کھیلوں کاایشیائی میلہ جاپان مین سج گیا
20ویں ایشین گیمز 2026ء: گرین شرٹش مختلف کھیلوں میں مجموعی طور پر4سے 6 تمغے جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں: افتتاحی تقریب میں سکواش کے کھلاڑی نور زمان اور پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے پرچم تھامے قومی دستے کی قیادت کی: پاکستان کے 7 بہترین شوٹرز این او سی جبکہ پاکستان بیس بال ٹیم سپانسر نہ ملنے کے باعث ایشین گیمز کا حصہ بننے سے محروم رہ گئے
جاپان کے شہر ناگویا میں 2026ء کے ایشین گیمز کا رنگا رنگ میلہ سج چکا ہے، جس کیلئے شاندار اور غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ کھیلوں کی تاریخ میں ایک منفرد تجربہ کرتے ہوئے منتظمین نے کھلاڑیوں اور آفیشلز کی رہائش کیلئے ایک عظیم الشان ’’فلوٹنگ ویلیج‘‘قائم کیا گیا ہے۔ ’’کوسٹا سیرینا‘‘ نامی اطالوی کروز شپ پر تقریباً 14ہزار ایتھلیٹس اور آفیشلز قیام پذیر ہیں، جہاں جم، میوزک رومز اور دیگر جدید ترین تفریحی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔یوں تو ویمن کرکٹ سمیت مختلف مقابلوں کاآغاز پہلے ہی ہو چکا، جاپان میں کھیل کے میدان آباد ہیں اور پاکستان سمیت تمام ایشیائی ممالک کے کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہے ہیں۔
بین الاقوامی کھیلوں کا باقاعدہ آغاز گزشتہ روز افتتاحی تقریب سے ہوا جس میں پاکستان کی طرف سے سکواش کے انٹرنیشنل پلیئر نور زمان اور پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء نے سبزہلالی پرچم تھامے قومی دستے کی قیادت کی۔ اس عالمی اسٹیج پر پاکستان کی شرکت ایک طرف جہاں جذبے اور شاندار میدانِ جنگ کی عکاسی کرتی ہے، وہیں دوسری طرف پاکستانی کھیلوں کے حکام کی روایتی نالائقی اور بیورو کریٹک رکاوٹوں کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔
خواتین کرکٹ کے میدان سے پاکستان کیلئے ایک خوش آئند خبر سامنے آئی، جہاں قومی ویمن ٹیم نے تھائی لینڈ کو ایک اعصاب شکن مقابلے کے بعد شکست دے کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا۔ بارش سے متاثرہ اس میچ کو 11، 11 اوورز تک محدود کیا گیا تھا، جس میں تھائی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 4 وکٹوں کے نقصان پر 91 رنز بنائے۔ ہدف کے تعاقب میں شوال ذوالفقار 25اور گل فیروزہ16 کے تیز آغاز کے بعد تھائی لینڈ نے زبردست کم بیک کیا اور محض 11 رنز پر 4 وکٹیں گرا کر میچ کو سنسنی خیز بنا دیا۔ اس نازک صورتحال میں کپتان فاطمہ ثنا کے 13 گیندوں پر 21 رنز، ایمن فاطمہ کے اہم چھکے اور طوبیٰ حسن کی 7گیندوں پر 13 رنز کی جارحانہ اننگز نے میچ کا پانسا پلٹ دیا۔ پاکستان نے 10.4 اوورز میں 7 وکٹوں پر ہدف حاصل کر کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی، جو آج کھیلا جائے گا۔
ایک طرف جہاں ویمن کرکٹ ٹیم نے میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے، وہیں دوسری طرف ملک کے اعلیٰ اور ہونہار کھلاڑیوں کو انتظامی غفلت کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کے 7 بہترین شوٹرز این او سی ملنے کے باعث ایشین گیمز کا حصہ بننے سے محروم رہ گئے۔ متعلقہ سرکاری ڈیپارٹمنٹس کی جانب سے بروقت این او سی جاری نہ ہونے کے باعث یہ کھلاڑی جاپان روانہ نہ ہو سکے۔ اس افسوسناک صورتحال کی پیش نظر ملک کے عالمی سطح کے نامور شوٹرز بشمول اولمپیئن کشمالہ طلعت اور ایشین گولڈ میڈلسٹ فرخ ندیم کے علاوہ عدنان چند، امام ہارون، محمد عثمان، عمر فاروق اور محمد شبیر کی تمام تر محنت پر پانی پھیر دیا گیا۔ یہ قومی سپورٹس بورڈز اور ڈیپارٹمنٹس کی بدانتظامی کا ایک اور سیاہ باب ہے جہاں کھلاڑیوں کا مستقبل کاغذات کی نذر ہو گیا۔
کھیلوں کے شعبے میں حکومتی سرپرستی اور سپانسرشپ کا فقدان صرف شوٹنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا بڑا خمیادہ پاکستان بیس بال ٹیم کو بھی بھگتنا پڑا۔ فنڈز اور سرکاری سرپرستی نہ ملنے کے باعث قومی بیس بال ٹیم بھی ایشین گیمز میں شرکت سے محروم رہ گئی۔ اس عدم شرکت سے نہ صرف کھلاڑیوں کے جذبے کو شدید ٹھیس پہنچی بلکہ ایشیائی اور عالمی سطح پر پاکستان کی رینکنگ بھی بری طرح متاثر ہوگی۔
اس تمام صورتحال میں امید کی ایک تنہا کرن ایکویسٹرین (شہسواری)کے شعبے میں نظر آئی، جہاں پاکستان پہلی مرتبہ اولمپک ڈسپلن’ایونٹنگ‘میں شرکت کر رہا ہے۔ پاکستان کے باہمت ایتھلیٹ عثمان خان اپنے گھوڑے’’ایڈن ڈو ویریٹ‘‘(المعروف میراج) کے ساتھ جاپان پہنچ چکے ہیں۔ عثمان خان 20 سے 23 ستمبر تک ٹوکیو کے جے آر اے ایکویسٹرین پارک میں پاکستان کی نمائندگی کیلئے پرعزم ہیں۔
کرکٹ کے میدان میں قومی ویمنز اور مینز ٹیمیں ایشیائی سطح پر ہمیشہ سے فیورٹ رہی ہیں، جہاں فاطمہ ثنا کی قیادت میں ویمنز ٹیم اور نوجوان بلے بازوں پر مشتمل مینز ٹیم سونے یا چاندی کا تمغہ جیتنے کی قوی امیدوار ہیں۔ ایتھلیٹکس میں جیولن تھرو کی دنیا کے حکمران اولمپک اور ایشین چیمپئن ارشد ندیم پاکستان کیلئے سب سے بڑی امید ہیں۔
باکسنگ اور ریسلنگ پاکستان کا تاریخی فخر رہے ہیں جہاں ماضی میں محمد بشیر اور انعام بٹ نے ایشیائی سطح پر میڈلز جیت کر پرچم بلند کیا، مگر موجودہ دور میں مناسب سپانسرشپ، بین الاقوامی ٹریننگ اور اعلیٰ سطح کے کوچز کی غیر موجودگی کے باعث جدید ریسلنگ اور باکسنگ رنگ میں پاکستان کیلئے میڈل کا سفر انتہائی دشوار اور کٹھن ہو چکا ہے۔پاکستان آٹھ بار ایشین گیمز کا گولڈ میڈل اپنے نام کر چکا ہے، اگرچہ انتظامی بحران اور فنڈز کی کمی نے قومی کھیل کو شدید نقصان پہنچایا ہے، مگر ایشین گیمز میں وہ چاندی یا کانسی کا تمغہ چھیننے کا عزم رکھتی ہے۔
ان روایتی کھیلوں کے علاوہ، پاکستان کے پاس سکواش میں عالمی معیار کے کھلاڑی موجود ہیں جو انفرادی اور ٹیم ایونٹ دونوں میں طلائی تمغہ جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ایکویسٹرین(شہسواری)، مکسڈ مارشل آرٹس اور کبڈی جیسے مقابلوں میں بھی پاکستان4 سے 6 تمغے اپنے نام کر سکتا ہے۔
حقیقت پسندانہ تحقیقاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستانی کھلاڑیوں کی یہ صلاحیت بنیادی طور پر ان کے انفرادی جذبے کی مرہونِ منت ہے، کیونکہ جب تک پاکستان سپورٹس بورڈ اور متعلقہ فیڈریشنز کھلاڑیوں کو این او سی، ڈائریکٹ فنڈنگ، اور بین الاقوامی کیمپ فراہم نہیں کرتی، تب تک محض صلاحیت کی بنیاد پر ایشیائی سطح کے اس سخت مقابلے میں تمغوں کی ضمانت دینا ناممکن ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments