الفاظ و معنی اورزبان کا رشتہ
الفاظ زندگی کی حرکت وکیفیت کے آئینہ دارہیں ، مفہومی علائم کی ڈگرسے گزرکرانسانی اظہاروابلاغ کی منزل تک جاپہنچتے ہیں۔
الفاظ کا سفر زمانہ کی گردش کے پہیے کے ساتھ نامعلوم منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ یہی الفاظ ننھی و معصوم زبانوں سے وجود پا کرجواں ہوتے ہیں۔ کبھی آبائی مکان تبدیل کرتے ہیں تو کبھی حادثاتی طورپر لقمہ اجل بن جاتے ہیں تو کبھی طبعی عمر پاکر ضعیفی کے دامن میں دم توڑ دیتے ہیں۔ شادمانی اور افسردگی کے موقع پر عبارت بن کر جذبات کی عکاسی یہی الفاظ ہی تو کرتے ہیں۔ جس کی ترنگوں پرزندگی کی وضع قطع اور دلی سنجیدگی کی انقباضی راہوں کوپرخارکردیتی ہیں۔ تخیل کے آسمان سے پرواز کرکے کتابوں کے قفس میں قید ہونے والے یہی الفاظ خیال بن کر عبارتوں کی صورت بن جاتے ہیں۔ حروف کے روپ کی رنگ برنگی دنیا صدیوں کے گردشی فاصلے کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ آج دیکھنا یہ ہے کہ ان الفاظ کے نشیب وفراز میں ہم کس مقام پرکھڑے ہیں۔
جب سے آدم نے اس زمین پر قدم رکھا،کرہ ارض کے مختلف خطوں میں گھومنے والے انسان کو اپنے ارادوں کو زبان پر لانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ انسان کی دماغی ساخت نے اسے دیگر حیوانات سے بالا سوچنے اور سمجھنے پر مجبور کیا اوروہ اپنی آوازوں کو مسلسل عمل کے ذریعہ اظہارِخیال کیلئے چھوٹے چھوٹے لفظ کو یکجا کرتارہا اور اپنے جسمانی اعضااور ذہنی ہم آہنگی کے ذریعہ آواز کو مادی ضروریات کی تکمیل کیلئے استعمال کرتا رہا۔ اور اسی قوتِ فکر نے اسے حیوانات سے منفرد بنادیا۔آوازوں کا یہ مجموعہ انسا ن کی اجتماعی زندگی کو باندھے رکھنے کا بھی ذریعہ بنا جیسا کہ زبان وخیال میں بہت گہرا تعلق ہے اس لئے آواز ، زبان اورخیال عمل زندگی کے ہرقدم پر انسان کے ساتھ پیوست ہوگئی اوربتدریج ترقی کرنے لگی۔ جب زبان کا مطالعہ صوتی حیثیت سے ہوتا ہے تو آواز اوراس کی اقسام ‘ الفاظ کی تخلیق وساخت اور اصوات اصول وضوابط ضروری قرار دیئے جاسکتے ہیں اور اسی کسوٹی پر الفاظ کو معنی کے رشتے پر پرکھا جاتا ہے۔ ویسے تو ہم سب ہی اپنی اپنی زبانوں کے ارتقائی خاکہ کا تھوڑا بہت علم رکھتے ہیں۔ وہی زبان جسے انسان اپنا خیال ظاہر کرنے کیلئے ارادتاً نکالتا ہے اور ان آوازوں کے معین معنی ایک لفظ سے ایک جذبہ پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
لیکن بہت کم افرادزبان کے الفاظ‘ ساخت اور ابتدائی کلمات وتغیرات سے متعلق کا ملاً علم ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ ہندوستانیوں نے قبل از مسیح اپنی زبان پرمشاہدے کے ستاروں پر کمند تو پھینکی تھی لیکن اس کے اصول وضوابط اور تقابلی لسانیات کے میدان میں اتر نے کی کوشش نہیں کی تھی حالانکہ وہ اپنے قوی علم اور سائنٹفک مطالعہ پر قادر تھے۔ صنعتی اور معاشی ضرورتوں نے یورپی اقوام کو مشرقی علوم وفنون اور زبان وادب میں دلچسپی لینے پرمجبور کردیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے نامزدجج سرولیم جونسن نے آپسی لسانیات میں موازانہ کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ضرورت فن کے پیر ہن میں مشرق تا مغربی افق پرچھا گئی۔ سرولیم جونسن نے 1768ء میں سنسکرت زبان کے گہرے مشاہدے ومطالعے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سنسکرت ‘ یونانی اور لاطینی زبانوں کا ماخذ ایک ہے۔ یوروپین علم دوست اقوام نے 18 ویں صدی کے خاتمہ پر ہندوستانی جدید بولیوں کا مطالعہ بھی شروع کیا جو سر جارج گریر سن کے زیر نگرانی تھے۔ اس کے بعد جان بیمز کی نگرانی میں تحقیقی کام ہونے لگے ۔جان بیمز نے اپنی کتاب ’’ ہندوستان کی جدید آریائی زبانوں کی تقابلی قواعد‘‘ میں لکھاکہ موجودہ زمانے میں ( 1781ء ) اُردو سارے ہندوستان میں استعمال ہوتی ہے ۔
جان بیمز کے مطابق عربی ، فارسی الفاظ کی آمیزش سے ہندی زبان کوغیر معمولی فائدہ پہنچا کیونکہ وہ سنسکرت کی طرف جانے سے بچ گئی اور سنسکرت کا سہارا لینے کی وجہ سے ہندوستان کی کئی زبانوں کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ زبانوں کے ادوار کی تقسیم کرتے کرتے جان بیمز نے سیاسی ومعاشی حالات کے پیش نظر کئی پیش گوئیاں کیں اور بعض اہم نتائج کا اعلان بھی کیا جیسا کہ اس نے اردو زبان کو ہی ہندوستان کی عام زبان قرار دیا اور اس کا اعتراف 1866ء میں ایشیا ٹک سوسائٹی بنگال کے جرنل میں کیاگیا۔ جان بیمز نے دراوڑی ، تبتی ‘ چینی اور پہاڑی بولیوں کی خصوصیات کو بھی واضح اہمیت دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments