آلو بخارا: گرمیوں کا رسیلا پھل

تحریر : عائشہ شاہد


آلو بخارا مزیدار، رسیلا اور غذائیت سے بھرپور پھل ہے۔ یہ گرمیوں کے موسم میں بازاروں کی رونق بڑھا دیتا ہے۔

 اس کا ذائقہ میٹھا اور ہلکا سا کھٹا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بچے اور بڑے سب ہی اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ اس کا نرم گودا اور خوش ذائقہ رس اسے دوسرے پھلوں سے منفرد بناتا ہے۔

آلو بخارا نہ صرف کھانے میں لذیذ ہوتا ہے بلکہ صحت کیلئے بھی بہت فائدہ مند ہے۔ اس میں وٹامن اے، وٹامن سی، فائبر، پوٹاشیم اور دیگر اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ یہ جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے، ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے اور قوتِ مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔ اس میں موجود فائبر نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے اور قبض سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ گرمی کے موسم میں اس کا استعمال جسم کو تازگی اور فرحت بھی بخشتا ہے۔

آلو بخارا تازہ کھانے کے علاوہ خشک کر کے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جسے عام طور پر ’’خشک آلو بخارا‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس سے مزیدار مربہ، جام، جوس، شربت اور مختلف میٹھے پکوان بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ بعض لوگ اسے سلاد اور دیگر کھانوں میں بھی شامل کرتے ہیں، جس سے ان کا ذائقہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان کے کئی علاقوں میں آلو بخارا کاشت کیا جاتا ہے، خصوصاً بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بعض حصوں میں اس کی اچھی پیداوار ہوتی ہے۔ اس کی کاشت کسانوں کیلئے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ یہ پھل نہ صرف ملک میں پسند کیا جاتا ہے بلکہ بیرونِ ملک بھی برآمد کیا جاتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ جنک فوڈ اور مصنوعی مشروبات کے بجائے تازہ اور قدرتی پھل اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔ آلو بخارا ایک ایسا پھل ہے جو ذائقے اور غذائیت کا بہترین امتزاج پیش کرتا ہے۔ اگر بچے روزانہ مناسب مقدار میں تازہ پھل کھائیں تو وہ صحت مند، توانا اور چاق و چوبند رہ سکتے ہیں۔ اس لیے آلو بخارا کو اپنی روزمرہ خوراک میں ضرور شامل کرنا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

احمد فرازجو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا

آ ج 18 ویں برسی: ان کی شاعری سے ایک رومانی، ایک نوکلاسیکی شاعر کی تصویر بنتی ہے: فراز کا یہ کمال بھی لائق صد تحسین ہے کہ کڑی آزمائشوں میں سے گزرنے کے باوجود اپنی انقلابی شاعری میں سچ سے گریز پا نہ ہوئے۔ صورتحال کا تجزیہ کرتے اور پڑھنے سننے والوں کو اپنی فکر کے مطابق سوچنے پر مجبور کرتے:وہ اردو شاعری کی ایک عظیم میراث کے امانت دار تھے جس میں میر تقی میر سے لیکر فیض احمد فیض تک مشاہیر اور منفرد لہجے کے شعراء شامل ہیں‘ اور اسی آمیزہ سے ان کی شاعری بالخصوص غزلیں اور نظمیں ثروت مند وتو نگر ہوئیں

ہاکی ورلڈ کپ: سارے خواب چکناچور

پاکستان ہاکی ٹیم کی مایوس کن واپسی:پاکستان ہاکی کا زوال محض ایک یا دو میچوں کی ناکامی نہیں بلکہ جدید ہاکی کے تقاضوں سے بے خبر ہونے کا نتیجہ ہ:گرین شرٹس تینوں پول میچوں میں ایک بھی فتح حاصل کرنے میں ناکام رہی، اور محض ایک پوائنٹ کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی

قیادت کی تبدیلی کے باوجود قومی ٹیم کا زوال جاری

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ :ٹیسٹ سیریز2026ء:غیر ملکی سر زمین پر پاکستان کی غیر معیاری کارکردگی ،دس بیرونِ ملک ٹیسٹ میچوں میں نویں شکست:دوسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستانی ٹیم کو اپنی غلطیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا، غیر ملکی دوروں پر مسلسل شکستوں کے سلسلہ کو توڑنے کیلئے ٹاپ آرڈر کوکریز پر وقت گزارناہوگا

جشن سے آگے !

دیواروں پر لٹکی ہوئی کاغذ کی جھنڈیاں فر فر کی آوازیں پیدا کر رہی تھیں مگر زمین کا منظر کچھ اور ہی تھا۔عارف کے قدم اپنی جگہ منجمد ہو چکے تھے۔

ماں کی شان

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور پاکﷺ سے دریافت کیا کہ رشتہ داروں میں سے میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟

ہُد ہُد: قدرت کا حسین اور منفرد پرندہ

ہدہد ایک نہایت خوبصورت، منفرد اور دلکش پرندہ ہے، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں بھی حضرت سلیمان ؑکے واقعے کے حوالے سے ملتا ہے۔