چینی سے انتظاربھی کرتے تھے

فیفا ورلڈ کپ کا تاج کس کے سر سجے گا؟

فائنل معرکہ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن اور سابق چیمپئن سپین مد مقابل ہونگے

اچھی عادات!

اے بی سی پبلک سکول اپنے نظم و ضبط اور اعلیٰ روایات کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ والدین کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے بچوں کو اسی سکول میں داخلہ ملے۔

بیٹی

سب کی میں دُلاری ہوں،امّاں ابّا کی پیاری ہوں

افسوس نہ کیجئے!

امریکہ کے ایک نفسیاتی ڈاکٹر نے کہا ہے کہ آدمی سب سے زیادہ جس چیز میں اپنا وقت برباد کرتا ہے وہ افسوس ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بیشتر لوگ ماضی کی تلخ یادوں میں گھرے رہتے ہیں۔

آلو بخارا: گرمیوں کا رسیلا پھل

آلو بخارا مزیدار، رسیلا اور غذائیت سے بھرپور پھل ہے۔ یہ گرمیوں کے موسم میں بازاروں کی رونق بڑھا دیتا ہے۔