فیض احمد فیض کی انفرادیت

تحریر : ڈاکٹر نبیل احمد نبیل


فیض احمد فیض کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں عالمی سطح پر حریتِ فکر کو موضوع بنایا۔ فلسطین ہو یا لبنان، یا افریقہ میں جبریت اور سامراجی نظام کا پھیلا ہوازہر، وہ اس کے خلاف فکری ہی نہیں عملی طور پر بھی پیش پیش نظر آتے رہے۔

 حریت پسند تحریکوں کے ساتھ اُن کا تعلق ان کے نظریۂ تخلیقِ سخن کو تقویت دیتا رہا اور وہ تخلیقی اعتبار سے انسانی حقوق کے پاسداری میں نمایاں رہے۔ ’’نسخہ ہاے وفا‘‘ کے آخر ی حصہ ’’غبارِ ایام‘‘ میں انہوں نے ترک شاعر ناظم حکمت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے جو رجائی لہجہ اختیار کیا ہے وہ اُن کی ایک نظم ’ترک شاعر ناظم حکمت کے افکار‘ میں انسانی زندگی کی اس مقصدیت کو واضح کرتا ہے کہ انسان بڑےCause کے لیے جیتے ہیں اور عمر بھر کد و کاوش کے تسلسل کو جاری رکھتے ہیں۔ انسانی زندگی تحرک سے عبارت ہے؛چنانچہ وہ ناظم حکمت کے افکار کو تجزیاتی انداز میں پیش کرنے کی سعی کرتے ہیں اور اس تجزیے میں ان کی رجائی فکر پوری طرح سلامت دکھائی دیتی ہے۔فیض کی غزل میں زنداں اور قفس سے جو روشنی نمودار ہوتی ہے وہ زندگی کے راستوں کو منور کرتی دکھائی دیتی ہے۔ فیض نے سرخ انقلاب کے لیے خون اور مقتل کا استعارہ استعمال کیا ہے۔فیض نے زندگی بھر انقلاب کے خواب دیکھے اور ہمیشہ صبح ِ امید کی نوید دیتے رہے۔ان کی غزل امید اور رجائیت سے بھر پور نظر آتی ہے۔ کہیں بھی کسی بھی مقام پر مایوسی کا شکار نہیں ہونے دیتی۔بلکہ ان کی شاعری آگے بڑھتے رہنے کا عزم پیدا کرتی ہے۔ صبا جب درِ زنداں پہ دستک دیتی ہے تو فیض اسے امید کے استعارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اس لیے کہ فیض کو حالات کی بہتری کا پختہ یقین تھا۔ ڈاکٹر انیس اشفاق نے فیض احمد فیض کی غزل میں رمز و ایما اور علامتی نظام کے حوالے سے بات کی ہے کہ علامتوں کی معنویتیں فیض کے یہاں ایک سی نہیں ہیں۔مختلف شعروں میں انہیں مختلف معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔واعظ، شیخ، زاہد اور محتسب صاحبانِ اقتدار کا مفہوم بھی ادا کرتے ہیں اور رہنماوں اور قائدین کا بھی۔ایسے رہنماؤں کا جن کی نیتیں صاف نہیں ہیں اور جو درپردہ صاحبانِ اقتدار کے ہم نوا ہیں۔ اس طرح رند اور میکش اگر ایک طرف باغیوں، انقلابیوں اور نظامِ نو کے طلبگاروں کی علامت ہے تو دوسری طرف یہ ایسے لوگوں کی علامت ہیں جو بغاوت اور انقلاب کا صرف لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں، حقیقتاً باغی اور انقلابی نہیں۔’صبح‘ فیض کے یہاں آزادی اور نظامِ نو کی علامت ہے ،’شام‘ غلامی کی ،’میخانہ‘، ’میکدہ‘ وطن کی علامت بھی ہے اور ہمارے نجی نظام کی علامت بھی۔اس طرح ’گل‘ سیاسی مسلک اور سیاسی آدرش کی علامت ہے اور اس خوشگوار فضا کی علامت بھی ہے جس کے ہم منتظر ہیں۔

تاثیرِ کلام کے حوالے سے فیض احمد فیض کے ہاں بعض اشعار ایسے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو ادب کے قاری کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ فیض کے ہاں تاثیرِ ہی تو ہے جو ان کی شاعری میں چاشنی، دل کشی، تغزل کی لیَ، نغمگی، موسیقیت اور شدتِ احساس کو تیز تر کرتی ہے۔ فیض کے ہاں جو تاثیرِ کلام ہے وہ غیر معمولی نوعیت کی حامل ہے۔ فیض کے بارے میں ایک عام خیال جو ہمارے بعض نقادوں میں تقویت پا چکا ہے کہ فیض کے ہاں بڑے امکانات نہیں، یا ان کا فکری کینوس ایسا وسیع نہیں جو انہیں ایک بڑے شاعر کے طور پر متعارف کروائے۔ اگر بات کینوس کے وسیع ہونے کی ہے اور ایک بڑے شاعر کے لیے یہ امر لازم ٹھہرتا ہے تو پھر ہمیں یقینی طور پر یہ ثابت کرنا مشکل ہوگا کہ فیض اپنے معاصر شعرا میں ایک بڑے شاعر کے طور پر سامنے آئے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو قدرے ان کے ہم عصرشاعر مجید امجد کا فکری کینوس بھی ہم اتنا بڑا قرار نہیں دے سکتے یا فیض کے مقابل ن ۔م راشد کو ایک بڑے شاعر کے طور ثابت کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا، البتہ ان دونوں کے ہاں بڑی شاعری کا لوازمہ موجود ہے۔ اسی طرح فکری اعتبار سے فیض کے ہاں بھی اپنے خاص آہنگ اورترکیبی نظام کے تنوع کے لحاظ سے انہیں سب سے منفرد اور اور اپنے معاصرین میں نمایاں مقام کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے۔فیض کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کی شاعری محض منفرد نہیں بلکہ براہِ راست دلوں کو چھونے کی خاصیت رکھتی ہے جس سے وہ اپنی دائمی قدر کو زائل نہیں ہونے دیتی اور یہی ان کی انفرادیت ہے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

رئیس امروہوی قلمروئے سخن کے اہم فرمانروا

آج 38ویں برسی حسنِ فکر و تصور اور شعورِ ادب و ادراک کے ساتھ ان کا ابلاغ و اظہار بھی بہت حسین تھا رئیسؔ کی موت کسی کلاسیکی یونانی ڈرامے کا آخری سین معلوم ہوتی ہے‘ اس سین میں ڈرامے کا ہیرو علم وادب کے ساتھ اپنی بے پایاں محبت کا اظہار کرتے ہوئے جان دے دیتا ہےرئیس امروہوی سیاسی قطعہ نگاری کے با وا آدم تھے ‘ ایک بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اردو ادب کی تاریخ میں کوئی شاعر بھی اس میدان میں اُن کا حریف نہیں ہے

کھیلوں کاایشیائی میلہ جاپان مین سج گیا

20ویں ایشین گیمز 2026ء: گرین شرٹش مختلف کھیلوں میں مجموعی طور پر4سے 6 تمغے جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں: افتتاحی تقریب میں سکواش کے کھلاڑی نور زمان اور پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے پرچم تھامے قومی دستے کی قیادت کی: پاکستان کے 7 بہترین شوٹرز این او سی جبکہ پاکستان بیس بال ٹیم سپانسر نہ ملنے کے باعث ایشین گیمز کا حصہ بننے سے محروم رہ گئے

پاکستان کرکٹ کا نیا بحران:محمدرضوان اور امام الحق تنازع

حساس معلومات اور ویڈیوز کے مبینہ لیک ہونے کا معاملہ این سی سی آئی اے اوراعلیٰ عدلیہ تک پہنچ :حتمی فیصلہ فارنزک رپورٹ آنے کے بعد ہوگا، واقعے نے قومی کرکٹ کے اندرونی ڈسپلن اور انتظامی ڈھانچے پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں:ہائیکورٹ سے درخواست خارج ہونے اوررضوان کوایجنسی کے سامنے پیش ہو نے کے حکم کے بعد کھلاڑیوں پر دبائو بڑھ گیا

دانی کی نصیحت

جمعہ کا مبارک دن تھا۔ احمد اپنے بڑے بھائی دانی کے ساتھ جمعہ پڑھنے جا رہا تھا۔ احمد نہا دھو کر صاف ستھرے سفید رنگ کے کپڑے پہنے دانی بھائی کے ساتھ مسجد جارہا تھا کہ راستے میں احمد کا دوست مقیط اسے مل گیا، جو اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا شربت پی رہا تھا ۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

میکس الیگزینڈر:کم عمری میں فیشن ورلڈفتح کرنیوالا

بڑا امتحان

شام ہو چلی تھی۔ بادلوں کی ہلکی سی پردہ داری نے موسم کو دلکش بنا دیا تھا اور باہر ہوا میں پرندوں کی چہچہاہٹ گونج رہی تھی۔