فیض احمد فیض کی انفرادیت
فیض احمد فیض کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں عالمی سطح پر حریتِ فکر کو موضوع بنایا۔ فلسطین ہو یا لبنان، یا افریقہ میں جبریت اور سامراجی نظام کا پھیلا ہوازہر، وہ اس کے خلاف فکری ہی نہیں عملی طور پر بھی پیش پیش نظر آتے رہے۔
حریت پسند تحریکوں کے ساتھ اُن کا تعلق ان کے نظریۂ تخلیقِ سخن کو تقویت دیتا رہا اور وہ تخلیقی اعتبار سے انسانی حقوق کے پاسداری میں نمایاں رہے۔ ’’نسخہ ہاے وفا‘‘ کے آخر ی حصہ ’’غبارِ ایام‘‘ میں انہوں نے ترک شاعر ناظم حکمت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے جو رجائی لہجہ اختیار کیا ہے وہ اُن کی ایک نظم ’ترک شاعر ناظم حکمت کے افکار‘ میں انسانی زندگی کی اس مقصدیت کو واضح کرتا ہے کہ انسان بڑےCause کے لیے جیتے ہیں اور عمر بھر کد و کاوش کے تسلسل کو جاری رکھتے ہیں۔ انسانی زندگی تحرک سے عبارت ہے؛چنانچہ وہ ناظم حکمت کے افکار کو تجزیاتی انداز میں پیش کرنے کی سعی کرتے ہیں اور اس تجزیے میں ان کی رجائی فکر پوری طرح سلامت دکھائی دیتی ہے۔فیض کی غزل میں زنداں اور قفس سے جو روشنی نمودار ہوتی ہے وہ زندگی کے راستوں کو منور کرتی دکھائی دیتی ہے۔ فیض نے سرخ انقلاب کے لیے خون اور مقتل کا استعارہ استعمال کیا ہے۔فیض نے زندگی بھر انقلاب کے خواب دیکھے اور ہمیشہ صبح ِ امید کی نوید دیتے رہے۔ان کی غزل امید اور رجائیت سے بھر پور نظر آتی ہے۔ کہیں بھی کسی بھی مقام پر مایوسی کا شکار نہیں ہونے دیتی۔بلکہ ان کی شاعری آگے بڑھتے رہنے کا عزم پیدا کرتی ہے۔ صبا جب درِ زنداں پہ دستک دیتی ہے تو فیض اسے امید کے استعارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اس لیے کہ فیض کو حالات کی بہتری کا پختہ یقین تھا۔ ڈاکٹر انیس اشفاق نے فیض احمد فیض کی غزل میں رمز و ایما اور علامتی نظام کے حوالے سے بات کی ہے کہ علامتوں کی معنویتیں فیض کے یہاں ایک سی نہیں ہیں۔مختلف شعروں میں انہیں مختلف معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔واعظ، شیخ، زاہد اور محتسب صاحبانِ اقتدار کا مفہوم بھی ادا کرتے ہیں اور رہنماوں اور قائدین کا بھی۔ایسے رہنماؤں کا جن کی نیتیں صاف نہیں ہیں اور جو درپردہ صاحبانِ اقتدار کے ہم نوا ہیں۔ اس طرح رند اور میکش اگر ایک طرف باغیوں، انقلابیوں اور نظامِ نو کے طلبگاروں کی علامت ہے تو دوسری طرف یہ ایسے لوگوں کی علامت ہیں جو بغاوت اور انقلاب کا صرف لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں، حقیقتاً باغی اور انقلابی نہیں۔’صبح‘ فیض کے یہاں آزادی اور نظامِ نو کی علامت ہے ،’شام‘ غلامی کی ،’میخانہ‘، ’میکدہ‘ وطن کی علامت بھی ہے اور ہمارے نجی نظام کی علامت بھی۔اس طرح ’گل‘ سیاسی مسلک اور سیاسی آدرش کی علامت ہے اور اس خوشگوار فضا کی علامت بھی ہے جس کے ہم منتظر ہیں۔
تاثیرِ کلام کے حوالے سے فیض احمد فیض کے ہاں بعض اشعار ایسے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو ادب کے قاری کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ فیض کے ہاں تاثیرِ ہی تو ہے جو ان کی شاعری میں چاشنی، دل کشی، تغزل کی لیَ، نغمگی، موسیقیت اور شدتِ احساس کو تیز تر کرتی ہے۔ فیض کے ہاں جو تاثیرِ کلام ہے وہ غیر معمولی نوعیت کی حامل ہے۔ فیض کے بارے میں ایک عام خیال جو ہمارے بعض نقادوں میں تقویت پا چکا ہے کہ فیض کے ہاں بڑے امکانات نہیں، یا ان کا فکری کینوس ایسا وسیع نہیں جو انہیں ایک بڑے شاعر کے طور پر متعارف کروائے۔ اگر بات کینوس کے وسیع ہونے کی ہے اور ایک بڑے شاعر کے لیے یہ امر لازم ٹھہرتا ہے تو پھر ہمیں یقینی طور پر یہ ثابت کرنا مشکل ہوگا کہ فیض اپنے معاصر شعرا میں ایک بڑے شاعر کے طور پر سامنے آئے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو قدرے ان کے ہم عصرشاعر مجید امجد کا فکری کینوس بھی ہم اتنا بڑا قرار نہیں دے سکتے یا فیض کے مقابل ن ۔م راشد کو ایک بڑے شاعر کے طور ثابت کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا، البتہ ان دونوں کے ہاں بڑی شاعری کا لوازمہ موجود ہے۔ اسی طرح فکری اعتبار سے فیض کے ہاں بھی اپنے خاص آہنگ اورترکیبی نظام کے تنوع کے لحاظ سے انہیں سب سے منفرد اور اور اپنے معاصرین میں نمایاں مقام کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے۔فیض کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کی شاعری محض منفرد نہیں بلکہ براہِ راست دلوں کو چھونے کی خاصیت رکھتی ہے جس سے وہ اپنی دائمی قدر کو زائل نہیں ہونے دیتی اور یہی ان کی انفرادیت ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments