بڑا امتحان
شام ہو چلی تھی۔ بادلوں کی ہلکی سی پردہ داری نے موسم کو دلکش بنا دیا تھا اور باہر ہوا میں پرندوں کی چہچہاہٹ گونج رہی تھی۔
حرا اپنے کمرے میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، میز پر کتابیں، کاپیاں اور کلر پنسل بکھری ہوئی تھیں۔
حرا اپنے ماں باپ کی بہت لاڈلی بیٹی تھی۔ تین بڑے بھائیوں کی اکلوتی اور سب سے چھوٹی بہن ہونے کے ناطے گھر بھر کی توجہ کا مرکز وہی تھی۔ وہ بہت سمجھدار، پڑھائی میں محنت اور اساتذہ کا احترام کرنے والی لڑکی تھی۔ان تمام اچھائیوں کے باوجود اس میں ایک کمی تھی۔ وہ نماز پڑھنے میں سستی کرتی تھی۔ گھر میں اذان کی آواز گونجتی، امی اور ابو اسے پیار سے نماز کی یاد دہانی کرواتے، مگر وہ ہمیشہ سوچتی کہ وضو کرنے اور نماز پڑھنے میں پندرہ بیس منٹ ضائع ہو جائیں گے جبکہ یہی وقت وہ کھیل یا پڑھائی میں لگا سکتی ہے۔
آج کی شام ذرا مختلف تھی۔ سالانہ امتحانات ہو رہے تھے اور کل اسلامیات کا آخری پرچہ تھا۔ کمرے میں خاموشی تھی اور حرا پورے دھیان کے ساتھ لیمپ کے نیچے کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی۔ وہ ایک ایک لفظ غور سے پڑھ رہی تھی کہ اچانک نماز کی اہمیت کے باب پر آ کر اس کی نظریں جم گئیں۔
کتاب میں لکھا تھا: قیامت کے دن سب سے پہلا سوال نماز کے بارے میں ہوگا۔ ہم دنیا کے چھوٹے چھوٹے امتحانوں کیلئے کتنی راتیں جاگتے ہیں، اپنی تفریح اور کھیل کود چھوڑ دیتے ہیں تاکہ فیل ہونے کی ذلت سے بچ سکیں۔ لیکن ہم اس سب سے بڑے امتحان کو بھول جاتے ہیں جس کا پرچہ ہمارے رب نے لینا ہے۔ دنیا کا امتحان تو چند دنوں کا ہے، لیکن آخرت کی کامرانی ہمیشہ کی زندگی کا فیصلہ کرتی ہے۔ اذان اصل میں اللہ تعالیٰ کا بلاوا ہے اور جو اس پر کان نہیں دھرتا، وہ اپنے ہی نقصان کا سامان کرتا ہے۔
کمرے کے باہر کی ہوا اچانک تیز ہو گئی اور درختوں کے پتے آپس میں سرسرانے لگے جیسے فطرت بھی حرا کو اسی راز کی خبر دے رہی ہو۔ حرا کے ہاتھ سے پنسل چھوٹ گئی۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں سورج آہستہ آہستہ ڈوب رہا تھا اور اندھیرا پھیل رہا تھا۔ اس کے ذہن میں عجیب سا احساس جاگا۔ وہ سوچنے لگی: اگر میں سکول کے امتحان میں فرسٹ آ بھی گئی، لیکن اپنے رب کے سامنے پہلے سوال کا جواب نہ دے سکی، تو میری اس کامیابی کا کیا فائدہ؟ میں چند منٹوں کی سستی کی وجہ سے اپنی اصل کامیابی کیسے داؤ پر لگا سکتی ہوں؟
اسی لمحے قریب کی مسجد سے عشا کی اذان کی آواز فضا میں گونجنے لگی۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر کی صدا جیسے حرا کے دل پر دستک دے رہی تھی۔
حرا بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی جگہ سے اٹھی۔ اس نے کتاب بند کی اور باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔ صحن میں کھڑی امی نے جب حرا کو خود سے وضو کرتے اور جائے نماز بچھاتے دیکھا، تو ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔
پیارے بچوں! حرا کو تو معلوم ہو گیا کہ کامیابی اللہ کو راضی کرنے میں ہے۔ نماز انسان کے دل کو سکون دیتی ہے اور اسے ہر امتحان میں سرخرو کرتی ہے۔ ہم بھی آج سے یہ پکا ارادہ کریں کہ کسی بھی کام کی وجہ سے اپنی نماز نہیں چھوڑیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments